جہاد کیا ہے؟

ہزرائل ہائی نیس پرنس غازی بن محمد

قسط نمبر 11

اور لڑو اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جو لڑتے ہیں تم سے۔ اور کسی پر زیادتی مت کرو۔ بیشک اللہ ناپسند کرتا ہے زیادتی کرنے والوں کو۔(البقرہ 190 : 2 )

             بظاہر یہ عجیب سا محسوس ہوتا ہے کہ قرآن میں جنگ کا ذکر ہو۔ کسی بھی مذہب سے جنگ کا تعلق حیران کن محسوس ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ کا ذکر بائبل میں بھی ہے اور دیگر مذہبی کتابوں میں بھی مثلاً بھگوت گیتا میں۔ مذہب کے نام پر متعدد جنگیں برپا ہوئی ہیں جن سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں تھا اسی طرح متعدد جنگیں ایسی بھی ہوئی ہیں جن کا کسی مذہب سے سروکار نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ تاریخ عالم کی ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ یہ معاشرے، سیاست اور انسانی فطرت کا جزو لاینفک ہے چونکہ جنگ میں لوگ مرتے ہیں، ایک دوسرے کا قتل کرتے ہیں اور اس سے بڑھ کر کوئی اہم معاملہ چونکہ نہیں ہوسکتا اس لئے اگر قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہ ہوتا تو یہ زیادہ عجیب معاملہ ہوتا۔ اللہ فرماتا ہے:

اور نہیں لاتے تیرے پاس کوئی مثل کہ ہم نہیں پہنچا دیتے تجھ کو ٹھیک بات اُس سے بہتر کھول کر۔(الفرقان 33 : 25 )۔

            اسلام نے جنگ کے موضوع پر براہ راست اور مفصل  گفتگو کی ہے۔ اس طرح اس نے جنگ کو کم از کم نقصان دہ اور تکلیف دہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ جنگ کا مقصود بہر کیف فتح ہوتا ہے لیکن اسلام نے جنگ کی قربانیوں کو رفعت بخشی ہے بالفاظ دیگر اسلام نے جنگ کے امکان کو کم از کم کرنے کی کوشش کی ہے اور اسے دینی زندگی کا جزو بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان جنگی جرائم کے دیگر مذاہب کے متبعین کے مقابلہ میں کم مرتکب ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں دوسری مثال غالباً ہندو مذہب کی ہے (دیکھئے ویب سائٹ، باڈی کاؤنٹ از نوید شیخ)۔

            مسلمان اپنی مذہبی اخلاقیات کے مطابق عمل کے پابند ہیں۔ بہر کیف اس کی بلا شبہ ضرورت ہے کہ جنگ کے معاملات پر کڑی نظر رکھی جائے اور اسے اخلاقیات کا تابع بنایا جائے۔ جنگ سے صرف نظر کرنا یا اس بارے میں کوئی قانون وضع نہ کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔

اصطلاح ‘جہاد’ کے معنی

            عربی سے ناواقف حضرات جہاد سے اسلامی مذہبی جنگ یا  مقدس جنگ مراد لیتے ہیں۔ یہ معنی صحیح نہیں ہیں اور اس سے جہاد کے بارے میں سنگین غلط فہمی پیدا ہوتی ہے اور اس سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ جہاد فی نفسہٖ ایک مقصود ہے جبکہ یہ ایک وسیلہ ہے۔ درحقیقت عربی زبان میں لفظ جہاد میں جنگ کا کوئی مفہوم شامل نہیں ہے۔ جنگ کے لئے عربی لفظ حرب ہے اور عسکری سیاق و سباق میں اس کے لئے لفظ قتال ہے۔ اصطلاح ‘جہاد’ مادہ ج ہ د سے مشتق ہے جس کے معنی جد و جہد کرنا یا کوشاں رہنا ہے۔ مختصراً جنگ جہاد کی اصل نہیں ہے۔

دو اقسام کے جہاد: جہاد اکبر اور جہاد اصغر

            قرآن و حدیث میں جہاد کا استعمال دو لحاظ سے ہوا ہے۔ لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جہاد دو قسم کا ہے۔

            پہلی قسم کے جہاد کا تعلق انا سے جنگ ہے جو انسان کے اندرون میں واقع ہوتی ہے۔ سبھی اہل ایمان سے یہ جنگ برپا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کیونکہ یہی روحانی زندگی کی اصل ہے۔ نبی اکرم محمدؐ کا قول ہے کہ ‘‘حقیقی مجاہد وہ ہے جو اتباع الٰہی کے لئے خود اپنے نفس سے جہاد کرے’’ (ابو داؤد، ترمذی اور احمد)۔ ایک اور حدیث کا مضمون یہ ہے ‘‘حقیقی مہاجر وہ ہے جو گناہ ترک کرے اور حقیقی مجاہد وہ ہے جو اپنے جذبات اور حساسات کے خلاف جہاد کرے’’ (حاکم)۔اصطلاح جہاد کے یہ مفہوم قرآن کی ان آیات میں مستعمل ہوئے ہیں:

سو تو کہنا مت مان منکروں کا اور مقابلہ کر ان کا اس کے ساتھ بڑے زور سے۔(سورہ الفرقان52 : 25 )

جو کوئی توقع رکھتا ہے اللہ کی ملاقات کی اللہ کا وعدہ آرہا ہے اور وہ ہے سننے والا جاننے والا۔( سورہ العنکبوت6 : 29 )   اور دیکھئے (78 : 22, 6 : 29, 8 : 29, 15 : 31, 9 : 66)

            جہاد کی یہ اعلیٰ ترین شکل ہے کہ یہ دشمن کے خلاف میدان جنگ میں جہاد سے برتر ہے۔ مؤخر الذکر جہاد اصغر ہے۔ نبی اکرمؐ کا قول ہے:

‘‘کیا میں تمہیں بہترین عمل کے بارے میں بتاؤں جو کہ تمہارے رب کی نظر میں تقویٰ کا بہترین مظہر ہے اور جو آخرت میں تمہارے مقامات بلند کرنے کا باعث ہوگا اور جو سونا اور چاندی خرچ کرنے سے تمہارے لئے بہتر ہے۔ یہ عمل دشمن کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور اُن کو زد و کوب کرنے یا خود زخمی ہوجانے سے بہتر ہے۔ صحابہ نے دریافت کیا بیشک آپؐ ہمیں اس بارے میں بتائیں۔ آپؐ نے فرمایا ذکر الٰہی وہ عمل ہے’’ ( مالک، المؤطا، ترمذی اور ابن ماجہ)۔

            جہاد اکبر کے لئے اوصاف درکار ہیں۔ مثال کے طور پر عزم، جہاد اکبر کا بھی جزو ہے اور میدان جنگ میں بھی اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ عزم کی بدولت ہی انسان خطرے کا مقابلہ کرتا ہے اور نہتا ہونے کے باوصف ڈٹے رہنے کا نام ہے۔ نبی اکرمؐ کا قول ہے: ’’بہترین جہاد ظالم اور جابر بادشاہ کے سامنے حق گوئی ہے‘‘ (ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ)۔ اپنی مثنوی کے دفتر اول سطریں 1395سے 1397 میں رومی کہتے ہیں:

‘‘میں نے میدان جنگ کی طرف پیٹھ کی اور اپنے آپ کو جہاد نفس میں مشغول کیا اس طرح ہم جہاد اصغر سے کوچ کرکے رسول اللہ کی صحبت میں شریک ہوتے ہیں۔ شیروں کے لئے میدان جنگ میں حملہ کرنا آسان ہے لیکن حقیقی شیر وہ ہے جو اپنی انا کو پاش پاش کرے’’۔

جہاد اکبر

جیسا کہ مذکور ہوا، جہاد اکبر نفس کے خلاف کاروائی کا نام ہے۔ اس جہاد کا مقصود تزکیہ نفس اور انا کو شکست دینا ہے، اس کی بنیاد اسلام میں ثبت ہے اور اس کے تقاضے ایمان اور احسان ہیں جن کا ذکر ہم نے باب دوم میں کیا ہے۔ اس جہاد کا مؤثر ترین ہتھیار ذکر الٰہی ہے جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے واضح ہے۔ اس کا ایک اور مقصود قلب سے زنگ دور کرنا ہے جس کے بارے میں ہم نے باب 8 میں گفتگو کی۔ جہاد اکبر کی تفصیلات ایک وسیع موضوع ہے اور انسان کی زندگی کا ایک اہم باب۔ جگہ کی قلت کے باعث ان کا احاطہ ممکن نہیں البتہ قرآن کی درج ذیل آیت جہاد اصغر پر بخوبی روشنی ڈالتی ہے:

اور جو کوئی ڈرا ہو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے اور روکا ہو اس نے جی کو خواہش سے۔ سو بہشت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔(سور النازعات 40-41 : 79)

            غزالی نے مذکورہ بالا اصول کی وضاحت اور جہاد اکبر کی اندرونی جہد و جہد کے بارے میں اس رائے کا اظہار کیا ہے:

ہر شخص میں چار اصولوں کا امتزاج ہوتا ہے، میری مراد یہ ہے کہ ہر شخص میں الٰہی اور شیطانی حملہ آور اور جنگلی جانوروں جیسی صفات پائی جاتی ہیں اور یہ سب کی سب قلب انسانی میں مجتمع ہوتی ہیں۔ بالفاظ دیگر انسان کے وجود میں سور، کتا، شیطان اور ایک عقلمند شخص پوشیدہ ہوتا ہے۔ سور بھوک کی علامت ہے، غصہ کتے کی۔ اپنی لالچ سے مجبور سور غلیظ اور حرام کاموں کی دعوت دیتا ہے۔ کتا اپنے غصہ کے ذریعہ ظلم و ستم اور غلط کاری کو فروغ دیتا ہے اور شیطان مستقل سور کی خواہشات اور کتے کے غصہ کو بھڑکاتا رہتا ہے۔ شیطان ان کے سامنے یہ افعال شنیعہ بڑی خوشگوار شکل میں پیش کرتا ہے اور پھر وہ ان کی جانب طبعی طور پر مائل ہوتے ہیں۔

ان کے برخلاف عقلمند انسان جو کہ عقل کا نمائندہ ہے وہ شیطان کے مکر و فریب پر قابو پاتا ہے اور اپنی بصیرت کی روشنی میں شیطان کے مکر و فریب کو بے نقاب کرتا ہے وہ سور کی لالچ کو ختم کرنے کے لئے کتے کو اس کا مالک بنادیتا ہے، خواہشات کی جڑ اسکا مالک غصہ کی مدد سے کاٹتا ہے۔ کتے کی خونخواری کو اس طرح قابو میں کیا جاتا ہے کہ سور کو اس کا مالک بنادیتے ہیں اور وہ اس کا تابع بن جاتا ہے۔ اگر کوئی عقلمند شخص یہ سب کرنے پر قادر ہو اور واقعتاً کرلے تو اس کا جسم انصاف اور تناسب سے عبارت ہوجاتا ہے اور وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوجاتا ہے البتہ اگر وہ ان پر قابو پانے میں ناکام رہے تو وہ پھر اس پر حاوی ہوجاتے ہیں پھر وہ اپنی تمام صلاحیتوں اور عقل کو سور کو کھلانے اور کتے کو خوش رکھنے میں صرف کردیتا ہے۔

یہ کیفیت اُن لوگوں کی ہوتی ہے جن کے لئے شکم اور جنسی افعال اور دوسروں سے حسد کرنا ہی اہم مصروفیات ہوتی ہیں (احیاء علوم دین، کتاب 21، قلب کے عجائبات، ص 5)۔

جہاد اصغر

            جہاد اصغر عسکری جہاد کے ہم معنی ہے۔یہ بعض شرائط کے تحت دشمن کے خلاف جنگ کرنے سے عبارت ہے۔ جہاد اصغر، جہاد اکبر کے تابع ہے۔ اللہ فرماتا ہے: ‘‘اے ایمان والو جب بھڑو کسی فوج سے تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم مراد پاؤ’’ (سورہ انفال 45 : 8)۔ ایک ضعیف حدیث میں یہ آتا ہے کہ ایک عسکری مہم کی واپسی پر رسول اکرمؐ نے فرمایا : ‘‘ہم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی جانب راجع ہیں، صحابہ نے دریافت کیا، یا رسول اللہ، جہاد اکبر کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا اپنے نفس کے خلاف جہاد، جہاد اکبر ہے’’ (سنن البیقہی، الخطیب البغدادی، تاریخ بغداد)۔

            یہ نکتہ اہم ہے کہ ہر شخص کو جہاد اکبر میں شرکت کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے برخلاف ہر شخص کو جہاد اصغر یعنی عسکری میدان میں موجود رہنے کا حکم نہیں ہے (دیکھئے النساء 95 : 4)۔ علماء اس سے مستثنیٰ ہیں (دیکھئے التوبہ 122 : 9)۔ بعض صورتوں میں جنگ میں شرکت والدین کی اجازت پر منحصر ہے۔ ایک شخص نبی اکرمؐ کے پاس جنگی جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لئے حاضر ہوا۔ آپ نے اس سے دریافت کیا کہ کیا اس کے والدین حیات ہیں؟ اُس نے اثبات میں جواب دہا تو آپؐ نے فرمایا کہ ان کی خدمت کرکے جہاد کرو’’ (بخاری)۔

جہاد اصغر کی شرائط کے اسباب

            اسلام میں جہاد اصغر ایک منصفانہ جنگ ہے، یہ نکتہ قرآن و سنت سے بالکل واضح ہے۔ تیرہ سال تک نبی اکرمؐ ظلم و ستم کا شکار رہے، آپؐ پر گالیوں کی بوچھار کی گئی، آپؐ کی توہین کی گئی، آپؐ کو دھمکیاں دی گئیں، آپؐ کا معاشرتی مقاطعہ کیا گیا اور آپؐ ہی کے قبیلہ نے آپؐ کو ہر طرح سے ایذا مکہ میں پہنچائی اس قصور میں کہ آپؐ اسلام کی تبلیغ کیا کرتے تھے جو ان پر نازل ہوا۔ آپؐ کے متبعین جن کا تعلق کمزور قبیلوں سے تھا ان کو ایذا دی گئی اور قتل تک کردیا گیا۔ آپؐ کے دشمنوں نے خود آپؐ کو بھی شہید کرنے کی کوشش کی اور آپؐ خفیہ طور پر مدینہ ہجرت کرگئے، وہاں بھی دشمنوں نے آپؐ کو نہیں چھوڑا اور مدینہ پر چڑھائی کی۔ اس پورے طویل عرصہ کے دوران، اللہ نے آپؐ کو دفاعی لحاظ سے بھی ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔ 2ھ میں بالآخر یہ وحی نازل ہوئی:

حکم ہوا اُن لوگوں کو جن سے کافر لڑتے ہیں اس واسطے اُن پر ظلم ہوا، اور اللہ اُن کی مدد کرنے پر قادر ہے۔ وہ لوگ جن کو نکالا گیا اُن کے گھروں سے اور دعویٰ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے اور اگر نہ ہٹایا کرتا اللہ لوگوں کو ایک کو دوسرے سے تو ڈھائے جاتے تکیے اور مدرسے اور عبادت خانے اور مسجدیں جن میں نام پڑھا جاتا ہے اللہ کا بہت اور اللہ مقرر کردے گا اُسکی جو مدد کرے گا اُس کی، بیشک اللہ زبردست ہے زور والا۔

(سورہ الحج 39-40 : 22)۔

ٍ            غرضیکہ کہ اسلام میں منصفانہ اور جائز جنگ ان شرائط سے منسلک ہے : ۱۔ حملہ پہلے ہوا ہو یا حملہ ہونے کا خدشہ ہو، ۲۔ ظلم ہوا ہو اور اس پر صبر کیا گیا ہو، ۳۔ اپنے گھروں اور سر زمین سے نکالے گئے ہوں، ۴۔ اللہ پر ایمان رکھنے کے باعث ظلم و ستم کا شکار بنے ہوں، ۵۔ اپنے مقامات مقدسہ کی تباہی ہوئی ہو، ان میں یہودیوں اور عیسائیوں کے مقامات مقدسہ بھی شامل ہیں اور ۶۔ جنگ کا اعلان باضابطہ حاکم نے کیا ہو تاکہ جہاد ایک اجتماعی کوشش ہو۔ یہ کسی کی انفرادی سرگرمی نہیں ہونی چاہئیے۔

            یہ امر کہ اللہ نے جہاد کی اجازت دی ہے نہ کہ اس کا حکم، ظاہر کرتا ہے کہ جنگ ایک خصوصی صورتحال ہے جس کے لئے الٰہی اجازت کی ضرورت ہے، اس کو پسندیدہ اسی لحاظ سے قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ دو اور بھی شرائط ہیں جن کی بنیاد پر فقہاء نے جنگ کے احکام مستنبط کئے ہیں، وہ اسباب یہ ہیں :

۱۔ مذہبی بنیاد پر ظلم و ستم کے شکار مردوں، عورتوں اور بچوں کا دفاع جو کہ مدد کے طالب ہوں (النساء 75 : 4) اور

۲۔ صلح ناموں کی عہد شکنی اور جارحیت (التوبہ 13 : 9)۔

غرضیکہ ان آٹھ اسباب کی بنا پر قرآن کے مطابق جنگ کا جواز ہے۔ یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ قرآن کی وہ تمام آیات جس میں جنگ کی اجازت یا جنگ کا حکم دیا گیا ہے ان میں چند شرائط کا ذکر ہے جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ اسلام میں جنگ دفاعی ہے، اسی طرح کم و بیش ہر قرآنی اقتباس میں امن قائم کرنے کا حتی الامکان حکم دیا گیا ہے۔ (دیکھئے غازی، کالن اور کمالی کی مرتبہ کتاب War and Peace in Islam: the Uses and Abuses of Jihad جس کا ذکر اس کتاب کے ضمیمے میں ہے)۔

ان سب کا مقصود یہ ہے کہ عسکری جہاد انتہائی سختی کے ساتھ صرف دفاعی مقصد، تحفظ، آزادیٔ مذہب اور ظلم و ستم کا شکار ہونے اور جلاوطن کئے جانے سے بچنے کے لئے ہے۔ یہ عسکری جہاد کی لازمی شرائط ہیں۔ مذہبی بنیاد پر فتح جہاد کا جواز نہیں ہے۔ اسی طرح تبدیلیٔ مذہب بھی جہاد کی بنیاد نہیں ہے۔ اس بات کو صراحت کے ساتھ اُن قرآنی آیات میں بیان کیا گیا ہے جو مدینہ میں نازل ہوئیں اور عسکری جہاد کی اجازت کے بعد۔ قرآن میں مذکور ہے کہ مذہب کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں (البقرہ 256 : 2)۔ یہ نکتہ مندرجہ ذیل آیت میں بھی نمایاں ہے:

اور لڑو اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے جو لڑتے ہیں تم سے، اور کسی پر زیادتی مت کرو، بیشک اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے زیادتی کرنے والوں کو۔(البقرہ 190 : 2)۔

            مختصراً عسکری جہاد ایک منصفانہ اور جائز جنگ ہے۔ قرآن نے اس کا اعلان ٹامس ایڈمنس کے نظریۂ جنگ سے 600 سال قبل ہی کردیا تھا۔

جہاد اصغر کا مقصود

ہر عسکری قائد اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ فتح کے تصور کے بغیر کوئی جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔ فتح کے واضح تصور کے بغیر عسکری سرگرمی بے معنیٰ ہے۔فتح کا تصور دشمن کی عسکری اور صنعتی صلاحیتوں یا اس کی قوت مدافعت کو ختم کرنا ہوسکتا ہے۔ کبھی کبھی دشمن کی فوج کو یکسر تباہ کردینا اس لحاظ سے خسارے کا باعث ہوتا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ کوئی دوسرا دشمن نمودار ہو اور پھر دونوں فریقوں کو زیر کردے۔ عام طور سے جنگ کا مقصد سیاسی ہوتا ہے یا دشمن کے رویہ میں تبدیلی لانا یا اُس کو صلح پر مجبور کرنا، غرضیکہ  جہاد کا مقصود بالکل واضح ہونا چاہئیے۔ یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ جہاد کا مقصد یا جہاد کا سبب دو مختلف امور ہیں، ان دونوں کے درمیان فرق واضح نہ ہونے سے بھیانک نتائج اور غیر ضروری جنگ ممکن ہے۔

ہر چند کہ یہ نکتہ سب پر عیاں نہیں ہے لیکن علماء نے جہاد کا مقصود واضح کردیا ہے۔ اللہ فرماتا ہے: ‘‘اور لڑو اُن سے یہاں تک کہ باقی نہ رہے فساد اور حکم رہے خدا  تعالیٰ ہی کا، پھر اگر وہ باز آئیں تو کسی پر زیادتی نہیں مگر ظالموں پر’’ (سورہ البقرہ 193 : 2)۔ اس آیت میں مذکور جہاد وہ ہے جب کہ جنگ مسلمانوں پر تھوپ دی گئی تھی، تب بھی ساتویں صدی عیسوی کے صحرائے عرب میں اسے دفاعی جنگ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو فتح کے تصور سے بھی روشناس کیا گیا ہے۔ فتح جہاد کا باعث نہیں تھی، فتح کے بغیر ہی اگر دشمن کی درخواست ہو تو صلح کی جاسکتی ہے۔ صلح فریقین کی مفاد میں ہوتی ہے۔ اللہ فرماتا ہے: ‘‘اور لڑو اُن سے یہاں تک کہ باقی نہ رہے فساد اور حکم رہے خدا  تعالیٰ ہی کا، پھر اگر وہ باز آئیں تو کسی پر زیادتی نہیں مگر ظالموں پر’’ (سورہ البقرہ 193 : 2)۔ صلح حدیبیہ کا پس منظر اور واقعات اس کا بیّن ثبوت ہیں۔ صلح حدیبیہ میں نبی اکرمؐ نے دشمن سے ایک سیاسی معاہدہ کیا تھا۔ اللہ فرماتا ہے :‘‘اور اگر وہ جھکیں صلح کی طرف تو تُو بھی جھک اسی طرف اور بھروسہ کر اللہ پر بیشک وہی ہے سننے والا جاننے والا۔ (سورہ الانفال61 : 8 )۔

جہاد اصغر اقدامی ہے یا مدافعانہ

جہاں تک اقدامی جنگ کا تعلق ہے اس سے کیا مراد ہے۔ اقدامی جنگ سے مراد یہ ہرگز نہیں کہ باقاعدہ جنگ سے قبل ایسے حملے اس دشمن کے خلاف کئے جائیں جس نے مسلمانوں کو قید کررکھا ہو یا اُن کو دھمکی دی ہو یا حملے کا ارادہ ظاہر کیا ہو۔ اقدامی جنگ سے مراد وہ جنگ ہے جو غیر مسلموں یا اُن کے اتحادیوں کے خلاف کی جائے اور جس کا مقصود فتح ہو۔

عسکری جہاد کے مقصود کے متعلق مذکورہ وضاحت کے باوصف بعض کلاسیکی فقہاء مثلا ابن تیمیہ اور بیشتر اندلسی علماء اقدامی جہاد کا ذکر کرتے ہیں اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ مختلف قوموں پر پابندی کے ساتھ حملہ کیا جائے، یہی تصور بیسویں صدی کے بعض اسلامی اہل قلم کے ہاں بھی پایا جاتا ہے مثال کے طور پر سید قطب اور کچھ معاصر اصولی مخالف حضرات کے یہاں بھی مثلا ابو مصعب الثوری دیکھئے ان کی کتاب Global Islamic Resistance Call [2005])۔ اس کے برخلاف امام ابو حنیفہ، مالک ابن انس، احمد ابن حنبل، سفیان الثوری، الاوزاعی اور شافعی علماء کی اکثریت مذہبی امتیاز کی بنیاد پر جہاد کی قائل نہیں۔ اسی طرح بیسویں صدی کے عظیم اصولی علماء جن کا تعلق مختلف مذاہب سے ہے مثلاً شیخ الازھر محمود شلتوت، وہبہ زہیلی، محمد سعید البوطی، عبداللہ ابن البیّا، علی جمّہ جنھوں نے جہاد کے موضوع پر کتابیں تحریر کی ہیں وہ اس امر کے قائل ہیں کہ جہاد بہر صورت دفاعی ہے۔ ساتویں صدی کے عرب کے نقشے پر نظر ڈالنے سے یہ اندازا ہوتا ہے کہ مکہ اور مدینہ کے مابین 320 یا 340 کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ یہ امر معروف ہے کہ 622ء میں نبی اکرمؐ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی۔ اونٹ کی پشت پر سوار لوگوں کے لئے یہ فاصلہ بہت زیادہ تھا، اُس دور میں محض اونٹ کی سواری تھی، ان سب کے باوصف پہلی تین جنگیں یعنی بدر، احد اور خندق سب کی سب مدینہ کے مضافات میں واقع ہوئیں۔ اہل مکّہ اتنی طویل مسافت طے کرکے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے مدینہ آئے تھے۔ بالفاظ دیگر اہل مکہ اس پر تلے ہوئے تھے کہ نبی اکرمؐ اور ان کے متبعین کو روئے زمین سے پاک کردیا  جائے، ہر چند کہ آپؐ اور آپؐ کے صحابی مکہ سے رخصت ہوچکے تھے۔ اس سے یہ ظاہر ہے کہ اہل مکہ حملہ آور تھے اور نبی اکرمؐ دفاعی جنگ کررہے تھے۔ اہل مکہ کے حلیفوں مثلاً سلیم اور غطفان قبیلوں کے خلاف جھڑپوں کا مقصد اہل مکہ کے بڑے حملے کو روکنا تھا۔ مزید برآں، مدینہ کے یہودی قبائل کے خلاف اور پھر بعد میں خیبر میں اُن کے حلیفوں کے خلاف وہ جنگیں تھیں جن میں اہل مدینہ کے ساتھ یہودیوں نے غداری کی تھی۔ تحریری دستور اور مسلمانوں کے ساتھ معاہدے کے باوجود انھوں نے مدینہ شہر کے ساتھ غداری کی تھی۔ جہاں تک تبوک اور موتا میں بازنطینیوں کے خلاف مہم کا تعلق ہے یہ امر قابل لحاظ ہے کہ بازنطینی سلطنت ایک توسیع پسند سیاسی سلطنت تھی جس نے مسلمانوں کی سرزمین کی ہر طرف سے مورچہ بندی کی تھی اور وہ مسلم علاقوں کو فتح کرنے اور اپنی سلطنت میں ضم کرنے کے درپے تھے، غرضیکہ سیرت مبارکہ میں کسی اقدامی جنگ کی مثال نہیں ملتی، اسی طرح پہلے تین خلفائے راشدین نے ایرانی، ساسانی سلطنت کے خلاف نبی اکرمؐ کی وفات کے بعد جو جنگ کی وہ بھی ایک توسیع پسند سلطنت کے خلاف تھی جس نے 614ء میں یروشلم پر قبضہ کرلیا تھا اور جو جنوبی عرب پر اقتدار قائم کرنے کے درپے تھی۔ کم و بیش یہی کیفیت بازنطینیوں اور ان کے حلیفوں کی بھی تھی۔

اس سے قبل کے باب میں ہم نے یہ تذکرہ کیا کہ مجلس اقوام عالم کے قیام سے قبل 1920ء میں مختلف قوموں کے درمیان سیاسی تعلقات کی نوعیت طاقتور حکمرانی سے عبارت تھی اور زیادہ تر یہ قومیں فعّال طور پر ایک دوسرے کے خلاف جنگ برپا کرنے میں مصروف رہتیں۔ منگولوں کے حملے کے درمیان ابن تیمیہ نے یہ لکھا کہ مختلف سرحدوں پر بھیانک جنگوں کا دور ہے۔ یہ وہ دور تھا جبکہ کوئی بھی شخص جس کے پاس قابل لحاظ فوج ہوتی وہ اپنے مرضی کے مطابق جہاں چاہتا حملہ کردیتا اور کوئی اس کو روکنے والا نہ ہوتا۔ جو قوم اپنا دفاع کرنے پر قادر نہیں ہوتی وہ تباہ و برباد ہوجاتی۔ اس سیاق و سباق میں یہ نکتہ بالکل واضح ہے کہ اُس دور میں اقدامی اور دفاعی جبگ میں کوئی امتیاز نہیں تھا کیونکہ ساری قومیں بیک وقت حملہ کرنے میں  مصروف رہتیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض کلاسیکی مسلم فقہاء کی تحریروں   میں اقدامی اور دفاعی جنگوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں ملتی لیکن اقوام متحدہ کے قیام کے بعد دنیا کے تمام ممالک میں تعلقات برضا و رغبت امن کی بنیاد پر ہیں اور سارے ممالک ایک معاہدے کے پابند ہیں لہٰذا اقوام متحدہ کے قیام کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی۔ اقوام متحدہ کے میثاق کا پہلا باب درج ذیل ہے جس میں اقوام متحدہ کے مقاصد کا ذکر ہے:

‘‘بین الاقوامی سطح پر امن و امان قائم رکھنا اور اس مقصد کے لئے مؤثر اجتماعی اقدامات کرنا تاکہ امن کے خلاف کوئی خطرہ باقی نہ رہے اور جارحیت اور نقص امن کے تمام افعال پر قدغن عائد کرنا تاکہ انصاف اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی قائم رہے اور اسی مقصد کے لئے بین الاقوامی تنازع کو حل کرنا اور ایسی صورتحال کو رونما نہ ہونے دینا جس سے امن و امان کو خطرہ درپیش ہو’’۔

            آج کی صورتحال یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر امن باہمی معاہدوں کے باعث قائم ہے۔ اسی لئے وہ کلاسیکی فقہاء جو جہاد کو اقدامی جنگ سے تعبیر کرتے تھے وہ بھی آج کے دور میں کسی اقدامی جہاد کی تائید نہیں کریں گے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے:‘‘اے اہل ایمان، اپنے عہد و پیمان پورے کرو’’ (سورہ المائدہ  1 : 5) اور الاسراء 34 : 17) وغیرہ۔ بالفاظ دیگر چونکہ تمام ممالک کے مابین امن کا عہد موجود ہے لہٰذا آج کے دور میں واحد جہاد صرف دفاعی جہاد ہے جو اس صورت میں ہے کہ جب مسلمانوں پر حملہ کیا جائے اور ان کو اپنے وطن سے نکال دیا جائے یعنی مذکورہ بالا آٹھ شرائط کے مطابق۔

جہاد اصغر کے پس پشت نیت

            جہاد اصٖغر کی برکات سے سب مسلمان واقف ہیں۔ نبی اکرمؐ کا قول ہے کہ ‘‘جہاد اکبر کے بعد جہاد اصغر سے بہتر کوئی عمل نہیں’’۔ آپؐ نے فرمایا : ‘‘عبد اللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ بہترین عمل کیا ہے؟ آپؐ نے جواب دیا کہ نماز کو اول وقت پر ادا کرنا۔ انھوں نے پھر دریافت کیا کہ اس بعد خیر کے لحاظ سے دوسرا بہترین عمل کیا ہے؟ آپؐ نے جواب دیا کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کی خدمت بطور فرض کرنا۔ میں نے پھر دریافت کیا کہ اگلا عمل کون سا بہتر ہے؟ آپؐ نے جواب دیا کہ اللہ راہ میں عسکری جہاد میں شریک ہونا’’ (بخاری)۔

            قرآن کی متعدد آیات مسلمانوں کو یہ تاکید کرتی ہیں کہ جب ضرورت پڑے وہ عسکری جہاد میں حصہ لیں مثال کے طور پر اللہ فرماتا ہے :‘‘کیوں کر رہے ہو صلح اور اگر وہ تم پر قابو پائیں تو نہ لحاظ کریں تمہاری قرابت کا اور نہ عہد کا، تم کو راضی کردیتے ہیں اپنے منہ کی بات سے اور اُن کے دل نہیں مانتے اور اکثر اُن میں بد عہد ہیں’’ (سورہ التوبہ8 : 9 )۔ اسی طرح اللہ کا فرمان ہے:

اللہ نے خرید لی مسلمانوں سے اُن کی جان اور اُن کا مال اس قیمت پر کہ ان کے لئے جنت ہے، لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں پھر مارتے ہیں اور مرتے ہیں، وعدہ ہوچکا اُس کے ذمّہ پر سچّا توریت اور انجیل اور قرآن میں اور کون ہے قول کا پورا اللہ سے زیادہ سو خوشیاں کرو اُس معاملے پر جو تم نے کیا ہے اُس سے اور یہی ہے بڑی کامیابی۔(سورہ التوبہ 111 : 9 )۔

            مذکورہ آیات میں جنگ و جدال اور قتل و خون کا حکم نہیں ہے گو کہ اسلام مخالف عناصر اور دور حاضر کے جہادی اس کا یہی مطلب نکالتے ہیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو اجر عطا کرے گا جو اس کی راہ میں انتہائی قربانی دینے کے لئے تیار ہوں۔ جہاں تک انجیل کی تلمیح کا معاملہ ہے حضرت  عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ ہیں : ‘‘اس سے بہتر اور کوئی محبت نہیں کہ آدمی اپنے دوستوں کے لئے اپنی جان نثار کردے’’ (جان13 : 15 )۔ غرضیکہ عسکری جہاد کے لئے اعلیٰ اور ارفع مقصد لازمی ہے۔ جہاد کا سبب ہی یہ متعین کرناہے کہ جہاد کیسے کیا جائے اور یہ اللہ کو قابل قبول ہوگا یا نہیں، نیت بنیادی شرط ہے۔ اللہ فرماتا ہے :‘‘اور یہ کہ آدمی کو وہی ملتا ہے جو اس نے کمایا’’ (سورہ النجم 39 : 53 )۔ نبی اکرمؐ نے اس نکتہ کی وضاحت اس طور پر کی:

‘‘یوم آخرت میں سب سے پہلا فیصلہ اس شخص کا ہوگا جس کی موت بطور شہید ہوئی، اس کو سامنے لایا جائے گا اور اللہ اس پہ اپنے انعامات ظاہر کرے گا جس کا وہ اعتراف کرے گا، اس سے دریافت کیا جائے گا کہ تم نے ان نعمتوں کا کیا کیا، جس کے جواب میں وہ کہے گا کہ میں آپ کے واسطے لڑا یہاں تک کہ میں مارا گیا اس پر اللہ کہے گا تم جھوٹ بولتے ہو، تم اس لئے لڑے تاکہ لوگ یہ کہیں کہ تم بہت بہادر اور جانباز ہو، اور ایسا ہی ہوا۔ اس کے بعد اس شخص کو چہرے کے بل گھسیٹا جائے گا اور نار جہنم میں پھینک دیا جائے گا’’ (مسلم)۔

            بالفاظ دیگر شہادت اور شہید حب اللہ کے باعث ہیں۔ وہ اپنے خیر اور قربانی کے لحاظ سے عظیم ہیں اس میں کسی سے نفرت یا انتقام کا دخل نہیں۔ جہاد کی نیت کے لئے لازم ہے کہ محبت، خیر، جانبازی اور اپنے آپ کی قربانی کی نیت  سےہو۔ اس میں غصہ، نفرت، غرور، خوں آشامی اور عسکری تجربہ کا گزر نہیں۔ ہم سپاہیوں اور قائدین کی تعریف اور توصیف کرتے ہیں نہ کہ قاتلوں کی۔ عسکری جہاد درحقیقت ایک خیر کے مقصد کے لئے جنگ ہے اس میں دہشت گردی کا کوئی گزر نہیں۔ جہاد اصغر کو سلیقہ سے نباہنا چاہئیے۔

جہاد اصغر کا ضابطۂ اخلاق

عسکری جہاد کے دوران کیا ضابطۂ اخلاق ہونا چاہئیے۔ جہاد کے مقصود کے ساتھ ساتھ یہ ضابطۂ اخلاق بھی بہت اہم ہے۔ یہ نکتہ قابل لحاظ ہے کہ اسلام نے یہ ضابطۂ اخلاق اس وقت وضع کیا جب کہ کسی اور تہذیب نے جنگ کے بارے میں اس طرح  کا کوئی ضابطہ تجویز نہیں کیا تھا۔ اسلام کا ضابطۂ اخلاق جنگ میں شریک نہ ہونے والے افراد کے تحفظ اور حتی کہ میدان جنگ کے باہر جنگ پر تیار لوگوں کے تحفظ سے متعلق ہے۔ اس ضابطۂ اخلاق کی ساری تفصیلات کا بیان یہاں ممکن نہیں۔ بعض متعلقہ احادیث درج ہیں:

‘‘کسی ضعیف بوڑھے شخص کو یا کسی بچہ کو یا کسی نوجوان کو یا کسی عورت کو قتل نہ کرنا’’ (ابو داؤد)۔ ‘‘دھوکہ دہی سے کام نہ لینا، نہ مال غنیمت چرانا، لاشوں کی بے حرمتی نہ کرنا اور بچوں اور مذہبی طبقہ کے افراد کو قتل مت کرنا’’ (احمد)۔

‘‘جنگ میں سختی اور شدت نہ اختیار کرو۔ مکر و فریب سے مت کام لو اور لاشوں کی بے حرمتی نہ کرو‘‘ (مسلم اور ترمذی)۔

            فتح مکہ کے دن نبی اکرمؐ نے فرمایا :

‘‘جو لوگ پسپائی اختیار کریں انہیں قتل مت کرو اور نہ انہیں زخمی کرو اور انہیں کسی اعتبار سے نقصان نہ پہنچاؤ، جو کوئی اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے وہ محفوظ ہے’’ (مصنف ابن ابی شیبہ)۔

            جہاں تک جنگی قیدیوں کا معاملہ ہے، اللہ فرماتا ہے :‘‘سو جب تم مقابل ہو منکروں کے تو مارو گردنیں یہاں تک کہ جب خوب قتل کرچکو اُن کو تو مضبوط باندھ لو قید پھر یا احسان کیجیو اور یا معاوضہ لیجیو جب تک کہ رکھ دے لڑائی اپنے ہتھیار، یہ سُن چکے اور اگر چاہے اللہ تو بدلہ لے اُن سے پر جانچنا چاہتا ہے تمہارے ایک سے دوسرے کو، اور جو لوگ مارے گئے اللہ کی راہ میں تو نہ ضائع کرے گا وہ اُن کے کئے کام’’ (سورہ محمد 4 : 47)۔ اللہ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ جنگی قیدیوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کیا جائے اور ان کی عزت نفس اور وقار کو ملحوظ رکھا جائے:

اور کھلاتے ہیں کھانا اُس کی محبت پر محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو۔

(الانسان 8 : 76)۔

جہاد اصغر کے باوصف غیر مسلموں سے تعلقات

            اللہ کا قول ہے :

اللہ تم کو منع نہیں کرتا اُن لوگوں سے جو لڑے نہیں تم سے دین پر اور نکالا نہیں تم کو تمہارے گھروں سے کہ اُن سے کرو بھلائی اور انصاف کا سلوک، بیشک اللہ چاہتا ہے انصاف والوں کو۔ (سورہ الممتحنہ 8 : 60)۔

            پیغام بالکل واضح ہے کہ جب لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ نہ کررہے ہوں اور ان کا ایسا کوئی ارادہ نہ ہو تو مسلمانوں کو ان کےساتھ حسن سلوک کرنا چاہئیے، انصاف کا برتاؤ کرنا چاہئیے اور یہ حسن اخلاق ہر ایک کے لئے ہے۔ نبی اکرم نے اس کی مزید تفصیل فراہم کی ہے:

‘‘قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کوئی اللہ کا بندہ جب تک اپنے پڑوسی کے لئے وہ نہ پسند کرے جو وہ اپنے لئے پسند نہیں کرتا اس کا ایمان پختہ نہیں’’ (مسلم)۔

            اس نکتہ کا اعادہ ضروری ہے کہ پڑوسی میں ہر ایک داخل ہے خواہ اس کا مذہب کچھ بھی ہو اور وہ کہیں بھی مقیم ہو کیونکہ نبی اکرمؐ کا فرمان ہے کہ ‘‘لوگوں کے لئے وہ پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو’’ (احمد)۔ قرآن کی ہدایت ہے :

اور بندگی کرو اللہ کی اور شریک نہ کرو اس کا کسی کو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور قرابت والوں کے ساتھ اور یتیموں کے ساتھ اور فقیروں اور ہمسایہ قریب اور ہمسایہ اجنبی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور اپنے ہاتھ کے مال یعنی غلام اورباندیوں کے ساتھ، بیشک اللہ کو پسند نہیں آتا اترانے والا اور بڑائی کرنے والا۔(سورہ النساء 36 : 4)۔

            تفسیر الجلالین کے مطابق قریبی پڑوسی سے مراد  وہ ہے جو جائے قیام یا خاندانی تعلقات کے لحاظ سے قریب ہو اور دور اور اجنبی پڑوسی سے مراد وہ ہے  جس کے اور تمھارے درمیان  قیام کے لحاظ سے یا خاندانی تعلقات کے لحاظ فاصلہ بعید ہو۔ تفسیر قرطبیکے مطابق بھی یہی تفسیر ہے۔ غرضیکہ پڑوسی سے مراد روئے زمین پر بسنے والا ہر انسان ہے اس سے قطع نظر کہ وہ کتنے فاصلہ پر ہے اور وہ مسلمان ہے یا نہیں۔

            لہٰذا یہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے پڑوسی سے ایسی محبت کریں کہ ان کے لئے وہ پسند کریں جو اپنے لئے پسند کریں کیونکہ نبی اکرمؐ کا قول ہے :

‘‘جو اللہ پر اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے اُس کو اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کا سلوک کرنا چاہئیے’’ (مسلم)۔

            اس طرح بائبل کے دوسرے حکم کے مساوی اسلامی حکم بھی پایا جاتا ہے کہ اپنے پڑوسی سے ایسی محبت کرو جیسے اپنے آپ سے کرتے ہو۔ (میتھیو22 :40  اور مارک 12 : 13)۔ اسی سے مشابہ یہ قول زریّن بھی ہے کہ جیسا سلوک تم دوسروں سے چاہتے ہو ویسا ہی سلوک تم ان کے ساتھ بھی کرو، یہی انبیاءکا ضابطہ بھی ہے۔ (میتھیو 7 : 12 اور لوک 6 : 31)۔ بائبل اور اسلام کے احکام میں فرق صرف یہ ہے کہ اسلام میں احسان کے عمل پر زور دیا گیا ہے اور بائبل میں محبت کے جذبے کو اجاگر کیا گیا ہے۔

            جہاں تک دوسروں کے ساتھ احسان کا سلوک کرنے کا تعلق ہے یہی ہمارے تخلیق کیئےجانے کا باعث ہے۔

اے آدمیو! ہم نے تم کو بنایا ایک مرد اور ایک عورت سے اور رکھیں تمہاری ذاتیں اور قبیلے تاکہ آپس میں پہچان ہو، تحقیق عزّت اللہ کے یہاں اُسی کو بڑائی جس کو ادب بڑا، اللہ سب کچھ جانتا ہے خبردار۔(سورہ الحجرات 13 : 49)۔

            اللہ نے ایک کثیر تعداد میں قومیں اور قبیلے تخلیق کئے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ احسان کا برتاؤ کرنے سے ہم اُن سے متعارف ہوتے ہیں۔ اُن سے متعارف ہونے کے بعد یہ ہمارا فرض ہے اُن کے ساتھ اختلاف نہ کریں بلکہ اپنے معاشرے کے بہترین مفاد میں باہمی تعاون کریں۔ مزید برآں، باہمی تعارف سے ہم اپنے آپ سے بخوبی واقف ہوتے ہیں جیسا کہ اس سے قبل مذکور ہوا، عرفان ذات سے عرفان الٰہی میں مدد ملتی ہے اور عرفان الٰہی کے باعث ہم اس کی بہتر عبادت پر قادر ہوتے ہیں اور یہی ہماری تخلیق کا مقصود ہے۔ اس اعتبار سے لوگوں میں تنوع، تخلیق کا ایک سبب ہے۔ درحقیقت مذکورہ بالا آیت میں یہی اسلوب اپنایا گیا ہے کہ جس سے یہ سبب واضح ہوتا ہے۔ مزید برآں، عرفان ذات سے انسان کے تقوی اور احسان کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کا تعلق انسان کے اعمال، اُس کے اقتدار، مال و دولت، شہرت سے نہیں ہے بلکہ مرکزی نکتہ اس کا تقویٰ اور احسان ہے۔

ان سب کا علم کیوں ضروری ہے؟

            غیر مسلموں کے لئے جہاد سے زیادہ ہولناک لفظ غالباً کوئی نہیں۔ لہٰذا جہاد کے تصور سے واقفیت بہت ضروری ہے۔ اولاً یہ علم ہونا لازمی ہے کہ جہاد کوئی مقدس جنگ نہیں ہے۔ مسلمان جنگ کو مقدس تصور نہیں کرتے۔ اُن کے مطابق جنگ حد سے حد ایک وسیلہ ہے، یہ مقصود بہر کیف نہیں ہے اور بطور وسیلہ بھی اس کا ایک متعین مقام ہے۔ بالفاظ دیگر جہاں تک ممکن ہو امن و سلامتی برقرار رہنا چاہئیے اور جنگ زیادہ سے زیادہ امن و سلامتی کو محفوظ رکھنے کا وسیلہ ہے۔ جنگ کے ذریعہ امن و سلامتی قائم نہیں ہوسکتی۔ یہ علم بھی ضروری ہے کہ عسکری جہاد ایک منصفانہ جنگ ہے جو کہ دفاعی اقدام کے اصول پر مبنی ہے۔ یہ علیحدہ معاملہ ہے کہ گمراہ نوجہادیوں نے اس جہاد کے غلط معنی لئے ہیں۔ عسکری جہاد ایک ملّی سرگرمی ہے جس کا فیصلہ ریاست اپنی قیادت کے ذریعہ لیتی ہے۔ چند ناراض نوجوان یا افراد یا گروہ جو اپنے آپ کو فوج سے تعبیر کرتے ہوں وہ جہاد شروع کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ اس انداز کا جہاد صرف انتشار، بد امنی پر منتج ہوتا ہے اسی باعث شریعہ نے اس کی سختی سے ممانعت کی ہے۔ عسکری جہاد کا بھی ایک ضابطۂ اخلاق ہے، اس کے اہداف ہیں اور طریقۂ کار۔ یہ دہشت گردی، بربریت یا حیوانیت کی کوئی شکل نہیں۔ اسلام کے تصور جہاد میں ان میں سے کسی کی مطلق اجازت نہیں۔ اصولی طور پر یہ نکات خواہ کتنے ہی درست ہوں لیکن آج پوری دنیا روزانہ جاہل اور گمراہ نوجوانوں کے ایسے اعمال کا مشاہدہ کررہی ہے جو اپنے بدترین اعمال کو جہاد سے منسوب کرتے ہیں اور اُس پر فخر بھی کرتے ہیں اللہ فرماتا ہے:

بھلا ایک شخص کہ بھلی سجھائی گئی اُس کو کام کی بڑائی، پھر دیکھا اُس نے اُس کو بھلا، کیونکہ اللہ بھٹکاتا ہے جس کو چاہے اور سُجھاتا ہے جس کو چاہے، سو تیرا جی نہ جاتا رہے اُن پر پچھتا پچھتا کر اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کرتے ہیں۔(سورہ الفاطر  8 : 35)۔

            مزید برآں، یہ علم بھی ضروری ہے کہ جہاد کا مقصود بدلہ، انتقام، یا مہم جوئی نہیں ہونا چاہئیے۔ دور جاہلیت میں ما قبل اسلام کے دور میں یہ جنگ کے مقاصد تھے، اس کے برخلاف جہاد کا مقصد اعلیٰ اور ارفع ہے۔ یہ فرض عزّت، وقار، قربانی، عزم، اور حب اللہ اور پڑوسیوں کے حقوق کی حفاظت سے عبارت ہے۔ صرف اسی صورت میں جہاد اللہ کے لئے قابل قبول ہے۔ غرضیکہ جہاد ایک منصفانہ جنگ ہے جس کے پس پشت ایک اعلیٰ مقصد ہوتا ہے۔ دنیاوی منافع کی اس میں کوئی گنجائش نہیں۔ یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ جہاد نہ ہونے کی صورت میں مسلمان اس مذہبی حکم کے پابند ہیں کہ وہ سب لوگوں کے ساتھ نیکی، انصاف اور احسان کے ساتھ پیش آئیں یہی کیفیت برقرار رہنی چاہئیے۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں