اقلیتوں کے حقوق اور ان کی پاسداری

خورشید عالم (مرحوم)





آج پوری دنیا میں اقلیتوں کے حوالے سے ان کے حقوق واختیارات کو لیکر ایک بحث چھڑی ہوئی ہے اور یہ اس لیے ہے کہ دنیا جمہوری نظام کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جب کہیں جمہوری نظام کی بات آتی ہے تو اقلیتوں کے مسائل جن کا تعلق سیاسی، سماجی، اقتصادی، مذہبی معاملات اور تعلیم سے ہے موضوع بحث ہوتے ہیں اور انھیں تحفظ دینے کی بات کہی جاتی ہے تاکہ وہ بھی اس نظام کے ماتحت رہتے ہوئے اپنے حقوق کو حاصل کر سکیں گو یا ایک طرح سے اس طریقہ کار کو اقلیتوں کے حقوق کے ضامن کے طور پر دیکھااور سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ خود اقوام متحدہ نے اپنے منشور میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے پر زور دیاہے۔ اس ضمن میں اگر ہم دیکھیں تو بعض ممالک میں مسلمان اقلیت کے طور پر اپنے حقوق واختیارات کے لیے جدو جہد کرتے نظر آتے ہیں تو بعض ممالک میں دیگر قومیں اقلیت کے طور پر اپنے وجود کے ساتھ ملک کی تعمیری سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
اس پس منظر میں جب ہم پیغمبر اسلامؐ کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو چاہے وہ مکی دور ہو یا مدنی دور۔ ہر جگہ اقلیتوں کے حقوق کا نہ صرف تحفظ کیا گیا ہے بلکہ انھیں اپنے افکار ونظریات کے تحت زندگی گذارنے کی پوری آزادی حاصل رہی اور اس کی بنیاداسلامی نظام عدل پر ہے۔ اسی لیے اسے قرآنی معیار کہا گیا ہے۔ اقلیتوں کے اس حق کو میثاق مدینہ میں درج کرکے باضابطہ دستوری حیثیت دی گئی تھی۔ مکہ میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کے وقت مسلمان اقلیت میں تھے اور عرب کا سماج قدیم قبائلی نظام پر مبنی تھا جس میں اقلیت کا کوئی تصور نہیں پایاجاتا تھا، اور نہ ہی انھیں کسی طرح کی کوئی سہولت حاصل تھی، جس کے سبب اسلام قبول کرنے والوں کو اس سماج نے ستانا شروع کیا اور اتنا ستایا کہ انھیں مدینہ ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔ مدینہ کی ہجرت مسلمانوں کے حق میں مفید ثابت ہوئی۔ وہاں کی ایک بڑی آبادی جو پہلے ہی اسلام قبول کرچکی تھی نے مہاجرین کو گلے لگایااور اس طرح مکہ کی ایک اقلیت نے مدینہ میں اکثریت کی شکل اختیار کرلی، اور جو اقلیت مکہ میں اکثریت کے رحم وکرم پر تھی وہ یہاں اکثریت میں تبدیل ہوگئی لیکن اس نے وہاں کی اقلیتوں کو وہ تمام حقوق دیے جن سے وہ خود مکہ کی زندگی میں محروم تھی۔ تاریخ کی یہ عدیم المثال رواداری آج بھی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نمونہ ہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ عصر حاضر میں بھی اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری اسی میثاق مدینہ کے خطوط پر ممکن ہے۔
نوعیت کے اعتبار سے اقلیتوں کے حقوق کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو وہ ممالک ہیں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسلم ممالک میں دیگر مذاہب کے لوگ اقلیت میں ہیں، اور یہ دونوں پہلو اہم اور قابل توجہ ہیں۔مگر عالمی سطح پر ان دونوں پہلوؤں کو لیکر جو بحث وگفتگو ہوتی ہے اس میں توازن اور صحیح تناسب کے ساتھ مسئلہ سامنے نہیں آپاتا ہے جس کی وجہ سے اسلام اور مسلم ممالک دونوں مختلف طرح کے سوالات کی زد میں رہتے ہیں۔ ہندوستان، امریکا، برطانیہ اور دیگر مغربی یورپی ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں جبکہ پاکستان، بنگلہ دیش، مصر، عراق اور دوسرے مسلم ملکوں میں دیگر مذاہب کے لوگ اقلیت میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہندوستان، امریکا اور برطانیہ وغیرہ کی مسلم اقلیت کے حقوق واختیارات اور ان کے ساتھ جاری اکثریت اور حکومت کا رویہ جس طرح موضوع بحث بنتا ہے اور عالمی سطح پر مختلف ذرائع ابلاغ کے توسط سے مرکز ومحور بنتا ہے اس طرح مسلم ممالک میں رہنے والی اقلیتوں کا مسئلہ کیوں سامنے نہیں آپاتا ، جس کو حوالے کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ کبھی کبھار آتا بھی ہے تو اس کا منفی پہلو زیادہ نمایاں رہتا ہے۔ مثلا یہ کہ ان کو ستایا اور مارا جاتا ہے۔ ان کو آزادی حاصل نہیں ہے۔ تبدیلی مذہب کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ لڑکیوں سے جبراً نکاح کرلیا جاتا ہے اس سے مسلمانوں اور مسلم ممالک کی غلط شبیہ میں سامنے آتی ہے۔ یہ مسئلہ انتہائی قابل توجہ ہے کہ جس طرح آئینی طور پر غیر مسلم سیکولر ملکوں میں مسلم اقلیت کو حقوق و اختیارات حاصل ہیں اس طرح کیا مسلم ممالک میں دیگر اقلیتوں کو حقوق واختیارات حاصل ہیں۔نیز اس بات کا بھی منصفانہ جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ مختلف ممالک کے آئین میں اقلیتوں کو جن حقوق کی ضمانت دی گئی ہے وہ ان کو عملی طور بھی حاصل ہیں یا نہیں بدلتے ہوئے سیاسی، سماجی اور مذہبی تناظر میں اس قسم کے بہت سے ضروری سوالات کا جواب فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ساتھ ہی اس کی مناسب تشہیر بھی ضروری ہے تاکہ غیر مسلم دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی شدت پسندی اور تعصب کو لیکر جو غلط فہمی پھیلا ئی گئی ہے اس کا ازالہ ہوسکے۔ مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکرمیں ذمی اور غیر مسلم اقلیت کے تعلق سے جو احکامات پائے جاتے ہیں ان کی قابل قبول توجیہ وتعبیر آج کی اہم ضرورت ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.