ترکِ تعلق

Views: 28
Avantgardia

مفتی محمد شوکت علی قاسمی بھاگلپوری

تین دِن سے زیادہ بات چیت بند کرنا جائز نہیں
]۷۶۱[ (۱) عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا: لَا تَقَاطَعُوْا،وَلَا تَدَابَرُوْا،وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا تَحَاسَدُوْا،وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللہ ِ اِخْوَانًا، وَلَا یَحِلُّ لِمُسْلْمٍ اَنْ یَھْجُرَ اَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثٍ۔
(ترمذی واللفظ لہ:۲/۵۱؛ رقم:۵۳۹۱، بخاری:۲/۶۹۸؛رقم:۵۶۰۶،مسلم: ۲/۶۱۳؛رقم:(۳۲-۹۵۵۲)،ابن ماجہ:۲/۳۷۲؛رقم:۹۴۸۳،موطا مالک: ۵۶۳؛رقم:۹۲۷۱،شعب الایمان:۵/۸۶۲؛رقم:۶۱۶۶،ترغیب:۳/۴۰۳)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ:تم لوگ آپس میں کسی سے رشتہ اور دوستی نہ توڑو! نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو! نہ آپس میں کسی سے بغض رکھو! (اِس طرح کہ: دشمنی پیدا کرنے والے اسباب سے بچو!) نہ آپس میں کسی سے جلن رکھو!(بلکہ) سب کے سب اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو! کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ: وہ اپنے بھائی(نسبی رشتہ دار یا دوست)سے تین دِن سے زیادہ بات چیت چھوڑ دے۔ (بخاری،مسلم)
ٹوٹے ہوئے تعلق بحال کرنے میں پہل کرنے کی فضیلت
]۸۶۱[ (۲) عَنْ ھِشَامِ بْنِ عَامِ رٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ ا:لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ یَّھْجُرَ مُسْلِمًا فَ وْقَ ثَ لَاثِ لَیَالٍ فَاِنَّھُمَا نَاکِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلٰی صِرَامِ ھِمَا، وَ اَوَّلُھُمَا فَیْءًا یَکُوْنُ سَبْقُہٗ بِالْفَیْءِ کَفَّارَۃً لَ ہٗ،وَ اِنْ سَلَّمَ فَلَمْ یَقْبَلْ وَرَدَّ عَلَیْہِ سَلَامَہٗ رَدَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَا ٓءِکَۃُ وَرَدَّ عَلٰی الْاٰخَرِ الشَّیْطَانُ، فَاِنْ مَاتَا عَلٰی صِرَامِھِمَا لَمْ یَدْخُلَا الْجَنَّۃَ جِمِیْعًا اَبَ دًا.(مسند احمد:۴/۰۲،شعب الایمان: ۵/۹۶۲؛رقم:۰۲۶۶،ترغیب:۳/۵۰۳،مشکوٰۃ:۸۲۴؛ رقم:۷۳۰۵)
ترجمہ : حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایا کہ: کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ: دوسرے مسلمان سے تین دِن سے زیادہ بات چیت بند کرلے، کیونکہ جب تک دونوں تعلق توڑے رکھیں گے حق (یعنی صحیح راستے)سے ہٹے رہیں گے، اور دونوں میں سے جو بھی تعلق جوڑ نے میں پہل کرے گا یہ پہل کرنا اُس کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہوگا (ایک روایت میں ہے کہ:دونوں میں بہتر وہ شخص ہوگا جو سلام میں پہل کرے) اور اگر ایک نے پہل کر کے دوسرے کو سلام کیا مگر دوسرے نے اُس کا سلام قبول نہیں کیا اور جواب نہیں دیا، تو فرشتے اُس کے سلام کا جواب دیں گے، اور دوسرے کو شیطان جواب دے گا (یعنی اُس پر شیطان مسلط ہوجائے گا،) اور اگر دونوں اِسی طرح ترکِ تعلق کے ساتھ دُنیا سے چلے گئے، تو دونوں میں سے کوئی بھی جنت میں نہیں جائے گا۔ (ایک روایت میں ہے کہ:اگر ایک نے پہل کرتے ہوئے دوسرے کو سلام کیا،اور اُس دوسرے نے سلام کا جواب دیا تو دونوں (تعلق جوڑنے کے) ثواب میں برابر کے شریک ہوں گے، اور اگر دوسرے نے سلام کا جواب نہیں دیا تو سلام کرنے والاتعلق توڑنے کے گناہ سے پاک ہوگیا، اب (تعلق توڑنے کا) سارا گناہ اُس دوسرے شخص کو ہوگا جس نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ (مسند احمد،شعب الایمان)
سال بھر تک ترکِ سلام و کلام کی وعید
]۹۶۱[ (۳) عَنْ اَبِیْ خِرَاشٍ حَدْرَدِبْنِ اَبِیْ حَدْرَدِ الْاَسْلَمِیِّ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ اَنَّہٗ سَمِعَ النَّبِیَّا یَقُوْلُ:”مَنْ ھَجَرَاَخَاہُ سَنَۃً فَھُوَکَسَفْکِ دَمِہٖ“۔(ابوداؤد:۲/۳۷۶؛رقم:۷۰۹۴،شعب الایمان:۵/۳۷۲؛رقم:۱۳۶۶، ترغیب:۳/۶۰۳،مشکٰوۃ:۸۲۴)
وَعَنْ فَضَالَۃِ بْنِ عُبَیْدٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہ ِا قَالَ:مَنْ ھَجَرَ اَخَاہُ فَوْقَ ثَلاَثٍ فَھُوَ فِی النَّارِ اِلَّا اَنْ یَّتَدَارَکَہُ اللہ ُ بِرَحْمَتِہٖ. رَوَاہ الطَّبْرَانِیُّ وَرُوَاتُہٗ رُوَاۃُ الصَّحِیْحِ۔ (ترغیب:۳/۶۰۳)
ترجمہ: حضرت ابو خِرَاش حَدْرَدْ بن ابی حَدْرَدْ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: اُنہوں نے حضور اقدس ا کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: جس نے اپنے بھائی (یعنی کسی مسلمان) سے ایک سال تک تعلق توڑے رکھا بات چیت نہیں کی، تو یہ اُس کا خون بہانے جیسا ہے (یعنی طویل مدت تک ملاقات اور سلام کلام بند رکھنے کا گناہ،اور ناحق قتل کرنے کا گناہ قریب قریب ایک جیسا ہی ہے)، دوسری حدیث میں حضرت فضالہ بن عُبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ: جس نے اپنے بھائی (یعنی کسی مسلمان رشتے دار یا دوست) سے تین دِن سے زیادہ ملنا جلنا اور سلام کلام بند رکھا، پھر وہ (اُسی حالت میں بغیر توبہ کئے مرگیا تو) جہنم کی آگ میں جائے گا، البتہ اگر اللہ جل شانہٗ کی رحمت شاملِ حال ہوجائے تو اور بات ہے۔ (ابو داؤد،شعب الایمان)
آپسی دُشمنی والوں کی مغفرت صلح پر موقوف
]۰۷۱[ (۴) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا: ”تُعْرَضُ الْاَعْمَالُ فِیْ کُلِ یَوْمِ خَمِیْسٍ وَاثْنَیْنِ، فَیَغْفِرُ اللہ ُ عَزَّ وَجَلَّ فِیْ ذٰلِکَ الْیَوْمِ لِکُلِّ امْرِیئٍ لَا یُشْرِکُ بِاللہ ِ شَیْءًا،اِلَّا امْرَءً کَانَتْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ اَخِیْہِ شَحْنَاءُ،فَیُقَالُ:اُرْکُوْا ھٰذَیْنِ حَتّٰی یَصْطَلِحَا، اُرْکُوْا ھٰذَیْنِ حَتّٰی یَصْطَلِحَا“۔
(مسلم و اللفظ لہ:۳/۷۱۳؛رقم:۵۶۵۲،ابواداؤد:۲/۳۷۶؛رقم: ۸۰۹۴،ترمذی:۲/ ۳۲؛رقم:۳۲۰۲،موطا مالک:۵۶۳؛رقم:۲۳۷۱،مسند احمد: ۲/۳۷۶،شعب الایمان:۵/۱۷۲؛رقم:۶۲۶۶،ترغیب:۳/۶۰۳،مشکٰوۃ:۷۲۴)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایا کہ:ہر پیر اور جمعرات کو (دربارِ اِلٰہی میں) اعمال پیش کئے جاتے ہیں، تو اللہ جل شانہٗ ہر اُس شخص کی مغفرت فرماتے ہیں، جو اللہ کے ساتھ کسی طرح کا شرک نہیں کرتا، سوائے اُن دو آدمی کے جن کے مابین دُشمنی (یعنی ترک تعلق) ہوتی ہے، چنانچہ کہا جاتاہے کہ: ابھی اِن کی بخشش نہ کرو جب تک دونوں صلح نہ کرلیں، ابھی اِن کی بخشش نہ کرو جب تک دونوں صلح نہ کر لیں۔ (مسلم،ابو داؤد،ترمذی)
سلام کلام ترک کرنے والا کامل مؤمن نہیں رہتا
]۱۷۱[ (۵) عَنْ عَبْدِ اللہ ِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ ا:”لَایَتَھَاجَرُ الرَّجُلَانِ قَدْ دَخَلَا فِی الْاِسْلَامِ اِلَّا خَرَجَ اَحَدُھُمَا مِنْہُ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلٰی مَاخَرَجَ مِنْہُ،(یَعْنِیْ الظَّالِمَ مِنْھُمَا کَمَا فِیْ رِوَایَۃٍ) وَرُجُوْعُہٗ اَنْ یَأْتِیَہٗ فَیُسَلِّمَ عَلَیْہِ“رَوَاہُ الطَّبْرَانِیُّ مَوْقُوْفًا بِاِسْنَادٍ جَیِّدٍ، وَرَوَی الْبَزَّارُ (مرفوعاً) وَرُوَاتُہٗ رُوَاۃُ الصَّحِیْحِ۔ (ترغیب:۳/۶۰۳)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ: جب وہ دو شخص جو مسلمان ہیں آپس میں سلام کلام (بلا ضرورت شرعی) بند کر لیتے ہیں، تواُن میں سے ایک (جو ظالم ہے کہ اُس کی طرف سے زیادتی ہوئی ہے) وہ اسلام سے نکل جاتاہے (یعنی وہ اِس ترک تعلق کی بنا پر کامل مؤمن نہیں رہتا) یہاں تک کہ وہ قطع تعلق سے باز آجائے، باز آنے کی شکل یہ ہے کہ اپنے جس تعلق والے سے سلام کلام بند کیا ہے اُس کو جا کر سلام کر لے۔ (طبرانی،مسند بزار)
تین آدمی کی نماز سر سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی
]۲۷۱[ (۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْھُمَا عَنْ رَسُوْلِ اللہ ِ ا قَالَ:”ثَلاَ ثَۃٌ لَا تُرْفَعُ صَلَا تُھُمْ فَوْقَ رُؤُوْسِھِمْ شِبْرًا:رَجُلٌ اَمَّ قَوْمًا وَھُمْ لَہٗ کَارِھُوْنَ،وَامْرَأَۃٌ بَاتَتْ وَزَوْجُھَا عَلَیْ ھَا سَاخِطٌ وَاَخَ وَانِ مُتَصَارِمَانِ“ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَہ وَاللَّفْظُ لَہٗ،وَابْنُ حِبَّانَ فِیْ صَحِیْحِہٖ اِلَّا ٓاَنَّہٗ قَالَ:”ثَلاَ ثَۃٌ لَایَقْبَلُ اللہ ُ لَھُمْ صَلَاۃً فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔
(ابن ماجہ:۱/۹۶؛رقم:۱۷۹، ترغیب:۳/۹۰۳)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ: تین آدمی کی نماز سر سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی(یعنی حق تعالیٰ شانہٗ اُن کی نماز یں قبول نہیں فرماتے): (۱) ایک وہ شخص جو کسی جگہ امامت کرائے حالانکہ مقتدی (اس کی بدعت، فسق، جہالت یا اور کسی شرعی خرابی کی بناپر) اُس کی امامت کو پسند نہ کرتے ہوں (بشر طیکہ زیادہ تر مقتدی نالاں ہوں اور اُن میں علماء بھی ہوں،لہٰذا اگر صرف عوام نالاں ہوں اور علماء خوش ہوں تو چاہے اُن کی تعداد کتنی ہی کم ہو حتیٰ کہ اگر وہاں ایک ہی عالم ہو اور وہ خوش ہو، تو پھر عوام کی ناراضگی کا اعتبار نہیں ہوگا اور اُس کی امامت بلا کراہت درست ہوگی۔مرقاۃ:۳/۹۷۱) (۲) وہ عورت جو رات اس حال میں گذارے کہ اُس کا شوہر (اسکی بد خلقی، بے ادبی اور بات نہ ماننے کی بناپر) اس سے ناراض ہو (لیکن اگر عورت کے جرم و قصور کے بغیر شوہر ناراض ہوتو پھر عورت قصور وار نہیں ہوگی بلکہ اب معاملہ برعکس ہوگا۔ مرقاۃ:۳/۹۷۱) (۳) دو مسلمان بھائی جنہوں نے (کسی ذاتی رنجش کی بناپر) آپس میں ملنا جلنا اور سلام کلام بند کر رکھا ہو (یہاں تک کہ دونوں اپنا سابقہ تعلق بحال کر لیں)۔
(ابن ماجہ،ابن حبان)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart