جنت کے بارہ نام

Views: 25
Avantgardia

علمائے محققین کے یہاں یہ بات مسلم ہے کہ: کسی چیز کا کثیر الاسماء (زیادہ نام والا) ہونا،اُس چیز کے اہم، عظیم،اور بڑی ہونے کی علامت ہے، کسی چیز کے بہت سارے نام ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ: وہ بڑی عظیم اہم اور بے مثال ہے، جیسے اللہ جل شانہٗ قرآن کریم، انبیاء کرام، قیامت اور جہنم ہے کہ: اِن میں سے ہر ایک عظیم الشان ہے، اور اِن سب کی عظمت شان ہی کی بنا پر قرآن و حدیث میں اِن کے بہت سے نام وارد ہوئے ہیں،چنانچہ اللہ جل شانہ کے کم و بیش ننانوے نام، قرآن کریم کے کم و بیش ۵۱/نام، قیامت کے۴۲/نام، جہنم کے ۸/نام،اور ہر نبی خاص کر ہمارے نبیئ آخر الزماں ا کے کئی کئی نام وارد ہیں۔
بس اِسی طرح جنت کے بھی بہت سارے نام ہیں، صرف قرآن کریم میں جنت کے بارہ نام آئے ہیں، کیونکہ دیگر بڑی اشیاء کی طرح جنت بھی اللہ کی انتہائی عظیم الشان اور بے مثال مخلوق ہے، جو مؤمنین کے انعام کے لئے پیدا کی گئی ہے،وہ بارہ نام یہ ہیں:جَنَّۃ،دَارُالسَّلام،دَارُالخُلد،دَارُالمَقَامَۃ،جَنَّۃُالْمَأْویٰ،جَنَّاتُ عَدْن، دَارُالْحَیَوَان، اَلْفِرْدَوْس، جَنَّاتُ النَّعِیْم،اَلْمَقَامُ الْاَمِیْن،مَقْعَدُ الصِّدْق،قَدَمُ صِدْق،اب ذیل میں اُن بارہ ناموں کی قدرے تفصیل درج کی جاتی ہے۔
(۱) جَنَّۃٌ:- یہ نام قرآن کریم میں قریب چھیاسٹھ جگہ آیا ہے، اِس کی جمع ”جَنَّاتٌ“آتی ہے، یہ بھی قرآن کریم میں قریب انہتر(۹۶) جگہ آیا ہے، اِس نام کی وجہ یہ ہے کہ: لغتِ عرب میں جنت کے معنی ہے ”چھپانا“ چونکہ یہ انسانی نگاہوں سے اوجھل ہے، اِس لئے اِس کو جنت کہتے ہیں، یا پھر اِس کو جنت اِس لئے کہتے ہیں کہ: جنت کی زمین مختلف قسم کے ہرے بھرے اور لہلہاتے درختوں سے گھری ہوئی ہے، جس کی بناء پر اُس کی زمین دور سے نظرنہیں آتی،اور اصلاً ایسے ہی باغ کو جنت کہتے ہیں، جو ایسے گھنے اور گنجان ہوں کہ: اُس کی زمین نظر نہ آئے۔
(۲) دارالسلام: – اِس کا معنی ہے: سلام اور سلامتی کا گھر، یہ نام قرآنِ کریم میں دو جگہ آیا ہے، ایک سورہئ انعام میں، ارشادِ ربانی ہے:”لَھُم دَارُ السَّلٰمِ عِندَ رَبِّھِم وَھُوَ وَلِیُّھُم بِمَا کَانُوا یَعمَلُونَ“(الانعام:۷۲۱) اُن ہی کے لئے ہے سلامتی کا گھر اپنے رب کے ہاں، اور وہ اُن کا مددگار ہے، بسبب اُن کے اعمال کے (ترجمہ شیخ الہند) یعنی جو اسلام و فرماں برداری کے سیدھے راستے پر چلے گا، وہ ہی سلامتی کے گھر پہنچے گا، اور خداوندِ قدوس اُس کا ولی و مددگار ہوگا (فوائد عثمانی)
دوسری جگہ ارشادِ ربانی ہے: ”وَاللّٰہُ یَدعُوا اِلٰی دَارِالسَّلٰمِ ط وَیَھدِی مَن یَّشَاءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّستَقِیمٍ“(یونس:۵۲) اور اللہ بلاتا ہے سلامتی کے گھر کی طرف، اور دکھلاتا ہے جس کو چاہے راستہ سیدھا۔(ترجمہ شیخ الہند)
علامہ شبیر احمد عثمانی نور اللہ مرقدہ اِس آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں کہ: یعنی دنیا کی زائل و فانی زندگی پر مت ریجھو! دارالسلام (جنت) کی طرف آؤ! خدا تم کو سلامتی کے گھر کی طرف بلا رہا ہے، اور وہاں تک پہنچنے کا راستہ بھی دکھلاتا رہا ہے، وہ ہی گھر ہے جہاں کے رہنے والے ہر قسم کے رنج و غم، پریشانی، تکلیف، نقصان، آفت، اور فَنا و زوال وغیرہ سے صحیح و سالم رہیں گے، فرشتے اُن کو سلام کریں گے، خود اللہ رب العزت کی طرف سے سلام پہنچے گا۔(فوائد عثمانی)
جنت چونکہ ہر قسم کی تکلیف، پریشانی، آفت، مصیبت، اور ہر قسم کے ناپسندیدہ امور سے محفوظ ہے، اِس لئے اُس کا نام دار السلام رکھا گیا ہے، کیونکہ یہ اللہ کی خاص مخلوق ہے، جو بطورِانعام مؤمنین کو عطاء کی جائے گی، اور اللہ کا نام سلام ہے، اور اُسی نے اپنے خصوصی فضل و کرم سے جنت اور اہل جنت کو ہر قسم کی تکلیف و پریشانی سے سالم و محفوظ رکھا ہے، پھر یہ کہ حق تعالیٰ شانہ خود اہل جنت کو خاص طور پر سلام کریں گے، فرشتے بھی اُنہیں سلام کریں گے، اور جنتی بھی جنت میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے، بلکہ اُن کے درمیان صرف سلامتی ہی کی باتیں ہوں گی، آپس میں کسی طرح کا لغو کلام نہیں ہوگا، گویا جنت سراپا سلام ہے، جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:
”لَھُم فِیھَا فَاکِھَۃٌ وَّ لَھُم فِیھَا مَا یَدَّعُونَ سَلٰمٌ قَولًا مِّن رَّبٍّ رَّحِیمٍ“(سورہئ یٰسٓ:۷۵)اُن کے لئے وہاں ہے میوہ، اور اُن کے لئے ہے جو کچھ مانگیں، سلام بولنا ہے ربِ مہربان سے(ترجمہ شیخ الہند)
یعنی بہشت میں ہر قسم کے عیش و نشاط کا سامان ہوگا، دنیا کی مکروہات سے چھوٹ کر، آج یہ ہی اُن کا مشغلہ ہوگا(کہ:) وہ اور اُن کی عورتیں آپس میں گھل مل کر اعلٰی درجے کے خوشگوار سایوں میں، مسہریوں پر آرام کر رہے ہوں گے، ہمہ قسم کے میوے اور پھل وغیرہ اُن کے لئے حاضر ہوں گے، بس خلاصہ یہ ہے کہ: جس چیز کی جنتیوں میں طلب اور تمنا ہوگی وہ ہی دی جائے گی، اور منہ مانگی مرادیں ملیں گی، یہ تو جسمانی لذائذ کا حال ہوا۔ آگے روحانی نعمتوں کی طرف ”سَلٰمٌ قَولًا مِّن رَّبٍّ رَّحِیمٍ“ سے اک ذرا سا اشارہ فرماتے ہیں (جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:) اُس مہربان پروردگار کی طرف سے جنتیوں کو سلام بولا جائے گا، خواہ فرشتوں کے ذریعے سے، یا جیسا کہ ابن ماجہ کی ایک روایت میں ہے: بلا واسطہ خود ربِ کریم سلام ارشاد فرمائیں گے، اُس وقت کی عزت و لذت کا کیا کہنا! اَللّٰھُمَّ ارزُقنَا ھٰذِہٖ النِّعمَۃَ العُظمٰی بِحُرمَۃِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلّٰی اللّٰہٗ عَلَیہِ وَسَلَّمَ(فوائد عثمانی)
دوسری جگہ ارشادِربانی ہے:
”وَالمَلٰءِکَۃُ یَدخُلُونَ عَلَیھِم مِن کُلِّ بَابٍoسَلٰمٌ عَلَیکُم بِمَا صَبَرتُم فَنِعمَ عُقبٰی الدَّارِ“ (الرعد:۳۲-۴۲)
اور فرشتے آئیں (گے) اُن کے پاس ہر دروازے سے، کہیں گے سلامتی تم پر، بدلے اِس کے کہ: تم نے صبر کیا، سو خوب ملا عاقبت کا گھر (ترجمہ شیخ الہند)
فائدہ:- صحیح حدیث میں جنت کے آٹھ دروازے بیان ہوئے ہیں، مطلب یہ ہے کہ(سابقہ آیات میں جن مقدس ہستیوں کا ذکر ہوا) اُن کاملین کی تعظیم و تکریم کے لئے، خدا کے پاک فرشتے ہر طرف سے تحائف و ہدایا لے کر حاضر ہوں گے، احادیث میں ہے کہ: خلق اللہ میں سے اول فقرائے مہاجرین جنت میں داخل ہوں گے، جو سختیوں اور لڑائیوں میں سینہ سپر ہوتے، اور رخنہ بندی کے کام آتے تھے، جو حکم اُن کو ملتا اُس کی تعمیل کے لئے ہمیشہ مستعد رہتے، دنیا کی حاجتیں اور دل کے ارمان دل ہی میں لے کر یہاں سے رخصت ہو گئے، قیامت کے دن حق تعالیٰ فرمائے گا: میرے وہ بندے کہاں ہیں؟ (حاضر ہوں) جو میرے راستے میں لڑے، میرے لئے تکلیفیں اُٹھائیں اور جہاد کیا، جاؤ! جنت میں بے کھٹکے داخل ہو جاؤ، پھر ملائکہ کو حکم ہوگا کہ: میرے اِن بندوں کے پاس حاضر ہو کر سلام کرو، وہ عرض کریں گے: خدا وندا! ہم تیری بہترین مخلوق ہیں، کیا ہم بارگاہِ قرب میں رہنے والوں کو حکم دیتے ہیں کہ: زمینی باشندوں کے پاس حاضر ہو کر سلام کریں؟ ارشاد ہوگا: جی ہاں! یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے توحید پر جان دی، دنیا کے سب ارمان اپنے سینوں میں لے کر چلے آئے، میرے راستے میں جہاد کیا، اور ہر تکلیف کو خوشی سے برداشت کرتے رہے، یہ سن کر فرشتے ہر طرف سے اُن کی خدمت میں حاضر ہوں گے، اور کہیں گے: ”سَلٰمٌ عَلَیکُم بِمَا صَبَرتُم فَنِعمَ عُقبٰی الدَّارِ“ حدیث پاک میں ہے کہ: نبی کریم ا ہر سال کے آغاز میں قبورِ شہداء پر تشریف لے جاتے اور فرماتے: ”سَلٰمٌ عَلَیکُم بِمَا صَبَرتُم فَنِعمَ عُقبٰی الدَّارِ“ یہ ہی طرزِ عمل ابو بکر، عمر، اور عثمان رضی اللہ عنھم کا رہا۔(فوائد عثمانی)
ایک اور جگہ ارشاد ہے: ”تَحِیَّتُھُم فِیھَا سَلٰمٌ“ (یونس:۰۱) اور ملاقات اُن کی سلام (ترجمہ شیخ الہند) یعنی جنتی ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو سلام کریں گے، جیسے دنیا میں مسلمانوں کا دستور ہے(فوائد عثمانی)
جنتیوں کی آپسی بات چیت بھی سلامتی والی ہوگی، وہاں غلط اور گندی باتیں، فحش کلامی، اور شورو شغب کا کوئی نام و نشان بھی نہیں ہوگا، حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے: ”لَا یَسمَعُونَ فِیھَا لَغوًا اِلَّا سَلَامًا“(مریم:۲۶) نہ سنیں گے وہاں بَک بَک سوائے سلام (ترجمہ شیخ الہند) یعنی جنت میں لغو و بیکار باتیں، اور بیہودہ شور و شغب نہ ہوگا، ہاں فرشتوں اور مؤمنین کی طرف سے ”سَلٰمٌ عَلَیکَ“ کی آوازیں بلند ہوں گی۔(فوائد عثمانی)
(۳) دَارُالخُلد:- ہمیشہ ہمیش ٹھہرنے کا گھر، یہ نام اِس لئے رکھا گیا ہے کہ: جنت میں پہنچنے کے بعد کسی کو وہاں سے باہر نہیں آنا ہے، اب جنتی ہمیشہ ہمیش کے لئے جنت ہی میں مقیم رہیں گے، قرآن کریم میں ہے:”وَمَا ھُم مِنھَا بِمُخرَجِینَ“ نہ اُن کو وہاں سے کوئی نکالے (ترجمہ شیخ الہند) حدیث میں (بھی) ہے کہ: جنتیوں سے کہا جائے گا: اے اہل جنت!اب تمہارے لئے یہ ہے کہ ہمیشہ رہو، کبھی بیماری نہ ستائے، ہمیشہ زندہ رہو، کبھی موت نہ آئے، ہمیشہ آرام سے مقیم رہو، کبھی سفر کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔(فوائد عثمانی)
(۴) دَارُ المُقَامَہ:- آباد رہنے کا گھر، یہ نام قرآن کریم میں اِس ضمن میں بیان کیا گیا ہے کہ: جنتی وہاں پہنچ کر جنت کو اِسی نام سے یاد کریں گے، حق تعالیٰ شانہ اہلِ جنت کی گفتگو نقل کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ”وَ قَالُوا الحَمدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذھَبَ عَنَّا الحَزَنَ ط اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَکُورٌo الَّذِیٓ اَحَلَّنَا دَارَ المُقَامَۃِ مِن فَضْلِہٖج لَایَمَسُّنَا فِیھَا نَصَبٌ وَّ لَایَمَسُّنَا فِیھَا لُغُوبٌo (الفاطر:۴۳-۵۳)
اور(جنتی) کہیں گے شکر اللہ کا جس نے دور کیا ہم سے غم، بے شک ہمارا رب بخشنے والا قدردا ن ہے، جس نے اُتارا ہم کو آباد رہنے کے گھر میں، اپنے فضل سے نہ پہنچے ہم کو اُس میں مشقت، اور نہ پہنچے ہم کو اُس میں تھکنا۔(ترجمہ شیخ الہند)
یعنی دنیا کا اور محشر کا غم دور کیا، گناہ بخشے، اور از راہِ قدردانی طاعت قبول فرمائی۔ حضرت شاہ عبد القادر صاحب دہلوی ؒ لکھتے ہیں: رہنے کا گھر اُس سے پہلے کوئی نہیں تھا، ہر جگہ چل چلاؤ، اور روزی کا غم، دشمنوں کا ڈر، اور رنج و مشقت، وہاں پہنچ کر سب کافور ہو گئے۔(فوائد عثمانی)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart