جنت سوال و جواب کی روشنی میں

Views: 24
Avantgardia

سوال نمبر۱۲:- جنت کے بچھونے کیسے ہوں گے؟
جواب:- جنت کے بچھونے نہایت ہی بلندوبالا،عمدہ اور نرم وگداز ہوں گے، جن
کے اَسْتَرْ اِسْتَبْرَقْ (عمدہ قسم کے ریشم) کے ہوں گے،جو بلند وبالا عالی
شان پلنگوں پر بچھے ہوں گے۔
سوال نمبر۲۲:- جنت کی مسہریاں کیسی ہوں گی؟
جواب:- وہاں عالی شان تخت پر منقش پردے لگے ہوں گے،جو سونے کی گھنڈیوں
سے بندھے ہوئے ہیں،نہ کہیں سے کٹے ہوئے ہیں،نہ اُن میں کوئی
شگاف ہے، ہر طرف سے بند،محفوظ، اور انتہائی آرام دہ ہیں۔
سوال نمبر۳۲:- جنتیوں کے چہرے کیسے ہو ں گے؟
جواب:- جنتیوں کے چہرے ایسے حسین وجمیل ہوں گے کہ: چودھویں رات کے
چاند کی طرح چمکتے ہوں گے، اور کچھ لوگوں کے چہرے سب سے زیادہ
چمکدار ستارے کی طرح چمکتے ہوں گے۔
سوال نمبر۴۲:- جنتی دیکھنے میں کتنی عمر کے معلوم ہوں گے؟
جواب:- سارے جنتی ہم عمر ہوں گے،(تیس یا تینتیس سال کے) معلوم ہوں
گے، سیرت وصورت دونو ں میں ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کے
مشابہہ اور ہم شکل ہوں گے،دیکھنے میں سبھی ایک سے بڑھ کر ایک
خوبصورت ہوں گے، مگر سب کی شکلیں ملتی جلتی ہوں گی۔
سوال نمبر۵۲:- جنت کا گیت کیسا ہوگا؟
جواب:- جنتی جنت میں اپنی حوروں کے دلرباء، سحر انگیز،اور سیریلی گیت سے محظوظ
ہوں گے، اور اِس سے بڑھ کر یہ کہ: اُنہیں فرشتوں کے گیت بھی سنائے
جائیں گے، اِسی طرح انبیاء کرام کے سحر انگیز گیت سے لطف اندوز ہونے کا
موقع بھی دیا جائے گا، اور اِ ن سب سے بڑھ کر یہ کہ:خو د حق تعالیٰ شانہٗ
اپنے شیریں اور دلکش خطاب سے اہل جنت کو نوازیں گے، واہ رے! کیا
ٹھکانا ہے اہلِ جنت کے کیف ونشاط،فرحت وانبساط، اور لذت وراحت کا
کہ: خود خالق ومالک کائنات،قادرِ مطلق،بادشاہوں کا بادشاہ،شہنشاہِ اعظم
اہل جنت کو اپنے ساتھ ہم کلامی کے شرف سے بہرہ ور فرمائیں گے، اللہ
تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ہمیں بھی یہ شرف عطا فرمائے۔آمین ثم آمین
سوال نمبر۶۲:- جنت کی سواریاں کیسی ہوں گی؟جن پر سوار ہوکر جنتی جنت کی سیر کریں
گے،اور دوست واحباب کی ملاقات کے لئے جایاکریں گے۔
جواب:- جنت میں حق تعالیٰ شانہٗ جیسی چاہیں گے عمدہ سے عمدہ سواریاں عطا
فرمائیں گے، اُن پر سوار ہوکر جنتی پوری جنت میں جہاں چاہیں گے، فوراً
پہنچ جائیں گے۔
سوال نمبر۷۲:- جنت کے زیوروں اور دیگر سامانوں کی زیب وزینت کیسی ہو گی؟
جواب:- وہاں رنگ برنگ کے موتیوں سے جَڑے ہوئے سونے کے کنگن ہوں گے،
اور اہل جنت کے سروں پر ہیرے جواہرات سے مُرَّصَعْ شاہی تاج ہوں گے۔
سوال نمبر۸۲:- جنت کے خدام کیسے ہوں گے؟
جواب:- جنت کے خدام ہمیشہ رہنے والے نوعمر لڑکے ہوں گے، جن کے حسن
وجمال کا یہ عالم ہوگا کہ:گویااُن کے چہرے حفاظت سے سنگواکر رکھے
ہوئے موتیوں کی طرح چمکدار ہیں۔
سوال نمبر۹۲:- جنت کی دلہنیں اور بیویاں کیسی ہوں گی؟
جواب:- جنت کی دلہنیں اور بیویاں سب ہم عمر دوشیزائیں ہیں، (یعنی جنت میں
ایسی نوخاستہ عورتیں ہیں،جن کی جوانی پورے ابھارپر ہے، اور سب کی
سب ہم عمر ہیں) جن کے اعضاء بدن میں آبِ شباب گردش کرتا ہوگا،
اُن کے رخسار سیب وگلاب کی طرح سرخ،اور پستانیں انار کی طرح گول
اورقرینے سے ابھری ہوئی ہیں، دانت لڑی میں پیروئے ہوئے موتیوں
کی طرح آبدار،کمر یا پتلی اور لچکدار ہے، حسن وجمال کا یہ عالم ہے کہ:
اُن کے مُکھڑوں کی رعنائیوں سے سورج نکلتا ہوا محسوس ہوگا،مسکرائیں گی
تو دانتوں سے بجلیاں چمکیں گی، اُن کی فریفتگی او رمحبت سے تیرا آمنا
سامنا ہو تو دو چمکتے ستاروں کے مقابلے جو تیرے جی میں آئے کہہ سکتا
ہے، جب وہ جنتی سے محوِ کلام ہوگی تو عاشق ومعشوق کی باہمی گفتگو کے
متعلق تیرا کیا گمان ہے؟جنتی اُن سے بغل گیر ہوگا،تو دو ٹہنیوں کے بغل
گیر ہونے کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے،جنتی اُن دلہن کے صحن
رخسار میں اپنے چہرے کو اِس طرح دیکھے گا،جیسے صاف شفاف آئینے
میں کسی چیز کو دیکھاجاتاہے، ستر جوڑے پہنے ہونے کے باوجود گوشت
اور ہڈی کے اندر سے گودا نظر آئے گا، اُس کی کھال آڑے آئے گی نہ
ہڈی اور لباس،اگر کوئی عورت دنیا کی طرف جھانک لے تو زمین وآسمان
کی ساری فضائیں خوشبوؤں سے معطر ہوجائیں، اور تمام مخلوقات کی
زبان سے بے ساختہ تہلیل،تکبیر اور تسبیح کی صدائیں گونج اٹھیں،اُس سے
چہار دانگ عالم جگمگا اُٹھے، اپنے غیر کو دیکھنے سے تمام آنکھوں کو چندھیا
دے، اُس کی چمک سے سورج چاند ایسے بے نور ہوجائیں،جیسے دن میں
ستارے بے نور ہوجاتے ہیں، اور اُس غیبی جلوہ کو دیکھ کر زمین پر رہنے
والے سارے انسان نورِ ایمان سے سرفراز ہوجائیں،اُن کے سر کی
اوڑھنی دنیا کی ساری چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے، اور اُن سے قربت
وصحبت کی تمنا تمام خواہشات سے زیادہ تڑپانے والی ہے، جوں جوں
زمانہ گزرتا جائے گا،اُن کا حسن وجمال ترقی کرتا جائے گا، لمبی مدت
گزرنے پر بھی اُن کی محبت وملاپ میں اضافہ ہی ہوتا چلاجائے گا،وہ
حمل وولادت، حیض ونفاس، تھوک،رینٹ،بلغم،بول وبراز،اور ہر قسم کی
گندگیوں سے پاک ہوگی، نہ اُس کی جوانی ختم ہوگی، نہ کپڑے پُرانے
ہوں گے، نہ اُس کے حسن کی رعنائیاں کمزور پڑیں گی، نہ اُس کی صحبت
کی چاشنی سے کبھی دل بھرے گا، اُس کی محبت بھری نگاہ ِ (نازنین) اپنے
شوہر پر ایسی ٹکی ہوگی کہ: کسی اور کی طرف اٹھنے کا سوا ل ہی نہیں،اِسی
طرح جنتی مرد کی نگاہ بھی اپنی حوروں پر ایسی ٹکی ہوگی کہ: گویا وہی اُن کی
محبتوں اور آرزؤں کی آخری منزل ہے،نگاہِ طمع کسی غیر کی طرف اٹھنے کا
سوال ہی نہیں ہے،وہ حوریں ایسی ہیں کہ: اُن پر نگاہ پڑے تو اپنی اداؤں
سے شوہر کو خوش کردے،کوئی حکم دیا جائے تو سراپا اطاعت بن جائے،
ایسی کہ شوہر گھر موجود نہ ہو تو گھر کی پوری حفاظت کرے،جنتی اپنی حور
کے ساتھ ہمیشہ انتہائی چاہت اور پاکدامنی کے ساتھ رہے گا، اِس سے
پہلے اُس کو نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا ہوگا نہ کسی جنات نے،اپنی حوروں
پر نگاہ پڑے گی تو قلب سرور ومحبت اور لذت دیدار سے مچل اٹھے گا،جنتی
سے بات کرے گی تو کانوں میں بکھرے او رپروئے ہوئے موتی
سجادے گی،اور جب اپنے حسن وجمال کا جلوہ دکھا ئے گی تو محل اور بالا
خانے جگمگااُٹھیں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart