اور ذکر کی مجلس سونی ھوگئی

Views: 33
Avantgardia

از : محمد عفان منصور پوری معرفت و سلوک کے امام ، رھبر شریعت و طریقت ، سادگی و زھد کے مرقّع ، یادگار اکابر ، سرپرست مدرسہ مظاھر علوم سھارن پور ، رکن مجلس شوری دارالعلوم دیوبند ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب نور اللہ مرقدہ کے خلیفہ و جانشین ( پیر جی ) حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب کاندھلوی علیہ الرحمہ ۱۰ / ذوالحجہ ١٤٤٠ھ مطابق ۱۲ / اگست ۲۰۱۹ء بہ روز پیر عید الاضحی کے دن دوپہر پونے تین بجے میرٹھ کے آنند اسپتال میں تقریبا اسی برس کی زاھدانہ زندگی گزار کر واصل بحق ھوگئے انا للہ وانا الیہ راجعون اسی دن شب میں ٹھیک گیارہ بجے قبرستان حاجی شاہ کمال سھارنپور کے وسیع میدان میں قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا سید ارشد صاحب مدنی دامت برکاتھم صدر جمعیت علماء ھند کی اقتداء میں ھزارھا ھزار افراد نے جنازہ کی نماز ادا کی اور پھر وہیں آپ کی تدفین عمل میں آئی ۔ حضرت مولانا کا سانحہ ارتحال اس دور قحط الرجال میں عوام و خواص سب کے لئے بڑا خسارہ ھے ۔ آپ نے اس مادی دور میں دنیا سے بے رغبتی اور رجوع الی اللہ کی جو نظیر پیش کی ھے وہ بہت کم دیکھنے کو ملتی ھے ، ھر دم فکر آخرت میں مستغرق رھکر ذکر الہی سے زبان کو سرشار رکھنا آپ کا محبوب وطیرہ تھا ، بلا شبہ آپ کی رحلت مجالس ذکر کو سونا کر گئی ۔ آپ نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے والد بزرگوار کے حلقہ ارادت کو نہ صرف سنبھالا بل کہ وسعت دی اور ان کی دینی رھنمائی و تربیت کا عظیم فریضہ انجام دیا ۔ آپ خود بھی متبع سنت تھے اور دوسروں کو بھی سنت ھی پر عامل دیکھنا پسند کرتے تھے ، خلاف سنت وضع قطع اختیار کرنے پر سخت ناپسندیدگی کا اظھار فرماتے تھے ، کسی ایسے شخص کا مجلس میں آجانا جس کے سر پر انگریزی بال ھوں اور چھرہ ڈاڑھی سے خالی ھو آپ کو برھم کرنے کے لئے کافی ھوتا تھا بھری مجلس میں اس پر سختی کے ساتھ نکیر فرماتے ، بعض لوگوں کو آپ کا یہ عمل ناگوار بھی گزرتا لیکن بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں یہ بروقت تنبیہ دینی انقلاب کا باعث بن جاتی ۔ خانوادہ مدنی سے آپ کو بڑی قربت تھی اس لئے کہ آپ نے اپنے والد محترم اور شیخ الاسلام حضرت مدنی نور اللہ مرقدہ اور ان کے اھل خانہ کے ساتھ دیرینہ مراسم اور گھر جیسے تعلقات کو خود دیکھا تھا ۔ کچے گھر میں بچپن ھی سے ھمیں جانا یاد ھے ابتداء میں کبھی حضرت والد محترم مدظلہ العالی کے ھمراہ تو کبھی برادر بزرگوار دام اقبالہ کے ساتھ جب بھی حاضری ھوئی غیر معمولی تعلق کا آپ نے مظاھرہ فرمایا ، پہلے سے آنے کی اطلاع ھو جاتی تو فون کرکے معلوم کرتے رھتے کہ کہاں پہونچے ھو ، ھر مرتبہ پرتکلف ناشتہ کا اھتمام فرماتے ، کھانے کا وقت ھوتا تو مجال ھے کہ بغیر کھانا کھائے چلے آئیں ، اگر کسی اور کے یہاں کھانے کا وعدہ کرلیتے تو ناراضگی کا اظھار فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ تمھارے نانا سھارنپور میں کچے گھر کے علاوہ کہیں مہمان نہیں بنتے تھے اسلئے جب بھی آؤ اپنے گھر کی طرح کھانا یہیں کھاؤ ، واپسی کے وقت اکثر و بیشتر کتب خانہ یحیوی کی مطبوعہ کتب ، نقدی ، عطر یا کوئی اور چیز بڑی محبت کے ساتھ بہ طور ھدیہ عنایت فرماتے اور دعاؤں سے نوازتے ۔ گذشتہ سالوں میں کتب خانہ کے قیام اور بکری پالن کی بڑی ترغیب دیتے تھے اس کے طریقہ کار کو سمجھاتے اور فوائد کا تفصیل کے ساتھ ذکر کرتے ، متعدد مرتبہ باقاعدہ فون کرکے اس سلسلہ میں پیش قدمی کرنے کی ھدایت بھی دی اپنے ممکنہ تعاون کا بھرپور یقین دلایا لیکن ھماری طرف سے سستی رھی اور ان دونوں کاموں میں سے کچھ بھی نہ ھوسکا ۔ خاکسار کی مجلس نکاح میں خسر محترم حضرت مولانا سید رشید الدین صاحب حمیدی نور اللہ مرقدہ کی خاص دعوت پر آپ کی مرادآباد تشریف آوری ھوئی ، بعد فراغت نکاح مجھے ایک طرف کو بلایا اور ارشاد فرمایا کہ نکاح کے بعد مجھے حضرت والد صاحب ( شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب نوراللہ مرقدہ ) نے ایک نصیحت فرمائی تھی میں نے اس پر عمل کیا اور اس کے فوائد محسوس کئے میں تمہیں بھی وھی بتانا چاھتا ھوں نصیحت یہ ھے کہ : جب اھلیہ سے ملاقات ھو تو اولا دو رکعت نفل نماز اس طرح پڑھنا کہ تم امام ھو اور بیوی مقتدی بعد ازاں دونوں رشتے کے مبارک ھونے اور جملہ خیرات و برکات کے سلسلہ میں دعاء کرنا انشاءاللہ بہت نفع ھوگا ، بندہ نے اس پر عمل کیا اور اس کے خوشگوار اثرات آج تک باقی ھیں اور انشاءاللہ باقی رھیں گے ۔ حضرت مولانا نور اللہ مرقدہ اپنی معصومیت ، بے نفسی ، بزرگی اور للہیت کے حوالہ سے ھمیشہ یاد کئے جاتے رھیں گے ۔ آپ پیر جی کے نام سے معروف تھے خود اس لقب کی وجہ بیان فرماتے ھیں : ” ایک مرتبہ اپنے کتب خانہ یحیوی پر بیٹھاکھیل کھیل میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو بیعت کررہا تھا ، اتنے میں حضرت مدنیؒ کا تانگہ آگیا ، حضرت تانگہ سے اترے اور مجھے بیعت کرتے دیکھا تو فرمایا کہ ’’مجھے بھی بیعت کرلیں‘‘ میں نے بلا تکلف کہہ دیا کہ آئیے اور حضرت مدنی کو بیعت کرلیا اس کے بعد سے حضرت مدنیؒ مجھے ’’پیر صاحب‘‘ ہی کہہ کے پکارتے اور ایک طرح سے یہ میرا لقب بن گیا ” خاندان کے چھوٹے بڑے سب آپ کو ماموں کہا کرتے تھے ممانی سے آپ کو بڑا لگاؤ تھا اور ان کا بہت خیال بھی رکھتے تھے ، تقریبا سوا برس پہلے ان کے وصال کے بعد سے تو بہت ٹوٹ گئے تھے اور خاموش خاموش رھنے لگے تھے ۔ ممانی جو خود ولی صفت خاتون تھیں ضعیفی اور معذوری کے باوجود ماموں کی پوری نگرانی اور ان کی ضروریات کا بھرپور خیال رکھتی تھیں وقت پر دوا کھلانا ، پر ھیزی کھانے کا انتظام کرنا ان کی صحت کا خیال رکھنا وغیرہ ، متعدد مرتبہ ایسا ھوا کہ باھر مجلس لگی ھوئی ھے حضرت گفتگو فرمارھے ھیں لوگ گوش بر آواز ھیں زنان خانہ سے بچیاں آئیں اور دور کھڑے ھوکر آواز دی : ماموں ! “ممانی کہرھی ھیں بیٹھے بیٹھے بہت دیر ھوگئی ، تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ، آرام کرلو ” حضرت مسکراتے ھوئے جواب دیتے اچھا کہدو آرام کررھے ھیں پھر کبھی لیٹ جاتے اور کبھی نیم دراز ھو جاتے ۔ اللہ اکبر ! آپسی تعلق اور احترام رائے کی یہ مثالیں کہاں ملتی ھیں ؟ باری تعالی آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور انبیاء و صدیقین شھداء و صالحین کے زمرے میں شامل فرمائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart