جنت میں پہلے جانیوالوں کے چہرے کی چمک

مولانا شوکت علی قاسمی بھاگلپوری شیخ الحدیث دارالعلوم سعادت دارین گجرات

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ: لوگ جنت کے اندر دو مرحلے میں داخل ہوں گے، پہلے مقربین کا داخلہ ہوگا،جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکدار ہوں گے،اور دوسرے مرحلے میں عام مؤمنین کا داخلہ ہوگا، جن کے چہرے ستاروں کی طرح چمکدار ہوں گے، حدیث پاک میں آیا ہے:
حدیث(۵۶):-عَن اَبِی ھُرَیرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللّٰہٖ صَلّٰی اللّٰہٗ عَلَیہِ وَسَلَّمَ:”اِنَّ اَوَّلَ زُمرَۃٍ یَدخُلُونَ الجَنَّۃَ،عَلٰی صُورَۃِ القَمَرِ لَیلَۃَ البَدرِ، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَھُم،کَاَشَدِّ کَوکَبٍ دُرِّیٍّ فِی السَّمَاءِ اِضَاءَ ۃً، قُلُوبُھُم عَلٰی قَلبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ،لَااِختِلَافَ بَینَھُم،وَ لَا تَبَاغُضَ، لِکُلِّ امرِءٍ مِنھُم زَوجَتَانِ مِنَ الحُورِ العَینِ، یُرَیٰ مُخُّ سُوقِھِنَّ، مِن وَّرَاءِ العَظمِ، وَ اللَّحمِ،مِنَ الحُسنِ، یُسَبِّحُونَ اللّٰہَ بُکرَۃً وَّ عَشِیَّا،لا یَسقَمُونَ، وَلَا یَبُولُونَ، وَلَا یَتَغَوَّطُونَ، وَلَا یَتفُلُونَ، وَلَا یَمتَخَّطُونَ،اٰنِیَتُھُمُ الذَّھَبُ وَالفِضَّۃُ، وَ اَمشَاطُھُمُ الذَّھَبُ،وَ وَقُودُ مَجَامِرِھِمِ الاُلُوَّۃُ وَ رَشحُھُمُ المِسکُ،عَلٰی خَُلَْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، عَلٰی صُورَۃِ اَبِیھِم اٰدَمَ، سِتُّونَ ذِرَاعًا فِی السَّمَاءِ،مُتَّفَقٌ عَلَیہٖ۔
(مشکوٰۃ شریف:۶۹۴؛رقم:۹۱۶۵،حادی:۰۹)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضور اقدس ا کا ارشاد مروی ہے کہ: جنت میں سب سے پہلے جانے والوں کے چہرے، چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکدار ہوں گے،اور اُن کے بعد جنت میں داخل ہونے والوں کے چہرے، ستاروں کی مانند روشن اور چمکدار ہوں گے،جو آسمان پر بہت تیز چمکتا ہے (مگر یہ چمک سورج اور چاند سے کم ہوگی، اور دوسرے عام ستاروں سے زیادہ ہوگی) تمام جنتیوں کے دل ایک شخص کے دل کے مانند ہوں گے،نہ تو اُن میں آپس میں کوئی اختلاف ہوگا، اور نہ ہی اُن کے دلوں میں ایک دوسرے سے کوئی بغض و عداوت ہوگی،ہر ایک جنتی کو حوروں میں سے (کم سے کم) دو بیویاں ملیں گی، جو اتنی حسین و جمیل اور صاف شفاف ہوں گی کہ: پنڈلیوں کی ہڈی کا مغز ہڈی اور گوشت کے اوپر سے نظر آئے گا، تمام جنتی صبح وشام یعنی ہر وقت اللہ کی پاکی بیان کرتے رہیں گے(یعنی اللہ کو یاد کرتے رہیں گے)نہ وہ بیمار ہوں گے، نہ وہ پیشاب کریں گے، نہ پاخانہ کریں گے، نہ تھوکیں گے، نہ رینٹ صاف کریں گے، ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے، اُن کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، اُن کی انگیٹھیوں کا ایندھن عود ہوگا، اُن کا پسینہ مشک کی طرح خوشبودار ہوگا، تمام جنتی ایک ہی شخص کی سی سیرت و عادت کے ہوں گے (سبھی بااخلاق، ملنسار، اور ایک دوسرے سے بے حد محبت و تعلق رکھنے والے ہوں گے،یا پھر اِس جملے کا معنی یہ ہے کہ:تمام جنتی کے جسمانی صفات اور عمر ایک جیسی ہوگی) سب کی شکل و صورت اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی طرح ہوگی، ساٹھ ہاتھ اونچا سب کا قد ہوگا(اوربدن کی موٹائی سات ہاتھ ہوگی،مرقاۃ فیصل:۰۱/۲۹۲)
فائدہ: حدیث میں پہلی مرتبہ جنت میں داخل ہونے والے سے مراد؛ مؤمنینِ مقربین:انبیاء، صدیقین، شہداء اور اولیاء کاملین ہیں،اور دوسری مرتبہ جنت میں جانے والوں سے مراد، اُن سے نیچے درجے کے مؤمنین اور صلحاء امت ہیں – واللہ اعلم بالصواب-

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں