جنت کے بارہ نام

(۵) جَنَّۃُ المَأویٰ:- آرام سے رہنے کاباغ، مَأویٰ کے معنی ہے پناہ گاہ، ٹھکانا، قرار و سکون حاصل کرنے کی جگہ، جنت کا یہ نام اِس لئے رکھا گیا ہے کہ: حضرت ابن عمر ؓ کی روایت کے مطابق یہ حضرت جبرئیل و میکائیل ؑ کی جائے پناہ ہے، حضرت مُقاتل اورکَلبی کے قول کے مطابق یہ شہداء کی روحوں کی پناہ گاہ ہے، حضرت عائشہؓ اور زِر بن حبیش ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ: یہ جنت کے ایک حصے کا نام ہے، جب کہ صحیح یہ ہے کہ: یہ پوری جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اُس کے کسی خاص حصے کا نہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:”عِندَھَا جَنَّۃُ المَأوٰی“ (النجم:۵۱) اُس کے پاس ہے بہشت آرام سے رہنے کی۔(ترجمہ شیخ الہند)
دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:”وَ اَمَّا مَن خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ وَ نَھٰی النَّفسَ عَنِ الھَوٰیo فَاِنَّ الجَنَّۃَ ھِیَ المَأوٰی“ (النٰزعت:۰۴-۱۴) اور جو کوئی ڈرا ہو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے، اور روکا ہو اُس نے جی کو خواہش سے، سو بہشت ہی ہے اُس کا ٹھکانا(ترجمہ شیخ الہند) یعنی جو اِس بات کا خیال کرکے ڈرا کہ مجھے ایک روز اللہ کے سامنے حساب دینے کے لئے کھڑا ہونا ہے، اور اِسی ڈر سے اپنے نفس کی خواہش پر نہ چلا بلکہ اُسے روک کر اپنے قابو میں رکھا، اور احکامِ الٰہی کے تابع بنایا، تو اُس کا ٹھکانا بہشت کے سوا کہیں نہیں ہے۔ (فوائد عثمانی)
(۶) جَنَّاتُ عَدن:- بسنے کے باغات، وطن بنانے کے لائق اچھی اور خوشگوار جگہ، جنت کے ناموں میں سے ایک نام ”جَنَّاتُ عَدن“ بھی ہے، بعض حضرات نے اِسے جنت کے کسی خاص حصے کا نام قرار دیا ہے، پوری جنت کا نہیں، مگر صحیح یہ ہے کہ: ”جَنَّۃُ المَأویٰ“ کی طرح یہ بھی پوری جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، کسی خاص حصے کا نہیں، قرآن کریم میں کئی جگہ اِس نام سے جنت کا ذکر کیا گیا ہے، (۱) سورہئ مریم میں حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے:”جَنّٰتُ عَدنِنالَّتِی وَعَدَ الرَّحمٰنُ عِبَادَہٗ بِالغَیبِط اِنَّہٗ کَانَ وَعدُہٗ مَأتِیًّاo (مریم:۱۶) باغوں میں بسنے کے، جن کا وعدہ کیا ہے رحمان نے اپنے بندوں سے اُن کے بن دیکھے، بیشک ہے اُس کے وعدے پر پہنچنا (ترجمہ شیخ الہند) یعنی جب یہ بندے اَن دیکھی چیزوں پر پیغمبروں کے فرمانے سے ایمان لائے، بِن دیکھے خدا کی عبادت کی، تو اللہ نے اُن سے جنت کی اَن دیکھی نعمتوں کا وعدہ فرمالیا، جو ضرور بالضرور پورا ہو کر رہے گا، کیونکہ خدا کے وعدے بالکل حتمی اور اٹل ہوتے ہیں۔(۲) سورہئ فاطر میں ارشاد ربانی ہے:”جَنّٰتُ عَدنٍ یَّدخُلُونَھَا یُحَلَّونَ فِیھَا مِن اَسَاوِرَ مِن ذَھَبٍ وَّلُؤلُؤًاج وَلِبَاسُھُم فِیھَا حَرِیرٌo (الفاطر: ۳۳) باغ ہیں بسنے کے جن میں وہ جائیں گے، وہاں اُن کو گہنا پہنایا جائے گا، کنگن سونے کے اور موتی کے، اور اُن کی پوشاک وہاں ریشمی ہے(ترجمہ شیخ الہند) (۳) سورہئ صٰفّٰت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:”وَ مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِی جَنّٰتِ عَدنٍ ط ذٰلِکَ الفَوزُ العَظِیمُ“(الصَّف:۲۱) اور ستھرے گھروں میں بسنے کے باغوں کے اندر، یہ ہے بڑی مراد ملنی (ترجمہ شیخ الہند) یعنی جنتیوں کو ملنے والے وہ ستھرے مکانات اُن باغوں کے اندر ہوں گے، جن میں مؤمنین کو آباد ہونا ہے۔(فوائد عثمانی)
(۷) دَارُ الحَیَوَان:- ہمیشہ زندہ رہنے کاگھر، جہاں کسی کے لئے موت نہیں ہے، یہ بھی جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، ارشاد ربانی ہے:”وَاِنَّ الدَّارَ الآخِرَۃَ لَھِیَ الحَیَوَانُ لَو کَانُوا یَعلَمُونَ“ (العنکبوت:۴۶) اور پچھلا گھر جو ہے سووہی زندہ رہنا، اگر اُن کو سمجھ ہوتی (ترجمہ شیخ الہند) یعنی آدمی کو چاہئے (کہ:) یہاں کی چند روزہ زندگی سے زیادہ آخرت کی فکر کرلے کہ:اصلی و دائمی زندگی وہ ہی ہے، دنیا کے کھیل تماشے میں غرق ہو کر عاقبت کو بھول نہ بیٹھے، بلکہ یہاں رہ کر وہاں کی تیاری اور سفر آخرت کے لئے توشہ درست کرلے۔ (فوائد عثمانی)
(۸) اَلفِردَوس:- ایسا باغ جس میں انگوروں کی بیل بھی ہو، یوں تو”فردوس“ جنت کے سب سے اونچے درجے کو کہتے ہیں، لیکن یہ جنت کے ناموں میں سے ایک نام بھی ہے، سورۃ المؤمنون میں حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے:”اُولٰٓءِکَ ھُمُ الوَارِثُونَo الَّذِینَ یَرِثُونَ الفِردَوسَط ھُم فِیھَا خٰلِدُونَ“(المؤمنون:۰۱-۱۱) وہی ہیں میراث لینے والے جو میراث پائیں گے بہشت ٹھنڈی چھاؤں کے، وہ اُسی میں ہمیشہ رہیں گے۔(ترجمہ شیخ الہند)
(۹) جَنَّاتُ النَّعِیم:- اِس کا معنی ہے ہر قسم کی نعمتوں والا باغ، یہ بھی جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، کیونکہ وہاں کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، تفریحِ طبع، اور دل بہلانے کے لئے طرح طرح کے ساز و سامان اور اسباب و وسائل مہیا ہیں، اور مزید جو چاہیں گے فوراً حاضر ملیں گے، خوبصورت حور و غلمان، ایک سے بڑھ کر ایک حسین و جمیل شکل و صورت، عمدہ قسم کی خوشبوئیں، دلکش پُربہار خوشنما مناظر، لہلہاتے ہوئے ہرے بھرے باغات، اور رہنے سہنے کے لئے عمدہ کشادہ اور پُر کیف مکانات، محلات اور بنگلے ہیں، الغرض! جنت ظاہری باطنی ہر قسم کی نعمتوں سے مزین ہے، سورہئ لقمان میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُم جَنّٰتُ النَّعِیمِ“(لقمٰن: ۸)جو لوگ یقین لائے اور کئے بھلے کام اُس کے واسطے ہے نعمت کے باغ۔(ترجمہ شیخ الہند)
(۰۱) اَلمَقَامُ الاَمِینُ:- چین و سکون کا گھر، ایسا گھر جہاں نہ کوئی پریشانی ہے، نہ آفت و مصیبت، نہ زوال نہ ویرانی، نہ کوئی تکلیف ہے نہ کوئی دلخراش و نا پسندیدہ بات، نہ کوئی بد مزگی ہے نہ کسی چیز کی کمی کا ڈر، وہاں کی نعمتیں بھی ہر قسم کی خرابی اور بگاڑ سے پاک ہیں، نہ اُن کے کھانے میں کوئی ضرر، وہاں سے کسی کو نکلنے کا بھی ڈر نہیں، یہ تمام صفات و خوبیاں جنت کے سوا کہیں نہیں ہیں، اِسی لئے جنت کا ایک نام ”اَلمَقَامُ الاَمِین“ بھی ہے، سورہئ دُخان میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:”اِنَّ المُتَّقِینَ فِی مَقَامٍ اَمِینٍ“ (الدخان:۱۵) بیشک ڈرنے والے گھر میں ہیں چین کے (ترجمہ شیخ الہند) یعنی جو یہاں اللہ سے ڈرتے ہیں، وہاں چین سے ہوں گے، کسی طرح کا خوف اور غم پاس نہیں آئے گا(فوائد عثمانی)
(۱۱) مَقعَدُ الصِّدق:- بیٹھنے کی ایسی جگہ جہاں ہر طرح کی سہولت مہیا ہو، یہ بھی جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، سورہئ قمر میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:”اِنَّ المُتَّقِینَ فِی جَنّٰتٍ وَّ نَھَرٍ o فِی مَقعَدِ صِدقٍ“ (القمر: ۴۵ -۵۵) جو لوگ ڈرنے والے ہیں، باغوں میں ہیں، اور نہروں میں، بیٹھے سچی بیٹھک میں (ترجمہ شیخ الہند)
(۲۱) قَدَمُ صِدق:- قدم کے معنی ہے پاؤں، چونکہ انسان کی سعی و کوشش اور ترقی کا ذریعہ قدم ہوتا ہے، اِس لئے مجازاً بلند مرتبہ شخص کو قدم کہہ دیا جاتا ہے، اور لفظ قدم کی صدق کی طرف اضافت کرکے یہ بتلایا گیا ہے کہ: اُن کو بلند مرتبہ ملنا سچ اور یقینی بھی ہے، اور قائم و باقی رہنے والا لا زوال بھی، بعض مفسرین کے قول کے مطابق”قَدَمُ صِدق“ بھی جنت کا ایک نام ہے، سورہئ یونس میں حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے:”وَبَشِّرِ الَّذِینَ آمَنُوا اَنَّ لَھُم قَدَمَ صِدقٍ عِندَ رَبِّھِم“(یونس:۲) اور خوشخبری سنا دے ایمان لانے والوں کو کہ اُن کے لئے پایہ سچا ہے (ترجمہ شیخ الہند) بعض مفسرین نے کہا ہے کہ: اِس آیت میں ”قَدَمُ صِدق“ سے مراد جنت ہے، کچھ مفسرین کا کہنا ہے کہ: اِس سے مراد وہ اعمال ہیں جن کے سبب جنت حاصل ہوتی ہے، کچھ مفسرین کا کہنا ہے کہ: اِس سے مراد اللہ کے یہاں ملنے والا مقامِ قرب و سبقت ہے، کچھ مفسرین کا کہنا ہے کہ: اِس سے مراد رسول اکرم اکی وہ ہدایات و رہنمائی ہیں، جن پر عمل کی بدولت یہ مقام و شرف حاصل ہوتا ہے، مگر حق بات یہ ہے کہ: یہ تمام تفسیریں اپنے اپنے اعتبار سے برحق ہیں، اور عمومِ لفظ میں اِن سب کی گنجائش ہے، الغرض! یہ کہ” قَدَمُ صِدق“ بھی جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ واللہ اعلم بالصواب والسداد۔

(۵) جَنَّۃُ المَأویٰ:- آرام سے رہنے کاباغ، مَأویٰ کے معنی ہے پناہ گاہ، ٹھکانا، قرار و سکون حاصل کرنے کی جگہ، جنت کا یہ نام اِس لئے رکھا گیا ہے کہ: حضرت ابن عمر ؓ کی روایت کے مطابق یہ حضرت جبرئیل و میکائیل ؑ کی جائے پناہ ہے، حضرت مُقاتل اورکَلبی کے قول کے مطابق یہ شہداء کی روحوں کی پناہ گاہ ہے، حضرت عائشہؓ اور زِر بن حبیش ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ: یہ جنت کے ایک حصے کا نام ہے، جب کہ صحیح یہ ہے کہ: یہ پوری جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اُس کے کسی خاص حصے کا نہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:”عِندَھَا جَنَّۃُ المَأوٰی“ (النجم:۵۱) اُس کے پاس ہے بہشت آرام سے رہنے کی۔(ترجمہ شیخ الہند)
دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:”وَ اَمَّا مَن خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ وَ نَھٰی النَّفسَ عَنِ الھَوٰیo فَاِنَّ الجَنَّۃَ ھِیَ المَأوٰی“ (النٰزعت:۰۴-۱۴) اور جو کوئی ڈرا ہو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے، اور روکا ہو اُس نے جی کو خواہش سے، سو بہشت ہی ہے اُس کا ٹھکانا(ترجمہ شیخ الہند) یعنی جو اِس بات کا خیال کرکے ڈرا کہ مجھے ایک روز اللہ کے سامنے حساب دینے کے لئے کھڑا ہونا ہے، اور اِسی ڈر سے اپنے نفس کی خواہش پر نہ چلا بلکہ اُسے روک کر اپنے قابو میں رکھا، اور احکامِ الٰہی کے تابع بنایا، تو اُس کا ٹھکانا بہشت کے سوا کہیں نہیں ہے۔ (فوائد عثمانی)
(۶) جَنَّاتُ عَدن:- بسنے کے باغات، وطن بنانے کے لائق اچھی اور خوشگوار جگہ، جنت کے ناموں میں سے ایک نام ”جَنَّاتُ عَدن“ بھی ہے، بعض حضرات نے اِسے جنت کے کسی خاص حصے کا نام قرار دیا ہے، پوری جنت کا نہیں، مگر صحیح یہ ہے کہ: ”جَنَّۃُ المَأویٰ“ کی طرح یہ بھی پوری جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، کسی خاص حصے کا نہیں، قرآن کریم میں کئی جگہ اِس نام سے جنت کا ذکر کیا گیا ہے، (۱) سورہئ مریم میں حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے:”جَنّٰتُ عَدنِنالَّتِی وَعَدَ الرَّحمٰنُ عِبَادَہٗ بِالغَیبِط اِنَّہٗ کَانَ وَعدُہٗ مَأتِیًّاo (مریم:۱۶) باغوں میں بسنے کے، جن کا وعدہ کیا ہے رحمان نے اپنے بندوں سے اُن کے بن دیکھے، بیشک ہے اُس کے وعدے پر پہنچنا (ترجمہ شیخ الہند) یعنی جب یہ بندے اَن دیکھی چیزوں پر پیغمبروں کے فرمانے سے ایمان لائے، بِن دیکھے خدا کی عبادت کی، تو اللہ نے اُن سے جنت کی اَن دیکھی نعمتوں کا وعدہ فرمالیا، جو ضرور بالضرور پورا ہو کر رہے گا، کیونکہ خدا کے وعدے بالکل حتمی اور اٹل ہوتے ہیں۔(۲) سورہئ فاطر میں ارشاد ربانی ہے:”جَنّٰتُ عَدنٍ یَّدخُلُونَھَا یُحَلَّونَ فِیھَا مِن اَسَاوِرَ مِن ذَھَبٍ وَّلُؤلُؤًاج وَلِبَاسُھُم فِیھَا حَرِیرٌo (الفاطر: ۳۳) باغ ہیں بسنے کے جن میں وہ جائیں گے، وہاں اُن کو گہنا پہنایا جائے گا، کنگن سونے کے اور موتی کے، اور اُن کی پوشاک وہاں ریشمی ہے(ترجمہ شیخ الہند) (۳) سورہئ صٰفّٰت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:”وَ مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِی جَنّٰتِ عَدنٍ ط ذٰلِکَ الفَوزُ العَظِیمُ“(الصَّف:۲۱) اور ستھرے گھروں میں بسنے کے باغوں کے اندر، یہ ہے بڑی مراد ملنی (ترجمہ شیخ الہند) یعنی جنتیوں کو ملنے والے وہ ستھرے مکانات اُن باغوں کے اندر ہوں گے، جن میں مؤمنین کو آباد ہونا ہے۔(فوائد عثمانی)
(۷) دَارُ الحَیَوَان:- ہمیشہ زندہ رہنے کاگھر، جہاں کسی کے لئے موت نہیں ہے، یہ بھی جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، ارشاد ربانی ہے:”وَاِنَّ الدَّارَ الآخِرَۃَ لَھِیَ الحَیَوَانُ لَو کَانُوا یَعلَمُونَ“ (العنکبوت:۴۶) اور پچھلا گھر جو ہے سووہی زندہ رہنا، اگر اُن کو سمجھ ہوتی (ترجمہ شیخ الہند) یعنی آدمی کو چاہئے (کہ:) یہاں کی چند روزہ زندگی سے زیادہ آخرت کی فکر کرلے کہ:اصلی و دائمی زندگی وہ ہی ہے، دنیا کے کھیل تماشے میں غرق ہو کر عاقبت کو بھول نہ بیٹھے، بلکہ یہاں رہ کر وہاں کی تیاری اور سفر آخرت کے لئے توشہ درست کرلے۔ (فوائد عثمانی)
(۸) اَلفِردَوس:- ایسا باغ جس میں انگوروں کی بیل بھی ہو، یوں تو”فردوس“ جنت کے سب سے اونچے درجے کو کہتے ہیں، لیکن یہ جنت کے ناموں میں سے ایک نام بھی ہے، سورۃ المؤمنون میں حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے:”اُولٰٓءِکَ ھُمُ الوَارِثُونَo الَّذِینَ یَرِثُونَ الفِردَوسَط ھُم فِیھَا خٰلِدُونَ“(المؤمنون:۰۱-۱۱) وہی ہیں میراث لینے والے جو میراث پائیں گے بہشت ٹھنڈی چھاؤں کے، وہ اُسی میں ہمیشہ رہیں گے۔(ترجمہ شیخ الہند)
(۹) جَنَّاتُ النَّعِیم:- اِس کا معنی ہے ہر قسم کی نعمتوں والا باغ، یہ بھی جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، کیونکہ وہاں کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، تفریحِ طبع، اور دل بہلانے کے لئے طرح طرح کے ساز و سامان اور اسباب و وسائل مہیا ہیں، اور مزید جو چاہیں گے فوراً حاضر ملیں گے، خوبصورت حور و غلمان، ایک سے بڑھ کر ایک حسین و جمیل شکل و صورت، عمدہ قسم کی خوشبوئیں، دلکش پُربہار خوشنما مناظر، لہلہاتے ہوئے ہرے بھرے باغات، اور رہنے سہنے کے لئے عمدہ کشادہ اور پُر کیف مکانات، محلات اور بنگلے ہیں، الغرض! جنت ظاہری باطنی ہر قسم کی نعمتوں سے مزین ہے، سورہئ لقمان میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُم جَنّٰتُ النَّعِیمِ“(لقمٰن: ۸)جو لوگ یقین لائے اور کئے بھلے کام اُس کے واسطے ہے نعمت کے باغ۔(ترجمہ شیخ الہند)
(۰۱) اَلمَقَامُ الاَمِینُ:- چین و سکون کا گھر، ایسا گھر جہاں نہ کوئی پریشانی ہے، نہ آفت و مصیبت، نہ زوال نہ ویرانی، نہ کوئی تکلیف ہے نہ کوئی دلخراش و نا پسندیدہ بات، نہ کوئی بد مزگی ہے نہ کسی چیز کی کمی کا ڈر، وہاں کی نعمتیں بھی ہر قسم کی خرابی اور بگاڑ سے پاک ہیں، نہ اُن کے کھانے میں کوئی ضرر، وہاں سے کسی کو نکلنے کا بھی ڈر نہیں، یہ تمام صفات و خوبیاں جنت کے سوا کہیں نہیں ہیں، اِسی لئے جنت کا ایک نام ”اَلمَقَامُ الاَمِین“ بھی ہے، سورہئ دُخان میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:”اِنَّ المُتَّقِینَ فِی مَقَامٍ اَمِینٍ“ (الدخان:۱۵) بیشک ڈرنے والے گھر میں ہیں چین کے (ترجمہ شیخ الہند) یعنی جو یہاں اللہ سے ڈرتے ہیں، وہاں چین سے ہوں گے، کسی طرح کا خوف اور غم پاس نہیں آئے گا(فوائد عثمانی)
(۱۱) مَقعَدُ الصِّدق:- بیٹھنے کی ایسی جگہ جہاں ہر طرح کی سہولت مہیا ہو، یہ بھی جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، سورہئ قمر میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:”اِنَّ المُتَّقِینَ فِی جَنّٰتٍ وَّ نَھَرٍ o فِی مَقعَدِ صِدقٍ“ (القمر: ۴۵ -۵۵) جو لوگ ڈرنے والے ہیں، باغوں میں ہیں، اور نہروں میں، بیٹھے سچی بیٹھک میں (ترجمہ شیخ الہند)
(۲۱) قَدَمُ صِدق:- قدم کے معنی ہے پاؤں، چونکہ انسان کی سعی و کوشش اور ترقی کا ذریعہ قدم ہوتا ہے، اِس لئے مجازاً بلند مرتبہ شخص کو قدم کہہ دیا جاتا ہے، اور لفظ قدم کی صدق کی طرف اضافت کرکے یہ بتلایا گیا ہے کہ: اُن کو بلند مرتبہ ملنا سچ اور یقینی بھی ہے، اور قائم و باقی رہنے والا لا زوال بھی، بعض مفسرین کے قول کے مطابق”قَدَمُ صِدق“ بھی جنت کا ایک نام ہے، سورہئ یونس میں حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے:”وَبَشِّرِ الَّذِینَ آمَنُوا اَنَّ لَھُم قَدَمَ صِدقٍ عِندَ رَبِّھِم“(یونس:۲) اور خوشخبری سنا دے ایمان لانے والوں کو کہ اُن کے لئے پایہ سچا ہے (ترجمہ شیخ الہند) بعض مفسرین نے کہا ہے کہ: اِس آیت میں ”قَدَمُ صِدق“ سے مراد جنت ہے، کچھ مفسرین کا کہنا ہے کہ: اِس سے مراد وہ اعمال ہیں جن کے سبب جنت حاصل ہوتی ہے، کچھ مفسرین کا کہنا ہے کہ: اِس سے مراد اللہ کے یہاں ملنے والا مقامِ قرب و سبقت ہے، کچھ مفسرین کا کہنا ہے کہ: اِس سے مراد رسول اکرم اکی وہ ہدایات و رہنمائی ہیں، جن پر عمل کی بدولت یہ مقام و شرف حاصل ہوتا ہے، مگر حق بات یہ ہے کہ: یہ تمام تفسیریں اپنے اپنے اعتبار سے برحق ہیں، اور عمومِ لفظ میں اِن سب کی گنجائش ہے، الغرض! یہ کہ” قَدَمُ صِدق“ بھی جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ واللہ اعلم بالصواب والسداد۔

(تفصیل کے لئے دیکھئے!حادی الارواح:۶۷-۲۸)

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں