جنت میں مؤمنین کی دو جماعتیں

مولانا شوکت علی قاسمی شیخ الحدیث دارالعلوم سعادت دارین گجرات

قرآن کریم میں سورہئ واقعہ کے اندر حق تعالیٰ شانہٗ نے تفصیل سے بتایا ہے کہ: قیامت کے دن جنتیوں کی دو جماعتیں کر دی جائیں گی:ایک خواص مؤمنین کی، دوسری عوام مؤمنین کی، خواص کو سابقین و مقربین،اور عوام کو اصحاب الیمین کہا گیا ہے، پھر آگے دونوں جماعتوں کے مفصل احوال بیان کئے گئے ہیں کہ: خواص سے مراد اونچے درجے کے بندے: انبیاء، اولیاء، صدیقین، صالحین،کاملین وغیرہ ہیں،اور اصحاب الیمین سے مراد عام مؤمنین ہیں،جن کے نامہئ اعمال دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے،یہی اُن کی سب سے بڑی خصوصیت ہوگی، اس سے بڑھ کر اور کوئی خاص بات اُن میں نہیں ہوگی، پھر مقربین کے بارے میں فرمایا کہ: جو لوگ اعلیٰ درجے کے ہیں، وہ بہت ہی اعلیٰ ہیں، اللہ سے خاص قرب رکھتے ہیں، وہ مقرب لوگ قیامت کے دن آرام کے باغوں میں ہوں گے،(جہاں اُن کے لئے ہر قسم کی بڑی بڑی نعمتیں ہوں گی،) وہ لوگ تار سے بُنے ہوئے تخت پر تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے،ہمیشہ جوان رہنے والے خادم (نو عمر لڑکے) صاف ستھری بہتی ہوئی شراب سے بھرے ہوئے، دستہ اور ٹونٹی لگے ہوئے ڈھکن دار لوٹے اور پیالے ہاتھ میں لئے ہوئے، ہر وقت اُن کے پاس پھرتے رہیں گے، جس کو پی کر نہ سر میں درد ہوگا، نہ عقل میں کوئی فتور آئے گا، اور اُن کی پسند کے میوے، مرغوب اور جی کو بھانے والے پرندوں کے گوشت،لے کر بھی خدام آتے رہیں گے، وہاں اُن کے لئے صاف شفاف رنگت والی، گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی، ایسی خوبصورت عورتیں بھی ہوں گی، جو چھپا کر رکھے ہوئے موتیوں کی طرح چمکدار ہوں گی،اُن سے وہ لوگ لطف اندوز ہوتے رہیں گے، وہاں کسی قسم کی بکواس،یا ایسی بے ہودہ بات سننے کو نہیں ملیں گی،جس سے زندگی کا مزہ مکدر ہو جائے،نہ شراب پی کر،نہ اُس کے بعد،وہاں ہر طرف سے سلام ہی سلام کی آواز آئے گی،اور یہ سب صرف اُن کے کئے ہوئے اعمال کے بدلے میں عطا ہوں گے، جیسا کہ ایک جگہ خود قرآن کریم میں ہے: ”وَ المَلٰٓءِکَۃُ یَدخُلُونَ عَلَیھِم مِن کُلِّ بَابٍoسَلٰمٌ عَلَیکُم“(الرعد:۳۲-۴۲) کہ فرشتے ان کے پاس ہر دروازے سے سلام ہی کرتے ہوئے آئیں گے۔
ایک جگہ ارشاد ہے: ”وَ تَحِیَّتُھُم فِیھَا سَلٰمٌ“کہ وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو سلام ہی کیا کریں گے، اور عام مؤمنین کے بارے میں ارشاد ہے کہ: داہنے ہاتھ والے اتنے اچھے ہیں کہ: وہ اُن باغوں میں ہوں گے، جہاں بغیر کانٹوں کے بیریوں کے درخت،اور تہ بتہ کیلے ہوں گے، لمبا لمبا سایہ ہوگا، بہتا ہوا پانی ہوگا، کثرت سے میوے ہوں گے،جو کبھی ختم ہی نہ ہوں گے،بلکہ ہر موسم میں ملیں گے، نہ کوئی روک ٹوک ہوگی، جو چاہیں گے، جب چاہیں گے،ان کے پاس آجائے گا، وہاں اونچے اونچے فرش ہوں گے، اور اُن کے عیش و عشرت کے لئے عورتیں ہوں گی، جن کو ہم نے ایک خاص انداز سے بنایا ہے کہ: سب کنواری ہیں،اور مقاربت کے بعد پھر کنواری ہو جایا کریں گی، اور انتہائی پیاری، اور بے حد پیار کرنے والی ہوں گی،اُن کے حرکات و شمائل، نازو انداز، حسن وجمال سب دلکش ہوں گے، اور پھر ہم عمر بھی ہوں گی، جس سے آپسی میل محبت،ہمنشینی و ہم کلامی وغیرہ کا لطف مزاج کی یکسانیت کی بناء پر اور بڑھ جائے گا۔
تنبیہ: جنت میں عام مؤمنین کو جو نعمتیں عطا ہوں گی،یہ ساری نعمتیں مقربین کو بھی ضرور بالضرور عطا ہوں گی، البتہ اُن کے بلند مرتبہ ہونے کی وجہ سے،اور بھی بہت سی نعمتیں اُنہیں عطا کی جائیں گی،جو احاطہ ئ شمار سے باہر ہیں،اجمالی طور پر کچھ نعمتوں کایہاں سرسری تذکرہ کر دیا گیا ہے، باقی تفصیلات کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں