بازار جنت میں دیدارِ خدا وندی

Views: 14
Avantgardia

جنت میں شکل وحسن کا بازار
جنت میں ایک بازار ہے،جہاں ہر طرف،مرد وعورت کی طرح طرح کی ایک سے بڑھ کر ایک حسین وجمیل شکلیں اور صورتیں قرینے اور سلیقے سے سجی ہوئی رکھی ہوں گی، اُس بازار میں تمام جنتی مرد وعورت جمع ہوکر،اُن شکلوں کو دیکھیں گے،اور جن کو جو شکل وصورت پسند آئے گی، حق تعالیٰ شا نہٗ اُنہیں وہی شکل وصورت عطا فرمادیں گے، ”وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ“ اور یہ اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ مشکل نہیں،سب کچھ اُس کی قدرت میں ہے، آج دنیا میں بھی خدا وند قدوس کی کرشمہ سازی،اور اُس کی قدرت کا ملہ کا مظہر موجود ہے،کہ: جنات اور فرشتے جس انسان کی شکل وصورت میں چاہتے ہیں، بلاروک ٹوک ظاہر ہوتے ہیں، بس اِسی طرح آخرت میں یہ قدرت مؤمنین کو بھی،حق تعالیٰ شانہٗ کی طرف سے عطا کی جائے گی کہ: وہ انسان کی جس شکل کو چاہیں، اُس بازار میں پسند کرکے اُسی میں سما جائیں،حدیث پاک میں آیا ہے:
حدیث(۸۱۱):-عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا:”اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَسُوْقًا،مَا فِیْہَا شِریً وَلا بَیْعٌ،اِلَّا الصُّوَرَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، فَاِذَا اشْتَہٰی الرَّجُلُ صُوْرَۃً،دَخَلَ فِیْہَا“رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ہٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ
(ترمذی رشیدیہ:۲/۸۷،رقم: ۰۵۵۲،مشکوۃ:۸۹۴، ترغیب:۴/۲۰۳،حادی الارواح:۲۹۱)
حدیث(۹۱۱):-وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ مُجْتَمِعُوْنَ، فَقَالَ:”یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ! اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَسُوْقًا،مَا یُبَاعُ فِیْہَا وَلا یُشْتَرٰی، لَیْسَ فِیْہَا اِلَّا الصُّوَرَ،فَمَنْ اَحَبَّ صُوْرَۃً مِنْ رَجُلٍ اَوْ اِمْرَأَۃٍ،دَخَلَ فِیْہَا“ رَوَاہُ الطَّبْرَانِیْ فِی الْاَوْسَطِ۔ (ترغیب:۴/۳۰۳،حادی الارواح:۲۹۱)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: نبی کریم ا نے ارشاد فرمایاکہ: جنت میں ایک بازار ہے،جس میں خرید وفروخت نہیں ہوگی، وہاں صرف مرد وعورت کی (طرح طرح کی حسین وجمیل شکلیں اور صورتیں نظر آئیں گی) وہاں جنتی مردوعورت میں سے جس کو جو شکل پسندآئے گی،وہ اُسی شکل وصورت میں سما جائیں گے،یعنی اللہ جل شانہٗ، اُن کو اسی صورت کا بنادیں گے۔
ایک حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: جنتی (آپس میں ایک دوسرے سے) کہیں گے کہ: بازار چلو،چنانچہ وہ سب مل کر مشک کے ٹیلوں کی طرح، مہکتے ہوئے بازار میں جائیں گے، اور جب وہاں سے اپنی بیویوں کی طرف واپس لوٹیں گے، تو کہیں گے کہ:ہمیں تم لوگوں کے پاس ایسی خوشبو محسوس ہورہی ہے، جو پہلے نہیں تھی، تو وہ بیویاں کہیں گی کہ: آپ لوگ بھی ایسی خوشبو سے معطر ہوکر لوٹے ہیں، جو ہمارے پاس سے جاتے وقت نہیں تھی۔(رواہ ابن ابی الدنیا موقوفا باسناد جید،ترغیب:۴/۳۰۳)
ایک روایت میں ہے کہ: جنت میں مشک کے ٹیلوں کی طرح ایک بازار ہے، تمام جنتی (مرد و عورت) وہاں جاکر جمع ہوں گے،حق تعالیٰ شانہٗ وہاں ہوا چلائیں گے، جس کو اُن کے گھروں تک پہنچائیں گے،پھر جب وہ لوگ واپس اپنے گھر والوں کے پاس پہنچیں گے،تو اُن کے گھر کے لوگ اُن جنتیوں سے کہیں گے،ہمارے پاس سے جانے کے بعد تمہارا حسن وجمال بڑھ گیا، وہ جنتی لوگ بھی اپنے گھروالوں سے کہیں گے کہ: ہمارے بعد تمہارا حسن وجمال بھی بڑھ گیا۔(رواہ ابن ابی الدنیا موقوفاً ایضا والبیہقی،ترغیب:۴/۳۰۳،حادی الارواح:۲۹۱)
یہی حدیث مسلم شریف میں الفاظ کے تھوڑے فرق کے ساتھ اِس طرح آئی ہے کہ: جنت میں ایک بازار ہے،جس میں اہل جنت ہر جمعہ کو جایا کریں گے، وہاں شمالی ہوا چلے گی، جو جنتیوں کے چہروں اور کپڑوں کو خوشبو سے بھر دے گی، اُن کے حسن وجمال میں اضافہ ہوجائے گا، اور وہ جنتی انتہائی حسین وجمیل ہوکر واپس لوٹیں گے، تواُن کے گھروالے کہیں گے، خدا کی قسم ہم سے جد اہونے کے بعد،تمہارا حسن وجمال بہت بڑھ گیا،وہ جنتی بھی اپنے گھر کے لوگوں سے کہیں گے کہ:خدا کی قسم تمہارا حسن وجمال بھی ہمارے پاس سے جانے کے بعد بڑھ گیا۔(مسلم شریف:۲/۹۷۳،رقم:(۳۱-۳۳۸۲)،حادی الارواح:۱۹۱)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart