جمعیۃ العلماء ہندیا جمعیۃ علماء ہند

محمد یاسین جہازی
9871552408
جمعیت علمائے ہند کے قدیم و جدید مورخین نے کہیں پر اس کا نام جمعیۃ العلماء لکھا ہے اور کہیں پر جمعیۃ علماء ہند ۔ اور بعض حضرات کی تحریروں میں جمعیۃ العلماء ہند بھی لکھا ملتا ہے۔ مورخ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب سابق ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء ہند نے اس کی تاریخ پر لکھی کتاب کا نام’’ جمعیۃ العلماء کیا ہے‘‘ رکھا ہے۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اگر لوکیشن نام کا حصہ نہیں ہے، تو جمعیۃ العلماء اصل نام ہوگا۔ اور ہند لوکیشن ہوگا۔ لیکن ہند نام کا حصہ ہے، اس لیے یہ ترکیب کسی بھی صورت درست نہیں ہوگی۔ کیوں کہ اگر اسے عربی جملہ مان لیا جائے، تو مبتدا خبر کی ترکیب ہوگی، جو بالکل بھی بے معنی جملہ ہوگا۔ اور اگر فارسی ترکیب تسلیم کیا جائے، تو ایسی ترکیب فارسی زبان و ادب میں ندارد ہے؛ اس لیے بہر صورت جمعیۃ العلماء ہند لکھنا خلاف قاعدہ ہے۔
تحقیقی بات یہ ہے کہ اس کا اصل اور پورا نام جمعیت علمائے ہندہے؛ کیوں کہ جمعیت کی تاریخ پر سب سے پہلی اور مستند کتاب ’’ مختصر حالات انعقاد جمعیت علمائے ہند ‘‘ میں ایسا ہی لکھا ہوا ہے۔ اسی طرح مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ صدر اول جمعیت علمائے ہند نے اس کے پہلے اجلاس میں قواعد و ضوابط کا جو مسودہ پیش کیا ہے۔ اس میں صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ
’’دفعہ نمبر ۔۱ : اس انجمن کا نام جمعیۃ علمائے ہند ہوگا۔ ‘‘ (ص؍۱۶)
جمعیت علمائے ہند کا صحیح املا کیا ہونا چاہیے
جمعیۃ : عربی لفظ ہے، اس لیے عربی زبان و تحریر میں بالیقین اسے تائے مدورہ سے لکھا جائے گا، لیکن اس کی تہنید کردینے کے بعد لمبی تا سے لکھنا ضروری ہوجاتا ہے، جیسے کہ ہم محبت ، خدمت، قدرت، رحمت اور ان جیسے ہزاروں الفاظ کو لکھتے ہیں؛ اس لیے ناچیز کی رائے یہی ہے کہ اسے جمعیۃ کے بجائے ’’جمعیت‘‘ لکھنا زیادہ موزوں ہے۔
اسی طرح ’’علماء‘‘ کی اضافت میں بعض جگہ ایسے ہی لکھا گیا ہے، جب کہ کہیں کہیں’’ علمائے ‘‘ لکھا ملتا ہے۔ چوں کہ اس کے تینوں الفاظ فارسی ترکیب اضافی پر مشتمل ہیں ، اور اضافت کا قاعدہ یہ ہے کہ اگر اسم کے آخر میں الف ہو، تو اس کی اضافت ’’ہمزہ اور ے‘‘ سے ہوگی ، اس لیے قاعدہ کے مطابق’’ علمائے ‘‘لکھا جانا چاہیے۔جمعیت کی تاریخ کی بنیادی کتاب کا نام بھی ’’جمعیت علمائے ہند ‘‘ کے املا کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ اسی طرح دستور اساسی کے مسودہ کی دفعہ نمبر ایک میں بھی ’’علمائے ‘‘ ہی لکھا ہوا ہے؛ اس لیے جمعیت کو مکمل نام اور صحیح املا کے ساتھ ’’جمعیت علمائے ہند‘‘ لکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
(مقالات جہازی، جلد سوم، ص16، از عنوان جمعیت علمائے ہند کے سو سال … قدم بہ قدم ….1919)

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں