تحفظ شریعت اصلاح معاشرہ کی تحریک کو تیز کرنے پر زور ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک روزہ ورکشاپ کا کامیاب اختتام

Views: 15
Spread the love
Avantgardia

نئی دہلی: ۲/ستمبر ۹۱۰۲ء
دہلی میں شمالی ہند کی اراکین و کوآرڈینٹرس کا ایک روزہ ورکشاپ تحفظ شریعت و اصلاح معاشرہ بتاریخ یکم ستمبر بروز اتوار بمقام جامعہ نگر اوکھلا نئی دہلی میں کامیابی سی اختتام پذیر ہوا۔
ورکشاپ کی صدارت محترمہ ڈاکٹر اسماء زہرہ نے کی۔ ورکشاپ کا آغاز قرأت کلام پاک سے ہوا۔ محترمہ ذکیہ نفیس رکن اصلاح معاشرہ کمیٹی نے درس قرآن پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں قرآن سے تعلق مضبوط کرنا اور ایمان کی قوت پیدا کرنا بے حدضروری ہے۔ ایمان سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور اسکی حفاظت سب سے بڑا چیلنج ہے، جب ایمان مضبوط ہو تو عمل بھی عمل صالح ہوتا ہے۔ ہمیں حق کا پرچم مضبوط لہرانا ہے حق کی آواز کو بلند کرناہے اور حق کی دعوت پر لبیک کرنا ہے۔
کنوینر محترمہ ممدوحہ ماجد رکن عاملہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے خواتین کا استقبال کیا اور تعارف کرایا۔ انہوں نے حالات حاضرہ پر روشنی ڈالی اور ورکشاپ کی اہمیت بتائی۔
محترمیہ یاسمین فاروقی رکن مسلم پرسنل لا بورڈ جے پور نے کہا کہ تین طلاق ایکٹ راست طور پر شریعت میں مداخلت ہے اور عورتوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ خواتین کو اکسایا جارہا ہے اور شوہروں کو جیلوں میں ٹھوسنے اور گھر برباد کرنے کا یہ ذریعہ بن رہا ہے۔ اس ایکٹ سے سب سے زیادہ پریشانی خواتین کو ہوگی۔ طلاق آسانی سے نہیں ملے گی اور خواتین پر ظلم و زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔ یہ یونیفارم سول کوڈ نہیں لاسکے لیکن ہماری شریعت میں مداخلت کرتے جارہے ہیں اس وقت ہم موب لنچنگ اور NRCسے پریشان اور خوفزدہ ہیں۔ ہم کو اپنے تحفظ اور بقاء کی فکر کرنا ہوگا اور اس مقاملہ میں مردوں کے ساتھ خواتین کو بھی تیار ہونا ضروری ہے۔ مسلمانوں میں ہمت، حوصلہ،اسلامی بیداری، سیاسی اور قانونی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔
محترمہ مہرالنساء جے پور ویمن انڈیا مومنٹ نے کہا کہ تین طلاق ایکٹ ایک سیاسی ہتھکنڈہ ہے جسکے ذریعہ عوام کو بیوقوف بنایا جارہا ہے، ازدواجی زندگی کے استحکام اور مضبوط خاندان کے لیے گھروں میں اولاد کی صحیح تربیت بیٹے بیٹیوں کی تربیت والدین اور خاص کر ماں کی اولین ذمہ داری ہے۔ ہمیں سماجی مسائل کا حل اصلاح معاشرہ سے کرنا چاہئے۔ قوانین تو زنا بالجبر کے بھی بنائے گئے مگر آج اس ملک میں خواتین غیر محفوظ ہیں۔
محترمہ زینت مہتاب نے کہا کہ خواتین اپنا مقام اور اسکی پہچان کھوچکی ہیں، یہ میڈیا اور ماحول سے بہت زیادہ متاثر ہورہی ہیں اور شریعت کی اہمیت اور آخرت کی فکر سے واقف نہیں۔ ضرورت ہے کہ ان میں شعور بیدار کرنے کے لئے مہم رکھی جائے۔
محترمہ بشریٰ فاطمہ کوآرڈینٹر سنبھل یوپی نے کہا کہ تین طلاق ایکٹ کے پاس ہونے کے بعد جو کیس میڈیا میں آرہے ہیں اس میں سچائی نہیں دکھائی جارہی ہے۔ ہر مسئلہ چاہے وہ گھریلو تشدد کا ہو، جہیز کا ہو، اسکا نام اور لیبل طلاق رکھا جارہا ہے۔ یہ ایک سازش کے تحت ہورہا ہے، اسمیں بہت بڑا قصور لڑکی والوں کا بھی ہے کہ قانونی کارروائی کی دھمکی دیکر روپئے پیسے بٹورنے کی بھی کوشش ہورہی ہے جو بہت ہی شرمندہ کرنے والی اور افسوسناک صورتحال ہے کہ مسلمان اپنی بیٹی کے مسئلہ کو کورٹ کچہری لیجاکر مال کا مطالبہ لڑکے والوں سے کررہے ہیں۔ سماج میں دین کی کمی اور مال و دولت کی حرص رشتوں کو نقصان پہنچارہی ہے۔
ڈاکٹر اسماء زہرہ نے صدارتی خطاب میں کہا کہ موجودہ حالات تمام مسلمانان ہند کے لئے پریشان کن اور افسوسناک ہے۔ تحفظ شریعت کے لیے مسلمان دستخطی مہم سے لیکر خواتین اور طالبات کی ریلی اور خاموش مظاہرے منعقد کئے اور جمہوری طریقہ پر احتجاج کیا لیکن حکومت نے تین طلاق کا قانون جبراً اپنی اکثریت کے ذریعہ ہم پر مسلط کردیا۔ یہ اللہ کا فضل اور توفیق ہم پر ہوئی کہ ہم نے خاموش رہنے کے بجائے حالات کا مقابلہ کرنے اور اپنی آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ کے نتیجہ میں مسلم خواتین میں شعور بیدار ہوا انکی ایمانی ہمیت جاگی اور وہ تحفظ شریعت کے لیے انقلابی قدم اٹھانے کو تیار ہوگئی۔ میڈیا کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ آپ لوگ ہار گئے لیکن ہم کو اپنی کوشش پر فخر کرنا چاہئے کہ ہم نے کوشش کی اور آئندہ بھی ہم تحفظ شریعت اور اصلاح معاشرہ کے لیے اپنی جدوجہد اور کوشش جاری رکھیں گے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ملت کے کمزور طبقہ اور گاؤں دیہات کے خواتین میں شعور بیدار کیا جائے۔ انہیں دین اسلام، شریعت، سماجی ذمہ داریاں اور تحفظ و بقاء کے بارے میں واقف کرایا جائے۔ اصلاح معاشرہ کی کوششوں کو تیزتر کرنے اور خواتین کو باشعور بنانے کیلئے خصوصی پروگرامس، کارنر میٹنگس، ورکشاپس منعقد کرنا بیحد ضروری ہے۔ انہوں نے شرکاء ورکشاپ سے اپیل کی کہ وہ اپنی صلاحیت و وقت کو اس مقصد میں لگائیں۔ملت اسلامیہ کے تمام طبقات، جماعت، مسالک کی بہنوں کو ساتھ لیکر اتحاد اور اخوت و محبت کے ساتھ تحریک تحفظ شریعت کو آگے بڑھائیں۔محترمہ عطیہ صدیقہ رکن مسلم پرسنل لا بورڈ نئی دہلی نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ مسلمانوں میں ہمت پیدا کی جائے اور ایمانی کمزوری کو دور کیا جائے اس وقت مسلمان خوفزدہ ہیں اور اس کیفیت سے باہر نکالنا ہماری ذمہ داری ہے۔محترمہ نجمہ غازی آباد، محترمہ ڈاکٹر عالیہ خلجی، محترمہ ڈاکٹر بازغہ، محترمہ ہمیرا الیاس، محترمہ صوبیہ نے بھی مخاطب کیا۔ورکشاپ میں آل انڈیا مسلم ویمن ہیلپ لائن ٹول فری نمبر 18001028426کاونسلنگ سینٹرس، سوشل میڈیا ڈیسک اور دارالقضاء کے کام پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ خواتین کے ساتھ ساتھ نوجوان طالبات میں کام کی ضرورت پرمحترمہ ڈاکٹر عالیہ خلجی نے مخاطب کیا اور کہا کہ طالبات میں شوق اور جذبہ موجود ہے انکے لئے علیحدہ پروگرامس منعقد کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلم طالبات کے ارتداد کی خبریں سوشل میڈیا میں گشت کرتی ہیں جو پورے مسلم سماج کے لیے خطرے کی علامت ہے۔
آخری میں محترمہ ممدوحہ ماجد صاحبہ نے شکریہ اداکیا۔ ورکشاپ میں نئی دہلی، پرانی دہلی، غازی آباد، علی گڑھ، جے پور، رام پور، سنبھل کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور یونانی میڈیکل کالج کی طالبات بھی موجود تھیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart