اقبال ؔ سہیل فطرتاً شاعر پیدا ہوئے تھے:شاہانہ سلمان عباسی سروج ایجوکیشنل اینڈویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام ’دیارِ ہندکا باکمال شاعراقبال ؔ سہیل‘پر سمینار

مرلی دھر لکھنؤ۱۴؍مارچ،

اقبالؔ سہیل کی اردو کے علاوہ دیگر لسانی حلقوں میں بھی اپنی ایک پہچان ہے، فارسی زبان وادب میں کم وبیش ان کی خدمات غالب کے مساوی ہیں۔ان کی شناخت صرف اردو شاعری تک ہی محدود نہیں بلکہ سنجیدہ ادبی حلقوں میں انہوں نے اپنا اعتبارقائم کیا ہے۔شاعری کے علاوہ انہوں نے نثرکے میدان میں بھی انہوں نے جو امتیازات قائم کئے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں ہیں،ان کی شاعری میں جتنی ساحری ہوتی ہے نثر میں اسی قدر عنائی بھی نظر آتی ہے۔میری بات کی تصدیق کیلئے ماہنامہ معارف میں ان کے طویل تبصرے دیکھے جاسکتے ہیں جو موقع ومحل کی مناسبت سے وہ برابر کرتے رہے ہیں۔انہوں نے اردوادب کے ساتھ ساتھ فارسی ادب میں بے شمارخدمات دی ہیں،وہ فطرتاً شاعر پیدا ہوئے تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ ماں کے پیٹ سے شاعری لیکر آئے ہیں۔مذکورہ خیالات کا اظہارصدرجلسہ ڈاکٹرشاہانہ سلمان عباسی نے سروج ایجوکیشنل اینڈویلفیئرسوسائٹی کے زیراہتمام واترپردیش اردواکادمی لکھنؤ کے اشتراک سے ’’دیارِ ہندکا باکمال شاعراقبال ؔ سہیل‘‘ کے موضوع پر ایک سمینارمیں کیا۔
سیمینارکے ابتدامیں افتتاحی کلمات سروج ایجوکیشنل اینڈویلفیئرسوسائٹی کے جنرل سکریٹری مرلی دھرنے اداکئے کہ اور سمینار کامقصداوراسکی افادیت پرروشنی ڈالی اورسوسائٹی کے اغراض ومقاصد اوراس کے قیام کے مقصدسے بھی مہمانوں کومتعارف کرایا۔ اس موقع پر مہمانان کے بدست سمینار کے ناظم محمدضیاء اللہ صدیقی کو اردوزبان وادب اورصحافت کی خدمات کے عوض اعزازوایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ سمینار کاآغاز مدرسہ حفصہ للبنات کے استاد قاری محمدطلحہ فرقانی کی تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔اس موقع پرنثاراحمد نے نعت ومنقبت کا نذرانہ بھی پیش کیااورمہمانوں کا استقبال بھی کیا گیا۔
مہمان ذی وقارماسٹرنیازاحمد نے اردو کے حق میں بولتے ہوئے کہاکہ اردوماضی میں بھی کامیاب تھی ،حال میں بھی روشن ہے اورانشاء اللہ اس کامستقبل بھی تابناک ہوگا۔اردوزبان وادب اورشاعری کایہ حال ہے کہ سڑک سے لیکر پارلیمنٹ تک اردوزبان استعمال ہورہی ہے لیکن یہ اردو کی بدقسمتی ہے کہ اردو استعمال تو ہورہی ہے لیکن ہندی کے نام سے۔آج جب بھی کوئی لیڈر یاسیاست داں اپنی بات شروع کرتا ہے یااپنی بات میں وزن پیدا کرنا چاہتا ہے تو اردو زبان اوراردو شاعری کاسہارا لیتا ہے اردوکواگرتعصب اور تنگ نظری سے دیکھناچھوڑدیاجائے تو کوئی دوسری زبان اردو کامقابلہ نہیں کرسکتی۔
مہمان خصوصی مفتی مولانارضوان ندوی،منیجرمدرسہ حفصہ للبنات نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردوزبان وادب اپنی چاشنی اوردلکشی کی وجہ سے ہرزمانے اورادوار میں عوام وخواص نور نظر بنی رہی ہے،اس لئے کہ اردو زبان وادب کو اپنے لوح وقلم اور لہو سے سینچنے والوں میں اقبال سہیل جیسے ادیب وشاعرموجود تھے،جنہوں نے نظم ونثردونوں میں طبع آزمائی فرمائی،چونکہ وہ بیک وقت کئی زبانوں اوران کی ادبی وتہذیبی روایت سے گہری واقفیت رکھتے تھے،اس لئے ان کی شاعری صرف الفاظ کامجموعہ نہ ہوکر تہذیبوں اورمختلف میلانات کی آئینہ دار بن گئی تھی۔ان کی غزلوں میں بھی ظلم وبربریت اوربرطانوی سامراج کے جبرواستعدادکے خلاف نعرہ بغاوت کا رجحان حاوی ہے۔اوریہاں بھی ان کاکلام سیاسی واقعات وحقائق کامرقع ہے۔
سمینارکے ناظم صحافی ضیاء اللہ صدیقی نے اپناپُرمغز مقالہ بھی پیش کیا انہوں نے اپنے مقالے میں کہاکہ اقبال سہیل کی شاعری میں مجلس خلافت سے لیکر ہندوستان کی آزادی اور اس کے بعد تک کے تمام سیاسی حالات،واقعات اورمختلف میلانات ورجحانات کی مکمل تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔سہیل اقبال نے اپنی شاعری میں خشک موضوعات کوبھی اپنی اسلوب نگارش سے ایسادلکش بنادیا ہے کہ پڑھنے والا کبھی اکتاہٹ کاشکار نہیں ہوتا۔دوسرے مقالہ نگارڈاکٹرسید محمدصبیح ندویؔ نے بھی اپنے مقالے کے ذریعے سے اردوادب میں اقبال سہیل کی خدمات کونہایت خوبصورت انداز سے پیش کیااورکہاکہ اقبال سہیل نے غزلوں کے مقابلے میں نظمیں زیادہ کہی ہیں۔خصوصاًتحریک آزادی کے زمانے میں قومی وملی نظمیں زیادہ لکھیں،یہ نظمیں گرچہ وقتی اورعارضی موضواعت پر کہی گئی تھیں لیکن اقبال سہیل کے قلم کے جادو نے ان کو بہارسرمدی کا گہوارہ بنادیا۔ان کی نظموں میں صرف واقعات کا بیان نہیں بلکہ ان کی بعض نظمیں ایسی ہیں جنہوں نے صفحہ قرطاس پر الفاظ کے انگارے روشن کردئیے ہیں۔دوسرے مقالہ نگاروں میں ڈاکٹرنثاراحمدجنرل سیکریٹری نیوکلیس ایجوکیشنل اینڈویلفیئرسوسائٹی اورڈاکٹرمحمدراشد نے بھی نہایت معلوماتی مقالے پیش کئے جس سے سامعین کو اقبال سہیل کے بارے میں خصوصاان کی ادبی زندگی کے بارے میں دلچسپ معلومات حاصل ہوئی ،ڈاکٹرنثاراحمد نے اقبال سہیل کی نعت ومنقبت کے ذریعے اردو ادب میں ان کی خدمات کو بے حد سراہا اور کہا کہ نعت ومنقبت میں اقبالؔ سہیل کاثانی تلاش کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ان کے علاوہ علاقے کے دیگر مقالہ نگاروں نے اپنے مقالوں سے سمینار کوجلابخشی۔
آخرمیں تمام مہمانوں نے سوسائٹی کے جنرل سکریٹری مرلی دھرکوکامیاب سمینار منعقد کرانے پردلی مبارکبادپیش کی کہ انہوں نے آج ایک نہایت اہم موضوع پرسمینارکاانعقادکرعلاقے میں ادب کی جوت جلادی ہے۔ پروگرام کے اختتام پر گرامین مانٹیسری اسکول کے پرنسپل تنویراحمد نے مہمانوں کاتہہ دل سے شکریہ اداکیا۔اس موقع پر معززین شہر کثیر تعداد میں مود رہے۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں