جنت کے فرش

جنتیوں کے بچھونے بھی نہایت ہی خوبصورت،بیل بوٹے دار،سبزرنگ کے عمدہ ریشمی کپڑے کے ہوں گے،زمین پر قالین اور اور غالیچے،حسن ترتیب سے بچھے ہوں گے، نہ اُن میں شکن پیدا ہوگی،نہ وہ اِدھر اُدھر مڑیں گے،سورہئ رحمن میں حق تعالیٰ شانہٗ کا ارشاد ہے: ”مُتَّکِءِیْنَ عَلٰی فُرُشٍ بَّطآءِنُہَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ“(الرحمن:۴۵) (اہل جنت) تکیہ لگائے ایسے بچھونوں پر بیٹھے ہوں گے کہ: جن کے اَسْتَرد بیزریشم کے ہوں گے،اور عام دستور یہ ہے کہ: اَسْتَر کی بہ نسبت اوپر کا کپڑا زیادہ نفیس،اور خوبصورت ہوتا ہے،تو جب استرریشم کا ہوگا،تو اوپر کا کپڑا کیسا کچھ عمدہ اور حسین ہوگا،حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:”اُخْبِرْتُمْ بِالْبَطَاءِنِ فَکَیْفَ بِالظَّہَاءِرِ“کہ تم کو جنت کے بچھونے کے اَسترکی خبردی کئی(کہ وہ دبیزریشم کا ہوگا)تو بھلا اوپر کا کپڑا کتنا عمدہ اور نفیس ہوگا،بعض مفسرین سے منقول ہے کہ:اوپر کا کپڑا ”سُنْدُس“یعنی باریک اورمنقش ریشم کا ہوگا،حضرت ابن جبیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: جمے ہوئے نور کا ہوگا،جو انتہائی چمکدار، بارونق اور لطیف ہوگا، (روح المعانی جزء:۷۲؛۴۱/۰۸۱،ترغیب:۴/۵۹۲،عن البیہقی) سورہئ رحمن ہی کے اخیر میں ہے: ”مُتَّکِءِیْنَ عَلٰی رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍ“ (الرحمن:۶۷) وہ جنتی لوگ سبزمشجر(بیل بوٹے دار) اور عجیب وغریب خوبصورت کپڑوں کے فرشوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے،(پہلا فرش مقربین کا ہے،دوسرا عام مؤمنین کا)سورہئ واقعہ میں ارشاد خداوندی ہے:”وَفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ“(الواقعہ:۴۳) اور اصحاب الیمین کے لئے اونچے بچھونے ہوں گے،حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:نبی کریم ا نے،آیت کریمہ ”وَفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ“ کی تفسیر میں ارشاد فرمایاکہ: جنت کے بستر زمین وآسمان کی درمیانی فاصلے کے برابر،یعنی پانچ سو سال کی مسافت کے برابر اونچے ہوں گے۔ رواہ الترمذی وقال حدیث حسن غریب.
(مشکوۃ:۷۹۴،ترغیب:۴/۵۹۲، حادی الارواح:۲۵۱)
ایک حدیث میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:رسول اللہا سے سوال کیا گیا کہ: آیت کریمہ ”وَفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ“ میں جس بستر کا ذکر کیا گیا ہے: وہ کتنے اونچے ہوں گے،آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:جنت کے بچھونے اتنے اونچے ہیں کہ:اگر اُس کے اوپر سے ایک بستر (دنیا کا) نیچے ڈالا جائے،تو اُس کو نیچے تک پہنچنے میں سو سال لگیں گے۔(رواہ الطبرانی،ترغیب:۴/۵۹۲،حادی الارواح:۲۵۱)
جنت میں جگہ جگہ ترتیب وقرینے سے قالینیں بچھی ہوں گی،توشک ومسند سجے ہوں گے،جنتی جس وقت جہاں چاہیں گے، آرام کرلیں گے،ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی تکلیف نہیں اٹھانی پڑے گی،سورہئ غاشیہ میں ارشاد ربانی ہے:”وَنَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ، وَزَرَابِیُّ مَبْثُوْثَۃٌ“(الغاشیۃ ۵۱-۶۱)اور غالیچے برابر بچھے ہوئے اور مخمل کے نَہالْچے جگہ جگہ پھیلے ہوئے (ہیں)(ترجمہ شیخ الہند)”نَمَارِقُ -نُمْرُقَۃٌ“ کی جمع ہے، معنی ہے:منقش گدے دار نرم ریشمی قالین؛اور ”زَرَابِیُّ-زُرْبِیَۃٌ“ کی جمع ہے، اِس کے معنی ہے، مخملی توشک،لغات القرآن کی تشریح کے مطابق،دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہوا کہ:جنت میں ہر طرف مزین ومنقش،نرم،گدے دار،ریشمی قالین ومَسْنَدْ نہایت ہی قرینے سے بچھے ہوں گے،اُس پر عمدہ قسم کے نفیس تکئے لگے ہوں گے،جنتی جب اور جہاں چاہے گا،اُن پرٹیک لگاکر آرام کرلے گا۔(ماخوذاز:لغات القرآن:۳/۲۳۱،۶/۶۹)

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں