تعزیہ سازی کی حقیقت!

Views: 51
Spread the love
Avantgardia

پیشکش :✍🏻 مولانا فیاض احمد صدیقی انعام وہار سھبا پور دھلی این سی آر :                  ________________
محرم میں ماتمی جلوس نکالنا اور یا حسین یا حسین کر کے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ماتم کرنا حرام ہے کیونکہ أولاً تو یہ کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے لہذا ان کی شہادت کا ماتم نہ کریں دوسرا یہ کہ شریعت اسلام میں کسی کو بھی کسی کی موت کا سوگ تین دن سے زیادہ منانے کی اجازت نہیں ہے سوائے بیوی کے کہ وہ اپنے شوہر کی موت کا سوگ عدت کے طور پر چار مہینہ دس دن تک منائے
مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک حدیث ہے: لَیْسَ مِنَّا مَن ضربَ الخُدودَ و شَقَّ الجُیوبَ و دعی بدعوی الجاہلیۃ
( بخاری و مسلم) 
ترجمہ: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو اپنے رخساروں کو پیٹے اور گریبانوں کو پھاڑے اور عہد جاہلیت کا آوازہ بلند کرےایک دوسری حدیث میں ہے: اَلنِّیاَحَۃُ مِنْ عَمَلِ الْجَاہِلِیَّۃِ یعنی نوحہ خوانی( میت پر رونا دھونا) کرنا جاہلیت کے زمانے کا عمل ہے
ماتمی جلوس میں سینے پیٹنا، نوحہ خوانی کرنا، گریبان پھاڑنا اور وہ تمام عمل ہوتا ہے جس کی حدیث میں ممانعت آئی ہے لہذا ماتمی جلوس میں شامل ہونا اور ماتمی جلوس منانا حرام ہے 
اسی طرح سے تعزیہ سازی کرنا بھی حرام ہے کیونکہ اس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبر بنائی جاتی ہے پھر اس پر چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں اور مرادیں مانگی جاتی ہیں لہذا یہ تو اپنے ہاتھوں سے بت بنانے اور اس پر چڑھاوے چڑھانے کے مشابہ ہے جو کہ سراسر شرک ہے. جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے : اَ تَعْبدون مَا تنحتون
( الصافات : 95)
ترجمہ: کیا تم ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جس کو تم نے خود تراشا اور بنایا ہے
مزید یہ کہ اس میں عورتیں  کثرت سے شامل ہوتی ہیں اور عورتوں کے زیارت قبور کے سلسلے میں یہ حدیث صاف موجود ہے لَعَنَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم زائرات القبور والمتخذین علیہا المساجد والسُرُجَ
( ترمذی: باب ما جاء فی أن یتخذ علی القبر مسجدا) ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر، قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں پر، اور قبروں کے اوپر چراغ جلانے والوں پر لعنت کی ہے
ماتم اور تعزیہ داری کا ایجاد  معزالدولہ ابن بویہ عباسی دور خلافت کا بہت ہی متعصب شیعہ حکمراں تھا. اس نے 18 ذوالحجہ 351 ہجری کو بغداد میں عید منانے کا حکم دیا اور اس عید کا نام “عید غدیر” رکھا اور خوب ڈھول بجائے گئے اور خوشیاں منائی گئیں چونکہ اسی دن یعنی 18 ذوالحجہ 35 ہجری کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے لہٰذا شیعوں کے لئے اس دن کو عید غدیر کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا اس کے بعد اگلے سال 452 ہجری میں معزالدولہ ابن بویہ نے حکم دیا کہ 10 محرم الحرام کے دن امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے غم میں تمام دکانیں بند کردی جائیں اور سیاہ کپڑے پہن کر ماتمی جلوس نکالے جائیں اور اعلانیہ نوحہ خوانی کیا جائے. شیعوں نے اسے بخوشی قبول کیا لہٰذا اس دن سے ماتمی جلوس اور تعزیہ داری کا آغاز ہواخیال رہے کہ 35 ہجری میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اس کے بعد ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور پھر وہ تمام سورش اور نزاع شروع ہوئے جو بالآخر 10 محرم الحرام سنہ 60 ہجری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کی شہادت تک پہنچے سنہ 60 ہجری کے بعد سےسنہ  352 ہجری میں معزالدولہ نے تعزیہ داری اور ماتمی جلوس کا آغاز کیا. اس پورے زمانے میں کسی بھی صحابی یا تابعین سے اس طرح کا کوئی بھی عمل کرنا ثابت نہیں ہے لہذا یہ تمام بعد کی پیداوار، بدعت اور حرام ہے ہندوستان میں تعزیہ داری تیمور لنگ جو نسلاً ترکی جنگجو اور مذہباً شیعہ تھا اور پورے عالم کو فتح کرنا اسکا خواب تھا. فارس، افغانستان، میسوپوٹامیا اور روس  کے کچھ حصے کو فتح کرتے ہوئے تیمور لنگ 1398 عیسوی کے دوران ہندوستان آیا اور اس کے ساتھ 98000 فوجی بھی تھےدہلی میں محمد بن تغلق سے جنگ جیت کر خود کو شہنشاہ اعلان کیا. تیمور مذہباً شیعہ تھا اور محرم میں ہر سال عراق ضرور جاتا تھا لیکن بیماری کی وجہ سے ایک سال نہیں جاسکا چنانچہ بادشاہ کو خوش کرنے کے لئے درباریوں نے فنکاروں کو جمع کر کے عراق کے کربلا میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قبر کی نقل بنانے کا حکم دیا اور اس کو تعزیہ کا نام دیا گیا اس طرح پہلی بار 801 ہجری میں تعزیہ بنا اور ہندوستانی شہنشاہ تیمور لنگ کے محل کے احاطے میں رکھا گیا اور 800 سال تک جو ہندوستان تعزیہ سے واقف نہیں تھا اس طرح پہلی بار اس بدعتی رسم سے واقف ہواتیمور کے بعد مغلوں نے بھی  اس رسم کو جاری رکھا چنانچہ مغل شہنشاہ ہمایوں نے اپنے وزیر اور سپہ سالار بیرم خان کو بھیج کر 46 تولہ کا زمردی تعزیہ منگوایا اور اس طرح ہندوستان میں اس بدعت کو جاری رکھا گیا پھر آصف الدولہ نے 1213 ہجری میں لکھنؤ میں امام باڑے بنوایا اور دکن کے سلاطین نے بھی جو کہ شیعہ تھے امام باڑے تعمیر کروائے اور سرکاری طور نوحہ خوانی، مرثیہ خوانی اور تعزیہ درای وغیرہ کا انتظام کیا اس طرح یہ رسم دھیرے دھیرے ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلتا چلا گیا 
اور عوام نے اس بدعت کو گلے لگا لیا جس کا تقریباً 300 سالہ اسلامی تاریخ میں کوئی وجود نہیں ملتا ہے 
لیکن اب دھیرے دھیرے جس طرح لوگوں میں واقفیت بڑھ رہی ہے لوگ اس تیموری ایجاد اور بدعت سے بچ رہے ہیں اللہ ہم سب کو صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے 
                 آمین ثم آمین!Attachments area

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart