جنت میں پہلے مقربین کا داخلہ

مولانا شوکت علی قاسمی بھاگلپوری شیخ الحدیث دارالعلوم سعادت دارین گجرات

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ: جنت میں سب سے پہلے،اُن مؤمنین کوداخل کیا جائے گا، جو ریاضت و مجاہدہ،اور اطاعت و عبادت کی وجہ سے مقام تسلیم و رضا، اور قرب و محبت کے اونچے درجے پر پہنچ چکے ہیں،جن کا کام دن رات اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول رہنا ہے، تنگی و خوش حالی کوئی بھی حالت اُن کو ذکر اللہ سے نہیں روک سکتی ہے،گویا وہ لوگ ”رِجَالٌ لَّا تُلھِیھِم تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیعٌ عَن ذِکرِ اللّٰہِ“(النور:۷۳) کے مکمل مصداق ہیں جن کے بارے میں بلا شک و شبہ یہ کہا جا سکتا ہے ؎
خدا یاد آئے جن کو دیکھ کر وہ نور کے پتلے
نبوت کے یہ وارث ہیں یہی ہیں ظل رحمانی
یہی ہیں جن کے سونے کو فضیلت ہے عبادت پر
اِنہیں کے اتقاء پر ناز کرتی ہے مسلمانی
اِنہیں کی شان کو زیبا نبوت کی وراثت ہے
اِنہیں کا کام ہے دینی مراسم کی نگہبانی
رہیں دنیا میں اور دنیا سے بالکل بے تعلق ہوں
پھریں دریا میں اور ہر گز نہ کپڑوں کو لگے پانی
صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حضور اقدس ا کا ارشاد نقل کیا گیا ہے:
حدیث(۲۶):- ”اَوَّلُ مَن یُّدعٰی اِلٰی الجَنَّۃِ، یَومَ القِیَامَۃِ، الحَامِدُونَ،الَّذِینَ یَحمَدُونَ اللّٰہُ، فِی السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ“
کہ قیامت کے دن جنت میں سب سے پہلے اُن مقدس ہستیوں کو بلایا جائے گا، جو تنگی اور خوش حالی،ہر حال میں اللہ کی حمد و ثنا کرتے رہتے ہیں۔
ایک روایت میں ہے:
حدیث(۳۶):-عَن اَبِی ھُرَیرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ:”عُرِضَ عَلَیَّ اَوَّلُ ثَلاثَۃٍ مِّن اُمَّتِی یَدخُلُونَ الجَنَّۃَ، وَ اَوَّلُ ثَلاثَۃٍ یَدخُلُونَ النَّارَ، فَاَمَّا اَوَّلُ ثلَاثَۃٍ یَدخُلُونَ الجَنَّۃَ، فَالشَّھِیدُ، وَ عَبدٌ مَملُوکٌ لَم یُشغِلہٗ رِقُّ الدُّنیَا عَن طَاعَۃِ رَبِّہٖ، وَ فَقِیرٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِیَالٍ، وَ اَوَّلُ ثلَاثَۃٍ یَدخُلُونَ النَّارَ، فَأَمِیرٌ مُسَلِّطٌ،وَذُو ثَروَۃٍ مِن مَّالٍ لَا یُوَئدِّی حَقَّ اللّٰہٗ مِن مَّالِہٖ وَ فَقِیرٌ فَخُورٌ“رواہ احمد (حادی الارواح:۰۹)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضور اکرم ا کا ارشاد مروی ہے کہ: میرے سامنے امت کے وہ تین آدمی پیش کئے گئے،جو سب سے پہلے جنت میں جائیں گے،پھر وہ تین آدمی پیش کئے گئے،جو سب سے پہلے جہنم میں داخل کئے جائیں گے،جنت میں سب سے پہلے جانے والے تین آدمی یہ ہیں: (۱) شہید (۲) وہ غلام جس کی غلامی سے اطاعتِ الٰہی میں کوئی فرق نہیں آیا (۳) وہ نادار جس نے بال بچے والا ہونے کے باوجود کسی کے سامنے دست ِسوال نہیں پھیلایا،اور جہنم میں سب سے پہلے جانے والے تین آدمی یہ ہیں:(۱) ظالم حکمراں (۲) وہ مالدار جو اپنے مال میں سے اللہ کا حق نہیں دیتے (۳) اترانے والا فقیر۔
ایک حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ:ایک مرتبہ حضور اقدس ا نے دریافت فرمایا:
حدیث(۴۶): -ھَل تَدرُونَ اَوَّلَ مَن یَّدخُلُ الجَنَّۃَ؟ قَالُوا:اَللّٰہُ وَ رَسُولُہٗ اَعلَمُ، قَالَ: ”فُقَرَاءُ المُھَاجِرِینَ، الَّذِینَ تُتَّقٰی بِھِمُ المَکَارِہَ، وَ یَمُوتُ اَحَدُھُم وَ حَاجَتُہٗ فِی صَدرِہٖ، لَا یَستَطِیعُ لَھَا قَضَاءً، یَقُولُ المَلٰءِکَۃُ: رَبُّنَا نَحنُ مَلَاءِکَتُکَ، وَ خَزَنَتُکَ، وَ سُکَّانُ سَمٰوَاتِکَ، لا تُدخِلھُمُ الجَنَّۃَ، قَبلَناَ، فَیَقُولُ: عِبَادِی۔لا یُشرِکُونَ بِی شَیءًا، تُتَّقٰی بِھِمُ المَکَارِہَ، یَمُوتُ اَحَدُھُم وَ حَاجَتُہٗ فِی صَدرِہٖ، لَا یَستَطِیعُ لَھَا قَضَاءً،فَعِندَ ذَالِکَ تَدخُلُ عَلَیھِمُ المَلَاءِکَۃُ مِن کُلِّ بَابٍ، سَلَامٌ عَلَیکُم بِمَا صَبَرتُم فَنِعمَ عُقبٰی الدَّارُ“ اوکما قال رواہ احمد (حادی الارواح:۰۹)
کیا تمہیں معلوم ہے کہ:جنت میں سب سے پہلے کون لوگ داخل ہوں گے؟ صحابہئ کرام نے عرض کیا: اللہ اور اُس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں،ارشاد فرمایا کہ: وہ نادار مہاجرین جن سے لوگ(مصیبت کے وقت) اپنی نظریں ہٹا لیتے ہیں، اور وہ لوگ دنیا سے اِس حال میں رخصت ہو جاتے ہیں کہ: ان کی ضرورتیں دل ہی میں رہ جاتی ہیں،اُن کو پورا کرنے کی اُن کے پاس کوئی شکل نہیں ہوتی، سب سے پہلے جنت میں جائیں گے؛ فرشتے یہ دیکھ کر بول پڑیں گے: اِلٰہ العالمین! ہم فرشتے ہیں آپ کے خدمت گزار ہیں، آسمان پر رہتے ہیں،اِن لوگوں کو ہم سے پہلے جنت میں نہ بھیجئے،حق تعالیٰ شانہ فرمائیں گے،یہ لوگ میرے (مقرب اور پیارے) بندے ہیں،انہوں نے میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا، لوگ دنیا میں مصیبت کے وقت ان کا ساتھ چھوڑ دیتے تھے، اِن سے نظریں بچاتے تھے،اور یہ لوگ دنیا سے اس حال میں آگئے کہ:اِن کی ضرورتیں دل ہی میں رہ گئیں، اُن کے پورا کرنے کی کوئی شکل پیدا نہ ہو سکی،(اور جنت میں داخل کر دئیے جائیں گے) پھر تواُس وقت فرشتے ہر دروازے سے اُن کے پاس سلام کہتے ہوئے حاضری دیں گے،صرف اِس بنا پرکہ:یہ لوگ دنیا میں ثابت قدم رہے (کوئی تنگی، ترشی یا بدحالی اُن کو راہِ حق سے نہ ہٹا سکی) سو کیا ہی اچھا گھر ملا تم کو آخرت میں۔
یہ مقربین کی جماعت ہے جنت میں داخل ہوں گے تو اُن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکدار ہو جائیں گے، اُن کے بعد عام مؤمنین کا داخلہ ہوگا، جن کے چہرے ستاروں کی طرح چمکیں گے،جیسا کہ آگے آنے والی روایت سے عنقریب اِس کی تفصیل معلوم ہو جائے گی۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں