جنت میں داخل ہونے والا سب سے پہلا امتی

مولانا شوکت علی بھاگلپوری شیخ الحدیث دارالعلوم سعادت دارین گجرات

اب رہا یہ سوال کہ امت محمدیہ ا کی تعداد اربوں کھربوں ہے، جن میں صحابہ،تابعین،اولیاء، اتقیاء، اور صالحین کی بھی اک بڑی تعداد ہے، تو کیا امت میں ایسا کوئی مقدس و برگزیدہ شخص بھی ہے، جس کو سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے کا شرف حاصل ہوگا؟ اِس سوال کا جواب اظہر من الشمس ہے،یہ تو ظاہر بات ہے کہ:جس طرح نبیوں میں دخولِ اولی کے لئے اشرف الانبیاء کا انتخاب ہوا، امت میں یہ شرف خیر الامم کو بخشا گیا،اِسی طرح خیر الامم میں بھی یہ شرف اسی خوش نصیب و برگزیدہ شخصیت کو حاصل ہونا چاہئے، جو اپنی خصوصیات اور اسلامی امتیازات کی بنا پر اپنی مثال آپ ہیں،امت مسلمہ مرحومہ میں ایسی شخصیت صرف سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہے، جو تمام صحابہ میں اعلم ہونے کے ساتھ ساتھ، ظاہری و باطنی تمام کمالات کے حامل، اور باتفاق علماء اہل السنت و الجماعت انبیاء کے بعد تمام انسانوں میں سب سے افضل ہیں،اس لئے اِس فضیلتِ عظمیٰ کے مستحق بلا شبہ آپ ہی ہیں۔
چنانچہ زبانِ نبوت نے صاف اور واضح لفظوں میں ارشاد فرمایا:
حدیث(۱۶):-عَن اَبِی ھُرَیرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللّٰہٗ عَلَیہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ قَالَ:”اَتَانِی جِبرَءِیلُ: فَاَخَذَ بِیَدِی فَاَرَانِی بَابَ الجَنَّۃِالَّذِی تَدخُلُ مِنہٗ اُمَّتِی، فَقَالَ اَبُو بَکرٍ: یَا رَسُولَ اللّٰہ! وَدِدتُ اَنِّی کُنتُ مَعَکَ،حَتّٰی اَنظُرَ اِلَیہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلّٰی اللّٰہٗ عَلَیہِ وَسَلَّمَ: اَمَا اِنَّکَ یَا اَبَا بَکرٍ! اَوَّلُ مَن یَّدخُلُ الجَنَّۃَ مِن اُمَّتِی“(حادی الارواح:۹۸، مشکوٰہ:۶۵۵)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایا کہ: (ایک دن) جبرئیل میرے پاس آئے،اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھلایا، جس سے میری امت کے لوگ جنت میں داخل ہوں گے،(یہ سن کر)حضرت ابو بکر صدیق صنے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے دل میں یہ حسرت بھری خواہش ابھر رہی ہے کہ: کاش میں بھی اُس وقت آپ کے ساتھ ہوتا،تاکہ مجھے بھی وہ دروازہ دیکھنا نصیب ہو جاتا،آپ انے (ان کی تسلی کے لئے) ارشاد فرمایا:ابو بکر! (عنقریب تم وہ دروازہ دیکھ لوگے،)کیونکہ میری امت میں سب سے پہلے تم کو ہی جنت میں داخل ہونے کا شرف حاصل ہوگا۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں