جنت میں دیدارِ الٰہی

Views: 16
Avantgardia

اہل السنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ: جنت میں مؤمنین کو سر کی آنکھوں سے،خداوند قدوس کا دیدار نصیب ہوگا،اورکفارومنافقین اِس نعمت عظمیٰ سے محروم رہیں گے، معتزلہ،خوارج اور مرجیہ جنت میں رویت باری تعالیٰ اور دیدارِ الٰہی کے منکر ہیں، اوراُن کا یہ انکار، در حقیقت فلسفیانہ شبہات کی وجہ سے ہے،وہ لوگ کہتے ہیں کہ: آنکھ سے دیکھنے،دیکھنے والے، اور جس کو دیکھا جائے،اُن تینوں چیزوں کے لئے جو شرائط ہیں،مثلاً: جسم وجہت او ر شکل وہیئت وغیرہ کا ہونا،خالق ومخلوق کے درمیان اُن شرائط کا تحقق نہیں ہوسکتا، علماء اور فقہاءِ اہل السنت والجماعت فرماتے ہیں کہ: آیات وروایا ت سے پتہ چلتا ہے کہ، آخرت کی ساری چیزیں،انسانی خیال وگمان،اور تصوروادراک سے، بالا تر اور ماوراء ہیں، وہاں کی کسی بھی چیز کو دنیا پر قیاس کرنا بے عقلی،اورکھلی ہوئی گمراہی ہے، حق تعالیٰ شانہٗ کا واضح اعلان ہے:
”فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآءً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ“ (السجدہ: ۷۱) کسی جی کو معلوم نہیں،جو چھپادھری ہے اُن کے واسطے،آنکھوں کی ٹھنڈک یہ بدلہ ہے اس کا،جوکرتے تھے،(ترجمہ شیخ الہند)جنت میں حق تعالیٰ شانہٗ کی رویت وزیارت بھی ان سب شرائط سے بے نیاز ہوگی، رویت الٰہی کا نہ کسی سَمت وجہت سے تعلق ہے،نہ ہی حق تعالیٰ شانہٗ کے لئے کسی خاص شکل وصورت اور ہیئت کی ضرورت ہے، روایاتِ حدیث سے انتہائی وضاحت کے ساتھ یہ مضمون ثابت ہے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ: اعمال کے تفاوت کی بناء پر،رویت وزیارت میں اہل جنت کے مختلف درجات ہوں گے، بعض کو یہ زیارت ہفتہ وار جمعہ کو حاصل ہواکرے گی، اور بعض کو روزانہ صبح وشام، اور بعض مقرب ومعزز ہستیوں کو یہ فضیلت واعزاز ہر وقت ہرحال میں حاصل رہے گی، قرآن کریم میں حق تعالیٰ شانہٗ کا ارشاد ہے:
”وُجُوْہٌ یَّوْمَءِذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ“ (القیمۃ:۲۲-۳۲)اس روز کچھ چہرے ہشاش بشاش تروتازہ، اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔
صحیح ومحقق قول کے مطابق تمام ہی مؤمنین کو،دیدار الٰہی کی سعادت عظمیٰ حاصل ہوگی، خواہ مرد ہوں یا عورت،جنات ہوں یا فرشتے۔
(روح المعانی جزء:۹۲؛۵۱/۸۴۲، مرقات:۱/۴۴۳،معارف القرآن:۸/۷۶۲،حاد ی الارواح:۳۹۱)
احادیث صحیحہ صریحہ میں بھی، جنت کے اندر مؤمنین کے لئے رویت باری تعالیٰ کا ثبوت ملتا ہے،چنانچہ ترمذی اور ابن ماجہ کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ: حضرت سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ کی (ایک دن مدینہ منورہ کے بازار میں) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی،تو حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں دعا کرتا ہوں کہ: حق تعالیٰ شانہٗ جنت کے بازار میں بھی، ہم دونوں کو اِسی طرح جمع فرمائے،حضرت سعید بن المسیب ؒ نے فرمایاکہ: حضرت! کیا جنت میں بازار بھی ہوگا؟ (بازار تو اشیاء ِ ضرورت کی خرید وفروخت کے لئے ہوتا ہے،اور جنت میں کسی چیز کے خرید نے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، وہاں تو جنتی جو چاہیں گے تیار وموجود ملے گا،تو پھر وہاں بازار کس لئے ہوگا؟)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ: جی ہاں! (جنت میں بازار بھی ہوگا،مگر وہاں کا بازار دنیا کے بازاروں کی طرح،ضرورت کی چیزیں خریدنے کے لئے نہیں ہوگا) مجھے نبی کریم ا نے بتایا تھاکہ:جب جنتی لوگ جنت میں پہنچ جائیں گے،او ر اعمال کی فضیلت وبرتری کے لحاظ سے جنت (کے درجات ومنزلوں) میں فروکش ہوجائیں گے، تو اُن کو دنیاوی دنوں کے اعتبار سے جمعہ کے دن،اجازت دی جائے گی، وہ سب اُس دن اپنے رب کی زیارت کریں گے، پروردگارِ عالم اُن کے سامنے اپنا عرش ظاہر فرمائیں گے، او راہل جنت کو اپنا دیدار کرانے کے لئے،جنت کے ایک عالی شان باغ میں جلوہ فرماہوں گے، اہل جنت کے لئے اس باغ میں نور،موتیوں، یاقوت،سونے اور چاندی کے مختلف منبر رکھے جائیں گے، جن پر وہ جنتی حسب مراتب ودرجات بیٹھیں گے،ادنیٰ درجے کے جنتی مشک وکافور کے ٹیلوں پر بیٹھیں گے، (ادنیٰ جنتی درجات کے فرق کی وجہ سے کہا گیا ہے،ورنہ تو حقیقت میں وہاں کوئی انسان ادنیٰ یا معمولی اور ذلیل نہیں ہوگا،گویا جس طرح دنیا وی اجتماعات میں،اونچی حیثیت کے لوگ کرسی،اور مسندوں پر بیٹھتے ہیں، اور عام لوگ فرش وزمین پر بیٹھتے ہیں،اُسی طرح جنت میں بھی،اونچے درجے کے جنتی منبروں،اور کرسیوں پر جلوہ افروز ہوں گے، اور کم درجے کے جنتی ٹیلوں پر ہوں گے) لیکن ٹیلے پر بیٹھنے والوں کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ: کرسیوں پر بیٹھنے والوں کی نشست گاہ،اُن سے افضل وبرتر ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اُس دن ہم اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟ آپ ا نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! یقینا دیکھیں گے، کیا تمہیں (بے ابرو غبار آسمان پر چمکتے ہوئے) آفتابِ نصف النہار،اور چودھویں رات میں (صاف آسمان پر جگمگاتے) چاند کے دیکھنے میں کوئی شک وشبہ ہوتا ہے؟ ہم نے کہانہیں! فرمایا: اِسی طرح تمہیں اُس دن اپنے رب کو دیکھنے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہوگا، اور دیدار الٰہی کی اُس مجلس میں حق تعالیٰ شانہٗ، ہر شخص سے ایک ایک کرکے روبرو بلا حجاب ہمکلام ہوں گے،یہاں تک کہ: حق تعالیٰ شانہٗ حاضرین میں سے ایک شخص کو مخاطب کرکے فرمائیں گے، اے فلاں بن فلاں!کیا تجھے وہ دن یاد ہے؟ جب تو نے ایسا ایسا کیا تھا،(یعنی ایسی بات کہی تھی یا ایسا کام کیا تھا جو شرعاً ناجائز تھا،وہ شخص یہ سن کر گویا اقرارجرم میں توقف کرے گا) تو پروردگار عالم اُس کی کچھ عہد شکنیاں یاد دلائیں گے، جس کا ارتکاب اُس نے دنیا میں کیا ہوگا،تب وہ شخص عرض کرے گا کہ: میرے پروردگار! کیا آپ نے میرے وہ گناہ بخش نہیں دیئے ہیں،(یعنی میرا جنت میں داخل کیا جانا،کیا اِس بات کی علامت نہیں ہے کہ: میرے گناہ آپ نے بخش دیئے ہیں؟) اللہ جل شانہٗ فرمائیں گے کہ:بے شک (میں نے تیرے گناہ بخش دیئے ہیں) اور تو میری وسعتِ بخشش ہی کی وجہ سے، (آج) اِس مرتبے کو پہنچا ہے،پھر وہ لوگ اُسی جگہ اور اُسی حالت پر ہوں گے کہ: ایک بادل آکر اُن پر چھا جائے گا، اور اوپر سے ایسی خوشبو برسائے گا کہ: اُس جیسی خوشبو اُنہوں نے کبھی کسی چیز میں نہیں پائی ہوگی، اُس کے بعد ہمارے پروردگار کا حکم ہوگا،(لوگو!) اٹھواور اُن نعمتوں کی طرف آؤ، جو ہم نے تمہارے اعزازواکرام کے لئے تیار کررکھی ہیں،اور اپنی پسند سے جو چاہو لے لو،(آپ ا نے ارشاد فرمایاکہ: (یہ سن کر ہم جنتی لوگ اُس بازار میں پہنچیں گے،جس کو فرشتے گھیرے ہوئے ہو ں گے، اُس بازار میں ایسی ایسی چیزیں ہوں گی کہ: اُن جیسی نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا،نہ کسی کے دل میں اس کا خیال آیا ہوگا، پھر اُس بازار میں سے ہماری من پسند چیزیں،اٹھا اٹھا کر ہمیں دی جائیں گی، مگر وہاں خرید وفروخت کا کوئی معاملہ نہیں ہوگا،اُس بازار میں اہل جنت کی ایک دوسرے سے آپس میں ملاقات بھی ہوگی، آپ انے فرمایاکہ: ایک بلند درجے والا شخص ایک ادنیٰ درجے والے جنتی کی طرف متوجہ ہوکر،اُس سے ملاقات کرے گا، مگر جنت کے اندر (حقیقت میں) کوئی شخص ادنیٰ اور کم درجے کا نہیں ہوگا،(حدیث پاک میں ادنیٰ صرف جنت کے اندر فرق درجات کی وجہ سے کہا گیا ہے، ورنہ ذاتی اعتبار سے ہر جنتی بلند مرتبہ اور باعزت ہوگا،) اُس بلندمرتبہ جنتی کو کم درجے کے جنتی کا لباس پسندیدہ نہیں محسوس ہوگا،ابھی اُن دونوں کی بات بھی پوری نہیں ہونے پائی ہوگی کہ: اُس بلند مرتبہ شخص کو ایسا لگے گاکہ: مخاطب کا لباس میرے لباس سے بہتر ہے،اور ایسا اس لئے ہوگا کہ:جنت میں کسی شخص کو غمگین نہیں کیا جائے گا،(آگے آں حضرت انے فرمایا:) اُس کے بعد ہم سب اپنے اپنے محلات اور مکانوں کی طرف واپس ہوں گے،تووہاں ہماری بیویاں مرحبا خوش آمدید کہتی ہوئی ہمارا استقبال کریں گی،اور اپنے شوہروں سے کہیں گی کہ: تم اس حال میں واپس آئے ہوکہ: تمہارا حسن وجمال اُس حسن وجمال سے کہیں زیادہ ہے، جو ہمارے پاس سے جاتے وقت تھا،اہل جنت اپنی بیویوں سے کہیں گے کہ: آج ہم کو ہمارے پروردگار کے ساتھ، ہم نشینی کا شرف حاصل ہوا ہے، جو جسم وبدن اور حسن وجمال کی ہرکمی کو پورا کرکے،انتہائی بہتر بنانے والا ہے، لہٰذ ا ہم اپنی اِس شان کے ساتھ واپس آنے کے لائق ہیں،جس شان کے ساتھ ہم واپس لوٹے ہیں، (کیوں کہ حسن وجمال در حقیقت اُسی ذاتِ خداوندی کے نور کا پرتو ہے)(مشکوۃ:۸۹۴)
ایک روایت میں حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے کہ: نبی کریم ا نے ار شاد فرمایاکہ: وہ وقت قریب ہے،جب تم اپنے پروردگار کو کھلی آنکھوں سے دیکھوگے، ایک حدیث میں حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: ایک دن ہم لوگ نبی کریم ا کے پاس بیٹھے تھے، آپ ا نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا،اور فرمایاکہ: وہ وقت قریب ہے کہ: تم اپنے پروردگار کو اُسی طرح دیکھوگے، جس طرح اِس چاند کو دیکھ رہے ہو، تم لوگ اپنے رب کو دیکھنے میں کوئی پریشانی محسوس نہیں کروگے، اِس لئے اگر تم سے یہ ہوسکتا ہو کہ: فجر اور عصر کی نماز نہ چھوٹنے پائے،تو ایسا ضرور کرلینا،پھر آپ ا نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
”وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِہَا“ (سورہئ ق: ۹۳)
ترجمہ: اور اپنے پروردگار کی حمد اور پاکی بیان کرو، (یعنی نماز پڑھو) سورج نکلنے سے پہلے،اور سورج ڈوبنے سے پہلے۔(مشکوۃ شریف: ۰۰۵)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart