بابری مسجد مقدمہ کا فیصلہ ۶۱/نومبر تک آجائیگا

Views: 56
Avantgardia

مسلم پرسنل لا بورڈ سات فریقوں کی طرف سے مقدمات کی پیروی کررہا ہے
نئی دہلی: ۱۳/اگست ۹۱۰۲ء
بابری مسجد کا معاملہ بلاشبہ ہندوستانی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ ہے جس کے مقدمہ کی عمر لانبی ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان جیسے جمہوری اور سیکولر ملک کا امتحان بھی ہے۔ بابری مسجد۸۲۵۱ء سے ۲۲/دسمبر ۹۴۹۱ء تک پورے طور پر مسجد رہی اور اس میں پنج وقتہ نماز پابندی سے ہوتی رہی۔ اس قضیہ کی ابتداء فرقہ پرست طاقتوں نے باقاعدہ ۲۲/دسمبر ۹۴۹۱ء کی رات کے اندھیرے میں شری رام اور شری لکشمن جی کی مورتی رکھ کر کی اور پہلی مرتبہ ۹۴۹۱ء میں ملک کو معلوم ہؤا کہ رام جی مسجد کے گنبد کے نیچے کی جگہ پر پیدا ہوئے تھے، اس کے بعد عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے گئے لیکن افسوس کہ عدالتوں سے جمہوری تقاضوں کی تکمیل نہ ہوسکی، سنی وقف بورڈ اترپردیش نے بھی ۱۶۹۱ء میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر ہوا کچھ نہیں، جو مسلمان پنج وقتہ نماز ادا کرتا تھا اسکے داخلہ پر پابندی لگادی گئی۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آخری مرحلہ میں ہے، روزانہ سماعت ہورہی ہے اور ۶۱/نومبر تک فیصلہ آجائیگا۔ سپریم کورٹ میں بابری مسجد کے متعلق جو پیروی ہورہی ہے وہ قابل اطمینان ہے اور ججوں کی طرف سے جو مختلف تبصرے سامنے آرہے ہیں وہ بھی مناسب ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے اپنے ایک اخباری بیان میں فرمایا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلم پرسنل لا بورڈ نے ملکیت و حقیت کے مقدمات کے ساتھ لبراہن کمیشن میں بھی زوردار پیروی کی اور آج بھی حقیت کا مقدمہ جو رائے بریلی کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ ماہر قانون دانوں کی نگرانی میں اسکی پیروی کررہا ہے۔اس کے علاوہ بورڈ آثارقدیمہ کی طرف سے کھدائی کے دوران بھی شامل و شریک رہا۔
حضرت مولانا رحمانی نے مزید بتایا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ کے ملکیت مقدمہ کے فیصلے نے پوری ملت اسلامیہ ہندیہ اور ملک کے سیکولر غیرمسلموں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھدیا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بڑی ذمہ داری کے ساتھ اس فیصلہ کی جانچ کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی اور اس کمیٹی کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ ملک کے ممتاز سینئر وکلا کو منتخب کریں اور وکلا کی پوری ٹیم بنائیں جو اس فیصلہ کا ہر پہلو سے جائزہ لے۔ الحمد للہ وکلا کی یہ ٹیم پوری طرح سرگرم ہے اور اپنا کام کررہی ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے سات فریقوں کی طرف سے سپریم کورٹ میں جواب داخل کیا ابھی جمعیۃ علماء ہند ایک مقدمہ کی پیروی کررہی ہے۔ اور مسلم پرسنل لا بورڈ سپریم کورٹ میں سات مقدموں کی پیروی کررہا ہے اور مستقل وکلاء کے ساتھ تبادلہ خیال جاری ہے اور مسلم پرسنل لا بورڈ ان سات مقدمات کی پیروی کے اخراجات برداشت کررہا ہے۔
آپ نے اس سلسلہ میں تمام مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ جوں جوں وقت قریب آئیگا افواہوں کا بازار گرم رہے گا وہ ان افواہوں پر قطعاً دھیان نہ دیں۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اپنے موقف پر پوری قوت کے ساتھ قائم ہے اور قانونی چارہ جوئی کے لئے ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ تمام لوگ اس کے حق میں دعاؤں کا اہتمام فرمائیں اور ملک میں اس وقت جس طرح کی سازشیں رچی جارہی ہیں ان سے ہوشیار اور چوکنا رہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart