جمہوری ملک میں رہنے کے طریقے

مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن

سوال : ۔۔از یونس پٹیل
بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد۔
ہم لوگ ہندوستان میں رہتے ہیں ، ہم لوگ یہاں کے پرانے باشندے ہیں ، یہاں کی اکثریت ہندو بھائیوں کی ہے ، مسلمان کی تعداد کم ہے ، یہاں کا نظام جمہوری ہے ، اوٹ سے جو لوگ جیت جاتے ہیں انہیں کی حکومت بنتی ہے ، اس بارے میں مسلمان اور غیر مسلم کا فرق نہیں ہے ، البتہ مسلمان کی تعداد کم ہے اور ان کے لیڈروں میں اتفاق بھی نہیں ہے اس لئے یہ لوگ پالمنٹ میں کم پہنچ پاتے ہیں تاہم سب کو الکشن لڑنے کا حق ہے، اور سب کا اپنی پارٹی بنانے کا حق ہے ، اور جیت کے بعد پارلمنٹ میں پہنچنے کا حق ہے ۔

کام
یہاں کام بھی صلاحیت کی بنیاد پر دی جاتی ہے اس میں بھی مسلمان اور غیر مسلم سب شریک ہیں ، یہ اور بات ہے کہ کام تلاش کرنے والے بہت ہیں اس لئے کسی کو کام ملتا ہے اور کسی کو نہیں ملتا ہے
مذہبی رواداری
اس ملک کا قانون یہی ہے کہ ہر ایک کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہے ، آپ مدرسہ بنا سکتے ہیں ، مسجدیں بنا سکتے ہیں اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں بہت سی مسجدیں ہیں اور بہت سے مدرسے ہیں ، بلکہ بہت سے مدرسے پوری دنیا کے لئے مثال ہیں ، ہاں یہ شرط ضرور ہے کہ ان مسجدوں اور ان مدرسوں سے کسی کو تکلیف نہ ہو اور ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے خلاف کوئی کام نہ ہو ، اور یہ قانون سب کے لئے برابر ہے اس میں مسلمان کی خصوصیت نہیں ہے۔
البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قانون کے اعتبار سے سب کو مذہب کی آزادی ہے ، لیکن بعض حضرات اس میں تشدد کرتے ہیں ، اور مذہب کی رواداری بر قرار نہیں رکھتے

نشنلیٹی ۔ nationality
ہندوستان کے رہنے والے سب کو یہاں کا پاسپورٹ دیا جاتا ہے اور یہاں رہنے کا حق دیا جاتا ہے ، اس بارے میں بھی سب برابر ہیں ، ہاں باہر ملکوں سے آئے ہوئے ہوں تو چونکہ ہندوستان کے باشندے ہی بہت ہیں اس لئے باہر ملکوں کے لوگوں کو جلدی پاسپورٹ نہیں دیا جاتا ہے
میں چونکہ عامی آدمی ہوں اس لئے میں نے جو کچھ بیان کیا ہے ممکن ہے کہ اس میں کوئی کمی بیشی ہو ، لیکن تقریبا یہ صحیح ہے ۔پھر بھی یہ عرض کرتا ہوں کہ اگر کمی بیشی ہو جائے تو اس کو معاف فرمائیں
سوال
، مسلمان غیر مسلم کی فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں انکی دکانوں میں کام کرتے ہیں ، اور دن رات کا اٹھنا بیٹھنا انکے ساتھ ہوتا ہے ، غیر مسلم حضرات مسلمانوں کی شادی بیاہ ، عید بقرعید ، اور جنازے میں بھی شریک ہوتے ہیں ، وہ یہ اپنا اخلاقی فرض سمجھتے ہیں ، وہ صبح شام پرنام بھی کہتے ہیں ، اور بعض غیر مسلم سلام بھی کرتے ہیں
[۱] ۔۔ ایسی صورت حال میں اگر ہم انکی شادی بیاہ ، یا جنازے میں شریک نہ ہوں تو وہ اس کو برا مانتے ہیں ، اور یہ سوچتے ہیں کہ یہ کیسے غیر تہذیب یافتہ لوگ ہیں کہ ہم مسلمانوں کی شادی میں جاتے ہیں ، لیکن یہ لوگ نہیں آتے ، ہم انکے جنازے میں شریک ہوتے ہیں لیکن وہ نہیں ہوتے ہیں ، اور کبھی ہوتے بھی ہیں تو دور دور رہتے ہیں ، ہماری ان رویوں سے ہندو بھائی سمجھتے ہیں کہ اسلام کٹر مذہب ہے ، کہ پڑوسیوں کی مدد بھی نہیں کرتا ۔
[۲] ۔۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندو بھائیوں کے تہوار میں ، اور اس کے جنازے میں کفر اور شرک بھی ہوتا ہے ، بعض مرتبہ کھانا حرام ہوتا ہے ،بے حیائی تو عام ہے ، اور فوٹو تو ہر حال میں لیا جاتا ہے ، تو ایسی صورت میں ہم مسلمان ان کے تہوار میں اور ان کے جنازے میں شریک ہوں یا شریک نہ ہوں ، اور شریک ہوں تو کس حد تک شریک ہوں ، اور کن کن کاموں سے بچا جائے ؟
[۳]۔۔ یہ بھی بتائیں کہ انکے ، پرنام ،کا جواب کس طرح دیں ۔
[۴] ۔۔ یہاں یہ بات بھی ہے کہ ایکا دکا ہندو بھائی مسلمان ہوئے ہیں ، ان کے والدین اور رشتہ دار غیر مسلم ہیں ، وہ اپنے تہوار پر بلاتے ہیں ، موت میت میں اور جنازے میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں ، انکے والدین کی تمنا ہوتی ہے کہ اس بڑھاپے میں انکی خدمت کرے ، اور انکے گھر کا کھانا بھی کھائے ، اب بتائیں کہ ایک نو مسلم کہاں تک اپنے رشتہ دار کی خدمت کرے ، اور کس حد تک اس کی غمی اور خوشی میں شریک ہو ۔
ان ساری باتوں کا جواب قرآن اور حدیث کی روشنی میں دیں اور ان وسعتوں کا مظاہرہ کریں جو اسلام میں موجود ہیں ۔
سائل :۔ یونس احمد پٹیل

الجواب
اسلام کا مذہب مسلمان اور غیر مسلم دونوں کے لئے رحمت کی چیز ہے
اسلام کا قانوں اتنا اچھا ہے کہ اس میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں کے لئے
[۱] ……… جان ، کی حفاظت ہے
[۲] ………مال ، کی حفاظت ہے
[۳] ………اولاد ، کی حفاظت ہے
[۴] ………عزت ، کی حفاظت ہے
[۵] ……… مذہب ، کی حفاظت ہے
یہ مذہب ہر ایک کو امن دیتا ہے ، اور قتل و غارت کو سختی سے منع کرتا ہے
کسی کو بھی نا حق قتل کرنا ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانیت کو قتل کردیا ، اور تمام انسانوں کو قتل کرنے کا گناہ ہے ۔
اس وقت جو لوگ بلا وجہ معصوم شہریوں کو بم مار کر قتل کرتے ہیں ، یہ اسلامی تعلیمات نہیں ہے ، بلکہ یہ مکمل دہشت گردی ہے، اس میں مرنے والے شہید نہیں ہیں ، بلکہ گناہ گار مرا ہے

اسلام اس بات کی بھی تاکید کرتا ہے کہ دوسرے مذہب والوں کے ساتھ بھی احترام سے ملیں ، اور اس کی عزت کریں ، اس سے وہ اسلام کے قریب زیادہ آئیں گے۔
اسلام [44 ]باتوں پر بہت زور دیتا ہے
اس کو ضرور کرنا چاہئے

اسلام ایک رحمت کا مذہب ہے اس لئے وہ ہر مذہب والوں کے ساتھ ہمدردی کرنے کا اور احترام کرنے کا حکم دیتا ہے ، اسی کے ماتحت ان ۴۷ باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے

[۱] غیر مسلموں کے ساتھ بھی خندہ پیشانی سے ملیں
غیر مسلموں کے ساتھ آپ مسکرا کر ملیں جس سے انکو ایسا لگے کہ یہ میرے خیر خواہ ہیں ، اور حقیقت میں بھی خیر خواہ بنیں ۔
آپ یہ دیکھیں کہ عیسائی حضرات ہم سے کتنا مسکرا کر ملتے ہیں ، اور خوش دلی سے ہمارا کام کرتے ہیں ، اور ہم تو مسلمان ہیں ، ہم کو تو حضور ؐ نے مسکرا کر ملنے کی تعلیم دی ہے ، اس لئے ہم کو تو آگے بڑھ کر دوسروں سے مسکرا کر اور خندہ پیشانی سے ملنا چاہئے ، یہ بھی بہت بڑی نیکی ہے۔
اس کے لئے یہ حدیث ہے ۔ خالد ابن ولید …..فاطلعت علیہ فما زال یتبسم الی حتی وقفت علیہ فسلمت علیہ بالنبوۃ فرد علی السلام بوجہ طلق فقلت انی اشہد ان لا الہ الااللہ و انک رسول اللہ ۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی ، باب ذکر اسلام خالد بن ولیدؓ ، ج۴، ص۳۵۱)
ترجمہ….. حضرت خالد بن ولیدؓ فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺکے قریب آیا ، آپ برابر میری طرف متوجہ ہو کر مسکراتے رہے جب تک کہ میں آپ کے سامنے نہیں کھڑا ہو گیا ، میں نے نبوت والا سلام کیا ، تو آپ نے خندہ پیشانی کے ساتھ مجھے جواب دیا ، میں نے کہا کہ میں، لا الہ الا اللہ و انک رسول اللہ ،پڑھتا ہوں ۔
ثابت ہوا ….. اس حدیث میں حضور ؐ حضرت خالد بن ولیدؓ کے سامنے مسکراتے رہے جو ابھی تک کافر تھے ، اور ان سے بشاشت کے ساتھ ملے ، اس لئے غیر مسلم کے ساتھ بھی بشاشت ، اور خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا چاہئے ۔
عن ابی ذر قال قال رسول اللہ ﷺ لا یحقرن احدکم شیئا من المعروف ، و ان لم یجد فلیلق اخاک بوجہ طلق ، و ان اشتریت لحما او طبخت قدرا فاکثر مرقتہ و اغرف لجارک منہ ۔ ( ترمذی شریف ، کتاب الاطعمۃ ، باب ما جاء فی اکثار ماء المرقۃ ، ص ۴۳۲، نمبر ۱۸۳۳)
ترجمہ….. حضور ؐ نے فرمایا کہ ، تم میں سے کوئی بھی آدمی کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھے ، اور اگر دینے کی کوئی چیز نہ ہو تو کم سے کم ، مسکراتے چہرے کے ساتھ ملو ، اور اگر تم نے گوشت خریدا ہے ، اور ہانڈی پکائی ہے تو اس میں شوربا زیادہ دو ، اور اس میں سے ایک چمچی پڑوس کو بھی دو ۔
ثابت ہوا ….. اس حدیث میں ہے کہ دوستوں سے مسکرا کر ملیں ، اور یہ بھی ہے کہ پڑوس کو کم سے کم شوربہ ہی پہنچائیں ، اور پڑوس میں غیر مسلم ہو تو بھی اس کا حق بنتا ہے کہ اس کو شوربہ پہنچائیں یا انکو کبھی کبھار ہدیہ دے دیا کریں ۔

[2] غیر مسلموں کی خدمت کریں ۔
عموما یہی تأثر ہوتا ہے کہ ہم صرف مسلمانوں کی مدد کریں ، لیکن شریعت میں ایسا نہیں ہے بلکہ اس میں ترغیب ہے کہ انسان ہونے کے ناطے غیر مسلم کی بھی خدمت کریں ، اس سے وہ خوش ہوں گے اور متأثر ہو کر اسلام قبول کریں گے
ٓآپ انکی خدمت کریں گے تو یہ آپ سے خوش ہو جائیں گے ، اور آپ سے پیار کریں گے۔
اس کے لئے یہ آیتیں ہیں۔ لا ینہا کم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین و لم یخرجوکم من دیاکم ان تبروہم و تقسطوا الیہم ان اللہ یحب المقسطین ۔
( آیت ۸، سورت الممتحنۃ ۶۰)
ترجمہ….. اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ، اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ان کے ساتھ تم کوئی نیکی کا یا انصاف کا معاملہ کرو ، یقیناًاللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔
ثابت ہوا ….. اس آیت میں ہے جس سے تمہاری جنگ نہیں ہے ، انکے ساتھ اللہ تعالی احسان کا معاملہ کرنے اور انصاف کرنے سے نہیں روکتے ، بلکہ احسان کرنے کا حکم دیتے ہیں۔اور انکی پوری خدمت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
ولا یأتل اولوا الفضل منکم و السعۃ ان یؤتوا اولی القربی ٰ و المساکین و المہجرین فی سبیل اللہ و لیعفوا و لیصفحوا ۔( آیت ۲۲، سورت النور ۲۴)
ترجمہ….. اور تم میں سے جو لوگ اہل خیر ہیں اور مالی وسعت رکھتے ہیں وہ ایسی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں ، مسکینوں ، اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے کو کچھ نہیں دیں گے ، اور انہیں چاہئے کہ معافی اور در گزر سے کام لے ۔
ثابت ہوا ….. اس آیت میں ہے کہ مالداروں کو چاہئے کہ وہ اپنے رشتہ داروں اور مسکینوں پر خرچ کریں ، اس آیت سے یہ بھی نکلتا ہے، کوئی نو مسلم مالدار ہو ، اور اس کا رشتہ دار غیر مسلم ہو تب بھی اس پر خرچ کرنا چاہئے ، غیر مسلم ہونے کی وجہ سے خرچ نہیں روکنا چاہئے
عن اسماء بنت ابی بکرؓ قلت قدمت علی امی و ھی مشرکۃ فی عہد رسول اللہ ﷺ فاستفتیت رسول اللہ ﷺ قلت امی قدمت و ھی راغبۃ أفأصل امی ؟ قال نعم صلی امک ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الھبۃ ، باب الھدیۃ للمشرکین ، ص ۴۲۴، نمبر ۲۶۲۰ ؍ مسلم شریف ، کتاب الزکاۃ ، باب فضل النفقۃ و الصدقۃ، ص ۴۰۶، نمبر ۱۰۰۳، ؍ ۲۳۲۴)
ترجمہ….. حضرت اسماء بنت ابو بکرؓ فرماتیں ہیں کہ حضور ؐ کے زمانے میں میری مشرکہ ماں میرے پاس آئی ، میں نے حضور ؐ سے پوچھا کہ میری ماں کو اسلام لانے میں رغبت نہیں ہے ، پھر بھی میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں ، تو آپ نے فرمایا ، ہاں !
ثابت ہوا ….. اس حدیث میں ہے کہ غیر مسلم رشتہ دار کو بھی صدقہ دینا چاہئے اور اس کی خدمت کرنی چاہئے ۔
جوحضرات مسلمان ہوئے ہیں ، اور انکے رشتہ دار غیر مسلم ہیں ، تو انکو چاہئے کہ وہ اپنے غیر مسلم رشتہ دار پرخوب خرچ کریں ، البتہ ان کوزکوۃ کا مال نہیں دے سکتے ہیں ، صدقہ نافلہ ضرور دیں ، اس سے وہ خوش ہونگے ، اور اس مذہب کو اچھا سمجھیں گے۔
عن عبد اللہ بن سلام …..و کان اول شیء تکلم بہ ان قال یا ایہا الناس أفشوا السلام و اطعموا الطعام و صلوا و الناس نیام تدخلوا الجنۃ بسلام ۔ ( ترمذی شریف ، کتاب صفۃ القیامۃ ، باب حدیث افشوا السلام ، ص ۵۶۶، نمبر ۲۴۸۵)
ترجمہ.. حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ؐ سے پہلی بات یہ سنی کہ ، آئے لوگوسلام کو عام کرو ، لوگوں کو کھانا کھلاؤ ، اور لوگ سوئے ہوئے ہوں اس وقت تم نماز پڑھو ، تو ان شاء اللہ تم جنت میں داخل ہو جاوگے ۔
ثابت ہوا ….. اس حدیث میں ہے کہ لوگوں کو سلام کرو اور کھانا کھلاؤ۔ تو تم جنت میں داخل ہو جاوگے ۔ یہ حدیث اگر چہ مسلمانوں کے لئے ہے ، لیکن اس میں غیر مسلم بھی داخل ہیں ، اس لئے ہمیں بھی ملک والوں کو خوب کھانا کھلانا چاہئے ، اور جنت حاصل کرنی چاہئے ۔

[3] انکے ساتھ انصاف کا معاملہ کریں ۔
اس کے لئے یہ آیت ہے ۔ان اللہ یأمر بالعدل و الاحسان و ایتاء ذی القربی ٰ ۔ ( آیت ۹۰، سورت النحل ۱۶)
ترجمہ….. بیشک اللہ انصاف کا ، احسان کا ، اور رشتہ داروں کو اس کے حقوق دینے کا حکم دیتا ہے
یاایہا الذین آمنواکونوا قوامین للہ شہداء بالقسط و لا یجرمنکم شنان قوم الا تعدلوا اعدلوا ہو اقرب للتقوی ۔ ( آیت ۸، سورت المائدۃ ۵)
ترجمہ….. ائے ایمان والو ! ایسے بن جاؤکہ اللہ کے احکام کی پابندی کے لئے ہر وقت تیار رہو ، اورانصاف کی گواہی دینے والے بنو ، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم نا انصافی کرو ، انصاف سے کام لو یہی طریقہ تقوی کے بہت قریب ہے
ثابت ہوا ….. ان دونوں آیتوں میں ہے کہ کسی قوم سے دشمنی ہو تب بھی اس کے ساتھ انصاف کرنا نہ چھوڑو۔ جن ملکوں میں لڑائی ہوئی ، ان کا جائزہ لیں گے تو آپ کو یہی نظر آئے گا وہاں کے لوگوں نے اور وہاں کی حکومت نے انصاف کا معاملہ نہیں کیا ، اس لئے ظلم میں دبے ہوئے لوگ لڑائی پر اتر آئے ، اور پورا ملک برباد ہو گیا ، اگر وہ لوگ ہر ایک کے ساتھ انصاف کرتے تو کبھی یہ حادثہ پیش نہیں آتا ۔

[4] غیر مسلم کو حقیر نہ سمجھیں ۔
ایسی حرکت ہرگز نہ کریں جس سے اس کو محسوس ہو کہ یہ مجھے حقیر سمجھ رہے ہیں۔
بعض ملکوں میں دیکھا گیا کہ گلیوں اور سڑکوں پر دوسری قوموں کا مذاق اڑایا گیا تو وہاں جنگ چھڑ گئی ، اور دونوں طرف سے کتنے لوگ مارے گئے ، اس لئے حقیر سمجھتے وقت ، اور دوسروں کا مذاق اڑاتے وقت اس کا بہت خیال رکھنا چاہئے کہ اس کا انجام کیا ہو گا ۔
بعض حضرات سمجھتے ہیں کہ اپنے مسلک کی حفاظت کے لئے یہ کر رہا ہوں ، لیکن اس کو اس کا خیال نہیں آتا کہ اس کا انجام کتنا خطرناک ہے ۔
اس آیت میں اس کی پوری تاکید ہے۔ یا ایہا الذ ین آمنوالا یسخر قوم من قوم عسی ان یکونوا خیرا منہم و لا نساء من نساء عسی ان یکن خیرا منہن و لا تلمزوا انفسکم و لا تنابزوا بالالقاب بئس الاسم الفسوق بعد الایمان و من لم یتب فاؤلٰئک ہم الظالمون ۔ ( آیت ۱۱، سورت الحجرات ۴۹)
ترجمہ….. ائے ایمان والو، ایک قوم دوسرے قوم کا مذاق نہ اڑائیں ، ہو سکتا ہے وہ ان سے بہتر ہو ں ، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ، اور تم ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیا کرو ، اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارو ، ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا بہت بری بات ہے ، اور جو لوگ ان باتوں سے باز نہ آئیں وہ ظالم لوگ ہیں
ثابت ہوا … اس آیت میں ہے کہ کسی آدمی کو حقیر نہ سمجھو اور نہ اس کا مذاق اڑاؤ۔اس سے وہ متنفر ہو گا اور بے پناہ انتشار پیدا ہو جائے گا

[5] انکے ساتھ رواداری کا معاملہ کریں ، اور انصاف کا معاملہ کریں
عن ابی ہریرۃ عن النبی ﷺ قال الا من قتل نفسا معاہدۃ لہ ذمۃ اللہ و ذمۃ رسولہ فقد اخفز بذمۃ اللہ فلا یرح رائحۃ الجنۃ ۔ ( ترمذی شریف ، کتاب الدیات ، باب ما جاء فیمن یقتل نفسا معاہدا ، ص ۳۴۰، نمبر ۱۴۰۳)
ترجمہ….. حضور ؐ نے فرمایا ! سن لو جس نے ایسے عہد والے کو قتل کیا جس کا اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ عہد تھا تو اس نے اللہ ذمے کو توڑا اس لئے وہ جنت کی خشبو نہیں پائے گا ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ اسلامی حکومت میں کوئی غیر مسلم عہد کے ساتھ رہتا ہو ، اور اس کو قتل کر دیا تو اس نے اللہ اور اسکے ذمے اور عہد کو توڑا اس لئے اس کو جنت کی خوشبو نہیں ملے گی ، غیر مسلم کو قتل نہ کرنے کی کتنی تاکید ہے ۔
قال رأیت عمر بن الخطاب ……و اوصیہ بذمۃ اللہ و ذمۃ رسولہ ان یوفی لہم بعہدہم و ان یقاتل من وراۂم و ان لا یکلفوا فوق طاقتہم ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی قبر النبی ﷺ و ابی بکر و عمرؓ ، ص ۲۲۴، نمبر ۱۳۹۲)
ترجمہ….. حضرت عمرؓ نے فرمایا …..اللہ کے ذمہ اور رسول ﷺ کے ذمے کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ذمیوں کے عہد کو پورا کریں ، اور ان کی حفاظت کے لئے جنگ کریں ، اور ان کی طاقت سے زیادہ انکو کام نہ دیں
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ غیر مسلم ذمی ہو تو اس کی حفاظت کے لئے جنگ کرنا پڑے تو جنگ کریں ، اور ان سے جو عہد کیا ہے اس کو پورا کریں ۔
، اور ہم لوگ تو غیر مسلم کے ملکوں میں قیام پذیر ہیں اس لئے ہم کو تو اور رعایت کرنی چاہئے ۔

[6] انکے ساتھ معاملات کی صفائی رکھیں ۔
برطانیہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ خرید و فروخت میں دوکاندار معاملہ بہت صاف رکھتے ہیں ، جلدی کوئی چیز غلط نہیں دیتے ہیں ، جو چیز دیتے ہیں اس کی پوری صفات ، اور اس کی قیمت بھی لکھی ہوتی ہے، اس میں کمی بیشی نہیں کرتے ، اور ہر چیزکی باقاعدہ رسید دیتے ہیں ، آپ ایک انڈا بھی لینے جائیں تو اس کی رسید دئے بغیر نہیں رہتے ، تاکہ آپ دوبارہ دوکاندار سے مطالبہ کرسکیں ، یہ باتیں اسلام میں تھیں ، لیکن ان لوگوں نے انکو اپنا لیا ہے۔
اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ ان ملک والوں کے ساتھ معاملات کی صفائی رکھیں ، انکے ساتھ دھوکہ ہر گز نہ کریں ، اور صحیح چیز دیں ، اور ہر چیز کی رسید دیں ۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو یہ خوش ہوں گے ، اور سمجھیں گے کہ مسلمان اچھے لوگ ہوتے ہیں۔
دھوکہ نہ دیں اس کے لئے حدیث یہ ہے ۔عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ ﷺ مر برجل یبیع طعاما فسألہ کیف تبیع فأخبرہ فأوحی الیہ ان ادخل یدک فیہ فادخل یدہ فیہ فاذا ھو مبلول فقال رسول اللہ ﷺ لیس منا من غش ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب البیوع ، باب فی النھی عن الغش ، ص ۵۰۰، نمبر ۳۴۵۲ )
ترجمہ….. حضور ؐ ایک آدمی کے سامنے سے گزرے ، جو گیہوں بیچ رہا تھا ،ان سے پوچھا کہ آپ کس طرح بیچ رہے ہیں ، اس آدمی نے بتایا ، تو حضور ؐ کو یہ وحی آئی کہ اپنے ہاتھ کو گیہوں میں ڈالیں ، حضور ؐ نے ہاتھ ڈالا ، تو اندر سے گیہوں بھیگا ہوا تھا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ، جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ، یعنی یہ مسلمان کا طریقہ نہیں ہے ۔
ثابت ہوا .. اس حدیث میں ہے کہ جو دھوکہ دیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے ، یعنی مسلمان نہیں ہے
[7] ان لوگوں کے ساتھ احسان کا معاملہ کریں ۔
یہ ملک آپ کا اپنا ملک ہے ، یہیں آپ پلے بڑھے ہیں ، یہاں ہر مذہب کے لوگ رہتے ہیں انہیں لوگوں کے ساتھ اب مرنا جینا ہے ، اس لئے ان کے ساتھ صرف بدلے کا معاملہ نہ کریں بلکہ آگے بڑھ کر زیادہ دیں اور احسان کا معاملہ کریں ، قرآن نے ہم مسلمانوں کو یہی تعلیم دی ہے ۔
اس کے لئے یہ آیت ہے ۔ و احسنوا ان اللہ یحب المحسنین ۔ ( آیت ۱۹۵، سورت البقرۃ ۲) ترجمہ….. احسان کا معاملہ کیا کرو ، بیشک اللہ احسان کرنے وا لوں سے محبت کرتے ہیں
ثابت ہوا … اس آیت میں ہے کہ لوگوں کے ساتھ احسان کا معاملہ کیا کرو۔

[8] غیر مسلم ملکوں کے قوانین کی پابندی کریں
جو قوانین شریعت کے خلاف نہیں ہیں بلکہ عوام کے لئے مفید ہے ، اور ان ملکوں میں داخل ہونے کے لئے اس کی پابندی کا عہد کیا ہے ، اس کی پابندی کرنا بہت ضروری ہے ،
ان آیتوں میں اس کی تاکید ہے
و اوفوا بعہد اللہ اذا عاھدتم و لا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا و قد جعلتم اللہ علیکم کفیلا ۔ ( آیت ۹۱، سورت النحل ۱۶)
ترجمہ….. اور جب تم نے کوئی معاہدہ کیا ہو تو اللہ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرو ، اور قسموں کو پختہ کرنے کے بعد انہیں نہ توڑو، جبکہ تم اپنے اوپر اللہ کو گواہ بنا چکے ہو ۔
الذین یوفون بعہد اللہ و لا ینقضون المیثاق۔ ( آیت ۲۰، سورت الرعد ۱۳)
ترجمہ….. وہ لوگ جو اللہ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں ، اور معاہدہ کے خلاف ورزی نہیں کرتے ۔
ثابت ہوا ……. ان آیتوں میں ہے کہ عہد کو پورا کریں ۔ اس حدیث میں اس کا ثبوت ہے۔
عن البراء بن عازبؓ قال صالح النبی ﷺ المشرکین یوم الحدیبیۃ علی ثلاثۃ اشیاء ، علی ان اتاہ من المشرکین ردہ الیہم ، و من اتاہ من المسلمین لم ردہ وعلی ان یدخلھا الا بجلبان السلاح ، السیف و القوس و نحوہ ، فجاء ابو جندل یحجل فی قیودہ فردہ الیہم ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الصلح،باب الصلح مع المشرکین ، ص ۴۴۱، نمبر ۲۷۰۰)
ترجمہ….. حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ ، صلح حدیبیہ کے دن حضور ؐ نے مشرکین سے تین باتوں پر صلح کی ، ایک تو یہ کہ کوئی مشرک مسلمان ہو کر حضور ؐ کے پاس آئے گا تو اس کو واپس کرنا پڑے گا ، دوسری یہ کہ ، اگر مشرکین کے پاس کوئی مسلمان آئے گا تو وہ واپس نہیں کریں گے ، اور تیسری بات یہ کہ اگلے سال ہتھیار ، تلوار ، اور تیر یہ سب میان میں رکھ کر مسلمان مکہ مکرمہ میں داخل ہوں گے ، اسی درمیان حضرت ابو جندلؓ بیڑی پہنے ہوئے آئے تو حضور ؐ نے انکو عہد کے مطابق واپس کر دیا۔
ثابت ہوا …….. اس حدیث میں دو باتیں ہیں [۱] ایک تو یہ کہ حالات متقاضی ہوں تو غیر مسلم کے ساتھ صلح کی جا سکتی ہے ۔ [۲] اور دوسری بات یہ ہے کہ جس بات پر صلح ہوئی اس کو نبھانا ضروری ہے
غیر مسلم ملکوں میں ایک اہم شرط یہ ہوتی ہے کہ کوئی ایسی تقریر نہ کریں جس سے آپس میں نفرت پیدا ہو ، اور قتل غارت شروع ہو جائے ، یا خانہ جنگی شروع ہو جائے ۔ آپ حضرات اس کی پوری پابندی کریں ۔یہ شرط بھی ہوتی ہے کہ آپ بم دھماکہ نہ کریں ، آپ اپنے نوجوان سے اس کی بھی پوری پابندی کروائیں

[9] حکومت کے خلاف خواہ مخواہ سازش نہ کریں
آپ بڑی بڑی مسجدیں بنائیں ، بڑے بڑے مدرسے بنائیں ، اور اس میں خوب تعلیم دیں ، صبح و شام عبادت کریں۔ حکومت آپ کو کبھی نہیں چھیڑے گی ، اور نہ اس کو بند کرانے کی کوشش کرے گی ، بلکہ فخر سے کہے گی کہ دیکھو میرے یہاں دوسرے مذاہب کے مدرسے اور عبادت گاہیں محفوظ ہیں ۔ اس کو ٹیلی ویزن پر دے گی ، اور پوری اڈوٹائز کرے گی۔
لیکن اگر آپ نے حکومت کے خلاف سازش شروع کی ، یا وہاں کے باشندوں کے خلاف شازش شروع کی ، یا حکومت کے کسی قانون ، یا پالیسی کے خلاف ذہن بنانا شروع کیا ، اور حکومت یہ سمجھتی ہے کہ یہ میرے لئے ، یا میری قوم کے لئے نقصان دہ ہے تو اب حکومت آپ کے پیچھے پڑے گی ، اور آپ کو نکال کر چھوڑے گی ۔
یہ بہت سمجھنے کی چیز ہے ۔بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ سیاسی نوجوان کو حکومت سے خار ہوتا ہے، یا اس کو کوئی عہدہ حاصل کرنا ہوتا ہے، اس کو کوئی اپنا مقصد ہوتا ہے ، لیکن وہ مذہبی نعرہ لیکر اٹھتا ہے ، اس کے فائدے کی بات کرتا ہے ، اس کو حقوق دلوانے کا جھانسا دیتا ہے ، اور مسجد ، یا مدرسے کے سادے علماء کو ساتھ لیتا ہے ، اور حکومت کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے ، اور نفع کی لالچ دیکر پوری قوم کو تباہ کر دیتا ہے ۔
شام کے داعش نے وہاں کے مسلمانوں کو مذہبی نعرہ دیا ، اس نے وعدہ کیا کہ یہاں اسلامی حکومت قائم کریں گے ، اور ہر ایک کے لئے دودھ کی ندی بہا دیں گے ، اس لالچ میں وہاں کے کچھ سادے لوگوں نے ساتھ دیا ، لیکن یہ رویہ حکومت کے خلاف تھا ، اس لئے اس نے ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑا ۔
ایک ملک میں ایک جگہ ایک مذہبی ادارے میں حکومت کے خلاف سازش شروع کی، ایک جذباتی جوان نے اس کا نعرہ لگایا، اور کچھ لوگوں نے اس کا ساتھ دیا ، سیلر کے اندر ہتھیار چھپائے تو اس وقت کی حکومت کو ایکشن لینا پڑا ، اور اس میں درجنوں آدمی عبادت گاہ ہی میں قتل ہو گئے ، ادارے والے نے تو یہی ظاہر کیا کہ دیکھو صاحب میرے آدمیوں کو قتل کر دیا ، اور مجھ پر ظلم کیا ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مذہب کے آڑ میں انتشار پھیلا رہے تھے اس لئے اس کے خلاف جنگ کرنی پڑی، اور آج تک اس کا اثر باقی ہے
یہ جنگ حکومت کے لئے بہت تکلیف دہ ہوتی ہے ، وہ جنگ کرنا ہر گز نہیں چاہتی ، دنیا میں اس کی بڑی توہین ہوتی ہے ، لیکن مجبورا اس کو ایسا کرنا پڑتا ہے ۔
اس لئے دار الامن میں رہنے والے مسلمانوں سے دست بستہ گزارش ہے کہ حکومت کے خلاف سازش نہ کریں ، اور نہ سازش کرنے والوں کا ساتھ دیں
حکومت کی نگاہ میں یہ ناقابل معافی جرم ہے ۔ اس سے پرہیز کریں
اس آیت میں ہے کہ سازش کرنے والوں سے دور رہا کریں ۔و کذالک جعلنا فی کل قریۃ اکابر مجرمیھا لیمکروا فیھاو ما یمکرون الا بانفسہم و ما یشعرون ۔ ( آیت ۱۲۳، سورت الانعام ۶)
ترجمہ….. اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے مجرموں کے سرغنوں کو موقع دیا ہے کہ وہ اس بستی میں سازشیں کیا کریں ، اور وہ جو سازشیں کرتے ہیں درحقیقت وہ کسی اور کے نہیں بلکہ خود ان کے اپنے خلاف پڑتی ہیں ۔ ، لیکن اس کو اس کا احساس نہیں ہوتا ۔
ثابت ہوا … اس آیت میں یہ بتایا کہ اللہ کا نظام یہ ہے کہ ہر معاشرے میں کوئی نہ کوئی سازش کرنے والا پیدا ہوتا ہے ، جو مذہبی لبادہ اڑھ کر سازش کرتا ہے ، معاشرے والوں کو ایسے آدمیوں سے دور رہنا چاہئے ۔
سیصیب الذین اجرموا صغار عند اللہ و عذاب شدید بما کانوا یمکرون ۔ ( آیت ۱۲۴ ، سورت الانعام ۶)
ترجمہ….. جن لوگوں نے اس قسم کی مجرمانہ باتیں کیں ہیں ، ان کو اپنی مکاریوں کے بدلے میں اللہ کے پاس جا کر ذلت اور سخت عذاب کا سامنا ہو گا ۔
ثابت ہوا … ان دونوں آیتوں میں سازش کی برائی بیان کی ہے ، اور یہ بھی بتایا ہے کہ سازش کرنے والے ہی کو اس کا نقصان پہنچتا ہے ۔ اس لئے دار الامن ہیں رہنے والوں کو اس سے بہت پرہیز کرنا چاہئے ، یہ رویہ سب سے بڑی غلطی ہے ۔

[10] حکومت مفید قانون بنائے تو اس کی مخالفت نہ کریں
اگر حکومت عوام کے لئے کوئی مفید قانون بنائے ، یا مفید ادارہ بنائے ، جو شریعت کے خلاف نہ ہوتو اس کی حمایت کرنی چاہئے ، خواہ مخواہ اس کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے ، ہاں شریعت کے خلاف ہو یا مفید عامہ کے خلاف تو اختلاف کر یں، اور مناسب انداز میں اس کی اصلاح کریں
بعض مرتبہ یہ دیکھا گیا ہے کہ حکومت کتنی مفید قانون کیوں نہ بنائے کچھ آدمی مخالفت ہی کرنے پر تلے ہوتے ہیں ، کیونکہ اس کو نہیں پوچھا ، یا اس کی جماعت کو کوئی عہدہ نہیں دیا ، اس لئے اس کی خامی نکالتے رہتے ہیں اور عوام کا نقصان کر کے چھوڑتے ہیں،
اس کی مخالفت کرنے سے حکومت کی نظر اس پر ہو جاتی ہے کہ دیکھو یہ ہر بار ہماری مخالفت کرتا ہے ، جس کی وجہ سے حکومت اس کو راستے سے ہٹا نا چاہتی ہے ، یا اس کو کمزور کرنا چاہتی ہے جس سے عوام اور حکومت کے درمیان اختلاف پیدا ہوتا ہے ، اور ملک کی ترقی رک جاتی ہے ، اور ہم تو امن لیکر اس ملک میںآئے ہیں اس لئے ہمیں تو وہ جلدی سے ہٹا دیں گے ۔ اس لئے اس سے بچنا چاہئے ۔کوشش یہ کرنی چاہئے کہ حکومت کے ساتھ مل جل کر کام کریں ، اسی میں فائدہ ہے
اس آیت میں اس کی ترغیب ہے۔و تعاونو علی البر و التقوی و لا تعاونوا علی الاثم و العدوان ۔ ( آیت ۲ ، سورت المائدۃ ۵)
ترجمہ….. اور نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو ، اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو۔
ثابت ہوا … اس آیت میں ہے کہ نیکی اور تقوے کے کام میں مدد کرو ، البتہ برائی کے کام میں مدد نہ کرو۔
[11] اس ملک میں امن عامہ کے خلاف ہر گز تقریر نہ کریں

ہر ملک والے چاہتے ہیں کہ اس کے ملک میں خانہ جنگی نہ ہو ، آپس میں نفرتیں نہ پھیلیں ، کیونکہ اس سے جنگ ہو جاتی ہے ، اور اس کی حفاظت میں حکومت کو ہزاروں پونڈ خرچ کرنا پڑتا ہے ، اور ملک کو بہت بڑا نقصان ہو جاتا ہے ،ا بھی شام میں خانہ جنگی ہوئی ، جس سے پورا پورا شہر تباہ ہو گیا ، ایک گھر بھی رہنے کے لائق نہیں رہا ،، اور ہزاروں آدمیوں کو وہاں سے ہجرت کرنی پڑی ، اور اب تو دوسرے ملک والے بھی ان کوپناہ دینے سے انکار کر رہے ہیں
اس لئے جمہوری حکومت میں رہنے والے مسلمان امن عامہ کے خلاف تقریر ہر گز نہ کریں ، اور نہ ایسے لوگوں کو تقریر کرنے دیں جو آپس میں نفرتیں پھیلاتے ہوں
یہ قانون صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں ہے ، بلکہ ملک کے تمام مذہب کے رہنے والوں کو چاہئے کہ امن عامہ کے خلاف تقریر نہ کریں ، کیونکہ اس سے نفرت پھیلتی ہے ، لوگ آپس میں لڑنے لگتے ہیں ، اور ملک تباہ ہو جاتا ہے ، ملک کی ترقی رک جاتی ہے ، اور وہ غربت کی طرف چلی جاتی ہے ، اس لئے تمام باشندوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ ایسی تقریر نہ کریں جس سے دوسری قوموں کو تکلیف ہو ، اور اس سے نفرت پھیلے
اس کے لئے حدیث یہ ہے ۔ سمعت عرفجۃ قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول انہ ستکون ھنات و ھنات فمن اراد ان یفرق امرہذہ الامۃ و ھی جمع فاضربوہ بالسیف کائنا من کان ۔( مسلم شریف ، کتاب الامارۃ ، باب حکم من فرق امر المسلمین و ہو مجتمع، ص ۸۳۲، نمبر ۱۸۵۲؍ ۴۷۹۶)
ترجمہ….. حضور ؐ فرمایا کرتے تھے کہ بہت سے اختلاف ہوں گے ، یہ امت مجتمع ہو اور کوئی اس کو جدا کرنا چاہے تو جو بھی ہو اس کو تلوار سے مار دو ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ لوگ مجتمع ہوں اور کوئی اس میں تفریق ڈالے تو اس کو قتل کردو ، آپ قتل تو نہ کریں لیکن اس کو امن عامہ کے خلاف تقریر نہ کرنے دیں ۔
عن عرفجۃ قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول من اتاکم و امرکم جمیع علی رجل واحد یرید ان یشق عصاکم او یفرق جماعتکم فاقتلوہ۔ ( مسلم شریف ، کتاب الامارۃ ، باب حکم من فرق امر المسلمین و ہو مجتمع، ص ۸۳۲، نمبر ۱۸۵۲؍۴۷۹۸)
ترجمہ….. مسلم ، نمبر۴۷۹۸ : حضور ؐ سے میں نے سنا کہ تمہارا معاملہ ایک آدمی پر مجتمع ہو ، اور کوئی تم میں اختلاف پیدا کرنا چاہے ، یا تفریق کرنا چاہے تو اس کو قتل کر دو ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں بھی ہے کہ جو امن عامہ کے خلاف کرے اس کو قتل کر دو ۔

[12] جلوس نکالتے وقت توڑ پھوڑ نہ کریں،اور پتھراؤ نہ کریں
یہ دیکھا گیا ہے کہ جلوس نکالتے ہیں ، پھر پتھراؤ کرتے ہیں دوکانوں کو آگ لگاتے ہیں ، پھر پولیس جب لاٹھی چارج کرتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم پر زیادتی کی ، اور خود یہ نہیں دیکھتے کہ خود اس نے عوام کا کتنا ن نقصان کیا ہے اس کے بعد پولیس نے مجبوری میں اس کو مارا ہے ، اس لئے جلوس نکالتے وقت پتھراؤ ہر گز نہ کریں۔
اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ جلوس پر امن ہو اور اس میں ایسا نعرہ نہ لگائیں کہ اس نعرہ سے کسی قوم کو تکلیف ہو، یا اس سے نفرت کی آگ بھڑکے
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگوں کی پہلے سے نیت ہوتی ہے کہ کسی دکان کو توڑے تو اس میں سے مال سامان لیکر بھاگ جاؤں ، ایسے لوگ زیادہ دکان توڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
ابھی دیکھا کہ شام میں جلوس نکالا ، پھر پتھراؤ شروع ہوا ، پھر خانہ جنگی ہوئی اور پورا ملک برباد ہو گیا ، ایک گھر بھی رہنے کے لائق نہیں رہا ، اس میں کتنے ہزار آدمی مرے ، اور کتنوں کو ہجرت کرنی پڑی
۔ اس لئے اپ پتھراؤ نہ کریں لوگوں کی گاڑیاں نہ جلائیں ، اور نہ لوگوں کی دکانیں جلائیں ، یہ لوگ تو عام شہری ہیں، یہ آپ کے بھائی ہیں انہوں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے کہ آپ ان کا نقصان کر رہے ہیں ، اس لئے آپ ہر گز نہ کریں ۔
ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ و الموعظۃ الحسنۃ ۔ ( آیت ۱۲۵، سورت النحل ۱۶ )
ترجمہ. اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو
ثابت ہوا … اس آیت میں سمجھایا گیا ہے کہ حکمت سے اور اچھے انداز سے لوگوں کو سمجھاؤ
فقولا لہ قولا لینالعلہ یتذکراو یخشی ۔ ( آیت ۴۴، سورت طہ ۲۰ )
ترجمہ.. جا کر دونوں اس سے [ فرعون سے ] نرمی سے بات کرنا شاید وہ نصیحت قبول کر لے ، یا اللہ سے ڈر جائے
ثابت ہوا … اس آیت میں کہا گیا ہے کہ کسی کو کہو تو نرم انداز میں کہو ، تو ہم کیوں سختی سے کام لیں ۔ ہم بھی نرمی سے حکومت کے سامنے اپنی بات رکھیں ، اور یہ ملک تو آپ کا نہیں ہے اس لئے اور بھی نرمی سے پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔

[13] جلوس میں نفرت والا نعرہ نہ لگائیں

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جلوس میں ایسا نعرہ لگاتے ہیں جس سے دوسری قوموں پرطنز ہو ، اور اشتعال پیدا ہو جائے ، اس نعرے سے آپس میں جھگڑا پیدا ہوتا ہے ، اور نفرتیں بڑھ جاتی ہیں ، پھر اس ملک میں رہنا مشکل ہوجاتا ہے ، اس لئے جلوس میں ہمیشہ خیال رکھیں کہ دکان ، اور مکان کا توڑ پھوڑ نہ کریں ، بس کو اور کار کو نہ جلا ئیں ، اور دوسری قوموں کے خلاف نعرہ بازی نہ کریں ، اور جو ایسا کرتا ہو ان کو سختی سے منع کریں ۔
اور اگر ایسا خطرہ ہو کہ لوگ نہیں مانیں گے تو ایسا جلوس نکالیں ہی نہیں ۔
کسی بھی ملک میں نفرت پھیلنے کی بڑی وجہ جلوس نکالنے میں نعرہ بازی اور پتھر بازی ہے ، اس سے پورا احتراز کریں ، وہ بھی آپ کے ملکی بھائی ہیں ، ان سے دشمنی مول کر آپ کو کیا ملے گا ، بلکہ آپ کا ہی ملک خراب ، وبرباد ہو جائے گا۔
اس قانون کی رعایت ہر قوم کو کرنی چاہئے اسی سے ملک ترقی کرے گا ، اور آگے بڑھے گا

اسی طرح اگر آپ نے اونچی آواز میں لاوڈ اسپیکر لگایا جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے ، یا رات میں انکو سونے میں تکلیف ہوتی ہے تو اسلامی تعلیم یہ ہے کہ ان کو تکلیف نہ دیں ، بلکہ لاوڈ اسپیکر کی آواز کم کر دیں ، اور کم آواز میں تقریر کریں ، یا کم آواز میں آذان دیں ، یہ اسلامی تعلیم ہے ، اس کے خلاف ضد نہ کریں
[14] غیر مسلم ملکوں میں حد لگانے کا مطالبہ نہ کیا کریں
یورپ اور امریکہ میں ہیومن رائٹس نا فذ ہے ، یہاں کے کے لوگ پھانسی دینے اور ہاتھ کا ٹنے کے سخت خلاف ہیں ، اس لئے کوئی پھانسی دے ، یا قتل کرے ، یا ہاتھ کاٹے تو عوام احتجاج کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں ، اور حکومت کو سنبھالنا مشکل ہوتا ہے ، وہ بھی نہیں چاہتی کہ میرے ملک میں افرا تفری پیدا ہو ، اس لئے کوئی آدمی ایسا کام کر لے جس سے حد لازم ہوتی ہوتو وہ حد نافذ نہیں کرتی ۔ ہاں مجرم کو تعزیر کرتی ہے ، اس لئے مناسب انداز میں تعزیر کا مطالبہ کریں
دو شرطیں ہوں تب ہی حد لگائی جاتی ہے ۔ [۱] ایک یہ کہ اسلامی حکومت ہو ۔ [۲] اور دوسری یہ کہ مسلمان قاضی فیصلہ کرے ، تب حد لگائی جاتی ہے ۔ اور غیر مسلم ملکوں میں نہ اسلامی حکومت ہے ، اور نہ اسلامی قاضی ہے اس لئے ان ملکوں میں حد نہیں لگائی جائے گی ، اس لئے یہاں کسی آدمی نے ایسی حرکت کی جس سے حد لازم ہوتی ہو تب بھی حکومت سے حد لگانے کا مطالبہ نہ کریں ۔ اس سے انتشار ہوتا ہے۔ ہاں تعزیر کرنے کا مطالبہ مناسب انداز میں ضرور کریں
اس کے لئے قول صحابی یہ ہے۔ قال سرق رجل من المسلمین فرسا فدخل ارض الروم فرجع مع المسلمین بھا فارادواقطعہ فقال علی بن ابی طالب : لا تقطعوا حتی یخرج من ارض الروم ۔ ( مصنف عبد الرزاق، کتاب الجہاد ، باب ہل یقام الحد علی المسلم فی بلاد العدو، ص ۱۳۴، نمبر ۹۴۳۶)
ترجمہ. ایک مسلمان آدمی نے ایک گھوڑا چرایا ، پھر روم کی حکومت میں داخل ہو گیا پھر وہ مسلمان کے ساتھ واپس آیا ، تو لوگوں نے اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا تو حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ جب تک روم سے نہ نکلے ہاتھ نہیں کاٹ سکتے
ثابت ہوا … اس قول صحابی میں ہے کہ دار الحرب میں حد قائم نہیں کی جائے گی ۔
[15] سڑکوں، دکانوں اور اسکولوں پر ہر گز بم نہ پھینکیں ۔

کئی جگہ یہ دیکھا گیا کہ غیروں نے کچھ لوگوں کواپنے ملک میں پناہ دی ، اور ان کو ساری سہولتیں دیں ، اس کے باوجود کچھ نوجوانوں نے اپنے مطالبے کے لئے شراب خانوں میں ، یا سنیما گھروں میں،دوکانوں میں اور اسکولوں میں عوام پر بم پھینکا ، اور یہ تأثر دیا کہ ہم اسلام کی خدمت کر رہے ہیں، ، وہ تو دنیا سے چلا گیا، لیکن اس کی وجہ سے تمام مسلمان بد نام ہوئے اور دوسرے لوگوں کے لئے رہنا مشکل ہو گیا ، اس لئے گلیوں ، شراب خانوں ، سنیما گھروں اور سڑکوں پر ہر گز بم نہ پھینکیں ، بلکہ کہیں بھی بم نہ پھینکیں یہ کھلی ہوئی دہشت گردی ہے ، اسلام اس کی ہر گز اجازت نہیں دیتا۔ اسلام تو میدان جنگ میں بھی سات قسم کے آدمیوں کو قتل کرنا حرام قرار دیتا ہے تو ان شہریوں کو قتل کرنا اور ان کو خوف و ہراس میں مبتلاء کرنا کیسے جائز قرار دیگا ۔
اس آیت میں اس کا ثبوت ہے ۔ و قاتلو فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم و لا تعتدوا ان اللہ لا یحب المعتدین ۔( آیت ۱۹۰، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ….. اور ان لوگوں سے اللہ کے راستے میں جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور زیادتی نہ کرو ، یقین جانو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
ثابت ہوا … اس آیت میں ہے جو تم سے جنگ کرے صرف اسی کو قتل کرو ، اس سے زیادہ نہ بڑھو
فمن اعتدای علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم و اتقوا اللہ ۔ ( آیت ۱۹۴، سورت البقرۃ ۲ )
ترجمہ….. چنانچہ اگر کوئی شخص تم پر کوئی زیادتی کرے تو تم بھی ویسی ہی زیادتی اس پر کرو جیسی زیادتی اس نے تم پر کی ہو ، اور اللہ سے ڈرتے رہو ۔
ثابت ہوا … اس آیت میں ہے کہ جتنا تم پر زیادتی کی اتناہی تم اس پر زیادتی کرو ، یعنی اتنا ہی بدلہ لو ، اس سے زیادہ نہیں ۔ لیکن ان عوام نے تو کچھ کیا ہی نہیں تو ان کو مارنا کیسے جائز ہو گا ، یہ تو سرا سر ظلم ہے ، بلکہ یہ حرکت کریں گے تو دوسرے مسلمانوں کے لئے اس ملک میں رہنا مشکل ہو جائے گا ، اس لئے سڑکوں اسکولوں ، کالجوں ، اور شہریوں پر بم پھینکنا ہر ہر گز نہ کریں ۔

[16] ایک آدمی کو نا حق قتل کرنا
تمام انسانوں کو قتل کرنے کا گناہ ہے ۔
قتل کرنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ کسی ایک آدمی کو نا حق قتل کرنا ایسا ہے کہ اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا ، اس لئے غیر مسلم کو بھی نا حق قتل کرتے وقت سوچنا چاہئے کہ یہ کہیں نا حق تو قتل نہیں کر رہا ہے۔
، یہ جو اسکولوں میں کالجوں میں ، اور سڑکوں پر بم مار کر عام شہریوں کو مارتے ہیں چھوٹے چھوٹے بچوں کو اغوا کر لیتے ہیں ، بتائے ان کا کیا گناہ ہے ، انہوں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے جو اغوا کر کے یا بم مار کر ہلاک کر رہے ہیں ، یہ بہت بڑی غلطی کر تے ہیں ، یہ اسلامی خدمت نہیں بلکہ اس سے اسلام بدنام ہوتا ہے ، ایسا کرنے سے تمام انسانوں کو قتل کرنے کا گناہ اس کو ہو گا ۔
اس کے لئے آیت یہ ہے ۔ من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض فکأنما قتل الناس جمیعا ، و من احیاھا فکانما حیا الناس جمیعا ( آیت ۳۲، سورت المائدۃ ۵ )
ترجمہ….. جو کوئی کسی کو قتل کرے ، اور یہ قتل کسی کی جان کا بدلہ لینے کے لئے نہ ہو ، اور نہ زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو تو ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا ، اور جو شخص کسی کی جان بچا لے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچا لی ۔
ثابت ہوا … اس آیت میں مسلمان ہونے کی قید نہیں ہے ، اسی لئے غیر مسلم کو بھی نا حق قتل کرے گا تو پوری انسانیت کے قتل کرنے کا گناہ ہو گا ، اس کا خیال رکھیں ۔

[17] دوسرے مذہب والوں کے بڑوں کو،
یا انکے خداؤں کو گالی نہ دیں
اگر آپ دوسرے کے خدا کو یا انکے بڑوں کو گالیاں دیں گے،یا برا بھلا کہیں گے تو وہ بھی آپ کے خدا کو اور آپ کے بڑوں کو گالیاں دیں گے تو اس سے پورے ملک کا ماحول خراب ہو جائے گا ، اس لئے انکے خدا کو اور انکے بڑوں کو برا بھلا نہ کہیں ۔
اس کے لئے یہ آیت ہے ۔ و لا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم ۔ ( آیت ۱۰۸، سورت الانعام ۶)
ترجمہ….. مسلمانو ! جن جھوٹے معبودوں کو یہ لوگ اللہ کے بجائے پکارتے ہیں ، تم انکو برا نہ کہو ، جس کے نتیجے میں یہ لوگ جہالت کے عالم میں حد سے بڑھ کر اللہ کو برا کہنے لگیں گے ۔
ثابت ہوا … اگر کسی کو سمجھانا ہو تو اخلاق مندی سے سمجھائیں ، اور حکمت سے سمجھائیں ، جو لوگ جارحانہ انداز سے سمجھاتے ہیں اس سے اور اختلاف بڑھتا ہے ، نفرت بڑھتی ہے ، اور سامنے والا سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا ۔
اس کے لئے یہ آیت ہے ۔ ادعوا الی سبیل ربک بالحکمۃ و الموعظۃ الحسنۃ ۔ و جادلہم بالتی ھی احسن ( آیت ۱۲۵،سورت النحل ۱۶)
ترجمہ….. ۔اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کرکے دعوت دو ، اور بحث کی نوبت آئے تو ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو ۔
ثابت ہوا … اس دور میں بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ سامنے والوں کی بات کو سمجھے بغیر ، صرف اس کی آدھی بات سن کر یا دیکھ کر حکم لگا دیتے ہیں ، اور اس کو بدنام کر دیتے ہیں ، یہ اچھی بات نہیں ہے ، خاص طور پر عیسائی ملکوں میں اس کا بہت خیال رکھیں ۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے ، غیر مسلم حضرات سے الجھنے لگتے ہیں ، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان صرف لڑنے کے لئے تیار رہتا ہے ، غیر مسلم ملکوں میں ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہئے ۔
نا چیز کو آج بڑی خوشی ہے کہ میرے اساتذہ کرام نے یہ سکھلایا کہ
تمام نبیوں کا احترام کرو
تمام رسولوں کا احترام کرو
تمام صحابہ کا احترام کرو
تمام اماموں کا احترام کرو
تمام ولیوں کا احترام کرو
تمام آسمانی کتابوں کا احترام کرو
بلکہ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ہندو مذہب کے مقتداء کو بھی برا نہ کہوں ، بہت ممکن ہے کہ وہ اپنے زمانے کے ولی اور بزرگ ہوں ، اور بہت بعد میں لوگوں نے انکو کچھ اور بنا دیا ہو…. . واہ رے احترام
میں نے اپنے مادر علمی[ دار العلوم ] میں کبھی بھی کسی مذہب والوں کے بارے میں نا زیبا جملے استعمال کرتے نہیں سنا ۔
آج دنیا کی حالت دیکھتا ہوں تو اپنے اساتذہ کی اس نصیحت پر دل سے دعائیں نکلتی ہیں
نا چیز ثمیر۔
[18] اگر والدین غیر مسلم ہیں
، یا رشتہ دار غیر مسلم ہیں تب بھی انکی پوری خدمت کریں
اس سے انکو احساس ہو گا کہ مسلمان بن کر آدمی اور خدمت گزار ہو جاتا ہے ۔
اس کے لئے یہ آیتیں ہیں۔و بالوالدین احسانا و ذی القر بی ٰ و الیتامیٰ و المساکین و قولوا للناس حسنا۔ ( آیت ۸۳، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ….. اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو گے اور رشتہ داروں سے بھی ، اور یتیموں اور مسکینوں سے بھی ، اور لوگوں سے بھلی بات کہنا ۔
ثابت ہوا … اس لئے جنکے ماں باپ ، یا رشتہ دار یا پڑوسی غیر مسلم ہیں تو انکی اور زیادہ خدمت کریں تاکہ انکو یہ احساس ہو کہ آدمی مسلمان ہو کر اور زیادہ فرماں بردار ، اور خدمت گزار ہو جاتا ہے، اور اچھا بن جاتا ہے ، اگر انکی خدمت نہیں کریں گے تو انکو ایسا لگے گا کہ آدمی مسلمان ہو کر بد چلن اور خراب ہو جاتا ہے

[19] اگرآپ کا پڑوسی یا دوست غیر مسلم ہیں
تب بھی اس کی پوری خدمت کریں
اس آیت میں ہے ۔ و بالوالدین احسانا وبذی القرباء و الیتامی ٰ و المساکین ۔ و الجار ذی القربی و الجار الجنب و الصاحب بالجنب و ابن السبیل ( آیت ۳۶، سورت النساء ۴)
ترجمہ….. اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، نیز رشتہ داروں ، یتیموں ، اور مسکینوں ، قریب والے پڑوسی ، اور دوروالے پڑوسی ، اور ساتھ بیٹھنے والے ، اور راستہ چلنے والوں کے ساتھ اچھا معاملہ کرو
ثابت ہوا … اس آیت میں ہے کہ قریب کے پڑوسی ، دور کے پڑوسی ، اور ساتھ بیٹھنے والوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرو ، اس آیت میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں شامل ہیں

[20] غیر مسلموں کے تہوار ، اور غمی خوشی میں
جانے سے احتراز کریں ، لیکن مجبوری ہو تو جا سکتے ہیں
غیر مسلم کے تہواروں میں شریعت کے خلاف کام ہوتا ہے اس لئے وہاں جانے سے احتراز کریں لیکن اگرمجبوری ہو تو اس میں جا سکتے ہیں ، تاکہ غیر مسلم یہ نہ سمجھیں کہ مسلمان بہت سخت ہوتے ہیں ، لیکن وہاں شرک اور بے حیائی کے کام سے پرہیز کریں ۔

[21] غیر مسلم تعلق والوں کی عیادت کے لئے جا سکتے ہیں
اس کے لئے حدیث یہ ہے ۔ عن انس بن مالکؓ قال کان غلام یہودی یخدم النبی ﷺ فمرض فأتاہ النبی ﷺ یعودہ فقعد عند رأسہ فقال لہ اسلم فنظر الی ابیہ و ہو عندہ فقال لہ أطع أبا القاسم ﷺ فاسلم فخرج النبی ﷺ و ہو یقول ، الحمد للہ الذی أنقذہ من النار ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الجنائز ، باب اذا اسلم الصبی فمات ، ص ۲۱۷، نمبر ۳۵۶ ۱ )
ترجمہ….. حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ، ایک یہودی لڑکا حضور ؐ کی خدمت کیا کرتا تھا ، وہ بیمار ہوا تو حضور ؐ ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے ، اور ان کے سر کے پاس بیٹھ گئے ، آپ نے ان سے کہا کہ اسلام لے آؤ ، تو انہوں نے اپنے باپ کی طرف دیکھا ، جو انہیں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، تا انکے باپ نے کہا کہ ابو القاسم [ یعنی حضور ؐ ] کی اطاعت کر لو ، پس وہ لڑکا مسلمان ہو گیا ، حضور ؐ یہ کہتے ہوئے باہر تشریف لائے کہ ، شکر ہے کہ اللہ نے اس کو جہنم کی آگ سے بچا لیا ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ حضور ؐ یہودی خادم کی عیادت کرنے کے لئے گئے ، یہ بھی ہے کہ وہاں جا کر اسلام کی دعوت دی ۔
اس آیت میں بھی حسن سلوک کی تاکید کی ہے و بالوالدین احسانا وبذی القرباء و الیتامی ٰ و المساکین ۔ و الجار ذی القربی و الجار الجنب و الصاحب بالجنب و ابن السبیل ( آیت ۳۶، سورت النساء ۴)
ترجمہ….. اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، نیز رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، قریب والے پڑوسی ، دور والے پڑوسی ، ساتھ کھڑے ہوئے ( یا ساتھ کھڑے ) ہوئے شخص ، اور راہ گیر کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو
ثابت ہوا … اس آیت میں ہے کہ قریب کے پڑوسی ، دور کے پڑوسی ، اور ساتھ بیٹھنے والوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرو اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ غیر مسلم ساتھ بیٹھنے والا ہو تو اس پر بھی احسان کا معاملہ کرنا چاہئے

[22] غیر مسلم کے میت کے گھر مجبورا جا سکتے ہیں
غیر مسلم کے جنازے میں رسم و رواج ہوتے ہیں ، اور کفر اور شرک کے کام ہوتے ہیں ، اس لئے اس میں شرکت کرنے سے منع کرتے ہیں ، کیونکہ کفر اور شرک میں شریک ہونا ہو گا ، لیکن اگر مجبوری ہے ، مثلا وہ رشتہ دار ہے ، یا گہرا دوست ہے تو غیر مسلم کے جنازے کے خاص کام میں یا اس کے رسم و رواج میں ہر گز شریک نہ ہوں ، ہاں اسکے گھر جا کر تسلی دیں ، اس کے غم میں شریک ہوں ، اتنا کر لیں تاکہ اس کو یہ محسوس نہ ہو کہ دیکھئے یہ میرا دوست ہے اور میرے موت کے وقت بھی میرے گھر نہیں آیا لیکن اس میں بھی کفر ، شرک ، اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کریں ۔
اس کے لئے حدیث یہ ہے ۔عن علی بن ابی طالب قال لما مات ابو طالب اتیت رسول اللہ ﷺ فقلت یا رسول اللہ مات الشیخ الضال فقال رسول اللہ ﷺ اذہب فاغسلہ و کفنہ فقلت یا رسول اللہ ﷺ انا ؟ فقال و من احق بذالک منک اذہب فاغسلہ و کفنہ و جننہ ۔ ( سنن للبیہقی ، ج ۱، باب االغسل من غسل المیت ، ص ۴۵۶، نمبر ۱۴۵۶؍ مسند احمد، باب مسندعلی بن ابی طالب، ج۲ ص ۱۸۶، نمبر ۸۰۷ )
ترجمہ….. حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ جب میرے باپ ابو طالب کا انتقال ہوا تو میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ گمراہ شیخ کا انتقال ہو گیا ہے ، تو حضور ؐ نے فرمایا کہ جاؤ اس کو غسل دو اور کفن دو ، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! میں جاؤں ، تو آپ نے فرمایا کہ اس کام کے لئے آپ سے زیادہ حقدار کون ہے ، جائیں اس کو غسل بھی دیں ، اور کفن بھی دیں ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں حضور ؐ نے حضرت علیؓ کوغسل دینے ، کفن دینے ، اور دفن کرنے کا حکم دیا ، اور یہ بھی فرمایا کہ تم سے زیادہ حقدار کون ہے ۔
[23] یہودی ، یا نصرانی کا جنازہ سامنے آئے
تو اس کی تعظیم کیلئے کھڑے ہو سکتے ہیں
اس کے لئے حدیث یہ ہے ۔ عن جابر بن عبد اللہ قال مر بنا جنازۃ فقام لہا النبی ﷺ فقمنا فقلنا یا رسول اللہ انہا جنازۃ یہودی قال اذا رأیتم الجنازۃ فقوموا۔ ( بخاری شریف ، کتاب الجنائز ، باب من قام لجنازۃ یہودی ، ص ۲۱۰، نمبر ۱۳۱۱)
ترجمہ….. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے سامنے سے ایک جنازہ گزرا ، تو حضور ؐ اس کے لئے کھڑے ہو گئے ، اس لئے ہم بھی کھڑے ہو گئے ، پھر ہم نے عرض کیا کہ یہ یہودی کا جنازہ ہے ، تو آپ نے فرمایا کہ جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ حضور ؐ یہودی کے جنازے کے لئے اٹھے ، اس لئے اگر کسی غیر مسلم کے جنازے میں جائے تو جنازے کے لئے اٹھ سکتے ہیں ، البتہ کوئی ایسا کام نہ کرے جو شرک ، کفر ، یا بے حیائی کا ہو اس سے ضرور احتراز کرے ۔

[24 ] غیر مسلم سلام کرے تو انکو ،و علیکم،کہنا چاہئے۔
، غیر مسلم سلام کرے تو اس کو پورا ، و علیکم السلام ، نہیں کہنا چاہئے ، کیونکہ حدیث میں سے منع فرمایا ہے ، البتہ صرف ، علیکم ، یا ، السلام علی من تبع الہدی، کہنا چاہئے ۔تاکہ انکو برا نہ لگے ۔
، اس کے لئے یہ حدیثیں ہیں۔عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال لا تبدؤ الیہود و النصاری بالسلام ۔ ( مسلم شریف کتاب السلام ، باب النہی عن ابتداء اہل الکتاب بالسلام ، و کیف یرد علیہم ، ص ۹۶۴، نمبر۲۱۶۷؍۵۶۶۱)
ترجمہ….. حضور ؐ نے فرمایا کہ یہود اور نصاری کو ابتدائی طور پر سلام مت کرو ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ ابتداء تم یہود اور نصاری کوسلام مت کرو ۔
عن انس بن مالک ان رسول اللہ ﷺ قال اذا سلم علیکم اہل الکتاب فقولوا و علیکم ۔ ( مسلم شریف کتاب السلام ، باب النہی عن ابتداء اہل الکتاب بالسلام ، و کیف یرد علیہم ، ص ۹۶۳، نمبر ۲۱۶۳؍ ۵۶۵۲)
ترجمہ….. حضور ؐ نے فرمایا کہ تم کو اہل کتاب [ یعنی یہودی ، یا نصرانی ] سلام کرے تو تم انکو ، و علیکم ، کہا کرو۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ اہل کتاب کو پہلے تو سلام مت کرو لیکن اس نے سلام کیا تو ، علیکم ، کہہ دو ،
اگر اپنی جانب سے غیر مسلم کو سلام کرنا ہو تو، السلام علی من تبع الہدی ، کہنا چاہئے ۔
اس کے لئے تابعی کا قول یہ ہے کہ۔ عن قتادہ قال التسلیم علی اہل الکتاب اذا دخلت علیہم بیوتہم ، السلام علی من تبع الہدی ۔ ( مصنف عبد الرزاق، کتاب الجامع ، باب السلام علی اہل الشرک و الدعاء لہم ، ج ۱۰، ص ۱۳، نمبر ۱۹۶۲۸)
ترجمہ….. حضرت قتادہ ؒ نے فرمایا کہ اہل کتاب کے گھروں پر آؤ تو انکے لئے سلام یہ ہے کہ ، السلام علی من تبع الھدی ، کہو ۔
لیکن یورپ کے ملکوں میں مسلمانوں کے لئے مجبوری ہے کہ انکے ساتھ ہر وقت رہنا ہے ، اس لئے صحابی کے عمل کی وجہ سے ان کے لئے تھوڑی سی گنجائش ہے کہ وہ اہل کتاب کو کبھی کبھار ،سلام ،کر لیں۔
انکے لئے یہ قول صحابی ہے ۔ عن ابن عباس انہ کتب الی رجل من اہل الکتاب ، السلام علیک ۔(مصنف ابن ابی شیبۃ ، نمبر ۲۵۷۳۹)
ترجمہ….. حضرت ابن عباسؓ نے ایک اہل کتاب کو ، السلام علیکم ، لکھا
ثابت ہوا … اس میں ہے کہ حضرت ابن عباس اہل کتاب کو ، السلام علیکم ، لکھتے تھے
عن ابن عباس قال من سلم علیکم من خلق اللہ فردوا علیہم و ان کان یہودیا او نصرانیا او مجوسیا (مصنف ابن ابی شیبۃ ، نمبر ۲۵۷۵۶)
ترجمہ….. حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی بھی تم کو سلام کرے تو اس کو جواب [ یعنی سلام کرو] چاہے وہ یہودی ہو ، یا نصرانی ہو ، یا مجوسی ہو ۔

عن ابی امامۃ انہ کان لا یمر بمسلم و لا یہودی لا نصرانی الا بدأہ بالسلام ( مصنف ابن ابی شیبۃ ، کتاب الادب ، باب فی اہل الذمۃ یبدون بالسلام ، ج ۵،ص ۲۵۰،نمبر ۲۵۷۴۲)
ترجمہ….. حضرت ابو امامۃ کے پاس سے کوئی یہودی ، یا نصرانی گزرتے تو اس کو سلام ضرور کرتے ۔
ثابت ہوا … اس عمل صحابی میں ہے کہ وہ ہر یہودی اور نصرانی کو سلام ، کیا کرتے تھے ، جس سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب کو سلام کیا جا سکتا ہے ۔

[25] اور کبھی کبھار غیر مسلم کو ، گوڈ مورننگ ، بھی کہہ سکتے ہیں
اس کا اصول یہ ہے کہ ایسا جملہ ہر گز نہ کہیں جس سے اللہ کے علاوہ کی تعظیم ہوتی ہو ، یا اللہ کے علاوہ سے مدد مانگی گئی ہو ، اگر ایسا ہے تو وہ جائز نہیں ہو گا
good morningکا ترجمہ ہے آپ کی صبح اچھی طرح گزرے ، اور اسی کے قریب ہے حیاک اللہ ، اس کا ترجمہ ہے ، تم کو اللہ تعالی زندہ رکھے ، اور اسی معنی میں ،گوڈ مورننگ، ہے ، اسی طرح ہندی کا کوئی ایسا جملہ ہو جو،صبح بخیر ، یا حیاک اللہ کے مناسب ہو وہ کبھی مجبوری میں کہہ لیں
اس کے لئے یہ قول تابعی ہے ، عن ابراہیم قالا اذا قلت حیاک اللہ فقل بالسلام ۔( مصنف ابن ابی شیبۃ ، کتاب الادب ، باب فی الرجل یقول حیاک اللہ ، ج ۵ ،ص۲۵۲ ،نمبر۲۵۷۶۰)
ترجمہ… حضرت ابراہیم ؒ سے روایت ہے کہ اگر حیاک اللہ [ تم کو اللہ زندہ رکھے ]کہتے ہو تو سلام بھی کہہ لیا کرو
ثابت ہوا … اس عمل صحابی سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب کو حیاک اللہ ، یا گوڈ مورننگ کہا جا سکتا ہے ۔ اگر چہ ایک حدیث یہ بھی ہے کہ غیر مسلم کو سلام مت کرو ، کیونکہ اس میں ہر قسم کی سلامتی ہے ، جو غیر مسلم کے لئے مناسب نہیں ہے ۔
[26] اگر کوئی غیر مسلم آپ کی مدد کرے
تو اس کو دعا دے سکتے ہیں
حضور ؐ نے مدد کرنے والے یہودی کو خوبصورت ہونے کی دعا دی ، اس لئے کبھی کوئی غیر مسلم آپ کا کوئی اچھا کام کر دے تو آپ انکو ہدایت ملنے کی دعا ، یا کوئی اور دعا دے سکتے ہیں ۔
اس کے لئے حدیث یہ ہے ۔ عن قتادۃقال حلب یہودی للنبی ﷺ نعجۃ فقال اللھم جملہ فسود شعرہ حتی صار اشد سوادامن کذا و کذا قال معمر و سمعت غیر قتادۃ یذکر انہ عاش نحوا من سبعین سنۃ لم یشب ۔ ( مصنف عبد الرزاق، کتاب الجامع ، باب السلام علی اہل الشرک و الدعاء لہم ، ج ۱۰، ص ۱۳، نمبر ۱۹۶۳۱)
ترجمہ….. حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے حضور ؐ کی بکری دوہ دی تو آپ نے دعا دی کہ، اللہ اس کو خوبصورت بنا دے ، تو اس کا بال بہت کالا ہو گیا ، حضرت معمرؒ حضرت قتادہ ؒ سے یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ وہ یہودی ستر سال تک زندہ رہے ، اور بال سفید نہیں ہوا تھا ۔
ثابت ہوا … اس حدیث سے پتہ چلا کہ اگر کوئی غیر مسلم آپ کے ساتھ خیر خواہی کرتا ہے تو اس کے لئے دنیوی دعا کر سکتے ہیں ۔

[27] غیر مسلم مسجد دیکھنے کے لئے آئے
تو داخل ہونے کی اجازت دے سکتے ہیں ۔
کوئی غیر مسلم ، یا اسکول کے طالب علم ، اور استادمسجد دیکھنے کے لئے آجائے تو آپ اس کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دے سکتے ہیں ، اس سے وہ خوش ہو جائے گا ، البتہ عورت مسجد میں داخل ہونا چاہئے ، تو اس کو یہ مسئلہ بتا دیں کہ وہ حیض وغیرہ سے پاک ہیں تو داخل ہو سکتی ہے ، اس پر اگر وہ داخل ہوتی ہے تو آپ پرزیادہ تحقیق کرنے کی ساری ذمہ داری نہیں ہے ، ایسے موقع پر ظاہری حالت پر فیصلہ کر لیں ۔
غیر مسلم کے مسجد میں داخل ہونے کی حدیث یہ ہے ۔ عن الحسن ان وفد ثقیف قدموا علی النبی ﷺ و ہو فی المسجد فی قبۃ لہ فقیل لرسول اللہ ﷺ یا رسول اللہ انہم مشرکون فقال ان الارض لا ینجسہا شیء ۔ ( مصنف ابن ابی شیبۃ ، فی الکفار یدخلون المسجد ، ج ۲، ص ۲۶۱ نمبر ۸۷۷۵)
ترجمہ….. حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے پاس قبیلہ ثقیف کا وفد آیا ، حضور ؐ اس وقت مسجد کے ایک قبے میں تشریف رکھتے تھے، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ، یہ لوگ مشرک ہیں ، تو آپ نے فرمایا کہ زمین کو کوئی مشرک ناپاک نہیں کرتا ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ کفار کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دی ، اس لئے غیر مسلم مسجد کو دیکھنے کے لئے آئے تو اس کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دے سکتے ہیں ۔ اس رویے سے انکو خوشی ہو گی
[28] دوسرے مذہب والوں پر بھی صدقہ نافلہ کیا کریں
زکوۃ کے بارے میں تو علماء فرماتے ہیں کہ غیر مسلم پر خرچ نہ کریں ، لیکن صدقہ نا فلہ اور ہدیہ تو غیر مسلم کو بھی دیا کریں ، بلکہ اس ملک میں خوب دیا کریں ، تاکہ وہ خوش ہوجائیں
اس کے لئے یہ حدیث ہے ۔ عن سعید بن جبیر قال قال رسول اللہ ﷺ لا تصدقوا الاعلی اہل دینکم فانزل اللہ تعالی (لیس علیکم ہداہم )، الی قولہ (و ما تنفقوا من خیر یوف الیکم [آیت ۲۷۲، سورت البقرۃ ۲‘) قال قال رسول اللہ ﷺ تصدقوا علی اہل الادیان ، ( مصنف ابی شیبۃ ،باب ما قالوا فی الصدقۃ فی غیر اہل الاسلام ، ج ۲، ص ۴۰۱، نمبر ۱۰۳۹۸)
ترجمہ….. حضور ؐ نے فرمایا کہ اپنے مذہب کے علاوہ کسی اور پر صدقہ نہ کریں تو اللہ نے ، لیس علیکم ھداھم ، سے یوف الیکم ، تک کی ، آیت اتار دی ، اس کے بعد حضور ؐ نے فرمایا کہ دوسرے مذہب والوں پر بھی صدقہ [نافلہ] کیا کرو ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ حضور ؐ نے دوسرے مذہب والوں پر خرچ کرنے سے منع فرمایا تو یہ آیت اتری کہ ایسا نہ کریں ، پھر حضور ؐ نے فرمایا کہ دوسرے مذہب والوں پر بھی صدقہ نافلہ کیا کریں ۔

[29] دوسرے مذہب والوں کا ہدیہ قبول کر سکتے ہیں ۔
اس کے لئے یہ حدیث ہے ۔ عن علی عن النبی ﷺ ان کسری أھدی لہ فقبل و ان الملوک اھدوالیہ فقبل منہم ۔( ترمذی شریف ، کتاب السیر ، باب ما جاء فی قبول ہدایا المشرکین ، ص ۳۸۳، نمبر ۱۵۷۶)
ترجمہ….. حضور ﷺ سے مروی ہے کہ کسری نے آپ ؐ کو ہدیہ دیا تو آپ نے قبول فرمایا ، اور بادشاہوں نے بھی ہدیہ دیا تو آپ ؐنے قبول فرمایا ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ کسری جو کافر بادشاہ تھا اس نے حضور ؐ کو ہدیہ بھیجا تو حضور ؐ نے اس کو قبول کیا ، اس سے کافر کے ھدیہ کوقبول کرنے کا جواز نکلتا ہے۔

[30] دوسرے مذہب والوں کا برتن دھویا ہوا ہو
تو اس میں کھا سکتے ہیں۔
بہتر تو یہی ہے کہ اپنے برتن میں کھائیں، کیونکہ وہ لوگ ناپاک اور پاک کا احتیاط نہیں کرتے ، لیکن اگر برتن دھلا ہوا ہے ، اور یہ یقین ہے کہ اس میں ناپاکی کا اثر نہیں ہے تو اس برتن میں کھا سکتے ہیں

اس کے لئے حدیث یہ ہے ۔عن ابی ثعلبۃ الخشنی انہ قال یا رسول اللہ ﷺ انا بارض اہل الکتاب فنطبخ فی قدورہم و نشرب فی آنیتہم ؟ فقال رسول اللہ ﷺ ان تجدوا غیرھا فارحضوھا بالماء ۔ ( ترمذی شریف ، کتاب الاطعمۃ ، باب ما جاء فی اکل فی آنیۃ الکفار ، ص ۴۲۵، نمبر ۱۷۹۶)
ترجمہ….. حضرت ثعلبہؓ نے پوچھا کہ ، یا رسول اللہ ہم اہل کتاب کے شہروں میں رہتے ہیں ، تو کیا انکی ہانڈیوں میں پکا سکتے ہیں ، اور انکے برتنوں میں پانی پی سکتے ہیں ؟ ، تو آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی اور برتن نہ ملے تو ان برتنوں کو پانی سے دھو لیا کرو۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ کوئی اور برتن نہ ملے تو اہل کتاب کے برتن کو اچھی طرح پانی سے دھو لے پھر اس میں کھا سکتا ہے ۔

[31] غیر مسلم ملکوں میں مسلمانوں کو آپس میں بھی نہیں لڑنا چاہئے
اور کفر کا فتوی تو اتنی جلدی دینی ہی نہیں چاہئے

اس وقت کا عالم یہ ہے کہ مسلمان اپنے ہی قوم سے لڑ کر پورا پورا ملک برباد کر رہے ہیں ، عراق ،شام، لیبیا ، یمن ، مصر، افغانستان ، یہ سارے ممالک آپس میں ہی لڑ لڑ کر برباد ہو گئے ، جب کہ یور پ کے عیسائی ملکوں میں کوئی لڑائی نہیں ہے ، اور کبھی تھوڑا سا کچھ ہوتا ہے ، تو سب بیٹھ کر سلجھا لیتے ہیں ۔ یہ کیا عجیب بات ہے کہ یورپ امریکہ کے عیسائی ممالک میں کوئی لڑائی نہیں، اور کچھ ہوتا بھی ہے تو آپس میں بیٹھ کر سلجھا لیتے ہیں ، اور اسلامی ملکوں میں بے پناہ لڑئیاں ہیں ، اور کوئی بھی لڑائی سلجھنے کا نام نہیں لیتی ۔ الامان و الحفیظ ۔
میں نے کچھ کتابوں کو دیکھا کہ مسلمان میں ایک مسلک کے لوگوں نے دوسرے مسلک کی آدھی بات لی ، اور اس کو اپنے مطلب کے مطابق بنایا ، پھر اس کو کافر بنایا ، اور مرتد بنایا ، اور یہاں تک لکھ دیا کہ جو اس کو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے ، اس کے پیچھے نماز پڑھنا بھی جائز نہیں ، انکے یہاں نکاح کرنا بھی جائز نہیں ، اور اس سے اتنا انتشار ہوا کہ مسلمانوں کے درمیان قتل و غارت ہوئی اور دونوں طرف کے کتنے علماء ، اور عوام قتل ہو گئے ، حالانکہ جب اس مسلک والوں کا عقیدہ معلوم کیا گیا تو ایسا معلوم ہوا کہ ان کا عقیدہ بالکل قرآن اور حدیث کے مطابق ہے ، لیکن اس بزرگ نے آپس میں خلفشار پیدا کر دیا ۔
اس لئے غیر مسلم ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں سے دست بستہ عرض ہے کہ اتنی جلدی کسی مسلک کے خلاف کفر اور مرتد ہونے کا فتوی نہ دیں ، اور آپس میں بالکل نہ لڑیں ، ان ملکوں میں، ہیومن رائٹس، نافذ ہیں، جو اس بات سے منع کرتا ہے کہ کسی کے خلاف نفرت نہ پھیلائیں ، اور آپ تو دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے ہیں ، اس لئے اس قسم کی حرکت کرنے سے آپ کونکال دیں گے ، اور آپ کہیں کے نہیں رہیں گے ۔

ان آیتوں میں ہے کہ آپس میں بالکل نہیں لڑنا چاہئے
و اطیعوا اللہ و رسولہ و لا تنازعو فتفشلوا و تذہب ریحکم و اصبروا ان اللہ مع الصابرین۔ ( آیت ۴۶، سورت الانفال ۸)
ترجمہ….. اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ، اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم کمزور پڑ جاؤ گے ، اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی ، اور صبر سے کام لو ، یقین رکھو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
ثابت ہوا … اس آیت میں ہے کہ لڑو گے تو تمہاری ہو خراب ہو جائے گی ، اور تم انتہائی کمزور ہو جاؤگے ۔ ، یہ کیا عقلمندی ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر کفر کا فتوی لگا دیتے ہیں ، اور آپس میں نفرتیں پھیلا دیتے ہیں ۔
اس آیت میں ہے کہ کبھی آپس میں اختلاف ہو جائے تو قرآن اور حدیث کو سامنے رکھ کر صحیح فیصلہ کر لینا چاہئے ۔ فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ و الرسول ان کنتم تومنون باللہ و الیوم الآخر ذالک خیر و احسن تأویلا ۔ ( آیت ۵۹، سورت النساء ۴)
ترجمہ….. پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کر دو [ یعنی قرآن اور حدیث کو سامنے رکھ کر فیصلہ کر لو ] یہی طریقہ بہترین ہے ، اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے ۔
ثابت ہوا … یہاں کی حکومت سب کو مسلمان مانتی ہے ، اس لئے اگر آپس میں لڑے تو ہماری کچھ حیثیت نہیں رہے گی ، اور ہم کوئی مطالبہ کریں گے تو چونکہ وہ اجتماعی نہیں ہو گا اس لئے اس کا کوئی وزن نہیں رہے گا ، اور ہم اپنا مطالبہ منوانے میں ناکام ہو جائیں گے
شام میں ابھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے لڑے ، اور دنوں مسلک والوں نے اپنے مکان اور جائداد برباد کر لئے ۔کسی کو کچھ نہیں ملا۔
یوں بھی جب غیر مسلم دیکھیں گے کہ یہ آپس میں الجھے ہوئے ہیں تو وہ بھی بد ظن ہو جائیں گے ، اور اسلام قبول کرنے کی طرف راغب نہیں ہوں گے ۔

[32 ] ان ملکوں میں آپس میں بد ظنی پیدا نہ کریں
اور غیبت بھی نہ کریں
مجلسوں میں بیٹھ کر دوسرے مسلک کے خلاف زہر اگلنا ، اور بغیر تحقیق کے بات کرنا ، بدظنی اور غیبت نہیں ہے تو اور کیا ہے ، اس لئے ان چیزوں سے ان ممالک میں احتیاط کرنی چاہئے ، ہاں سمجھانے کے لئے کوئی تحقیقی بات ہو تو سنجیدگی کے ساتھ سمجھائیں ۔
اس آیت میں ہے ۔ یایھاالذین آمنوا اجتنبوا کثرا من الظن ان بعض الظن اثم ، و لا تجسسوا و لا یغتب بعضکم بعضا أیحب احدکم ان یاکل لحم اخیہ میتا فکرہتموہ و اتقوا اللہ ان اللہ تواب رحیم ۔ ( آیت ۱۲، سورت الحجرات ۴۹)
ترجمہ….. آئے ایمان والو بہت سے گمانوں سے بچو ، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ، اور کسی کی ٹوہ میں نہ لگو ، اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو ، کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ، اس سے تم خود نفرت کرتے ہو ، اور اللہ سے ڈرو ، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ، بہت مہربان ہے
ثابت ہوا … اس آیت میں ہے کہ ایک دوسرے کی غیبت نہیں کرنی چاہئے ۔ غیبت کرنا گویا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا ہے ۔
عن ابی ہریرۃ انہ قیل یا رسول اللہ ! ما الغیبۃ ؟ قال ذکرک اخاک بما یکرہ قیل أفرأیت ان کان فی اخی ما اقول ؟ قال فان کان فیہ ما تقول فقد اغتبتہ و ان لم یکن فیہ ما تقول فقد بھتہ ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب الادب ، باب فی الغیبۃ ، ص ۶۸۸، نمبر ۴۸۷۴)
ترجمہ….. پوچھا گیا یا رسول اللہ ! غیبت کیا ہے ، آپ نے فرمایا کہ تمہارا بھائی کسی بات کو ناپسند کرتا ہو اس کا ذکر کرنا غیبت ہے ،پھر پوچھا ہمارے بھائی میں وہ بات موجود ہے اس کا ذکرنا بھی غیبت ہے ؟ حضور نے فرمایا کہ جو بات تم کہہ رہے ہو وہ بھائی میں موجود ہو تب ہی تو وہ غیبت ہے ، اور اگر وہ بات اس میں نہیں ہے ، تو اس کا ذکر کرنا بہتان ہے ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ ایسی بات کریں جو سامنے والے کو نا پسند ہو حالانکہ وہ بات اس میں موجود ہو تب بھی وہ غیبت ہے ، اور وہ حرام ہے ، اور اگر اس میں وہ خامی نہ ہو اس کے باوجود کہیں تو یہ بہتان ہے جو غیبت سے بھی زیادہ سخت ہے ۔ اب ہم اپنی مجلسوں کو دیکھیں کہ دوسرے مسلک والوں کی ہم کتنی غیبت کرتے ہیں ، اورہم سمجھتے ہیں کہ ہم دین کی خدمت کرتے ہیں

[33] اگر شریعت کے خلاف نہ ہو
تو چھوٹی چھوٹی باتوں کو معاف کر دیا کریں
قرآن تو بار بار یہ ترغیب دیتا ہے کہ درگزر کر دیا کرو ، اور معاف کر دیا کرو، اور ہم ہیں کہ آپس ہی میں لڑتے رہیں ، اور چھوٹے چھوٹے مسئلے پر الجھتے رہیں تو اس ملک میں ہماری حیثیت کیا رہ جائے گی ۔
ان آیتوں میں معاف کرنے کا ذکر ہے ۔ و ان تعفوا و تصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیم ۔ ( آیت ۱۴، سورت التغابن ۶۴)
ترجمہ….. اور اگر تم معاف کر دو ، اور در گذر کردو ، اور بخش دو تو اللہ بہت بخشنے والا ،بہت مہربان ہے ۔
و لیعفوا و لیصفحواالا تحبون ان یغفر اللہ لکم و اللہ غفور رحیم ۔ ( آیت ۲۲، سورت النور ۲۴)
ترجمہ….. اور انہیں چاہئے کہ معافی اور در گذر سے کام لیں ، کیاتمہیں یہ پسند نہیں ہے اللہ تمہاری خطائیں بخش دے ، اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے ۔
ثابت ہوا … ان آیتوں میں ہے کہ دوسروں کو معاف کیا کرو تو اللہ تمہیں بھی معاف کرے گا۔
اس لئے ان ملکوں میں ایک دوسرے کو معاف کرنے کا کام کریں تو اجتماعیت باقی رہے گی ، اور اور سب مل کر کوئی بات کہیں گے تو وہ بات سنی جائے گی اور خود بھی آرام اور سکون کی زندگی گزاریں گے ، اختلاف کے ساتھ بات کہیں گے تو آپ کی بات کیا سنی جائے گی ۔
ان باتوں کا بہت خیال رکھیں ۔
[34] اسلامی حکومت ہو تب بھی غیر مسلم کے دین
کی حفاظت ضروری ہے

شریعت کا یہ قانون ہے کہ اگر اسلامی حکومت میں غیر مسلم ذمی رہتے ہوں تو
(۱) ان کے دین کی حفاظت کرنا واجب ہے ۔
(۲) ان کے مال کی حفاظت کرنا واجب ہے ۔
(۳) انکی جان کی حفاظت کرنا واجب ہے ۔
(۴) انکی عزت کی حفاطت کرنا واجب ہے
(۵) انکے چرچوں کی حفاظت کرنا مسلمانوں کے ذمے واجب ہے
بلکہ ضرورت پڑے گی تو اس کی حفاظت کے لئے مسلمانوں کو قتال بھی کرنا پڑے گا ۔
اس لئے اگر آپ غیر مسلم ملکوں میں امن لیکر رہتے ہیں تب تو اور بھی وہاں کے رہنے والوں کی جان ، مال ، عزت ، اور مذہب کی حفاظت کرنا ضروری ہے ، اگر ایسا نہیں کرتے تو آپ شریعت کی نگاہ میں خائن اور گناہ گار ہیں ۔
اس کے لئے حدیث یہ ہے
۔عن ابن عباس قال صالح رسول اللہ ﷺ اہل نجران علی الفی حلۃ ۔۔۔۔علی ان لا تھدم لھم بیعۃ و لا یخرج لھم قس ، و لا یفتنوا عن دینھم ما لم یحدثوا حدثا، او یأکلوا الربا ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب الخراج ، باب فی اخذ الجزیۃ ، ص ۴۴۵، نمبر ۳۰۴۱)
ترجمہ : حضور ﷺ نے نجران والوں سے دو سو حلے پر صلح کی ۔۔۔اس شرط پر کہ ان کا کوئی گرجا نہیں گرایا جائے گا ، ان کا کوئی پادری نکالا نہیں جائے گا ، دین اور مذہب کی وجہ سے کوئی تکلیف نہیں دی جائے گی جب تک کہ وہ کوئی نئی بات نہ پیدا کریں ، یا سود نہ کھائیں

اس کے لئے حضور ؐ کا یہ عہد نامہ ہے جو اہل نجران کے عیسائی کو آپ نے لکھ کر دیا تھا
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔
ہذا ما کتب محمد النبی ﷺ لاہل نجران اذا کان علیہم حکمہ …….و لنجران و حاشیتھا جوار اللہ و ذمۃ محمد النبی رسول اللہ علی اموالہم و انفسہم و ارضہم و ملتہم و غائبہم و شاہدہم و عشیرتہم و بیعہم و کل ما تحت ایدیہم من قلیل و کثیر ، لا یغیر اسقف من اسقفیتہ و لا راہب من رہبانیتہ و لا کاہن من کہانتہ ، لیس علیہم دنیۃ و لا دم جاہلیۃ و لا یخسرون و لا یعیرون و لا یطأ ارضہم جیش، و من سأل منہم حقا فبینہم النصف غیر ظالمین و لا مظلومین ….و علی ما فی ھذا الکتاب جوار اللہ و ذمۃ محمد رسولہ ابدا حتی یاتی اللہ بامرہ ۔ ( کتاب الخراج لابی یوسف ، قصۃ نجران و اہلہا ، ص ۷۲ )
ترجمہ….. یہ وہ خط جس کو حضور ؐ نے نجران والوں کو لکھ کر دیا ہے ، جب نجران پر حکومت ہو تو ……..نجران اور انکی اتباع کرنے والوں کے لئے اللہ کی پناہ ہے ، اور رسول اللہ ﷺ کے اوپر حفاظت کی ذمہ داری ہے ، انکے مال کی ، انکی جان کی ، انکی زمین کی ، انکے مذہب کی ، جو غائب ہیں ان کی بھی اور جو ابھی موجود ہیں ان کی بھی ، ان کے خاندان کی ، انکے گرجا گھروں کی ، اور انکے قبضے میں جو بھی ہیں تھوڑے ، یا زیادہ ، ان سب کی حفاظت کی ذمہ داری ہے ، نہ ان کا کوئی بشپ اس کو بدل سکتا ہے ، اور نہ ان کا کوئی راہب بدل سکتا ہے ، اور نہ کوئی کاہن بدل سکتا ہے ، ، ان لوگوں پر کوئی ذلت نہیں ہے ، اور نہ ان پر زمانہ اہلیت کے خون کا بدلہ ہے ، اور نہ انکو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے ، اور نہ انکو کوئی عار دلا سکتا ہے ، اور نہ ان کی زمین پر کوئی فوج کشی ہو گی ، اگر یہ لوگ کوئی حق مانگے تو ان کو آدھا دیا جائے گا ، نہ ان کو ظلم کرنے دیا جائے گا ، اور نہ یہ مظلوم ہوں گے …. اور اسی تحریر پر اللہ کا پناہ ہے اور انکے رسول محمد ﷺ کا ہمیشہ کا ذمہ ہے جب تک کہ قیامت نہ آجائے ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ اہل نجران جو عیسائی تھے ان کی جان ، ان کا مال ، ان کا دین سب محفوظ رہیں گے بلکہ نہ انکو عار دلائی جائے گی ۔ اور نہ انکو کوئی نقصان دیں گے ، اور اس عہد کو نہ کوئی راہب بدل سکے گا ، اور نہ کوئی کاہن بدل سکے گا ، یہ عہد قیامت تک رہے گا۔

[35] اسلامی حکومت میں بھی چرچ نہیں ڈھایا جائے گا
اسلامی حکومت ہو تب بھی عیسائیوں کے چرچوں، یہودیوں کے سنیگوگ ، اور ہندؤوں کے مندر نہیں ڈھائے جائیں گے ، کیونکہ شریعت نے ان کے مندر اور گرجا گھر کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے ، اس لئے اگر آپ غیر مسلم ملک میں رہتے ہیں تو بدرجہ اولی ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کا حق نہیں ہو گا ۔
یہ جو درگاہوں پر اور چرچوں پر بم پھینکتے ہیں یہ بالکل حرام ہے
اس عمل صحابی میں اس کا ثبوت ہے ۔ ثم مضی الی بلاد قرقیسیاء…. اعطاہم مثل ما عطای اہل عانات علی ان لا یہدم لہم بیعۃ و لا کنیسۃ ، و علی ان یضربوا لہم نو اقیسہم الا فی اوقات الصلوات ، و یخرجو ا صلبانہم فی یوم عید ہم فاعطاہم ذالک ، و کتب بینہ و بینہم الکتاب …..، و ترکت البیع و الکنائس لم یہدم لما جری من الصلح بین المسلمین و اہل الذمۃ ، و لم یرد ذالک الصلح علی خالد ابو بکر و لا ردہ بعد ابی بکر ، و عمر ، و لا عثمان ، و لا علی رضی اللہ عنہم ( کتاب الخراج لامام ابی یوسف ، فصل فی الکنائس و البیع و الصلبان ، ص ۱۴۷)
ترجمہ….. کتاب الخراج، ص ۱۴۷ : پھر یہ فوج قرقیساء شہر کی طرف گئی …..ان کووہی حقوق دئے جو عانات والوں کو دئے ، کہ ان کا گرجا گھر منہدم نہیں کیا جائے گا ، یہودیوں کی عبادت گاہ منہدم نہیں کی جائے گی، نماز کے اوقات کے علاوہ وہ گرجے کی گھنٹی بجا سکے گا ، اور وہ اپنی عید کے دن اپنے صلیب کو نکالیں گے ، یہ سب حقوق انکو دئے گئے ، اس بات پر انکے درمیان اور خلیفہ کے درمیان تحریر لکھی گئی ….اس تحریر کی وجہ سے گرجے اور کنیسہ منہدم نہیں کئے گئے ، اس لئے کہ مسلمانوں اور ذمیوں کے درمیان اس بات پر صلح ہو گئی تھی ، حضرت خالدؓ نے جو صلح کی تھی اس کو حضرت ابو بکر ؓ نے رد نہیں کیا ، اور حضرت ابو بکر ؓ کے بعد حضرت عمر ، حضرت عثمان ، اور حضرت علی ؓ نے بھی رد نہیں کیا ۔
ثابت ہوا … اس صلح نامہ میں ہے کہ غیر مسلموں کے گرجا گھرگرائے نہیں جائیں گے ، اور وہ نماز کے علاوہ کے وقت میں اپنے ناقوس کو بجائیں گے ، اس پر حضرت ابو بکرؓ ،حضرت عمرؓ ، اور حضرت عثمانؓ ، اور حضرت علیؓ کا اتفاق ہے ۔ اور یہ قیامت تک رہے گا ۔

[36] سڑکوں اور شہریوں پر جو بم پھینکتے ہیں
، یہ جہاد نہیں کھلی دہشت گردی ہے ۔
غیر مسلم کی اتنی رعایت کی گئی ہے کہ میدان جنگ ہو اور اس میں عورت ، بچے ، بوڑھے، مزدور ، کاشتکار ، تاجر آجائیں تب بھی انکو قتل کرنا جائز نہیں ہے، صرف ان جوانوں کو قتل کر سکتے ہیں جو میدان جنگ میں آپ سے لڑنے آئے ہوں ۔اس لئے گلیوں اور سڑکوں ، سینما گھر ، شراب خانے ، اور درگاہ پربم پھینک کر عام شہریوں کو قتل کرنا ، اور اس کو خوف و ہراس میں مبتلاء کرنا کیسے جائز ہو گا ، ، اسلام اس کی کبھی اجازت نہیں دیتا ، یہ دین کی خدمت نہیں ہے یہ کھلی ہوئی دہشت گردی ہے

[37] میدان جنگ میں بھی
آٹھ قسم کے لوگوں کو قتل کرنا حرام ہے

نیچے کی حدیث میں ہے کہ ان آٹھ قسم کے لوگوں کو قتل کرنا سختی سے منع کیا ہے ۔
(۱) عورت
(۲)بچہ
(۳) بوڑھا
(۴) مزدور
(۵) کاشتکار
(۶) تاجر
(۷) چرچوں میں رہنے والے پادری
(۸) چرچوں میں رہنے والے لوگ

(۱) پہلا۔ عورتوں کو قتل کرنا حرام ہے
(۲) دوسرا۔بچوں کو قتل کرنا حرام ہے

عورت اور بچے میدان جنگ میں بھی ہوں تو ان کو قتل کرنا حرام اور ناجائز ہے
اس کے لئے یہ حدیث ہے ۔ عن ابن عمر قال وجدت امرأۃ مقتولۃ فی بعض مغازی رسول اللہ ﷺ فنہی رسول اللہ ﷺ عن قتل النساء و الصبیان ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الجہاد و السیر ، باب قتل النساء فی الحرب ، ص ۴۹۸، نمبر ۳۰۱۵)
ترجمہ….. حضرت عبد اللہ بن عمر نے فرمایا کہ حضور ؐ کے بعض غزوے میں عورت مقتول پائی گئی ، تو حضور ؐ نے عورت اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ میدان جنگ میں بھی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے حضور ؐ نے منع فرمایا

(۳) میدان جنگ میں بھی غیر مسلم بوڑھوں کو قتل کرناحرام ہے۔
اس کے لئے یہ حدیث ہے ۔حدثنی انس بن مالک ان رسول اللہ ﷺ قال انطلقوا باسم اللہ و با للہ و علی ملۃ رسول اللہ و لا تقتلوا شیخا فانیا و لا طفلا و لا صغیرا و لا امرأۃ و لا تغلوا ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب الجہاد ، باب فی دعاء المشرکین ، ص ۳۷۸، نمبر ۲۶۱۴)
ترجمہ….. حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں ، کہ حضور ؐ نے فرمایا کہ اللہ کے نام پراور رسول اللہ کی ملت پر جاؤ ، اور بہت بوڑھے کو ، اور بچے کو ، اور چھوٹے کو ، اور عورت کو قتل مت کرنا ، اور مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ بوڑھے اور بچے اور عورت کو بھی قتل مت کرو۔

(۴) چوتھا۔ میدان جنگ میں بھی غیر مسلممزدوروں کو قتل کرنا حرام ہے ۔
عن جدہ رباح بن ربیع قال کنا مع رسول اللہ ﷺفی غزوۃ… ، قل لخالد لا تقتلن امرأۃ و لا عسیفا ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب الجہاد ، باب فیقتل النساء ، ص ۳۸۶، نمبر۲۶۶۹)
ترجمہ….. ہم حضور ؐ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے …..آپ نے فرمایا کہ حضرت خالد ؓ سے کہو کہ عورت اور مزدور کو قتل نہ کریں ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ عورت اور مزدوروں کو بھی قتل مت کرو۔

(۵)پانچواں۔ میدان جنگ میں بھی غیرمسلم کاشتکاروں کو قتل کرناحرام ہے
اس قول صحابی میں ہے ۔عن عمر بن الخطاب ؓ قال اتقوا اللہ فی الفلاحین فلا تقتلوا ہم الا ان ینصبوالکم الحرب ۔ ( سنن بیہقی ، باب ترک قتل من لا قتال فیہ ، ج ۹، ص ۱۵۵، نمبر ۱۸۱۵۹ ؍ مصنف ابن ابی شیبۃ ، باب من ینہی ن قتلہ فی دار الحرب ، ج ۶، ص ۴۸۳، نمبر ۳۳۱۲۰)
ترجمہ….. حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ کاشتکاروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اس لئے انکو قتل مت کرو ، جب تک کہ وہ تم سے لڑنے نہ لگیں
ثابت ہوا … اس قول صحابی میں ہے کہ غیر مسلم کاشتکار کو قتل نہیں کرنا چاہئے ۔

(۶) چھٹا۔میدان جنگ میں بھیغیر مسلم تاجروں کو قتل کرنا حرام ہے
اس صحابی کے قول میں ہے۔ عن جابر بن عبد اللہ قال کانوا لا یقتلون تجار المشرکین ۔ ( مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب السیر ، باب من ینہی عن قتلہ فی دار الحرب ، ج ۶، ص ۴۸۸، نمبر۲۰ ۳۳۱)
ترجمہ….. حضرت جابر بن عبد اللہ فرماتے تھے کہ صحابہ ؓ مشرکین کے تاجروں کو قتل نہیں کرتے تھے ۔
ثابت ہوا … اس قول صحابی میں ہے کہ مشرکین کے تاجروں کو قتل نہیں کیا جائے گا

(۷) ساتواں۔پادریوں کو قتل کرنا حرام ہے۔
قام ابو بکر فی الناس فحمد اللہ و اثنی علیہ ثم قال الا لا یقتل الراہب فی الصومعۃ ۔ ( مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب السیر ، باب من ینہی عن قتلہ فی دار الحرب ، ج ۶، ص۴۸۷، نمبر۳۳۱۱۷)
ترجمہ….. حضرت ابو بکر ؓ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد ثنا کی پھر فرمایا ، سنو جو پادری اپنے چرچوں میں ہیں ان کو قتل نہ کرنا ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ گرجا گھروں میں جو پادری رہتے ہیں ان کو بھی قتل نہیں کیا جائے گا ۔
(۸) آٹھواں۔ چرچوں میں رہنے والے خادموں کو قتل کرنا حرام ہے
اس حدیث میں ہے ۔ عن ابن عباس ان النبی ﷺ کان اذا بعث جیوشہ قال لا تقتلوا اصحاب الصوامع ۔ ( مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب السیر ، باب من ینہی عن قتلہ فی دار الحرب ، ج ۶، ص ۴۸۸، نمبر ۲۲ ۳۳۱)
ترجمہ….. حضور ﷺ جب لشکر بھیجتے تو فرماتے کہ چرچوں میں جو لوگ رہتے ہیں انکو بھی قتل نہ کرنا ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ جو حضرات چرچوں میں رہتے ہیں، چاہے وہ پادری ہوں ، یا چرچ کے خادم ہوں ان کو بھی قتل کرنا جائز نہیں ہے ۔
ان آٹھ قسم کے لوگوں کو میدان جنگ میں بھی قتل کرنا جائز نہیں ہے ۔ہاں یہ لوگ باضابطہ قتل کرنے آجائیں تو اب ان کو قتل کیا جا سکتا ہے
اب صرف وہی لوگ رہ گئے جو نوجوان ہو اور میدان جنگ میں آپ سے قتال کر رہے ہیں صرف انکو قتل کر سکتے ہیں ، عام شہریوں کو ہر گز نہیں ۔

(۹) نویں بات۔ صرف انہیں لوگوں کو قتل کر سکتے ہیں
جو آپ سے قتال کر رہے ہیں
اوپر کے آٹھ قسم کے آدمیوں کو قتل کرنا جائز نہیں ہے ، تو اس کا مطلب یہ نکلا کہ جو نوجوان میدان جنگ میں آپ سے قتال کر رہے ہیں صرف انہیں کو قتل کر سکتے ہیں ، باقی لوگوں کو نہیں ۔
اس لئے یہ جو گلیوں دکانوں ، بسوں اور شہریوں میں بم پھینک کر عام شہریوں کو قتل کر دیتے ہیں ، اور پورے ملک میں خوف و ہراس پھیلا دیتے ہیں یہ بالکل جائز نہیں ہے اور یہ جہاد نہیں ہے ، دہشت گردی ہے ، اور اس میں قتل ہونے سے اس کو شہادت کا درجہ نہیں ملے گا۔
اس آیت میں اس کا ثبوت ہے ۔و قاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم و لا تعتدو ان اللہ لا یحب المعتدین ۔ ( آیت ۱۹۰، سورت البقرۃ ۲ )
ترجمہ….. اور ان لوگوں سے اللہ کے راستے میں جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں ، اور زیادتی نہ کرو ، یقین جانو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
ثابت ہوا … اس آیت میں ہے کہ جو تم سے جنگ کرتے ہیں تم صرف اسی کو قتل کرو
من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض فکأنما قتل الناس جمیعا و من احیاھا فکأنما أحیا الناس جمیعا ( آیت ۳۲، سورت المائدۃ ۵)
ترجمہ….. جو کوئی کسی کو قتل کرے جبکہ یہ قتل کسی اور کے جان کا بدلہ لینے کے لئے نہ ہو ، اور نہ کسی کے زمین فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو ، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا ۔ اور جو شخص کسی کی جان بچا لے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچا لی ۔
ثابت ہوا … اس آیت میں ہے کہ بلا وجہ کسی ایک کو قتل کیا توگویا کہ اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا ، یہ نا حق قتل اتنا بڑا گناہ ہے
یہ جو جہاد کے نام پرلوگوں کوسڑکوں ، اور بازاروں میں ناحق ما ر رہے ہیں یہ کتنا بڑا گناہ ہے ،

[38] عام شہریوں کو بم مار کر قتل کرنا
بالکل دہشت گردی ہے ، جو حرام ہے
اوپر کی باتوں سے یہ ثابت ہو گیا کہ سڑکوں ، اور دکانوں میں عام شہریوں کو بم مار کر قتل کرنا ، یہ جہاد نہیں ہے ، اور نہ اسلام میں اس کی اجازت ہے ، بلکہ یہ پورے طور پر دہشت گردی ہے، اسلام ہر ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتا ۔
اس سے پورا ملک خوف و ہراس میں مبتلاء ہو جاتا ہے ، اور جس طرح غیر مسلم کے لئے باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے ، ٹھیک اسی طرح مسلمانوں کے لئے بھی گھر سے باہر نکلنا مشکل ہو جاتا ہے، بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ مصائب اور پریشانیوں میں مبتلاء ہو جاتے ہیں ، اس سے نفرتیں بڑھتی ہیں ، اور فائدے کے بجائے پورے ملک کا نقصان ہو جاتا ہے ، اس لئے شریعت میں یہ حرام اور ناجائز ہے ، تمام مسلمانوں کو اور خاص طور پر نوجوانوں کو اس سے بچنا چاہئے ۔

[39] غیر مسلم ذمی کی حفاظت کے لئے جنگ کرنی پڑے
تو وہ بھی کی جائے گی
غیر مسلم اسلا می حکومت میں ذمی بن کر رہ رہے ہوں تو حکومت کی پوری ذمہ داری ہے کہ اس کی حفاظت کرے ، اور اس کی حفاظت کے لئے اسلامی فوج کو لڑنا پڑے تو اس کے لئے فوج بھی لڑے گی ۔
جب مسلم ملک میں غیرمسلموں کی اتنی رعایت ہے تو اگر آپ غیر مسلم ملکوں میں پناہ لیکر رہ رہے ہیں تو آپ کی کتنی ذمہ داری ہے کہ آپ اس کی جان اور مال کی حفاظت کریں ۔
اس کے لئے حدیث یہ ہے ۔ققال رأیت عمر بن الخطاب ……و اوصیہ بذمۃ اللہ و ذمۃ رسولہ ان یوفی لہم بعہدہم و ان یقاتل من وراۂم و ان لا یکلفوا فوق طاقتہم ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی قبر النبی ﷺ و ابی بکر و عمرؓ ، ص ۲۲۴، نمبر ۱۳۹۲)
ترجمہ…. حضرت عمرؓ نے فرمایا …..اللہ کے ذمہ اور رسول ﷺ کے ذمے کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ذمیوں کے عہد کو پورا کریں ، اور ان کی حفاظت کے لئے جنگ کریں ، اور ان کی طاقت سے زیادہ انکو کام نہ دیں
ثابت ہوا .. اس حدیث میں ہے کہ غیر مسلم ذمی ہو تو انکی حفاظت کے لئے جنگ بھی کی جا سکتی ہے

[40] اگر جنگ سے مزید فتنہ ہوتا ہو
تو ہر گز وہ جنگ جائز نہیں ہے
جہاد دین پھیلانے کے لئے ایک اہم عبادت ہے ، اس کو عبادت کی طرح ہی انجام دینا چاہئے ، اور اس کی شرائط کی پوری پابندی کرنی چاہئے ، ورنہ وہ ایک فساد کا کام بن کر رہ جائے گا ، اور اسلام بدنام ہو جائے گا ۔ اور دیار غیر میں مسلمانوں کو رہنا مشکل ہو جائے گا ۔ اس کا خیال رکھیں ۔
و قاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ و یکون الدین للہ فان انتہوا فلا عدوان الا علی الظالمین ( آیت ۱۹۳، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ….. اور تم ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے ، اور دین اللہ کا ہو جائے ، پھر اگر وہ باز آجائیں [ تو سمجھ لو ] کہ ظالموں کے سوا ئے کسی اور پر تشدد نہیں ہو نا چاہئے ۔
ثابت ہوا … اس آیت میں ہے جنگ اس لئے کرو کہ زمین میں فتنہ نہ ہو جائے ، لیکن اگر آپ کی جنگ کرنے سے الٹافتنہ ہوتا ہو ، تو ایسی جنگ ہر گز نہ کی جائے ، اس کا پورا خیال رکھیں ۔
اس دور میں دوسروں کے ملکوں میں دو چار بم پھینک دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میں نے خیر کا کام کر لیا ، اس سے پورے ملک کے مسلمان پریشان ہو جاتے ہیں ، اور وہ ملک والے باقی مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکالنے کے منصوبے بنانے لگتے ہیں ، اس لئے گلیوں اور سڑکوں پر بم دھماکہ کرنے سے بچنا چاہئے ، اور جو لوگ اس قسم کی حرکت کرے ان کو پوری طرح روکنا چاہئے ۔

(41 ) غیر مسلم کے اموال کو بھی نا حق لینا ، یا کھانا جائز نہیں ہے
جس طرح غیر مسلم کا نا حق قتل کرنا حرام ہے اسی طرح ناحق اس کا مال لینا بھی حرام ہے ، اسی طرح ان کی کھیتی کو ، درختوں کو ، یا جانوروں کو نقصان پہنچانا بھی اسلام میں ناجائز ، اور حرام ہے
اس حدیث میں اس کا ثبوت ہے ۔ان خالد بن ولید قال غزوت مع رسول اللہ خیبر فاتت الیہود فشکوا ان الناس قد اسرعوا الی حظائرہم فقال رسول اللہ ﷺ الا لا تحل اموال المعاہدین الا بحقہا ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب الاطعمۃ ، باب ما جاء فی اکل السباع ، ص ۵۴۳، نمبر ۳۸۰۶)
ترجمہ….. خیبر میں حضور ؐ کے ساتھ ہم غزوہ کر رہے تھے ، تو یہودی شکایت کرنے آئے کہ آپ کے لوگ ہمارے باڑے میں آگئے ہیں ، تو حضور ؐ نے فرمایا کہ ، سن لو کہ جن لوگوں کا معاہدہ ہے ، ان کا مال حلال نہیں ہے ، مگر جتنا حق ہے اتنا ہی ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ جن سے عہد ہے ، ان کا مال حلال نہیں ہے ، ہاں جتنا آپ کا جائز حق ہے صرف اتنا حلال ہے ۔

[42 ]غیر مسلم کے مال کو نقصان کرنا بھی ناجائز ہے
جس طرح غیرمسلم کے مال کو ناجائز طور پر کھانا حرام ہے اسی طرح اس کے مال کو ناحق نقصان کرنا بھی جائز نہیں ہے ۔ اس قول صحابی میں اس کا ثبوت ہے ۔
حضرت ابو بکرؓ کے اس قول میں غیر مسلم کی دس چیزوں کو برباد کرنا حرام بتایا ہے ۔حدثت ان ابا بکر بعث جیوشا الی الشام….فقال انی اوصیکم بعشر : لا تقتلن صبیا و لا امرأۃ و لا کبیرا ھرما و لا تقطعن شجرا مثمرا و لا تخرجن عامرا و لا تعقرن شاۃ و لا بعیرا الا للماکلۃ و لا تغرقن نخلا و لا تحرقنہ و لا تغلل و لا تجبن ۔( مصنف ابن ابی شیبۃ ، کتاب الیسر ، باب من ینھی عن قتلہ فی دار الحرب ، ج ۶، ص ۴۸۷، نمبر ۳۳۱۱۰)
ترجمہ….. حضرت ابو بکر نے لشکر شام بھیجتے وقت کہا ، میں تم لوگوں کو دس چیزوں کی وصیت کرتا ہوں ۔ [۱] کسی بچے کو قتل نہ کرنا ۔ [۲] عورت کو قتل نہ کرنا ۔ [۳] کسی بوڑھے کو قتل نہ کرنا ۔ [۴] پھل دار درخت کو نہیں کاٹنا ۔ [۵] کسی آباد شدہ لوگوں کو نہیں نکالنا ۔ [۶] بکری اور اونٹ کے پیروں کو نہیں کاٹنا ، ہاں کھانے کے لئے ذبح کر سکتے ہو ۔ [۷]کھجور کے درختوں کو پانی میں نہ ڈبونا [۸]، اور نہ اس کو جلانا ۔[۹] امانت میں خیانت نہ کرنا ۔ [۱۰] اور میدان جنگ میں بزدلی نہ کرنا ۔
ثابت ہوا … اس قول صحابی میں دس چیزوں کو قتل کرنے اور برباد کرنے سے منع کیا ہے
حضرت ابو بکرؓ کے اس قول میں بھی غیر مسلم کی دس چیزوں کو برباد کرنا حرام بتایا ہے۔ ان ابا بکر الصدیق بعث الجیوش الی الشام ….؛.انی موصیک بعشر : لا تقتلن امرأۃ و لا صبیا و لا کبیرا ، و لا تعقرن نخلا ، و لا تحرقنھا ، و لا تجبن و لا تغلل ، الذین فحصوا عن رؤسہم الشمامۃ ، و الذین حبسوا انفسہم الذین فی الصوامع ۔ ( مصنف عبد الرزاق، کتاب الجہاد ، باب عقر الشجرۃ بارض العدو، ص ۱۳۶، نمبر ۹۴۳۸)
ترجمہ.. حضرت ابو بکر ؓ نے شام کی طرف لشکر بھیجتے ہوئے فرمایا کہ ….میں تمہیں دس باتوں کی نصیحت کرتا ہوں
[۱] عورتوں کو قتل نہیں کرنا ۔ [۲] بچوں کو قتل نہیں کرنا ۔ [۳] بوڑھوں کو قتل نہیں کرنا ۔ [۴] درختوں کو نہیں کاٹنا [۵] نہ اس کو جلانا ۔ [۶] میدان جنگ میں بز دل نہ ہوجانا ۔ [۷] امانت میں خیانت نہ کرنا ۔ [۸] جن لوگوں نے اپنے سروں سے چوٹی اتار لی ہے ، [۹] اور جن لوگوں نے اپنے آپ کو چرچوں میں بند کر لیا ہے انکو قتل مت کرنا ۔
ثابت ہوا … اس حدیث میں ہے کہ غیر مسلم کے درختوں کو بھی نہیں کاٹا جائے گا ۔
یہ ساری پابندی اس وقت ہے جب دار الاسلام میں ہو ، یا جنگ کے میدان میں ہو ، لیکن اگر آپ خود عیساؤں اور ہندؤوں کے ملک میں رہتے ہیں تب تو آپ کو اور بھی ان لوگوں کو ستانے سے پرہیز کرنا چاہئے ۔
[43] غیر مسلم ذمی کو بھی بیت المال سے وظیفہ دیا جائے گا
حضرت عمرؓ نے غیر مسلم کو یہاں تک حق دیا کہ جس طرح مسلمانوں کو بیت المال سے وظیفہ دیاجاتا تھا اسی طرح غیر مسلم ذمی کو بھی بیت المال سے وظیفہ دیا جاتا تھا ۔
اس دور میں بھی اگر اسلامی حکومت ہو تو جس طرح مسلمانوں کو بیت المال سے وظیفہ دیا جاتا ہے ، غیر مسلم معذور ، اور بوڑھوں کو بھی بیت المال سے وظیفہ دیا جائے گا ۔
اس کے لئے حضرت عمرؓ کا قول یہ ہے ۔
قال مر عمر بن الخطابؓ بباب قوم و علیہ سائل یسئل شئخ کبیر ضریر البصر فضرب عضدہ من خلفہ و قال من ای اہل الکتاب انت ؟ فقال یہودی قال فما الجأک الی ما اری ؟ قال اسأل الجزیۃ و الحاجۃ و السن ، قال فاخذ عمر بیدہ و ذہب بہ الی منزلہ فرضخ لہ بشیء من المنزل ثم ارسل الی خازن بیت المال فقال انظر ھذ و ضرباۂ فواللہ ما انصفناہ ان اکلنا شبیبتہ ثم نخذلہ عند الہرم ، انما الصدقات للفقراء و المساکین ، و الفقراء ہم المسلمون و ہذا من المساکین من اہل الکتاب ، و وضع عنہ الجزیۃ و عن ضربایہ ۔ ( کتاب الخراج لابی یوسفؒ ، فصل فیمن تجب علیہ الجزیۃ ، ص ۱۲۶)
ترجمہ….. حضرت عمر ایک قوم کے دروازے کے سامنے سے گزرے ، وہاں ایک نابینا بوڑھا مانگ رہا تھا ، حضرت عمرؓ نے پیچھے سے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا ، اور پوچھا کہ تم کون سے اہل کتاب ہو ؟ اس نے کہا یہودی ، پھر پوچھا کہ میں تمکو مانگتے دیکھ رہا ہوں ، ایسی کیا مجبوری ہو گئی؟ کہا جزیہ دینے کے لئے پیسے مانگ رہا ہوں ، اور کچھ ضرورت بھی ہے ، اور عمر بھی ہو گئی ہے ، راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے اس کا ہاتھ پکڑا ، اور اپنے گھر لے گئے ، اور اپنے گھر سے کچھ دیا ،پھر بیت المال کے خزانچی کے پاس بھیجا اور کہا کہ اس قسم کے لوگوں کا خیال رکھو ، یہ انصاف نہیں ہے کہ اس کی جوانی کے وقت تو اس سے جزیہ کی رقم کھائیں ، اور بوڑھاپے میں اس کو ذلیل کر دیں ، پھر(( انما الصدقات للفقراء و المساکین)) [ آیت ] پڑھی ، اور فرمایا کہ آیت میں فقراء سے مراد مسلمان ہیں ، اور مساکین سے مراد اہل کتاب کے مسکین ہیں [ اس لئے ان کو بھی زکوۃ کے مال میں سے دیں ]، پھر اس بوڑھے سے اور اس قسم کے دوسرے لوگوں سے جزیہ معاف کر دیا ۔
ثابت ہوا … جب اسلامی حکومت ہو تو غیر مسلم کو بیت المال سے وظیفہ دیا جاتا ہے تو ہم اور آپ غیر مسلم کی حکومت میں رہتے ہیں اور یہ لوگ ہمکو ہر قسم کا پورا پورا وظیفہ دیتے ہیں تو ہم لوگوں کواور بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرنا چاہئے ۔
[44] غیر کی مجلسوں میں
جانے کے اصول
اسلام کے یہ تین اصول ہیں ، ان پر عمل کرنا لازمی ہے۔
[۱] غیر مسلم کی مجلس میں جائیں یا کہیں بھی رہیں ۔ شرک کا کام ہر گز نہ کریں ، اور نہ ایسے کام میں شریک ہوں جو شرک کے معاون ہو ۔
[۲] بے حیائی اور بے شرمی کو اسلام نے سختی سے روکا ہے ، اس لئے وہاں بے حیائی اور بے شرمی کے کام میں بھی شریک نہ ہوں ۔
[۳] شراب، جوا ، اور سود کے کار و بار میں بھی شریک نہ ہوں ، کیونکہ یہ سب بھی حرام ہیں ۔
ان سب باتوں کے لئے آیتیں اور حدیثیں یہ ہیں
[۱]۔۔ شرک اور کفر کاکا م ہر گز نہ کریں ۔
غیر مسلم کی مجلس میں جائیں یا کہیں بھی رہیں ۔ شرک اور کفر کا کام ہر گز نہ کریں ، اور نہ ایسے کام میں شریک ہوں جو شرک ، یا کفرکے معاون ہو ۔
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں ۔
لا تشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم ۔ ( آیت ۱۳، سورت لقمان ۳۱)
ترجمہ….. اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو ، یقین جانو شرک بہت بڑ ابھاری ظلم ہے ۔
ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذالک لمن یشاء (۴۸؍۴)
ترجمہ….. بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے ، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کو چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے
ثابت ہوا … ان آیتوں میں کفر اور شرک سے روکا ہے ۔ اس لئے کسی مجلس میں شریک ہوں تو کفر اور شرک کا کام ہر گز نہ کریں ، اس سے انسان مسلمان باقی نہیں رہتا ہے ۔ اس سے خاص طور پر پرہیز کریں
[۲] ۔۔بے حیائی اور بے شرمی کو اسلام نے سختی سے روکا ہے
، اس لئے وہاں بے حیائی اور بے شرمی کے کام میں بھی شریک نہ ہوں ۔
ان اللہ یأمر بالعدل و الاحسان ، و ایتاء ذی القربی و ینہی عن الفحشاء و المنکر و البغی یعظکم لعلکم تذکرون ۔ ( آیت ۹۰، سورت النحل ۱۶)
ترجمہ….. بیشک اللہ انصاف کا ، احسان کا ، اور رشتہ داروں کو اس کے حقوق دینے کا حکم دیتا ہے ، اور بے حیائی ، بدی ، اور ظلم سے روکتا ہے ۔
ثابت ہوا … اس آیت میں ہے کہ اللہ بے شرمی اور بے حیائی کے کام سے روکتا ہے
[۳]۔۔ شراب، جوا ، اور سود کے کار و بار میں بھی شریک نہ ہوں ،
کیونکہ یہ سب بھی حرام ہیں ۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے ۔یا ایہا الذین آمنوا انما الخمر و المیسر و الانصاب و الازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون ۔ ( آیت ۹۰، سورت المائدۃ ۵)
ترجمہ….. ائے ایمان والو! شراب ، جوا ، بتوکے تھان ، اور جوے کے تیر ، یہ سب ناپاک اور شیطانی کام ہیں اس لئے اس سے بچو تاکہ تم کو فلاح حاصل ہو جائے ۔ثابت ہوا … اس آیت میں ہے کہ شراب ، جوا ، اور بتوں کے کام میں شرکت نہ کیا کریں ۔
ہر ملک والے چاہتے ہیں کہ یہ آٹھ کام ضرور کریں
[۱]۔۔ ملک میں کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے نفرت پیدا ہو یا قتل و غارت شروع ہو جائے ، کیونکہ قتل و غارت شروع ہونے سے ملک کی معیشت تباہ ہو جاتی ہے ، اور ملک کے عوام کا جینا دوبھر ہو جاتا ہے ، اس سے ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ نہ پہلا فریق سکون اور اطمینان کے ساتھ گھر سے باہر جا سکتا ہے ، اور نہ دوسرا فریق گھر سے باہر جا سکتا ہے ، اور یہ صورت حال دونوں کے لئے انتہائی خطرناک ہے ، اس لئے ہر فریق کو چاہئے کہ کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے آپس میں نفرت پیدا ہو جائے ۔
[۲]۔۔ ملک کے قانوں کی پوری پابندی کریں، کیونکہ اسی سے ملک کی ترقی ہے
[۳] ۔۔ حکومت کے خلاف سازش نہ کریں
[۴]۔۔ ہر ایک کے ساتھ مل جل کر رہیں ، اور پیار و محبت سے رہیں، اس سے ملک کے لوگ بہت آرام اور چین و سکون سے زندگی گزارتے ہیں
[۵]۔۔ آپ جس طرح اپنوں کی خدمت کرتے ہیں غیر مسلم بھائیوں کی بھی دل و جان سے خدمت کریں ، اس سے وہ خوش ہوں گے ، اور سوچیں گے کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو ہماری بھی خدمت کرتے ہیں ۔ اس ملک یں جب مسلمانوں نے سیلاب کے وقت لوگوں کی خدمت کی تو وہ بہت خوش ہوئے ، بہت دعائیں دیں ، اور دل کھول کر مسلمانوں کی تعریف کیں۔
[۶]۔۔ آپ کوئی مطالبہ بھی کریں تو اس کے لئے توڑ پھوڑ نہ کریں، ہنگامہ برپا نہ کریں بلکہ انسانیت اور قانون کے دائرے میں رہ کر مطالبہ کریں ، تاکہ حکومت آپ کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کر سکے ، اور جتنا ہو سکے آپ کی جائز مدد کر سکے ۔
[۷] ۔۔ حکومت کو ٹیکس دیں ، کیونکہ ٹیکس سے ہی وہ اپنی حکومت اچھی طرح چلا سکیں گے
[۸] ۔۔ آپ پابندی سے کام کریں تاکہ آپ کی بھی ترقی ہو اور ملک کی بھی ترقی ہو ، اس سے یہ ہو گا کہ آپ حکومت پر بوجھ نہیں بنیں گے ، بلکہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے اور الٹا حکومت کو ٹیکس دیکر اس کی مدد کریں گے

یہ وہ آٹھ باتیں ہیں جن پر آپ عمل کریں گے تو ہر حکومت آپ کا احترام کرے گی ، بلکہ مزید آپ کا استقبال کرے گی ۔ اور اسی ملک میں رکھنے کی کوشش کرے گی ۔ آپ یہ نسخہ آزما کر دیکھیں ۔
اور اگر آپ نے ان کا خلاف کیا تو ممکن ہے کہ آپ کو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے ۔

خدا کرے کہ اس ملک میں امن رہے اور اہل وطن امن کے ساتھ خوش گوار زندگی گزاریں ،
اور ایک دوسرے کو عزت و احترام دیں ، اور میل و محبت کے ساتھ رہیں
یہی تمنائیں لئے یہ کتاب لکھی ہے ، خدا وند کریم اس کو قبول کرے ، اور اجرآخرت سے نوازے ، آمین یا رب العالمین ۔
آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ۔ و الصلواۃ و السلام علی رسولہ الکریم ۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.