اردو کے قاعدے

Views: 28
Avantgardia

اردو ایک نہایت وسیع زبان ہے، جو ہندستان کے تقریبا تمام گوشوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے، لیکن ہر علاقے کی زبان، لب ولہجہ، الفاظ اور اندازتکلم میں تھوڑا بہت فرق پایا جاتاہے، جو ایک فطری بات ہے، لیکن تحریر میں یہ فرق نہیں پایا جاتاہے، کیوں کہ گفتگواور تکلم کے حوالے سے ایسے قواعد وضع نہیں کیے گئے ہیں،جنھیں ہر اردو بولنے والا شخص برتے،اور ان کا لحاظ رکھے، لیکن تحریر کے لیے ایسے قواعد وضع کیے گئے ہیں،جنھیں تمام علاقوں کے لوگ تسلیم کرتے ہیں اور ان کی پابندی کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ مختلف علاقے کے لوگوں سے گفتگو کریں گے، تو لب ولہجہ اور انداز تکلم میں نمایاں فرق محسوس ہوگا، لیکن جب ان کی تحریریں پڑھیں گے، تو تمام خطوں کی تحریر وں میں یکسانیت نظر آئے گی۔لہذا اردوسیکھنے کے لیے ان قواعد کے حوالے سے کچھ معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔
یہ صرف اردو زبان کی ہی تخصیص نہیں، بلکہ دنیا کی تمام زبانوں میں یہی ہوتا ہے کہ ادائے مطلب اور مافی الضمیرکے اظہار کے لیے (خواہ زبانی طور پر ہویا تحریری طور پر)چند لفظوں کو جوڑکر جملے بنائے جاتے ہیں۔ ان جملوں میں کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں، جنھیں ہم اصطلاح میں اسم، فعل اور حرف کہتے ہیں۔
اسم:ایسے لفظ کو اسم کہا جاتا ہے، جس کے معنی دوسرے لفظ کے ملائے بغیر سمجھ میں آجاتا ہے۔ اور اس میں تینوں زمانوں: ماضی حال اوراستقبال میں سے کوئی زمانہ نہیں پایا جاتاہے۔ مثلاً: قلم،دوات، کاپی،کتاب وغیرہ۔
فعل: ایسا لفظ ہے، جواپنے معنی کے ادا کرنے میں کسی دوسرے لفظ کا محتاج نہیں ہوتا۔ اور اس میں تینوں زمانوں میں سے کوئی ایک زمانہ بھی پایا جاتا ہے، جیسے:آیا (زمانہئ ماضی میں)۔آتا ہے۔ (زمانہئ حال میں) آئے گا۔ (زمانہئ مستقبل میں)۔
حرف: ایسا لفظ ہے، جو اپنامعنی دینے میں کسی دوسرے کا محتاج تونہیں ہوتا؛ لیکن دوسرے لفظ سے ملے بغیر مکمل مفہوم بھی ادا نہیں کر سکتا،جیسے: سے، تک،کو،پر وغیرہ۔
مصدر: ایسا اسم ہے جو ماخذ ہوتاہے اور اس سے افعال متصرفہ بنتے ہیں۔ اس کی علامت (نا)ہے،جیسے: کھانا، پینا وغیرہ۔ مصدر کی چار قسمیں ہیں:
(۱)مصدر اصلی: ایسامصدرہوتاہے جسے اہل زبان اپنی زبان کے لیے مصدر بناتے ہیں، اس میں کوئی حرف زائد نہیں ہوتا، جیسے: آنا، جانا، کھانا،پینا وغیرہ۔
(۲) مصدر جعلی: وہ مصدر ہے جو فارسی، عربی اورکسی دوسری زبانوں کے الفاظ میں علامت مصدرلگا کرمصدربنا لیا جاتاہے، جیسے:چیدن سے چوننا،بخشیدن سے بخشنا،خریدن سے خریدناوغیرہ۔
(۳)مصدر مفرد: ایسے مصدر کو کہتے ہے جو اکیلا مصدر کا معنی دیتا ہے، جیسے: لکھنا، پڑھنا، بولنا،رونا وغیرہ۔
(۴)مصدر مرکب: اس مصدرکانام ہے جو دو لفظوں کو ملا کر مصدر بنا لیا جاتا ہے، جیسے: معلوم کرنا، جواب دینا، سوال کرنا،خوشامد کرنا،اصرار کرناوغیرہ۔
حاصل مصدر: جو مصدر یا فعل کی حالت اور کیفیت کو بتلاتا ہے۔اسے حاصل مصدر کہتے ہیں، جیسے: تڑپنا سے تڑپ، جنمنا سے جنم،چبھنا سے چبھن، کھرچنا سے کھرچن۔
حاصل مصدر بنانے کے قاعدے
(۱)مصدر کی علامت نا حذف کر کے، جیسے: لوٹنا سے لوٹ وغیرہ۔
(۲) مصدر کے آخر سے صرف الف حذف کر کے، جیسے: تھکنا سے تھکن،پھولنا سے پھولن، سوجناسے سوجن، دکھنا سے دکھن وغیرہ۔
(۳)علامت مصدر گرانے کے بعد الف بڑھا کر،جیسے: گھیرنا سے گھیرا، جھگڑنا سے جھگڑا۔
(۴)علامت مصدر گرا کر ی یا ائی لگا کر، جیسے: ہنسنا سے ہنسی، دھلنا سے دھلائی۔
(۵)دوامروں کو ملا کر، جیسے: بک بک، جان پہچان،کھینچ تان۔
(۶)دو مختلف لفظوں کو جوڑکر، جیسے: کتر بیونت،چھان بین،خرد برد۔
(۷)صفت پر لفظ(ہٹ)لگا کر،جیسے:چکناسے چکناہٹ،کڑواسے کڑواہٹ،بوکھلاناسے بوکھلاہٹ۔
(۸) علامت مصدر ہٹانے کے بعد (وٹ) لگا کر،جیسے: لکھنا سے لکھاوٹ،گرنا سے گراوٹ،ملاناسے ملاوٹ،سجنا سے سجاوٹ۔
(۹) علامت مصدر حذف کر کے اس کے ساتھ (ت) جوڑ کر، جیسے: بچنا سے بچت، سکنا سے سکت،کھپنا سے کھپت،بڑھنا سے بڑھت۔
(۰۱)علامت مصدر گرانے کے بعد لفظ (وا) بڑھا کر،جیسے:بلانا سے بلاو ا، کھلانا سے کھلاوا،دھلنا سے دھلاوا،دیکھنا سے دیکھاوا۔
(۱۱)علامت مصدر ختم کرنے کے بعد (و)کا اضافہ کر کے، جیسے: بچنا سے بچاو، گھٹنا سے گھٹاو،لگنا سے لگاو،دبناسے دباو۔
(۲۱) علامت مصدر ہٹا کر س بڑھا کر کے، جیسے: پینا سے پیاس،بکوانا سے بکواس۔
مصدرمتعدی بنانے کے قاعدے
(۱)علامت مصدر سے پہلے ”الف“ زیادہ کرکے، جیسے: ہلنا سے ہلانا، بہناسے بہانا،گرنا سے گرانا۔
(۲)علامت مصدر سے پہلے حرف کے ماقبل ”الف“ بڑھا کر، جیسے: اچھلنا سے اچھالنا، اگناسے اگانا،کھانا سے کھلانا،دیکھنا سے دیکھانا۔
(۳)تین حرفی مصدر میں اگر دوسرا حرف ”الف، واو، یای“ہو؛ تو اسے گرانے کے بعد علامت مصدر سے پہلے (الف)بڑھاکر کے، جیسے: بھاگناسے بھگانا، کودنا سے کدانا، لیٹنا سے لٹانا۔
(۴)دوحرفی مصدر میں اگر دوسرا حرف ”الف، واویا ی“ ہو؛ تو اسے ”لام“ اور”الف“ سے بدل کر کے، جیسے: کھاناسے کھلانا،سوناسے سلانا، سیناسے سِلانا۔
(۵)مصدر لازم کے شروع میں لفظ ”لے“یا”دے“ بڑھاکر، جیسے: لے آنا، دے جانا۔
(۶)کبھی ایک مصدر سے دوطرح کے بھی متعدی بنائے جاتے ہیں، جیسے: دبنا سے دبانااور دابنا، سیکھناسے سکھانا اورسکھلانا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart