ایسا ہے کائنات کا نقشہ ترے بغیر !

Views: 28
Avantgardia

:مولانا فیاض احمد صدیقی انعام وہار سھبا پور دھلی این. سی. آر :ـــــــــــــعـــــــــــاللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے ساری کائنات انسان کی ضروریات مکمل کرنے کے لئے بنائی اور انسان اپنے پالنہار کی عبادت اور بندگی کے لئے بنایا گیا لیکن یہ رنگ بدلتی دنیا روشنیوں کا دور کہلاتی ہے جو ترقی کی اتھاہ منزلیں طے کر رہی ہے، جس کے مزاج میں ہر آن تغیر و تبدل رچا بسا ہے آج انسانیت کے دامن میں علم و دانش کی بھرپور تجلیاں ہیں تہذیب وتمدن کے بے پناہ اجالے ہیں، آج انسان زمین پر چل ہی نہیں رہا ہے بلکہ ہواؤں کے دوش پر اڑ بھی رہا ہے، خلاؤں میں اسٹیشن بنارہا ہے اور چاند پر کمندیں ڈالی جاچکی ہیں، سورج کی کرنوں کو مسخر کیا جارہا ہے زمین کے پوشیدہ خزانے باہر نکالے جارہے ہیں، پہاڑوں کی سر بفلک چوٹیاں سرکی جارہی ہیں کل کا انسان جن باتوں پر یقین نہ کرسکتا تھا آج کا آدمی اپنی آنکھوں سے معائنہ کررہا ہے، اور وہ ہماری روز مرہ کی زندگی کے معمولات میں شامل ہیں، آج انسان کو پرندہ کی طرح فضاء میں اڑتے دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت کی اڑان کو جادو شعبدہ بازی اور دھوکا نہیں سمجھا جاتا، سائنس نے فاصلوں کو ختم کر کے دنیا کو کھیل کا میدان بنا دیا ہے، دوری اور نزدیکی کے تمام پردے اٹھا دیئے ہیں ان سربستہ رازوں کو کھول کر رکھ دیا ہے جو کل تک آنکھوں سے اوجھل اور پردۂ جہل میں پڑے تھے.
 غرض کہ آج انسان کے پاس بے پناہ دولت ہے اور راحت و آلام کے لامتناہی وسائل موجود ہیں، لیکن دولت سے تو ہم صرف گدے خرید سکتے ہیں مگر میٹھی نیند نہیں خرید سکتے، دولت سے ہم عینک تو خرید سکتے ہیں، مگر نظر نہیں خرید سکتے دولت سے ادویات توخرید سکتے ہیں مگر صحت نہیں خرید سکتے، دولت سے آلات جدیدہ تو خرید سکتے ہیں مگر حادثوں کو ٹال نہیں سکتے، دولت سے کتابیں تو خریدی جاسکتی ہیں مگر علم نہیں خرید سکتے، دولت سے سخاوت تو کی جاسکتی ہے مگر عبادت نہیں خریدی جاسکتی،دولت سے ہم جسمانی راحت تو خرید سکتے ہیں، مگر روحانی مسرت اور سکون نہیں خرید سکتے، دولت کے خزانے پر ہوتے ہوئے بھی بے چینی دروازے پر رینگتی ہے پہلے لوگ اونٹوں کے کوہانوں پر سفر کرتے تھے مگر سکون تھا، آج ہوائی جہازوں پر سفر کرتے ہیں مگر سکون نہیں، پہلے جنگل کی تیرہ وتاریک وادیوں سے صیحیح سالم منزل تک پہنچ جاتا تھا، مگر آج شہر کے چوراہوں پر بجلی کی روشنی تلے منزل تک پہنچ جانا ایک اتفاق ہے
 یا جسم و کردار کے نیلام ہیں چوراہوں پر۔ یہ ترقی ہے تو پھر قہرِ خدا کیا ہوگا ۔
آج بےخدا تہذیب نےانسانیت کی گاڑی کو دلدل میں لاکھڑا کردیا ہے ایک ایسے چوراہے پر جس کی کوئی منزل نہیں، ایک ایسی اندھی بہری مشین جو نہ روح رکھتی ہے نہ دل نہ عقیدہ نہ ہی ضمیر اس نے زندگی سے ایمانی روح اور ایمانی حلاوت سلب کر لی ہے، عقیدہ کی گہرائی اور دل کا سکون چھین لیا ہے.            وہ اندھیرا ہی بھلا تھا جو قدم راہ پہ تھےروشنی لائی ہے منزل سے بہت دور مجھے،    در اصل وہ باتیں جن سے دل کے نگر میں اصلاح کا نور فروزاں اور دل کو سکون اور چین نصیب ہو سکتا ہے وہ ہے خدا کا خوف اور خدا کی ھدایت کی پیروی ۔یہ وہ پائیدار اور مستحکم بنیاد ہے جس پر چل کر انسان اپنی زندگی کو سنوار سکتا ہے اور سکون سے دامنِ مراد بھر سکتا ہے ۔انسان جتنا مذہب اور خدا پرستی سے دور ہوتا چلا جائے گا سکون سے اتنا ہی محروم رہے گا :ـــــــــــــعـــــــــــبے رونقی،جمود، تعطل، سکوتِ مرگ،ایسا ہے کائنات کا نقشہ ترے بغیر، ::

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart