بابری مسجد مسئلہ، ثالثی کی مدت15اگست تک بڑھا دی گئی مسلم پرسنل لا بورڈ اور جمعیت علماء کے وکلا عدالت میں موجود رہے

نئی دہلی،10مئی، 2019
آج سپریم کورٹ نے ثالثی کی جو کوششیں تقریباًدو ماہ سے جاری تھیں اس کی مدت 15اگست تک بڑھا دی ہے۔ یہ فیصلہ ثالثی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کی بنیاد پر کیا گیا۔ کمیٹی نے اس کام کے لئے 15اگست تک مزید مہلت مانگی تھی۔ ہندو فریق نے ثالثی کی مدت کو گھٹا کر جون تک کرنے کی درخواست کی۔ مسلم فریق کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے کہا کہ اگر کمیٹی مزید وقت چاہتی ہے تو اسے وقت دیا جائے۔ سپریم کورٹ نے کمیٹی کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ ثالثی کمیٹی اپنا کام 15اگست تک مکمل کرے۔ اس موقع پر نرموہی اکھاڑہ نے عدالت سے درخواست کی کہ یہ کام فیض آباد کے بجائے لکھنو یا دہلی میں انجام دیا جائے اور اب تک فریقوں سے کمیٹی الگ الگ بات کر رہی ہے۔ فریقوں کو آپس میں نہیں بیٹھایا جا رہا ہے تاہم عدالت ان دونوں ہی باتوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔
اس موقع پر مسلم فریق نے یوپی حکومت کی جانب سے دستا ویزات کا جو ترجمہ داخل کیا ہے۔ اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترجمہ انتہائی ناقص اور کمزور ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ ترجمہ کے جن حصوں پر فریقین کو اعتراض ہے فریقین اس پر اپنا اعتراض عدالت کے سامنے پیش کریں تو عدالت اس پر غور کرے گی۔ اس موقع پر مسلم پرسنل لا بورڈ کے وکیل ایڈوکیٹ راجیو دھون نے بھی بعض سوالات اٹھائے۔
مسلم فریقوں کی جانب سے سینئر وکلا ایڈوکیٹ راجیو دھون، ایڈوکیٹ راجیو رام چندرن،ایڈوکیٹ محترمہ برندا گرووراور ایڈوکیٹ محترمہ میناکشی ارورہ موجود تھیں۔اس کے علاوہ مسلم فریقوں کی جانب سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ جناب اعجاز مقبول، جناب شکیل احمدسید، جناب ایم آر شمشاد اور ایڈوکیٹ محمد ارشاد احمدبھی عدالت میں موجود رہے۔ اس کے علاوہ جونیئر وکلا کی پوری ٹیم جس میں ایڈوکیٹ آکرتی، ایدوکیٹ قرعتہ العین، ایڈوکیٹ پرویز داباز، ایڈوکیٹ عزمی، ایڈوکیٹ ادیتیا سماوار اور ایڈوکیٹ سارہ حسن بھی عدالت میں موجود تھیں۔ آج کی کاروائی پر مسلم پرسنل لا بورڈ کی جنرل سیکریٹری مولانا محترم ولی رحمانی نے اطمینان کا اظہار کیا۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں