اردو زبان کے فروغ میں فن خطاطی کا اہم کردار:احمد ابراہیم علوی ’اردو خطاطی کے فروغ میں منشی نول کشور لکھنوی کی خدمات :ایک جائزہ‘ پرسمینار منعقد

اشرف فردوسی ندوی

لکھنؤ۱۴؍مارچ، منشی نول کشور کا نام زرّیں حروف سے لکھا جائے گا،اردو خطاطی کے فروغ میں منشی نول کشور کی خدمات ناقابل فراموش ہیں اردو عربی کتابوں کی طباعت میں گراں قدر خدمات انجام دینے والے منشی نول کشور نے بہت بڑا عملہ اردو کتابت کے سلسلے میں مقرر کر رکھا تھا جو دن ورات قرآن مجید اور اردو ،فارسی پر مشتمل دینی کتب کی کتابت اور خطاطی کی خدمات دیتے تھے۔منشی نول کشور حالانکہ ایک مالدار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے پر جب انہوں نے اپنا گھر چوڑا توخالی ہاتھ تھے مگر جب ان کا انتقال ہوا تو ایک کروڑ سے زائد جائیداد اور املاک چھوڑی۔اردو زبان میں بہت وسعت ہے اس کے باوجود کچھ لوگ انگریزی اوردیگر زبانوں کے الفاظ کا استعمال کررہے ہیں۔مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اردو اخبارات ورسائل جو بہت کدوکاوش سے منظرعام پر آتے ہیں،ان کو مفت میں حاصل کرنا چاہتے ہیں خریدکر پڑھنا نہیں چاہتے اس موقع پر انہوں نے حیات اللہ انصاری اور اردوخطاطی کا بھی تفصیل سے ذکر کیا۔صدر جلسہ نے مزید کہاکہ اردو زبان و ادب کو جو فروغ ملا ہے اس میں اردو خطاطی کا اہم کردار ہے۔چاہے وہ طباعت کا میدان ہو یا اردو نثر کی املاء نویسی کا میدان ہو، اس میں منشی نول کشور کی خدمات بہت زیادہ ہیں، ہمیں کہنے اور لکھنے میں کوئی تردد نہیں ہے کہ اگر منشی نول کشور نے اردو نثر نگاری اور فن کتابت کا پیما نہ بنایا ہوتا تو اردو کس لمبائی چوڑائی میں لکھی جاتی کوئی نہیں بتا سکتا، آج اردو تحریر ہم جس قاعدہ کلیہ کی روشنی میں لمبائی چوڑائی کو مد نظر رکھ کر لکھتے ہیں یہ منشی نول کشور ہی کی دین ہے، اس اللہ کے بندے نے اردو لکھنے کا ایک قاعدہ کلیہ وضع کروایا اور ابجد ہوذ حطی کلمن سعفص جو ابجدی اور بنیادی حروف ہیں اس کی روشنی میں پورا ایک تحریری نظام منضبط کروایا۔انگریزی حکومت میں اس وقت کے ایجوکیشن افسر منشی دیبی پرشاد تھے۔ یہ پائے کے شاعر و ادیب کے علاوہ ایک زبر دست خطاط بھی تھے منشی نول کشور کی سرپرستی میں ان ہی کی نگرانی میں اردو خطاطی کا پورا نصاب تیار ہوا۔مذکورہ خیالات فلاحی بیت المال، گولہ گنج کے پروگرام ہال میں ’’اردو خطاطی کے فروغ میں منشی نول کشور لکھنوی کی خدمات :ایک جائزہ‘‘ پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور نجب النساء میموریل ٹرسٹ لکھنؤ کے اشتراک سے منعقد سیمینار میں صدر سیمنار احمد ابراہیم علوی نے کیا۔ اس موقع پر ٹرسٹ کی طرف سے اردو کے خوبصورت طغروں کی نمائش بھی کی گئی۔
مہمان خصوصی اطہر نبی نے اردو صحافت اورخطاطی کے اس زرّیں دور کو یاد کیا جب اردوصحافت میں مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم متحرک وفعال نظرآتے تھے۔انہوں نے کہاکہ منشی نول کشور کی اردومیں خطاطی خدمات جگ ظاہر ہیں،اور اس خطاطی کی خدمات کیلئے جو عملہ منشی نول کشور کے پریس میں موجود رہتااس کا بہت خیال رکھا جاتا تھا اگر اس کے اہل خانہ میں کوئی پریشانی یا آتی تو از خود کھڑے ہوکر اس کو حل کراتے،اور جوخطاطی کا عملہ پریس میں تھا وہ نہایت قابل اور مستند تھا اس درجہ کہ اگر کسی لکھنے والے سے کوئی غلطی ہوجاتی تو وہ اس کو بھی خطاطی اور کتابت کے دوران درست کرتے تھے۔نجب النساء میموریل ٹرسٹ قابل مبارکباد ہے کہ اتنے عمدہ موضوع پر سمینا ر کا انعقاد کرایا۔
مہمان اعزازی ڈاکٹراحتشام احمد خاں نے کہا کہ اردو خطاطی اورفن کتابت منشی نول کشور کے لئے کتنی اہمیت کی حامل تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی مذہبی ،مثلاًقرآن مجید یا حدیث شریف سے کچھ چیزیں لکھوانا مقصود ہوتیں تو خطاط اور کاتب کیلئے وضو شرط ہوتا یعنی بناوضواور پاکی حاصل کئے مذہبی تحریروں کی خطاطی اور کتابت ممنوع تھی۔اسی وجہ سے اگر ہم یہ کہیں کہ اس وقت اروخطاطی اور کتابت اردو زبان وادب کا زیور تھی تو بالکل غلط نہ ہوگا بلکہ سو فیصدی سچ ہوگا۔
ڈاکٹر شبانہ اعظمی ممبرفروغ اردو کونسل نے نہایت زور دیکر یہ بات کہی کہ جب حکومت اچھے پروگرام اردو،عربی اور فارسی کے حوالے سے چلارہی ہے تو آپ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں اور اگر کوئی مشورہ یا کوئی اصلاح مقصود ہوتو آپ اس کو لکھ کر مجھ کو بھی دیں اور خاص محکمہ کو بھی ارسال کریں تا کہ آپ لوگوں کا مطالبہ پو را کیا جاسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ دلی کی دوری کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنا کام نہیں کرواپاتے ہیں ۔اس لئے حکومت تک یہ بات پہنچائی جائے گی کہ صوبائی سطح پر بھی ان محکموں کے ذیل دفتر قائم کئے جائیں اور اردو کتابت اور فن خطاطی کا سینٹر لکھنوجیسے شہر میں ضرور قاءئم کیا جانا چاہئے۔
اس موقع پر موضوع کے حوالے سے امریکی طالب علم فے ھوازن،رضوان احمد فاروقی،اشرف فردوسی ندوی ،معراج الحسن ندوی،حقیق اللہ ندویؔ ،ذوالفقار ندوی نے قیمتی مقالے پیش کئے۔مقالہ نگاروں نے کہا کہ منشی نولکشور ایک علم دوست انسان کے ساتھ ساتھ ایک ماہر معاشیات بھی تھے، لکھنؤ کو اپنا بود و باش بنایا۔ اپنا ہینڈ پریس لگا کر کتابوں کی طباعت اور اشاعت کا کام شروع کیا، کتابوں کی کتابت کے لئے کثیر تعداد میں کاتبوں کی تلاش شروع ہوئی، اس وقت لکھنؤ میں دوطرح کے کاتب پائے جاتے تھے، ایک طغرا لکھنے والے خوش نویس جو اپنا طغری لکھا کرتے اور منھ مانگی قیمت پر بیچا کرتے تھے، امیر کبیر لوگوں کے علاوہ کم پیسے والے بھی طغرے خریدتے اور اپنے گھروں کی دیواروں میں آویزاں کرتے تھے، کچھ تو شوقیہ لگاتے اور کچھ تبرک کے طور پر لگاتے تھے، ایک گروپ کمزور کاتبوں کا تھا جو ابھی نوسکھیا تھے تحریر تو اچھی لکھ لیتے تھے لیکن معنی خیز اور حسین و خوبصورت طغرے لکھنے میں کامل نہیں تھے ایسے لوگوں نے کتابت کو اپنا ذریعہ معاش بنا لیا تھا۔ منشی نول کشور نے کاتبوں کا ایک کتابت خانہ کھول رکھا تھا جہاں تقریباً دوسو کی تعداد میں کاتب حضرات بیٹھا کرتے تھے اور کتابوں کی کتابت کرتے تھے۔ اس طرح منشی نول کشور نے اردو خطاطی کے فروغ کے لئے زبردست کام کیا۔
کنوینر پروگرام اشرف فردوسی ندوی نے افتتاحی کلمات اداکرتے ہوئے کتابت اور خطاطی کیا ہے؟ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطاطی، کتابت اور تحریر یہ تینوں ہم معنی الفاظ ہیں، کتابت ایک تجارتی تحریر کو کہتے ہیں جس میں خوش نویسی کی ساری خوبیاں پیدا کرنا مشکل ہوتا ہے، اس کے ایک دن میں چار پانچ صفحات لکھے جاسکتے ہیں، کتابوں کی طباعت اور چھپائی سے قبل جو مسودہ خوبصورت تحریر میں لکھا جاتا ہے اسے کتابت کہتے ہیں اور لکھنے والے کو کاتب بولا جاتا ہے۔ منشی نول کشور نے اس فن پر خصوصی توجہ دی اور اس کے اصول و ضوابط منضبط کئے۔
پروگرام کی کامیاب نظامت صحافی غفران نسیم نے کی۔کنوینراشرف فردوس ندوی نے مہمانوں کا خیرم مقدم کیا۔سیمنار کا آغاز محمد عدنان کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ قمر سیتاپوری نے نعت پاک پیش کی۔اورآخر میں مہمانوں کا شکریہ ضیاء اللہ صدیقی ندویؔ نے ادا کیا۔ اس موقع پر مولانا جہانگیر عالم قاسمی، اسلام فیصل، محمد خالد، مولانا محمد کوثر ندوی، انصار احمد، ڈاکٹر رضوانہ، شہانہ سلمان عباسی،احمد جمال، نثار احمد، عبدالقدوس ہاشی، جی اے لاری، محمد بلال، محمد سلمان وغیرہ خاص طور سے موجود تھے۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں