اسلام کا وسیع و عریض خیمہ

ہزرائل ہائی نیس پرنس غازی بن محمد

قسط نمبر 14

مختلف اقسام کے مسلمان

            اس پوری کتاب میں بالخصوص باب 10 میں ہم نے مسلمانوں کی اقسام اور ان کے عقائد کا تذکرہ کیا ہے۔ مزید وضاحت کے لئے اور تاریخی تناظر اور تناسب کے لحاظ سے ان حقائق کا اعادہ پیش ہے۔

            نبی اکرم محمدؐ  کی وفات کے تیس سال بعد مسلمان خلافت کے مسئلہ پر منقسم ہوئے۔  سیاسی اختلافات کے علاوہ کچھ بنیادی نظریاتی اختلافات بھی تھے۔ مسلمان دو بنیادی خیموں میں  بٹ گئے۔ سنّی وہ جو نبی اکرمؐ کی سنت پر عمل پیرا ہیں اور شیعہ جو اہل بیت کے طریقہ پر کاربند ہیں۔ ایک اور مختصر گروہ خوارج کا تھا جو کہ اصل مذہب سے خارج تھے۔

            ان گروہوں نے اپنے اپنے مذاہب وضع کئے اور اپنے اپنے طور پر اسلامی قانون اور فکر کے بنیادی مآخذ یعنی قرآن اور حدیث کا فہم حاصل کیا۔ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ اس فہم میں اضافہ ہوتا گیا۔ سنیوں کے یہاں دیگر مزید مذاہب وجود میں آئے البتہ 800ء سے چار مذاہب بہت نمایاں رہے ہیں، یہ ہیں حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی۔ البتہ مسلم اندلس میں ظاہری مذہب بھی تھا، حالانکہ آج ظاہریوں کا وجود نہیں ہے۔بعض علماء  ظاہری مذہب کا آج بھی حوالہ دیتے ہیں۔ شیعوں کے یہاں دو مذاہب کا فروغ ہوا، جعفری یا اثنائے عشری جو کہ اپنے بارہ معصوم اماموں سے منسوب ہیں اور زیدی جو کہ پانچ اماموں کے قائل ہیں اور اسی نسبت سے وہ زیدی کہلاتے ہیں۔ شیعیت کی تیسری شاخ اسماعیلی ہیں جو سات معصوم ائمہ میں یقین رکھتے ہیں۔ اسماعیلیوں کی بھی دو شاخیں ہیں  داؤدی بوہرہ جو کہ جعفری مذہب کے پابند ہیں  اور سلطان بوہرا کے نام سے موسوم اپنے قائد کی اتباع کرتے ہیں ۔البتہ وہ شافعی  اور قاضی نعمان کے  وضع کردہ بعض قوانین پر بھی عمل  کرتے ہیں۔   اسماعیلیوں کی دوسری شاخ نزاری  کہلاتی ہے جو کہ اپنے  امام موجود آٖغا خاں کے اطاعت کرتے ہیں اور اسلامی قوانین پر کاربند  نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور علیحدہ مختصر گروہ ہے عبادیوں کا جنھوں نے اپنا مذہب ایک حد تک سنیوں کی طرح وضع کیا۔ غرضیکہ اسلام کے آٹھ اہم مذاہب یہ ہیں، حنفی،  مالکی، شافعی، حنبلی، جعفری،اسماعیلی ، زیدی اور عبادی۔ 317ھ بمطابق 929ء میں اپنی آخری بغاوت کے بعد خوارج صفحۂ ہستی سے غائب ہوگئے۔  اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے ۔یہی عمل کا سیدھا راستہ ہے۔ اسلام کے چھ بنیادی عقائد ہیں جب کہ جعفری شیعہ کے بنیادی عقائد کی تعداد سات ہے۔ جیسا کہ باب 2 میں ہم نے واضح کیا شہادتین، شریعہ، عقیدہ سب اسلام کا جزو ہیں۔ ان میں سب سے غالب ایمان ہے۔

            اسلام کے آٹھ مذاہب میں جو کہ اصلاً مذہبی مکاتب فکر ہیں نہ کہ نظریاتی، ان میں عقائد، دینیات اور فکر کے باب میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر چاروں مذاہب کے سنّیوں کی اکثریت، اشعری اور ماتریدی مسلک، عقیدے اور دینیات پر عمل کرتے ہیں۔ درحقیقت اشعری اور ماتریدی عقائد میں اختلاف صرف چند نکات پر ہے جو کہ بنیادی طور پر لغوی بحث ہے۔ درحقیقت یہ دونوں مکاتب یکساں دینی عقائد کے عکاس ہیں۔ یہاں تصوف کا بھی ذکر کرنا چاہئیے جو کہ سنّی اسلام کا بھی ایک جزو لاینفک ہے اور جس کا مقصود نیکی، عبادت، روزے اور ذکر الٰہی کے ذریعہ تزکیہ نفس ہے۔ سنّیوں کی تقریبا ایک چوتھائی تعداد صوفی طریقوں  سے کسی نہ کسی شکل میں وابستہ ہے اور ان کے اس تعلق کے مختلف مدارج ہیں۔ شیعیت میں بھی تصوف کی روایت ہے گو بہت منظم نہیں اور یہ عرفان سے موسوم ہے۔ تصوف کے بہت سے رسوم و رواج قابل اعتراض ہیں لیکن ابو حامد الغزالی کی تصانیف میں جو روایتی سنّی تصوف ملتا ہے وہ اصول مخالف تحریک سے قبل تک متفق علیہ تھا۔

            بیسویں صدی میں روایتی اسلامی فقہ کو دو نظریاتی چیلنجوں سے مقابلہ کرنا پڑا ہے۔

۱۔         جدیدیت

۲۔        اصول مخالف تحریک

            جدیدیت کا یہ نظریہ ہے کہ اسللام پرفی الجملہ اس طور پر نظر ثانی ہو کہ وہ مغربی اقدار سے ہم آہنگ ہوجائے۔ اس نظر ثانی کا دائرہ  صرف اسلامی تہذیب اور ثقافت تک محدود نہیں بلکہ اسلامی عقائد اور قوانین  بھی اس میں شامل ہیں۔ جہاں تک اصول مخالف تحریک کا تعلق ہے جو کہ بنیادی طور پرسلفیت، وہابیت اور اخوان المسلمین پر مشتمل ہےاس کے مطابق قرآن اور حدیث سے اس طور پرمراجعت کی جائے جس میں فقہ کے منہج کا کوئی لحاظ نہ ہو۔ یہ روایتی سنّی مذاہب کو مسترد کرتے ہیں اور روایتی عقائد، دینیات اور تصوف کے بھی مخالف ہیں۔

            آج یعنی 1434ھ بمطابق 2016ء میں مسلمانوں میں 90 فیصد سنّی ہیں، شیعہ 10 فیصد اور خوارج کا وجود نہیں ہے۔ عبادی ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔ عبادی صرف عمان، شمالی افریقہ اور مغربی صحارا کے کچھ حصوں میں مقیم ہیں۔ جہاں تک جعفری شیعہ کا تعلق ہے وہ ایران، عراق اور اقلیت کی شکل میں خلیج عرب، شام، لبنان، پاکستان، ہندوستان اور افغانستان میں ہیں۔ زیدی شیعہ شمالی یمن میں مقیم ہیں جبکہ سنّی دنیا کے ہر حصہ میں ہیں۔ آج کی دنیا کی موجودہ سات ارب آبادی میں تقریبا 23 فیصد یعنی ایک اعشاریہ 7 بلین  مسلمان ہیں۔ اسلام دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔ اہم تر نکتہ یہ ہے کہ اس کی اشاعت روز افزوں ہے۔ اگلے صفحے پر درج نقشہ سے مزید تفصیل سامنے آتی ہے۔

عمان کا پیغام (2004  تا 2006ء)

            1300 سال سے مسلمانوں میں حقیقی مسلمان کی تعریف کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ 12 سال قبل یعنی 1425ھ بمطابق 2004ء میں ہز مجسٹی شاہ محمد عبداللہ ثانی ابن حسین نے اردن کے مفکرین اور علماء کے ایک گروہ کو یہ ہدایت  دی کہ وہ جدید دنیا کے سامنے اسلام بلکہ حقیقی اسلام کی تصویر کشی کریں۔ 27 رمضان 1425ھ بمطابق 9 نومبر 2004ء میں اس گروہ نے عمان پیغام شائع کیا۔ یہ اعلانیہ صرف اس بارے میں نہیں ہے کہ اسلام کیا ہے بلکہ یہ وضاحت بھی کرتا ہے کہ اسلام کیا نہیں ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ اسلام کس کی نمائندگی کرتا ہے، کن اعمال کی نمائندگی کرتا اور کن کی نہیں۔ (دیکھئے ویب سائٹ www.ammanmessage.comجس میں تمام دستاویزات درج ہیں)۔

1۔        اسلام (1437/2016) 1.7 ارب مسلمان ہیں۔

2۔        مسلمانوں میں 90 فیصدی سنّی ہیں یعنی 1.5 ارب۔

3۔        مسلمانوں میں 10 فیصدی شیعہ ہیں۔

4۔        مسلمانوں میں ایک فیصد عبادی ہیں۔

5۔        مسلمانوں میں ایک فیصد متجدد ہیں۔

6۔        65 فیصدی سنّی مسلمان اصولی ہیں۔

7۔        10 فیصدی سنّی مسلمان اصولی مخالف ہیں۔

8۔        زیدی

9۔        جعفری

10۔     اسماعیلی

11۔     معلوم نہیں تقریبا 25 فیصدی

12۔     اصولی مسلمانوں میں 50 فیصدی حنفی ہیں۔

13۔     اصولی مسلمانوں میں 20 فیصدی مالکی ہیں۔

14۔     اصولی مسلمانوں میں 25 فیصدی شافعی ہیں۔

15۔     اصولی مسلمانوں میں 5 فیصدی حنبلی ہیں۔

16۔     صوفی مسلمان 25 فیصدی ہیں۔

17۔     اصولی مخالف مسلمانوں میں 85 فیصدی سلفی اور وہابی ہیں۔

18۔     اصولی مخالف مسلمانوں میں 5 فیصدی کا تعلق اخوان المسلمون سے ہے۔

19۔     اصولی مخالف مسلمانوں میں 10 فیصدی انتہا پسند سلفی اور وہابی ہیں۔

20۔      ڈیڑھ لاکھ تکفیری، جہادی جنگجو ہیں۔

            عمان پیغام کو مزید استناد دینے کے لئے ہز مجسٹی شاہ محمد عبداللہ ثانی ابن حسین کی ہدایت پر میں نے مندرجہ ذیل تین سوالات پوری دنیاکے 24ممتاز ترین مذہبی رہنماؤں کو روانہ کئے۔ یہ حضرات اسلام کی تمام شاخوں اور مسالک کے نمائندہ ہیں۔ ان سے یہ سوالات کئے گئے:

۱۔         مسلمان کون ہیں؟

۲۔        کیا کسی کی تکفیر کرنا جائز ہے؟

۳۔        کس کو فتویٰ دینے کا حق حاصل ہے؟

            جولائی 2005ء میں ان فتاویٰ کی بنیاد پر میں نے ہز مجسٹی شاہ محمد عبداللہ ثانی ابن حسین کی ہدایت پر عالم اسلام کے ۲۰۰ علماء کا محاضرہ منعقد کیا، ان کا تعلق ۵۰ ممالک سے تھا۔مذکورہ بالا سوالوں کے جوابات شیخ الازھر آیت اللہ سستانی اور شیخ یوسف القرضاوی جیسے جید علماء سے موصول ہوئے۔ ان علماء نے متفقہ طور پر ان تینوں امور کے بارے میں ایک اعلانیہ جاری کیا جو کہ عمان پیغام کی تین بنیادی شقیں ہیں۔

۱۔         تمام علماء نے متعین طور پرسبھی آٹھ مذاہب جن میں سنّی، شیعہ اور عبادی اسلام، اشعریت، تصوف اور حقیقی سلفی فکر شامل ہیں، ان کے جواز کو تسلیم کیا اور اسی کی روشنی میں یہ طےپایا کہ کون مسلمان ہیں۔

۲۔        اس تعریف کی روشنی میں ان علماء نے متفقہ طور پر مسلمانوں کی تکفیر کرنے کو ممنوع قرار دیا۔

۳۔        ہر مذہب کے نمائندہ حضرات فتاویٰ کی شرائط پوری کرتے ہوئے اسلام کے نام پر ناجائز اعمال کی نشاندہی اپنے فتوی کے ذریعہ کریں۔

            اس ضمن میں درج ذیل متن تیار اور منظور ہوا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم، درود و صلوٰۃ نبی اکرم محمدؐ اور ان کے مطہر اور اعلیٰ خاندان پر نازل ہو۔

            جو کوئی بھی چار سنی مذاہب فقہ یعنی حنفی، مالکی، شافعی یا حنبلی کا ماننے والا  ہو یا دو شیعہ فقہی مکاتب جعفری اور زیدی سے تعلق رکھتا ہو یا عبادی یا ظاہری مذاہب فقہ کا پیرو ہو وہ مسلمان ہے۔ اس میں سے کسی شخص کو کافر قرار دینا نا جائز ہے۔ ہر  مسلمان کا خون عزت اور مال محفوظ اور مقدس ہے۔ مزید برآں، شیخ الازھر کے فتوی کے بموجب اشعری عقیدے اور حقیقی تصوف کے پیرو کو بھی کافر قرار دینا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح  جو حقیقی سلفی عقیدے پر کاربند ہو اس کو بھی کافر قرار دینا ناجائزہے۔

            مسلمانوں کا جو بھی گروہ اللہ تبارک تعالیٰ ، اس کے پیغمبر ، اسلام کے پانچ   ستونی ارکانوں  اور مذہب کے کسی بھی واضح پہلو کا منکر نہ ہو اس کو کافر قرار دینا ناجائزہے۔

            اسلامی فقہ کے ان مذاہب میں اختلافات کے مقابلے  مشترک  قدریں زیادہ ہیں۔ آٹھوں مذاہب کے پیرو اسلام کے بنیادی اصولوں کے بارے میں متفق ہیں۔ سب اللہ تبارک و تعالیٰ  جو کہ الٰہ واحد ہے اور منفرد ہے اس پراور اللہ کے نازل کردہ کلام قرآن پر اور رسول اور نبی محمدؐ جو کہ تمام عالم انسانیت کے لئے ہیں  ان پر یقین رکھتے ہیں۔ سب کا اسلام کے پانچ ارکان  یعنی شہادت کے دو کلمے، صلوٰۃ، زکوٰۃ، صوم اور مکہ میں موجود  کعبہ میں حج،  کے باریمیں  اتفاق رائے ہے ۔ سب مانتے ہیں کہ ایمان اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور تقدیر الٰہی، خیر و شر سے متعلق ہے۔ ان آٹھ مذاہب کے علماء کے درمیان اختلاف فروع میں پایا جاتا ہے نہ کہ بنیادی اصول میں۔ فروع کے درمیان اختلاف رحمت الٰہی کی ایک شکل ہے۔ یہ قول عام ہے کہ علماء کے درمیان اختلاف ایک بہتر معاملہ ہے۔

            اسلام میں تمام فقہی مذاہب کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ فتوی کے اجراء میں ایک بنیادی منہج کا اتباع کیا جائے۔ قابلیت کا وہ معیار جو ہر فقہی مذہب نے متعین کیا ہے اس کے بغیر کوئی شخص فتویٰ جاری نہ کرے۔ اسلامی فقہ کے تمام مذاہب کے علم کے بغیر کوئی فتویٰ نہ جاری کیا جائے۔ کسی کو بھی غیر محدود اجتہاد اور ایک نئے فقہی مذہب کا دعویٰ نہیں کرنا چاہئیے۔ نہ ہی ایسے ناقابل قبول فتوے جاری کرنے چاہِییں جن سے مسلمان  شریعت کے اصولوں سے دور ہوجائیں اور جو کہ فقہ سے ثابت نہ ہوں۔

            عالم اسلام کی سیاسی اور مذہبی قیادت Organization of the Islamic Conference کی مکہ چوٹی کانفرنس میں عمان پیغام کی یہ تینوں شقیں   دسمبر 2005ء میں منظور کی گئیں۔ جولائی 2005 سے جولائی 2006 تک اس پیغام کو چھ بین الاقوامی اسلامی علمی مجلسوں نے منظور کیا اور پھر بین الاقوامی فقہ اکیڈمی نے جدہ میں جولائی 2006 میں اس کی تائید کی۔  بحیثیت مجموعی پانچ سو ممتاز علماء نے عمان پیغام کی تائید و توثیق کی۔

            دور جدید میں یہ مسلمانوں کا ایک تاریخی اجماع تھا ۔  اس کے نتیجہ میں  مذہبی اور سیاسی امور سے متعلق  کئی فیصلہ کن رائے اوراسلام کی ایک متعین تعریف سامنے آئی۔ عمان پیغام کی تین شقوں کی وضاحت یہ ہے:

۱۔         1300 سالوں میں یہ پہلا موقع تھا جب مسلمانوں نے باضابطہ طور پر اس نکتہ کی صراحت کی کہ مسلمان کون ہیں اور اس  بارےمیں تکثیریت اور باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھا گیا۔

۲۔        اس میں مسلمانوں نے ایک دوسرے کو تسلیم کیا۔ نبی اکرم محمدؐ کا قول ہے : ‘‘میری امت کبھی کسی غلطی پر مجتمع نہیں ہوسکتی’’ (ابن ماجہ)۔ اس موقعہ پر شیخ الازھر امام اعظم شیخ محمد سید طنطاوی نے اس پیغام کے بارے میں ایک تعارفی شذرہ لکھا جس میں وہ رقمطراز ہیں کہ:

‘‘جو لوگ صراط مستقیم پر چلنے کے خواہش مند ہیں ان کے اقوال و افعال کے لئے ایک بہترین مآخذ ہے جو ان کی روحانی اور مذہبی زندگی میں از حد مفید ثابت ہوگا’’۔

عمان پیغام کے فوائد

            اللہ قرآن میں فرماتا ہے؛

کچھ اچھے نہیں ان کے اکثر مشورے مگر جو کوئی کہ کہے صدقہ کرنے کو یا نیک کام کرنے کو یا صلح کرانے کو لوگوں میں جو کوئی یہ کام کرے اللہ کی خوشی کے لئے تو ہم اس کو دیں گے بڑا ثواب۔(سورہ النساء 114 : 4)

            عمان پیغام کی تین شقوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پہلی دفعہ اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کا یہ موقف عالمی اور متفقہ طور پر ایک دینی اور سیاسی اجماع کی شکل میں سامنے آیا کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے۔ بالفاظ دیگر عمان پیغام نہ صرف اسلام کی واضح تعریف متعین کرتا ہے بلکہ اسلام کے حوالہ سے تکثیریت اور تنوع کو بھی جواز فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، یہ پیغام اسلام کو جاہلوں کے فتوے اور غیر ذمہ دار لوگوں کے بیانات سے بھی محفوظ رکھتا ہے تاکہ اسلام کو مسخ کرکے پیش نہ کیا جائے۔ آج کے دور میں ہر شخص جو کہ شریعہ میں بی۔اے۔ یا ایم۔اے۔ ہوتا ہے وہ فتویٰ دیتا ہے۔ اسی طرح ٹیلی ویژن کے چینلس ہیں، لاکھوں ویب سائٹس ہیں اور کروڑوں کی تعداد میں اسلام اور اسلامی قانون کے بارے میں ٹوئیٹس ملتے ہیں۔ عمان کا پیغام یہ متعین کرتا ہے کہ فتویٰ دینے کا حق کس کو ہے۔ غرضیکہ اسلام اور مسلمان دونوں کے تحفظ کے لئے یہ پیغام ایک منفرد مآخذ کی  حیثیت رکھتا ہے۔ عمان پیغام کی تین شقیں ایک مستند تاریخی متن ہیں جس کی بنیاد پر قانون وضع کئے جاسکتے ہیں اور جس کو پوری دنیا میں نصاب کا جزو بنایا جاسکتا ہے۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں