اسلام میں زنا کو کیوں حرام قرار دیا

ثمیر الدین قاسمی ، مانچیسٹر غفرلہ
مانچیسٹر ، انگلینڈ

    سائنسی اعتبار سے ایک تحقیقی تحریر

    حضرت مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب دامت برکاتہم سائنس کے ماہر ہیں اور فطریات کے بھی ماہر ہیں ، سائنس اور قرآن حضرت کی بہت مشہور کتاب ہے جس میں انہوں نے بڑی بڑی تمام سائنسی تحقیقات جمع کی ہیں، اور بہت اچھی بحث کی ہے ، اس لئے حضرت کی یہ تحقیق بھی پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے لائق ہے

    قرآن میں زنا کی اتنی سخت حرمت کیوں ہے

    میں ایک زمانے سے یہ سوچتا رہا کہ آخر قرآن نے زنا کو کیوں حرام کیا ، اور کیوں کہا کہ یہ راستہ بہت برا ہے
    ۔و لا تقربوا الزنی انہ کان فاحشۃ و سآء سبیلا ۔ ( آیت ۳۲، سورت الاسراء ۱۷ )
    ترجمہ : اور زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو ۔ وہ یقینی طور پر بڑی بے حیائی اور بے راہ روی ہے
    جب میں انگلینڈ آیا تو اس کی تحقیق پوری طرح سمجھ میں آئی

    زنا کی خاص خاصیت
    اللہ نے یہ فطری عمل یہ رکھا ہے کہ ایک مرتبہ شرم گاہ کسی دوسری شرم گاہ کے ساتھ مل جائے تو اس کا اثر ہمیشہ باقی رہتا ہے ، اور انسان کا دل اس کے ساتھ لگا رہتا ہے ، اگر ہمیشہ کے لئے توبہ کر لے تو یہ اثر کچھ کم ہو جاتا ہے، ختم پھر بھی نہیں ہوتا ، اور توبہ نہ کرے تو یہ اثر بر قرار رہتا ہے ، اب اگر کسی عورت نے کسی اجنبی مرد کے ساتھ زنا کیا ، یا کسی مرد نے کسی اجنبی عورت کے ساتھ زنا کیا تو ہمیشہ اس کا اثر اس کی زندگی پر رہے گا

    زنا کے یہ 3 اثرات باقی رہتے ہیں
    [۱] اس کو زنا کرنے عادت پڑ جاتی ہے ، اور بعض مرتبہ اتنی عادت ہو جاتی ہے کہ خوبصورت بیوی گھر میں موجود ہو ، یا جوان شوہر گھر میں موجود ہو تب بھی وہ زنا کرنے سے باز نہیں رہتا ، ہر وقت اس کے دل میں ایک کسک رہتی ہے کس وقت میں کسی اجنبی کو استعمال کر لوں
    اگر اخلاص کے ساتھ زندگی بھر کے لئے توبہ کر لی تو یہ اثر ماند پڑ جاتا ہے ، لیکن اگر اخلاص کے ساتھ توبہ نہیں کی تو یہ اثر باقی رہتا ہے
    [۲] یہ ایسی عورت ، اور ایسا مرد اپنے شوہر اور اپنی بیوی سے بھر پور محبت نہیں کر پاتا ، ایسے لوگ محبت کی باتیں ، اور محبت کی ایکٹنگ ت بہت کرتے ہیں ، لیکن سچی محبت اس سے ہو ئی نہیں پاتی ، کیونکہ دل میں زنا کا اثر باقی ہے ، اس کے ہر ادا سے سامنے والے کو محسوس ہو جاتا ہے ، کہ یہ خالی خولی محبت کا صرف دوی ہے
    [۳] ہر وقت اس کا دل چاہتا ہے کہ پہلی والی کا چہرہ دیکھوں ، اور اس سے چپکے چپکے بات کروں
    اور یہ تینوں عادتیں حلال بیوی اور حلال شوہر کے لئے انتہائی خطر ناک ہیں

    انسانی فطرت یہ ہے کہ کسی دوسرے کو ہر گز برداشت نہیں کرتا
    اللہ پاک نے عورت کی فطرت میں یہ رکھا ہے کہ وہ کسی دوسری عورت کو بالکل برداشت نہیں کرتی ، وہ تو حلال بیوی اور شوکن کو بھی برداشت نہیں کرتی تو اجنبی زانیہ کو کیسے برداشت کرے گی
    اسی طرح مرد کی فطرت میں بھی رکھا ہے کہ وہ کسی حال میں یہ نہیں چاہتا کہ اس کی بیوی کسی سے ملے، یا اس کے دل میں کسی کی محبت ہو ، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آئے دن میاں بیوی میں جھگڑا ہوتا رہتا ہے ، اندر کی یہ بات کسی کے سامنے ذکر نہیں کرتا ، لیکن یہ آگ رہتی ضرور ہے ، اور چونکہ زنا کا اثر باقی ہے اس لئے صلح صفائی سے بھی یہ معاملہ حل نہیں ہوتا ، اور نہ سچی محبت ہو پاتی ہے

    شوہر دل سے بیوی کی خدمت کرتا ہے
    بیوی پاک دامن ہو کبھی بھول سے بھی زنا کا خیال نہ آیا ہو تو شوہر فطری طور پر یہ خدمات انجام دیتا ہے
    [۱] ۔۔بیوی کو کھانا پینا دیتا ہے
    [۲]۔۔، اس کو اپنا مکان دیتا ہے
    [۳]۔۔، اور جب اس کا انتقال ہونے لگتا ہے تو اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ میرے مرنے کے بعد محترمہ کو کوئی تکلیف نہ ہو، اس کے ہاتھ میں میرے مال کا ایک بڑا حصہ ہو تاکہ وہ خوش خرم زندگی گزارے
    [۴]۔۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ جو بھی کماتا ہے وہ بیوی ہی کے لئے کماتا ہے، اور بیوی اور بچوں پر ہی خرچ کرتا ہے ، وہ اپنے اوپر کم خرچ کرتا ہے ، اور بیوی پر پورا مال نچھاور کر دیتا ہے
    [۵] ۔۔بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے ، کہ اپنے بھائی بہنوں کو نہیں دیتا، اپنے والدین کو نہیں دیتا ، لیکن بیوی کو اس پر سانپ کی طرح بیٹھا دیتا ہے، اور وہ یہ فطری محبت کی وجہ سے کرتا ہے ، وہ ایسا کرنے میں مجبور ہے
    لیکن اگر بیوی زنا میں مبتلاء ہے ، اور شوہر کو اس کا پتہ ہے کہ محترمہ دوسرے کے پاس بھی جاتی ہے تو وہ بیوی سے فطری محبت نہیں کر پائے گا ، وہ ایسا چاہ کر بھی نہیں کر پائے گا ، اور اوپر کی پانچ خدمات میں سے یا تو کرے گا ہی نہیں ، یا کرے گا تو صرف بناوٹی ہو گی ، اور اس کی زندگی میں ہمیشہ تلخ کلامی رہے گی ، اور روکھا پن ہوگا، کیونکہ زنا کی وجہ سے قلبی محبت کر ہی نہیں پا رہا ہے

    باپ اپنے بچے کی دل سے خدمت کرتا ہے
    بیوی پاک دامن ہو اور اس سے حلال بچہ پیدا ہوا ہو تو باپ ان اولاد کی بھی بے پناہ خدمت کرتے ہیں ، اور خرچ کی بھر مار کر دیتے ہیں ،

    [۱]۔۔ بیٹے اور بیٹیوں کو کھلاتے ہیں
    [۲] ۔۔اس کو پڑھاتے ہیں ، اور اعلی سے اعلی ڈگری دلواتے ہیں
    [۳]۔۔ ان کی شادی میں خوب خرچ کرتے ہیں
    [۴] ۔۔، اور جب اس کا انتقال ہونے لگتا ہے تو اپنی پوری وراثت بچوں کو ہی دینا چاہتے ہیں
    [۵]۔۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ جو بھی کماتا ہے وہ اپنے بچوں کے لئے کماتا ہے
    خود پھٹا پرانا کپڑا پہنتا ہے ، اور بچوں کو بہتر سے بہتر کپڑا پہناتے ہیں ، اور کمال کی بات یہ ہے کہ اس پر خوش بھی ہوتے ہیں
    لیکن یہ اسی وقت ہوتا ہے جب بیوی پاک دامن ہو ، اور شوہر کو یقین ہو کہ یہ بچہ میرا ہی ہے ، اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے
    لیکن اگر بیوی نے کبھی زنا کرائی ہے ، یا ایسے وقت میں یہ بچہ پیدا ہوا ہے جب وہ کبھی کبھار زنا بھی کروالیتی تھی تو پھر باپ خرچ نہیں کرتا ، بلکہ دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے ، اور ہر وقت یہ سوچتا ہے کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے اس لئے میں اس پر کیسے خرچ کروں ، اس پر خرچ کرنے کا دل ہی نہیں چاہتا ، اور کبھی کبھار خرچ کر دیا تو اس کا حساب گنتا رہتا ہے

    برطانیہ میں لوگ بچوں کو گود میں نہیں لیتے
    برطانیہ میں ان عورتوں کے بچوں کو دیکھنے کا موقع ملا جو زنا میں مبتلاء رہی ہیں
    یہاں مرد اور عورتیں عموما تیس سال کے بعد شادی کرتی ہیں ، پہلے وہ چھبیس سال کی عمرپڑھتی ہیں ، پھر ملازمت کرتی ہیں پھر جوڑا تلاش کرتی ہیں ، پھر اس کو کئی سال تک آزماتی ہیں پھر شادی کرتی ہیں
    اس درمیان مرد اور عورتیں زنا میں مبتلاء ہو جاتی ہیں ، اب اس سے جو اولاد ہوتی ہیں مرد کو اس سے کوئی خاص محبت نہیں ہوتی
    ، میں سینکڑوں چھوٹے بچوں کو دیکھا کہ وہ رو رہا ہے ، چلا رہا ہے لیکن نہ اس کو ماں گود میں اٹھاتی ہے ، اور نہ باپ گود میں لیتا ہے ، بس اس کو پرام [ بچوں کو سلانے کی چیز]میں رکھے ہوتے ہیں اور اس کو گھسٹے رہتے ہیں، یا بچوں روکھی زبان سے چپ کرتے رہتے ہیں،اور سیکڑوں پاک دامن عورتوں کے بچے کو دیکھا کہ ذرا سا رویا کہ باپ نے اٹھایا ، اس کو بوسہ دیا ، اور اتنا پیار کرتا ہے کہ بچہ ہنسنے لگتا ہے ، باپ کو ایک منٹ بھی چین نہیں آتا کہ اس کا بچہ روئے
    یہ عورت اور مرد کے پاک دامنی کے اثرات ہیں کہ جو بچوں پر پڑتے ہیں

    پاکدامنی کا اثر پرندوں میں بھی ہوتا ہے
    کبوتر اور کبوتری کا طریقہ یہ ہے کہ کبوتری صرف اپنے جوڑے سے ہی صحبت کراتی ہے ، اور اس کا نر بھی صرف اسی کبوتری سے صحبت کرتا ہے ، کسی اور سے ہر گز ملاپ نہیں کرتا ، اس کا اثر یہ ہے کہ ماں کی طرح نر کبوتر بھی اپنے بچے کے لئے گھوسلہ بناتا ہے ، انڈے کی حفاظت کرتا ہے ، اور جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس بچے کو دانہ بھی کھلاتا ہے ، اور یہ محبت اسی لئے ہے کہ ، اس کو پتہ ہے کہ یہ بچہ صرف میرا ہے ، اور میری جوڑی بالکل پاک دامن ہے، اس لئے فطری طور پر اپنے بچوں سے پیار ہو جاتا ہے
    ، یہ خاصیت چڑئے میں بھی ہوتی ہے ، بلکہ کئی پرندوں میں ہوتی ہے
    لیکن گائے ، بھینس کو کوئی بھی نر استعمال کر لیتا ہے ، اور کسی سے بھی وہ صحبت کرا لیتی ہے ، وہ کبوتر کی طرح پاکدامن نہیں ہے ، اس لئے کوئی بھی سانڈ اپنے بچے سے پیار نہیں کرتا ، بلکہ اس کو پتہ ہی نہیں ہے کہ میرا بچہ کون ہے





    بیوی اور بہو پاکدامن ہو تو
    لوگ پوتوں کو بھی اٹھا اٹھا کر گھومتے ہیں
    بیوی بھی پاکدامن ہو ، اور بہو بھی پاکدامن ہو ، ان سے جو بچہ پیدا ہوتا ہے ، جنکو پوتا، پوتی، نواسہ اور نواسی ، کہتے ہیں ، ان سے محبت ہوتی ہے ، بلکہ جوں جوں عمر ڈھلتی ہے ان معصوم بچوں کی آواز ، اور انکے معصوم چہرے سے پیار ہو جاتا ہے ، ان کی توتلی آواز انکی ہنسی اور ان کی دھمال مستیوں سے اتنی خوشی ہوتی ہے کہ دادا ، دادی سب غم بھول جاتے ہیں ، اور ایک پل بھی اس کو جدا کرنا گوارا نہیں کرتے ، ورنہ دل بے چین ہو جاتا ہے ، اور یہ سب اسی لئے ہے کہ ان کو پتہ ہے کہ یہ میرا ہی بچہ ہے
    لیکن اپنا بچہ نہ ہو ، یا اپنا بچہ ہونے میں شبہ ہوتو اس سے محبت نہیں ہوتی ،
    برطانیہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ بچہ حلال کا نہیں ہوتا اس لئے سولہ سال کے بعد اس کو اپنے گھر سے نکال دیتے ہیں ، اب وہ بے سہارا ہوتا ہے وہ بینک سے سودی قرض لیتا ہے ، اور زندگی بھر کا کام کرتا ہے اور سودی قرض بھرتا رہتا ہے ، اور ماں باپ کا تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں ہیں
    اور یہ ساری مصیبتیں اس لئے ہوتی ہیں کہ ماں باپ شروع ہی سے زنا میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، اسی لئے قرآن کریم نے یہ فرمایا کہ زنا کا راستہ بہت برا راستہ ہے اس کے قریب بھی نہ جاؤ ، ورنہ تمہارا بھی سکون چھنے گا اور تماری اولاد بھی بے سہارا ہو جائے گی

    زنا نہ کرنے کا علاج یہ ہے کہ جلدی شادی کریں
    زنا کی عادت نہ پڑے اس کا علاج شریعت نے یہ بتائی ہے کہ سولہ سال کی عمر میں شادی کرلیں ، اس عمر میں آدمی کو صحبت کی خواہش ہو چکی ہوتی ہے ، اب اس عمر میں نکاح ہوجائے تو نہ عورت کو کہیں جانے کی ضرورت ہے ، اور نہ مرد کو کہیں جانے کی ضرورت ہے ، بلکہ کہیں گئے بھی تو آپ کی شریک حیات اس کی خبر لیگی ، اور آپ کو کسی حال میں زنا میں مبتلاء نہیں ہونے دے گی ، اس طرح آپ زنا جیسی بری عادت سے بچ جائیں گے ، اور مفت کی بے پناہ لذت حاصل کریں گے

Facebook Comments

POST A COMMENT.