اقلیتوں کو مطمئن کرنا وزیر اعظم مودی کی ذمہ داری

مولانا سید ارشد مدنی جمعیۃ علما ہند کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ملک کے تشویشناک حالات پر غور وخوض، ماب لنچنگ کے خلاف قانون سازی پر زور، جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تیاری اور صدر جمعیة علماءِ ہند صوبہ آندھرا و تلنگانہ مفتی غیاث الدین حیدرآباد کی شرکت ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر آج مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند کے مفتی کفایت اللہ میٹنگ ہال میں جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت مولانا سید ارشد مدنی منعقد ہوا، اجلاس میں بابری مسجد مقدمہ، آسام شہریت معاملہ سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور ملک کے موجودہ حالات اور قانون و انتظام کی بدتر صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، ساتھ ہی دوسرے اہم ملی اور سماجی ایشوز پر تفصیل سے غور و خوض کیا گیا، اس اہم اجلاس میں ممبران نے ملک کے موجودہ حالات پر کھل کر تبادلہ خیال کیا۔ اس پس منظر میں مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات خاص طور پر مسلم اقلیت اور دلتوں کیلئے تقسیم کے وقت سے بھی بدتر اور خطرناک ہوچکے ہیں ایک طرف جہاں آئین اور قوانین کی بالادستی کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے تو وہیں عدل وانصاف کی روشن روایت کو بھی ختم کردینے کی خطرناک روش اختیار کی جارہی ہے۔  ہندوستان صدیوں سے اپنی مذہبی غیر جانبداری اور رواداری کے لئے مشہور ہے سیکولرازم اور رواداری نہ صرف ہندوستان کی شناخت ہے بلکہ یہی اس کے آئین کی روح بھی ہے، آج ملک میں اقلیتوں خاص طور سے مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جارہا ہے، جس کی وجہ سے اب تک بہت سے لوگ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر آئین اور قانون کی بالادستی قائم نہیں رہی تو یہ ملک کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوگا،  مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند اپنے قیام سے آج تک ملک میں اتحاد و یکجہتی، امن و آشتی اور بھائی چارگی کے فروغ کے لئے سرگرم رہی ہے، جمعیۃعلماء ہند کا یہ مشن آج اور بھی ضروری ہوگیا ہے، کیونکہ ایک خاص سوچ اور نظریہ کی متحمل سیاسی قوتیں ملک کو سیکولرازم اور مذہبی غیر جانبداری کی راہ سے ہٹاکر پورے ملک میں نفرت اور فرقہ پرستی کا ماحول پیدا کرنے کے درپے ہیں، انہوں نے کہا کہ صدیوں سے مل جل کر ساتھ رہتے آئے ہیں، اس ملک کی مٹی میں ہمارے بزرگوں کا لہو شامل ہے، ان کی قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں، ملک کی اقلیتوں کو مطمئن کرنا وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے، کیونکہ وزیراعظم پورے ملک کا ہوتا ہے، آج ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ ملک کسی خاص مذہب کی نظریہ کے بیناد پر چلے گا یا قومیت کی بنیاد پر یا سیکولرازم کے اصولوں پر؟ مولانا مدنی نے انتباہ دینے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں کسی ایک نظریہ اور مذہب کی بالادستی چلنے والا نہیں ہے، یہ ملک سب کا ہے، ہندوستان ہمیشہ سے گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ہے، اور اسی راہ پر چل کر ہی ملک کی ترقی ممکن ہے۔ ماب لنچنگ کے حالیہ واقعات اور خاص کر تبریز انصاری کے وحشیانہ قتل پر اپنی سخت برہمی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی صاحب نے کہا کہ یہ قتل نہیں حیوانیت اور درندگی کی انتہا ہے، اور ہندستان کے ماتھے پر کلنک اور بدنما داغ ہے، انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جھارکھنڈ میں ماب لنچنگ کی ایک پریوگ شالہ بن گئی ہے، جہاں اب تک 19 لوگ ماب لنچنگ کا شکار ہوچکے ہیں، جس میں گیارہ مسلم ہیں اور دیگر دلت اور آدیواسی ہیں، انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی سخت ہدایت کے باوجود یہ درندگی رک نہیں رہی ہے، حالانکہ 17جولائی 2018ء کو سپریم کورٹ نے اس طرح کے واقعات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ کوئی شخص قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا اور مرکز سے اسے روکنے کے لئے پارلیمنٹ میں الگ سے قانون بنانے کی ہدایت بھی کی تھی لیکن اس کے بعد سے اب تک ماب لنچنگ کے واقعات ہورہے ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے اس آرڈر کے بعد بھی اب تک تقریبا 55 لوگ ماب لنچنگ کا شکار ہوچکے ہیں، اور این ڈے اے کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 26 مئی سے آج تک 8 افراد ماب لنچنگ کا شکار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی سخت ہدایت کے بعد وزارت داخلہ نے تو ماب لنچنگ کو روکنے کے لئے تمام ریاستوں کو ہدایت جاری کرکے مؤثر اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا، اب اگر اس کے بعد بھی اس طرح کے واقعات نہیں رک رہے ہیں، تو پھر اس کا صاف مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو لوگ ایسا کررہے ہیں انہیں سیاسی تحفظ اور پشت پناہی حاصل ہے؟ صرف اتنا ہی نہیں ضمانت ملنے پر ان ملزمین کا سیاسی لوگ استقبال کرتے ہیں، کیا یہی سب کا ساتھ سب کا وکاس ہے؟ اور سب کا وشواش ہے؟ اس لئے ان کے حوصلے بلند ہیں۔  مولانا مدنی نے کہا کہ ہجومی تشدد ایک مذہبی مسئلہ ہے جس میں مذہبی بنیاد پر لوگوں کو تشدد اور بربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اس لئے تمام سیاسی پارٹیوں خاص کر وہ پارٹیاں جو اپنے آپ کو سیکولر کہتی ہیں، میدان عمل میں کھل کر سامنے آئیں اور اس کے خلاف قانون سازی کے لئے عملی اقدام کریں، صرف مذمتی بیان کافی نہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کے حالات اس وقت انتہائی خراب ہیں، بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اس طرح کے حالات ملک کے تقسیم کے وقت بھی نہیں تھے۔مار کاٹ خونریزی تو ہوئی مگر حکومت اور ملک کے سیاسی لوگ اس کے خلاف تھے، بابائے قوم مہاتما گاندھی جی نے اس کے خلاف مون برت رکھا تھا، اور اوقعہ یہ ہے کہ یہی چیز ان کی شہادت کا سبب بن گئی، اسی لئے ہمارا معاشرہ فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم نہیں ہوا تھا۔ اب ایک مخصوص نظریات کو ملک پر تھوپنے کی کوشش ہورہی ہے، اور ہر شخص کو مجبور کیا جارہا ہے کہ اس کے نظریے کو تسلیم کرے۔ مولانا مدنی نے مزید کہا کہ ان حالات میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، اس ملک کی مٹی میں محبت کا خمیر شامل ہے۔یہی وجہ ہے مختلف مذاہب، تہذیبوں اور زبانوں کے لوگ صدیوں سے پیار محبت کے ساتھ رہ رہے ہیں، ہمارا اختلاف اور لڑائی کسی سیاسی پارٹی سے نہیں صرف ان طاقتوں سے ہے، جنہوں نے ملک کی سیکولر قدروں کو پامال کرکے ظلم و جارحیت کو اپنا شیوہ بنالیا ہے، لیکن افسوس! کہ عوام کے ذہنوں میں پہلے گائے کے نام پر اور اب جے شری رام کے نام پر مذہبی جنون پیدا کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ مگر امید افزاں بات یہ ہے کہ تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ملک کی اکثریت فرقہ پرستی کے خلاف ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ افسوس!  اس پر ہے کہ سپریم کورٹ کے سخت ہدایت کے بعد بھی سرکار قانون سازی نہیں کررہی ہے، اور بے گناہی کی ہلاکت  کو روکنے کے لئے مؤثر اقدامات سے پہلو تہی کررہی ہے، چنانچہ جمعیۃ علماء ہند نے سڑک پر پر اتر کر احتجاج اور جلوس کے بجائے اس کے خلاف عدالت عظمیٰ میں قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے، اور اس سلسلہ میں جمعیۃ علماء ہند نے پیش رفت کرتے ہوئے جھاڑکھنڈ ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کردی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کا یہ اجلاس ہجومی تشدد اور (ماب لنچنگ ) پر اپنی انتہائی تشویش کا اظہار کرتا ہے، ایک جمہوری ملک میں جہاں ایک مضبوط اور مستحکم جمہوری حکومت ہے، عوام کا قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لینا، اور حکومت اس لاقانونیت پر تماشائی بنی رہے، یہ ایسا رویہ ہے جو ملک کو انتشار اور خانہ جنگی کی طرف لے جارہا ہے، اگر ملک میں یہ لاقانونیت یونہی بڑھتی رہی تو اس کی آگ میں صرف اقلیتیں دلت اور ملک کی کمزور عوام ہی نہیں جلیں گے، بلکہ اس کی لپٹ سے ملک کی سالمیت محفوظ نہیں رہے گی، اور ملک کی ساری ترقی اور نیک نامی اس جنگل راج کی نذر ہوجائے گی، اس لئے ہر محب وطن کا ملک سے محبت کا یہ تقاضہ ہے کہ مذہب ونسل سے بلند ہوکر مسلم اور غیرمسلم متحد ہوکر اس کے خلاف آواز اٹھائیں، اور حکومت وقت سے بھی ہمارا مطالبہ ہے کہ اپنی ساکھ اور ملک کی قدیم تہذیب وثقافت کی حفاظت کے لئے جلد از جلد اس کے خلاف قانون بنائے اور چابک دستی سے اسے نافذ کرے، کیونکہ حکومت کی خاموشی سے بین الاقوامی طورپر ملک کی نیک نامی پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے، اور مہذب دنیا میں ہماری رسوائی ہورہی ہے۔ بابری مسجد تنازعہ سے متعلق ایک قرار داد میں کہا گیا کہ جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس مؤرخہ 3؍جولائی 2019؍ بابری مسجد کے معاملہ پر غور وفکر کے بعد بابری مسجد کی تاریخی، قانونی اور شرعی حیثیت کے  پیش نظر یہ فیصلہ کرتی ہے کہ بابری مسجد قانون اور عدل و انصاف کی نظر میں ایک مسجد تھی، اور آج بھی شرعی لحاظ سے مسجد ہے، اور قیامت تک مسجد ہی رہے گی، چاہے بزور حکومت و طاقت اسے کوئی بھی شکل اور نام دیدیا جائے، اس لئے کسی فرد اور جماعت کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی متبادل کی امید میں مسجد سے دستبردار ہوجائے، لہذا جمعیۃ علماء ہند اس بارے میں اپنے پرانے موقف پر قائم ہے، قانون اور شواہد کی بنیاد پر سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے گا، ہم اس کو قدر کی نظر سے دیکھیں گے۔ جمعیۃ علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل بندوق اور ظلم و جبر سے نہیں نکل سکتا، بلکہ اسے آپسی بات چیت کے ذریعہ حل کیا جانا چاہئے، ورنہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات بد سے بدتر ہوتے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کشمیریوں کا دل جیتنے کی اشد ضرورت ہے، انہوں نے کشمیری عوام سے یہ اپیل بھی کی کہ وادی میں امن و اتحاد اور مشترکہ تہذیبی وراثت کو بچائے رکھیں، کیوں کہ یہی کشمیر کی روح ہے، اور یہی کشمیریت ہے۔  مجلس عاملہ نے طلاق ثلاثہ بل پر یہ تجویز پاس کی کہ دستور ہند میں دیئے گئے حقوق کے تحت مسلمانوں کے مذہبی عائلی معاملات میں حکومت یا پارلیمنٹ کو ہرگز مداخلت کا حق نہیں ہے، کیونکہ مذہبی آزادی ہمارا بنیادی حق ہے، جس کی ضمانت دستور کی دفعہ 25 تا 28 میں دی گئی ہے، لہذا ایسا کوئی بھی قانون جس سے شریعت میں مداخلت ہوتی ہے، وہ مسلمانوں کے لئے ہرگز قابل عمل نہیں ہوگا، مسلمان بہرصورت شریعت پر عمل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں، اور سمجھتے رہیں گے۔ مسلمانوں کے مذہبی امور قرآن وحدیث کی بنیاد پر طئے ہوتے ہیں، اسلئے سماجی اصلاحات کے لئے شریعت کو دوبارہ نہیں لکھا جاسکتا، اور طلاق کے معاملہ میں قرآن وحدیث ہی واحد دستور ہے۔ مولانا مدنی نے کہا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا طلاق کے علاوہ کوئی دوسرا مسئلہ نہیں ہے، حالانکہ دوسری کمیونیٹی میں طلاق کا تناسب زیادہ ہے۔ سروے کے مطابق 68 فیصد طلاق غیرمسلموں میں ہوتی ہے، اور 32 فیصد تمام کمیونیٹی میں آخر یہ دوہرا معیار کیوں؟  ایک دوسری تجویز میں کہا گیا کہ 26 جون کو اسٹیٹ کورڈینیٹر نے جن لوگوں کا پہلے سے این آر سی میں نام آچکا تھا، اس میں سے ایک لاکھ دو ہزار چھ سو بیالیس (102642) کا نام خارج کردیا، اور گورنمنٹ نے ان لوگوں کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لئے صرف پندرہ دن کا موقع دیا ہے، اسی فیصلہ کے خلاف آج جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن داخل کی ہے، جس میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ یہ مدت پندرہ دن سے بڑھا کر ایک ماہ کردی جائے، کیونکہ این آر سی کے ضابطہ میں کلیم اورآبجکشن کے لئے ایک ماہ کا وقت دیا جاتا ہے، قابل ذکر ہے کہ این آر سی کی حتمی لسٹ 31 جولائی کو جاری کردی جائے گی۔ کیرالہ میں ریلیف کا جو کام ہورہا ہے، اس کی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، گزشتہ اپریل میں 40 مکانات متاثرین کے حوالہ کئے جاچکے ہیں، باقی 28 تکمیل کے مراحل میں ہیں، جو بہت جلد متاثرین کے حوالہ کئے جائیں گے، اور 95 مکانات کی مرمت کراکر متاثرین کے حوالہ کئے جاچکے ہیں۔ علاؤہ ازیں ورکنگ کمیٹی میں جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ (جنرل باڈی) کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں ملک و ملت کے تعلق سے بہت سارے مسائل پر غور و خوض ہوگا۔ ورکنگ کمیٹی نے ایک نمائندہ اجلاس بلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس میں مذہبی، سیاسی، سماجی اور سیکولرزم پر یقین رکھنے والے اشخاص و دانشوروں کو مدعو کیا جائے گا، جو ملک کے معاملات اور حالات کا جائزہ لیں گے، اور مستقبل کے لئے لائحہ عمل تیار کریں گے۔ورکنگ کمیٹی نے ریاستی، ضلعی اور مقامی یونٹوں کو متوجہ کیا کہ جمعیۃ علماء ہند کے تعمیری پروگرام خصوصاً اصلاح معاشرہ کے پروگرام بطور تحریک چلائیں، جس سے معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کا سدباب ہوسکے۔ اجلاس مجلس عاملہ کی کار روائی مولانا سید ارشد مدنی صاحب کی صدارت میں ناظم عمومی مولانا عبدالعلیم فاروقی کی تلاوت کلام پاک سے ہوئی، شرکاء اجلاس میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی، ناظم عمومی مولانا عبدالعلیم فاروقی، ارکان میں مولانا حبیب الرحمن قاسمی دیوبند، مولانا محمد حنیف صالح گجرات، مولانا اشہد رشیدی مرادآباد، مولانا سید اسجد مدنی دیوبند، مولانا فضل الرحمن قاسمی، مولانا عبداللہ ناصر بنارس، الحاج حسن احمد قادری پٹنہ، مولانا عبدالہادی پرتاپ گڑھی، مولانا مفتی محمد اسماعیل مالیگاؤں، مفتی غیاث الدین صاحب رحمانی حیدرآباد کے علاوہ مدعوئین خصوصی کے طور پر مولانا عبدالقیوم قاسمی مالیگاؤں، مفتی عبدالقیوم احمدآباد، اور محمد احمد صاحب بھوپال شریک ہوئے، اجلاس کی کارروائی صدر محترم جمعیۃ علماء ہند کی دعا پر اختتام پزیر ہوئی۔ از ترتیب : مفتی محمد خواجہ شریف مظاہری کاماریڈی

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں