اقبال کے دیار عشق کی حالت دور جدید میں یاسرعرفات طلبگار کے قلم سے

اقبال کے دیار عشق کی حالت دور جدید میں
یاسرعرفات طلبگار کے قلم سے

“”دیار عشق “”

از قلم و کاوش یاسر عرفات طلبگار

دیار عشق میں ہم نے مقام کھویا ہے
نیا زمانہ، نیا صبح و شام کھویا ہے

جنازہ عشق کا بازار میں نکلتا ہے
دلوں نے عشق کا جب سے پیام کھویا ہے

خدا مگر دل فطرت شناس دے کس کو؟
ضمیر بیچ کے انساں نے نام کھویا ہے

کیا ہے زر نے تُرُش لہجہ آدمی پیدا
جہانِ انس نے شیریں کلام کھویا ہے

اٹھا رہا ہے مسلماں فرنگ کے احساں
سفال ہند کا مینا و جام کھویا ہے

وہ شاخ تاک تھی تیری غزل تھا جس کا ثمر
ثمر کا جامِ مئے لالہ فام کھویا ہے

یہاں غریب کا غمخوار اب نہیں کوئی
زمیں نے جب سے خدا کا نظام کھویا ہے

رموز تجھ کو ملے جس مقام پر اقبال
جواں نے تیرے وہ عرفاں کا بام کھویا ہے

درندگی کا چلن ہر طرف سے ہے یاسر
ہر ایک شخص نے اب احترام کھویا ہے

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں