جنت کی وسعت

مولانا شوکت علی صاحب بھاگلپوری
قرآن کریم میں جنت کی وسعت کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے:
’’وَ سَارِعُوْا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ والْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلمُتَّقِیْنَ‘‘(آل عمران:۳۳)
ترجمہ: اور دوڑو! اپنے رب کی بخشش کی طرف، اور جنت کی طرف، جس کا عرض آسمان و زمین ہے، تیار ہو ئی ہے پر ہیز گاروں کے واسطے۔ (ترجمہ شیخ الہند)
یعنی اُن اعمال کی طرف جھپٹو! جو حسب وعدۂ خداوندی رب کی مغفرت ،اور جنت کا مستحق بناتے ہیں ،اور چوں کہ آدمی کے ذہن و دماغ میں آسمان و زمین کی وسعت سے زیادہ کوئی وسعت نہیں آسکتی (کیونکہ اِنہیں دونوں چیزوں کی وسعت نگاہوں کے سامنے ہے )اس لئے سمجھانے کے واسطے جنت کے عرض کو اِنہیں سے تشبیہ دی گئی ،گویا یہ بتلا دیا گیا کہ: جنت کا عرض زیادہ سے زیادہ سمجھو،پھر جب عرض کا یہ حا ل ہے ،تو طول کا حال خدا (ہی)جانے کیا کچھ ہو گا ’’فوائد عثمانی ‘‘(کذا فی المرقاۃ :۷/۲۸۰)
ایک دوسری جگہ اِسی مضمون کواس طرح بیان کیا گیا ہے:
’’وَسَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اُعِدَّتْ لِلَذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہٖ مَنْ یَّشَآءُ وَاللّٰہُ ذُوْ الْفَضْلِ العَظِیْمِ‘‘ (الحدید :۵۷)
ترجمہ:اور دوڑو! اپنے رب کی معافی کی طرف ،اور بہشت کو جس کا پھیلاؤ ہے ، جیسے پھیلاؤ آسمان و زمین کا، تیار کر رکھی ہے واسطے ان کے، جو یقین لائے اللہ پر، اور اس کے رسولوں پر، یہ فضل ہے اللہ کا ،دے جس کو چاہے ،اور اللہ کا فضل بڑا ہے ۔(ترجمہ شیخ الہند)
یعنی موت سے پہلے وہ سامان کر لو جس سے کوتاہیاں معاف ہو ں جنت میں ، اس کا م میں سستی اور دیر کرنا مناسب نہیں ،اور آسمان و زمین کا سا پھیلاؤ سے مراد یہ ہے کہ: ’’آسمان و زمین دونوں کو ملا کر رکھا جائے، تو ا س کی برابر جنت کا عرض ہو گا، طول کتنا ہو گا یہ اللہ ہی جانے ‘‘اور اللہ کا فضل بڑا ہے:فرمانے کا مقصد یہ ہے کہ: ’’ایمان و عمل بیشک حصول جنت کے اسباب ہیں، مگر ملتی ہے اللہ کے فضل سے، اُس کا فضل نہ ہو تو سزا سے چھوٹنا ہی مشکل ہے ،جنت ملنے کا تو ذکر ہی کیا۔ (فوائد عثمانی)




 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں