بے تحاشہ چل رہی ہے ظلم کی تلوار اب

Views: 24
Avantgardia
  1. محمدطارق قاسمی لکھیم پوری


گل ہیں پژمردہ ترقی کررہے ہیں خار اب
ہر طرف  بربادیِ  گلشن کے  ہیں آثار  اب


اب  کوئی  ترکیب  جینے  کی  نکالو  بلبلو
سانس لینا بھی چمن میں ہوگیا دشوار اب


ہوگئے  کتنے  بلند  اہل ستم  کے حوصلے
بے تحاشہ چل رہی ہے ظلم کی تلوار اب


پھر سے خیبر کا ہمیں اب معرکہ درپیش ہے
اٹھ کھڑا  ہو  پھر  سے  کوئی حیدر کرار اب


کارواں کو لے ہی ڈوبے گا یہ میرِ کارواں
قافلہ  والو!  چُنو  تم دوسرا  سالار  اب


بے کسوں کے حق میں آخر کیوں نہیں کھلتی زباں 
چھین  لی   کس  نے تمہای   طاقتِ  گفتار  اب


دیکھئے چلتا ہے  کب  تک  اب  نظامِ  میکدہ
محفلیں بے رنگ ہیں بے ذوق ہیں میخوار اب




Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart