جہنم میں اعمال سیۂ کی بنا پر سلسلۂ تعمیر

مولانا شوکت علی قاسمی بھاگلپوری




روایات سابقہ سے یہ تو معلوم ہوا کہ: خاص خاص اعمال کے بدلے جنت میں تعمیر کا سلسلہ جاری رہے گا،مگر تلاش بسیار اور بعض اکابر سے رجوع کے باوجود ،ایسی کوئی روایت نہیں مل سکی ،جس میں اس بات کی صراحت ہو کہ: بعض گناہوں کی وجہ سے جہنم میں کوئی عمارت تعمیر کی جائے گی، اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا،بڑے غور و فکر اور بعض احباب و اکابر کے توجہ دلانے سے ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ ہو سکتا ہے کہ :برے اعمال کی بنا پر جہنم میں سلسلۂ تعمیر کے جاری رہنے سے ،علامہ ابن العربی کی مراد جہنم میں عذاب کی مختلف چیزوں کو تیار کرنا ہو، اور جنت کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ سے علامہ موصوف نے اُنہیں بھی تغلیبا بناسے تعبیر کر دیا ہو،اگر ناظرین میں سے کسی کو ایسی روایات معلوم ہو ں، یا دوران مطالعہ کہیں مل جائے ،تو برائے کرم راقم الحروف کو مطلع فرمائیں ، آپ حضرات کا بڑا احسان ہو گا، اور اگراس فکر میں کوئی غلطی نظر آئے تو از راہ نصیحت وخیر خواہی اصلاح فرمائیں ورنہ کم از کم دامن عفو میں جگہ عطا کر کے شاکرو ممنون فرمائیں ،اور اس نالائق ورو سیہ کی اصلاح حال کے لئے دعا فرمائیں بڑا کرم ہو گا ۔بہر کیف حقیقتِ حال خدا ہی کو معلوم ہے، اگر علامہ ابن العربی کی مراد یہی ہے، جو بندہ نے سمجھا ہے تو آیات و روایات میں اس کے دلائل موجود ہیں، بطور نمونہ قرآن و حدیث کے چند اقتباسات پیش ہیں ملاحظہ فرمائیے:
بخیل کے مال کو گلے کا ہاربنایاجانا
قرآن کریم میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ: قیامت کے دن بخیل کے مال کو زہریلا سانپ بناکرہار کی طرح بخیلوں کے گلے میں ڈال دیا جائے گا،ارشاد خداوندی ہے:
وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَآ اآ تَاھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ھُوَخَیْراً لَھُمْ بَلْ ھُوَ شَرٌّ لَھُمْ ط سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ القِیٰمَۃِ وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ ( آل عمران:۱۸۰ )
ترجمہ:اور نہ خیال کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس چیز پر، جو اللہ نے ان کو دی ہے، اپنے فضل و کرم سے کہ: یہ بخل بہتر ہے ان کے حق میں، بلکہ یہ بہت برا ہے ان کے حق میں ، طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا ان کے گلوں میں ،وہ مال جس میں بخل کیا تھا، قیامت کے دن، اور اللہ وارث ہے آسمان و زمین کا ،اور اللہ جو کرتے ہو سو جانتا ہے ۔
(ترجمہ شیخ الہند)
فائدہ:اس آیت کریمہ میں بتلا دیا گیا کہ: یہود و منافقین جیسے جہاد کے موقع سے بھا گتے ہیں، مال خرچ کر نے سے بھی جی چراتے ہیں، لیکن جس طرح جہاد سے بچ کر، دنیا میں چند روز کی مہلت حاصل کر لینا ،اُن کے حق میں کچھ بہتر نہیں ،ایسے ہی بخل کر کے بہت مال اکٹھا کر لینا بھی کو ئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا ،اگر دنیا میں فرض کر و کو ئی مصیبت پیش نہ بھی آئی ،تو قیامت کے دن یقیناًیہ جمع کیا ہوا مال، عذاب کی صورت میں اُن کے گلے کا ہار بن کر رہے گا، اس میں مسلمانوں کو بھی کھٹکھٹا دیا کہ :زکوۃ دینے اور ضروری مصارف میں خرچ کر نے سے کبھی جی نہ چرائیں ،ورنہ جو شخص بخل وحرص وغیرہ رذیل خصلتوں میں یہود و منافقین کی روش اختیار کرے گا، اُسے بھی اپنے درجے کے موافق اسی طرح کی سزا کا منتظر رہنا چاہئے، چنانچہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ مانعین زکوۃ کا مال سخت زہر یلے سانپ کی صورت میں متمثل کر کے ان کے گلے میں ڈالا جائے ۔واللہ اعلم (فوائد عثمانی)
بخاری شریف میں ہے:
حدیث(۲۳):۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ قَالَ:’’قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا: مَنْ اٰتَاہُ اللّٰہُ مَالاً فَلَمْ یُؤَدِّ زَکٰو تَہٗ مُثِّلَ لَہٗ مَالُہٗ یَوْمَ القِیٰمَۃِ شُجاعاً اَقْرَعَ، لَہٗ زَبِیْبَتَانِ یُطَوَّقُہٗ یَوْمَ القِیٰمۃِ،ثُمَّ یَأْخُذُ بِلَہْزِ مَتَیْہِ یَعْنِیْ بِشِدْ قَیْہِ ثُمَّ یَقُوْلُ:اَنَا مَالُکَ،اَنَا کَنْزُکَ ’’ ثُمَّ تَلاَ ھٰذِہٖ الاٰیَۃَ ‘‘ وَلَا یَحْسَبَنَّ الّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا اٰتٰھُمْ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ الاٰیَۃَ‘‘ (بخاری زکوۃ:۱/ ۱۸۸،رقم:۱۴۰۳، تفسیر:۲/۶۵۵،رقم:۴۵۶۵)وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہٗ عَنْہُ اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِا یَقُوْلُ:’’ یُکَوَّنُ کَنْزُ اَحَدِکُمْ یَوْمَ القِیٰمَۃِ شُجَاعاً اَقْرَعَ‘‘(بخاری :۲/۶۷۲؛رقم: ۴۶۵۹،ترمذی:۲/۱۲۶،رقم: ۳۰۱۲)وَزَادَ اَبُوْ نُعَیْمٍ فِیْ مُسْتَخْرَجِہٖ ’’یَفِرُّ مِنْہٗ صَاحِبُہٗ وَیَطْلُبُہٗ اَنَاکَنْزُکَ فَلَا یَزَالُ بِہٖ حَتّٰی یُلْقِمَہٗ اِصْبَعَہٗ‘‘ (قسطلانی ،کذا فی حاشیۃ تفسیر البخاری:۲/۶۷۲؛رقم: ۴۶۵۹حاشیۃ :۳)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد مروی ہے کہ: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال و زر عطا فرمایا، مگر اس نے زکوۃ ادا نہیں کی، تو قیامت کے دن اس کا مال و زر گنجے سانپ میں تبدیل کر دیا جائے گا، جن کی آنکھوں پر سیاہ نقطے ہوں گے ،وہ سانپ اس شخص کے گلے میں ہار بنا کرڈالا جائے گا، اور وہ سانپ اس شخص کی دو بانچھیں پکڑ کر کہے گاکہ: میں تیرا مال ہوں ،میں تیرا خزانہ ہوں ،اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ: ’وَلایَحْسَبَنَّ الّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَآ اآ تٰھُمْ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ الاٰیۃ‘‘تلاوت فرمائی، اور ایک روایت میں ہے کہ :سانپ دیکھ کر وہ شخص بھا گے گا یہاں تک کہ: اس کو پکڑ کر اس کے ہاتھ کی انگلیوں کو منہ میں دبا لے گا۔
تنبیہ:گنجے سانپ کا مطلب یہ ہے کہ: اس کے سر پر بال نہیں ہوں گے ،اور یہ گنجا پن سانپ کے بہت زیادہ زہریلا ،اور عمر دراز ہو نے کی علامت ہے ۔



Facebook Comments

POST A COMMENT.