اذان کی تاریخ، اہمیت اور معنویت

محمد یاسین جہازی ، جمعیت علمائے ہند

جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اسلام میں ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اور ایک ہی وقت میں جماعت کے لیے سب کا آنا اعلان اور پیشگی اطلاع کے بغیر ناممکن ہے ، اس لیے شریعت نے اذان کا طریقہ رائج کیا ۔ اس کی تاریخ یہ ہے کہ صحابہ نے باہم اس کے لیے مشورہ کیا ۔ کسی کی رائے ہوئی کہ وقت ہوجانے پر آگ جلائی جائے۔ کسی نے کہا کہ یہودیوں کی طرح نرسنگا بجایا جائے۔ کسی نے نصاری کی طرح ناقوس بجانے کی تجویز پیش کی؛ مگر آقائے کریم نے گمراہ قوموں سے مشابہت رکھنے والے تمام طریقوں کو رد کردیا۔ چند دن کے بعد حضرت عبداللہ بن زید بن عبد ربہ نے اذان و اقامت کے بارے میں خواب دیکھا اور نبی اکرم ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا ، تو آپ نے فرمایا کہ
رؤیا حق
اس واقعے سے کئی اہم باتیں ثابت ہوتی ہیں :
(۱) اسلام کا کوئی بھی احکام مصالح سے خالی نہیں ہوتااوراذان واقامت بھی مصلحتوں کے پیش نظر مشروع کیا گیا ہے۔
(۲)شرعی احکام میں نبی اکرم ﷺ کا اجتہاد بھی شامل ہے ۔ اسی لیے بعض احکام آپ ﷺ نے وحی جلی کے بغیر اپنے اجتہاد سے مقرر فرمائے ہیں۔
(۳) دین میں آسانی پیدا کرنا اسلام کا ایک اہم ضابطہ ہے۔ اذان کا مقصد جماعت میں حاضر ی کو آسان بنانا ہے۔
(۴) عرصہ دراز سے گمراہی میں مبتلا قوموں کے شعائر کی مخالفت اسلام میں مستحسن قرار دیا گیا ہے، کیوں کہ شعائر ہی سے دین وملت کا امتیاز قائم رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیروں کے شعائر کا کوئی طریقہ آپ ﷺ نے پسند نہیں فرمایا۔
(۵)غیر نبی بھی خواب یا الہام کے ذریعے اللہ کی مراد سے واقف ہوسکتا ہے ، لیکن تائید نبوی کے بغیر شرعی حجت نہیں ہوسکتا۔
اذان صرف اعلان و آگہی کا ذریعہ نہیں ہے ؛ بلکہ یہ دین کا ایک اہم شعار بھی ہے۔ کسی انجان جگہ پر اذان ہی کی آواز سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں امت مسلمہ کی آبادی ہے۔ علاوہ ازیں ایسے جامع کلمات شامل ہیں، جن میں دین کے پورے بنیادی اصول آجاتے ہیں۔ پہلے دونوں ترنموں میں ذات و صفات الٰہی کا اعلان عام کیا جاتا ہے۔دوسرے دونوں نغموں کے ذریعے عقیدۂ توحید کا بیان ہوتا ہے۔ تیسرے دونوں جملوں سے ایمانِ رسول کی گواہی دی جاتی ہے ۔ چوتھے دونوں کلاموں میں اللہ سے رابطہ قائم کرنے کا سب سے اعلیٰ ذریعہ: نماز کی دعوت دی جاتی ہے اور پانچویں دونوں صداوں میں اس حقیقت کا اظہار کیا جاتا ہے کہ فلاح و کامیابی تک پہنچانے والا یہی راستہ ہے۔آگے آخری دونوں جملوں سے ایک مرتبہ پھر اللہ کی کبریائی ، عظمت اور الٰہ برحق ہونے کی خبر دی جاتی ہے۔
اذان جہاں جماعت میں شامل ہونے کا بلاوا ہے ، وہیں ایمان کی دعوت عام بھی ہے، اس لیے اول الذکر کے اعتبار سے اذان سنتے ہی حاضری کی کوشش کرنا ضروری ہے ۔ اور آخر الذکر کی حیثیت سے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جب وہ اذان سنیں، تواپنے ایمان کی تجدید کریں اور اس کے ہر ہر کلمے کا جواب دیتے ہوئے دل و زبان سے ان باتوں کی تصدیق کریں۔اسی طرح اذان کے بعد ایک دعا بھی مقرر کی گئی ہے ، جس میں عظیم محسن انسانیت ﷺ کے لیے وسیلہ ، فضیلہ اور مقام محمود عطا کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ اس کے تعلق سے حدیث شریف میں آتا ہے کہ قیامت کے دن وہ شفاعت محمدی کا حق دار ہوگا، کیوں کہ زبانی اقرار مکنون جذبات کی ترجمانی کرتا ہے، لہذا جو کوئی اذان کے بعد یہ دعا کرتا ہے ، وہ درحقیقت عشق محمدی اور محبت نبوی کا عملی ثبوت پیش کرتا ہے ۔ اور اس محبت کا صلہ نبی اکرم ﷺ کی طرف سے یہ ہوگا کہ قیامت کی دن اس کی شفاعت کی شفارش کی جائے گی۔
اذان کے فضائل
اذان کے فضائل کے تعلق سے جتنی بھی احادیث ہیں، ان کی تین بنیادیں ہیں:
(۱) شریعت اسلامی کا ایک ضابطہ یہ بھی ہے کہ عمل کی جزا اس کے مناسب اور مشابہت رکھنے والی چیزوں سے دی جاتی ہے۔
(۲) اذان اسلام کی ایک امتیازی شان ہے۔ اس کی صداوں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ دارالاسلام ہے،یا مسلمانوں کی بستی ہے، لہذا اس کی ایک اہمیت ہے۔
(۳) اذان کا مقصد اسلام کا سب سے بڑا رکن :نماز کی دعوت دینا ہے اور دعوت و تبلیغ نبوت کا ایک اہم شعبہ ہے، اس وجہ سے اس کی فضلیت میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا۔
یہی وجہ ہے کہ احادیث میں موذن کے لیے کہیں کہا گیا ہے کہ اس کی گردن سب سے زیادہ لمبی ہوگی اور جہاں تک اس کی آواز پہنچتی تھی ، وہاں تک کی ہر تر اور خشک چیز اس کی گواہی دے گی۔ اور کہیں یہ بتایا گیا ہے کہ سات سال تک لگاتار اذان دینے والے دوزخ میں نہیں جائیں گے؛ لیکن اس کے لیے اخلاص لازمی شرط ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.