بھارت رتن اٹل بہاری واجپئی کی نظموں سے سجا اسٹیج شو’’اٹل پتھ‘‘ گیارہ عظیم ہستیوں کو ملاتھیٹرمیں اہم خدمات انجام دینے کیلئے ’’نوشادسمان2019‘‘

لکھنؤ۱۲؍مارچ،لکھنوی تہذیب کے پیروکارموسیقی کار نوشادکاگھرانہ نوابین میں سے نہیں تھا لیکن وہ نواب شجاع الدولہ کی متشرکہ لکھنوی تہذیب کی پوری تہذیبی روایت کو سامنے رکھنے والے تھے۔ وہ محض موسیقی کار ہی نہیں عمدہ شاعراورتخلیق کار بھی تھے۔مشہور فلم’’دیدار‘‘ کی کہانی انہوں نے ہی لکھی تھی۔موسیقی کار نوشاد کے نام کے ایوارڈ پروگرام میں مذکورہ خیالات کااظہارسابق وائس چانسلراردوعربی فارسی یونیورسٹی اور سبکدوش آئی اے ایس ڈاکٹر انیس انصاری نے عظیم فنکاروں کوایوارڈدیتے وقت کیا،اس موقع پر بطور خاص سابق ڈپٹی وزیراعلیٰ عمار رضوی بھی موجود تھے۔پروگرام کا انعقادنوشاد سنگیت ڈیولپمنٹ سوسائٹی کے زیراہتمام واترپردیش اردو اکادمی کے اشتراک سے رائے اوماناتھ بلی آڈیٹوریم،قیصرباغ لکھنؤ میں ہوا۔موسیقی ،ڈرامہ ،رقص و ثقافت کے میدان میں کام کرنے والی تنظیم نوشاد سنگیت ڈیولپمنٹ سوسائٹی کی جانب سے شاعری ،رقص وڈرامہ سے سجی ہوئی ملٹی میڈیاپیشکش ’اٹل پتھ‘کااسٹیج شو آج 12 مارچ کو کیاگیا۔ 
’ نوشادسمان ۔2019 ‘ پرکشش پروگرام میں پروفیسر آصفہ زمانی ، ولایت جعفری، پنیت استھانہ ،شبیہ جعفری،

جتیندر متل ، چترا موہن ،ونئے شریواستو،راجویر رتن ، ایس ۔ این۔ لال ،آنند شرماضیاء اللہ صدیقی، اور ایس رضوان نے تھیٹر کے اداکاروں اورفنکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان گیارہ عظیم ہستیوں کو ایوارڈوسمان سے نوازا۔ سابقہ میں اس اعزازی اورسمان پروگرام میں نغمہ نگار خیام ، کلیان جی آنند جی ، سرود وادک امجد علی خان ، سنتور وادک شیوکمار شرما، رقص میں ہمامالنی ، خاتون نغمہ نگار ریکھا بھاردواج ، ڈائریکٹر راج بساریہ ، سوریہ موہن کلشریسٹ ، جگل کشور مشراکو الگ الگ سالوں میں ایوارڈاورسمان سے نوشاد سنگیت ڈیولپمنٹ سوسائٹی کے تحت،’ نوشادسمان‘سے نوازاجاچکا ہے۔
’نوشادسمان‘پروگرام میں سابق ڈائیریکٹردوردرشن اورتھیٹرہدایت کار ولایت جعفری نے بتایا کہ موسیقی کار نوشاد ایک خوددار اور جدوجہد کرنے والے شخص تھے۔ان کی سخت محنت اور تجربہ نے ہی ان کے فن کوعوام میں یادگار بنادیا۔انہیں یاد کرنا،ان کی روایت آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے۔سوسائٹی کے سیکریٹری اورکنوینراطہر نبی نے سوسائٹی کے اغراض ومقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ نوشاد صاحب کا بچپن یہیں گزرا۔یہاں رائیل سنیما ہال میں موسیقی کاروں کے لڈن میاں ہارمونیم بجاتے تھے یہیں سے نوشاد صاحب کا سنگیت پریم پروان چڑھ کر جنون کی شکل اختیار کرگیااور ایک عظیم منزل پر جاکر رکا۔ایک عمدہ درجے کے شاعر کے بطوربھی ان کی خدمات کافی اہم ہیں۔
بھارت رتن پنڈت اٹل بہاری باجپئی کی شاعری پر منحصرسوسائٹی کا اسٹیج ڈرامہ ملٹی میڈیا تھیٹر پروڈیکشن ’اٹل پتھ‘ کے شو میں یہاں مہمانوں کے طور پر پدم شری راج بساریہ ، سابق ڈپٹی وزیراعلیٰ عمار رضوی ، شاعر و سابق وائس چانسلر انیس انصاری ، وائس چانسلرپروفیسرشاہ رخ وغیرہ موجود رہے ۔گرافکس آرٹ سے سجی اٹل پتھ کی پیشکش آنند شرما کے ڈائریکشن و ایس۔ این۔ لال کے پروڈیکشن میں اوراسدخان کے ملٹی میڈیا،آدتیہ لپٹن کی موسیقی،اورسنجئے ترپاٹھی کی لائٹ اینڈروشنی میں پیشکش ’’اٹل پتھ‘‘مختلف فن اور فنکاروں کا سنگم نظرآیا۔اہم کرداروں میں ڈاکٹر مسعود عبداللہ،ابھنیش مشرا، دیپا شکھا سنہا، پورنما شکلا،اسمتا شریواستو،جوہی سریش چندر، اجے سنگھ، تشار چودھری، ہرتک کمار، انل سنگھ، شوم مشرا وستیم شکلا وغیرہ فنکار اسٹیج پر تھے۔جنہوں نے اٹل کی نظموں ،کام ، اصول وضوابط، قربانی، اور جدوجہد کو متعارف کراتی پیشکش میں اس میں اٹل ادگار، کیاکھویا کیا پایا ، سنکلپ کال ، شکتی سے شانتی ،نہ دینم نہ پلاینم وغیرہ نظموں کی مالا سے لی۔ قدم کبھی رکے نہیں کبھی ڈگے نہیں ، 15 اگست کی پکار ، میں نہ چپ ہوں نہ گاتاہوں۔دودھ میں درار پڑگئی ۔ آؤپھرسے دیا جلائیں۔ میں اکھل وشو کا گرو مہان و کالیجی کویتا لوٹ کر آؤں گاوغیرہ 15 کویتاؤں میں سے کچھ چنندہ کویتا کا انتخاب کیا۔آدتیہ لپٹن کی آوازو نغموں سے سجے اس ڈیڑھ گھنٹے کے پروگرام میں اٹل باہری باجپائی کی مکمل زندگی دکھلائی گئیتاکہ لوگ اس سے ترغیب حاصل کریں۔تکنیکی طور پر لیزر لائٹس سمیت اسپیشل ساؤنڈ کا استعمال کیا گیا۔ایٹم بم کی ٹیسٹنگ وغیرہ کی ریکارڈیڈ پرچھائیاں اور ویڈیو بھی دکھلائے گئے۔آخر میں مہمانا ن کاشکریہ پروگرام کے کنوینر اور سوسائٹی کے روح رواں اطہر نبی نے اداکیا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.