جہنم کی وسعت

مولانا شوکت علی قاسمی بھاگلپوری
ایک حدیث میں جنت و جہنم کی وسعت اس طرح بیان کی گئی ہے:
حدیث(۱۲):۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ غَزَوَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَال:َ ذُکِرَلَنَا اَنَّ الحَجَرَ یُلْقٰی مِنْ شَفَۃِ جَھَنَّمَ فَیَھْوِیْ فِیْھَا سَبْعِیْنَ خَرِیْفاً،لا یُدْرِکُ لَھَا،قَعْراً وَاللّٰہِ لَتُمْلَاَنَّ،وَلَقَدْ ذُکِرَ لَنَا اَنَّ مَا بَیْنَ مِصْرَاعَیْنَ مِنْ مَصَارِیْعِ الجَنَّۃِ ، مَسِیْرَۃُ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً، وَلَیَأْتِیَنَّ عَلَیْھَا یَوْمٌ وَھُوَ کَظِیْمٌ مِنَ الزِّحَامِ رواہ مسلم۔
(مشکوۃ شریف:۴۹۷ صفۃ الجنۃ و اھلھا)
حضرت عُتْبہ بن غَزَوَان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ: ہم سے حضور اقدس ا کا یہ ارشاد بیان کیا گیا ہے کہ :اگر دوزخ کے اوپرلے کنارے سے کوئی پتھر دوزخ میں گرایا جائے، اور ستر برس تک نیچے لڑھکتا رہے، تب بھی دوزخ کی تہ تک نہیں پہنچ سکے گا ،مگر خدا کی قسم (جہنم اتنی وسیع اور گہری ہو نے کے باوجود کافروں سے )پوری کی پوری بھر جائے گی، پھر عتبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور ہم سے حضور اقدس ا کا یہ ارشاد بھی ذکر کیا گیا ہے کہ : جنت کے ہر دروازے کے دونوں بازؤں کے درمیان چالیس برس کی مسافت کا فاصلہ ہے ، اس کے باوجود ایک دن ایسا آئے گا کہ ہر دروازہ (اتنی وسعت و کشادگی کے باوجود)لوگوں کی بھیڑ کی وجہ سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہو گا۔ (مسلم شریف)
ایک حدیث میں وارد ہے:
حدیث(۱۳):۔عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الخُذْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ: ’’لَسُرَادِقُ النَّارِ اَرْبَعَۃُ جُدُرٍ کِثَفُ کُلِّ جِدَارٍ مَسِیْرَۃُ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ‘‘ رواہ الترمذی۔(مشکوۃ شریف ؍۵۰۴ صفۃ الجنۃ والنّار)
ٍ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایا کہ:’’جہنم (اتنی وسیع و عریض ہے کہ:اُس)کے احاطے کے لئے چار دیواریں ہوں گی، جن میں سے ہر دیوار کی چوڑائی چالیس برس کی مسافت کے برابر ہو گی (ترمذی) اسی طرح جہنم کی وسعت و کشادگی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ: ایک ایک جہنمی کی جسامت انتہائی طویل و عریض ہو گی حدیث پاک میں وارد ہے:
حدیث(۱۴):۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ رَسُوْلُ اللہِا: ’’ضِرسُ الکَافِرِ یَوْمَ القِیَامَۃِ مِثْلُ اُحُدٍ وَفَخِذُہٗ مِثْلُ البَیْضَاءِ وَ مَقْعَدُہٗ مِنَ النَّارِ مَسِیْرَۃَ ثَلٰثٍ مِثْلَ الرَّبَذَۃِ ‘‘رواہ الترمذی۔
(ترمذی رشیدیہ :۲/۸۱؛رقم:۲۵۷۸،مشکوۃ شریف :۵۰۳صفۃ الجنۃ والنّار )
حضرت ابو ہریرہ ص سے مروی ہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایاکہ: قیامت کے دن کا فر کی ڈاڑھ (دوزخ میں )احد پہاڑ کے برابر ،اس کی ران بیضاء (پہاڑ)کے برابر اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ تین دن کی مسافت کے برابر ہو گی، جیسا کہ (مدینہ منورہ سے )ربذہ کی(مسافت ) ہے۔ (ترمذی)
ایک حدیث میں جہنمیوں کی جسامت اس طرح بتائی گئی ہے :
حدیث(۱۵):۔’’عَنِ ابْنِ عُمَرَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ : یَعْظُمُ اَھْلُ النَّارِ فِیْ النَّارِ، حَتٰی اَنَّ مَا بَیْنَ شَحْمَۃِ اُذُنِ اَحَدِ ھِمْ اِلٰی عَا تِقِہٖ مَسِیْرَۃُ سَبْعِ مَاءَۃِ عَامٍ وَاَنَّ غِلَظَ جِلْدِہٖ سَبْعُوْنَ ذِرَاعاً،وَاَنَّ ضِرْسَہٗ مِثْلُ اُحُدٍ رواہ احمد فی مسندہ۔(مشکوۃ شریف :۵۰۴ صفۃ النار واھلھا )
حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما سے حضور اقدس ا کا ارشاد مروی ہے کہ: دوزخ میں دوزخیوں کے بدن بہت بڑے بڑے ہو جائیں گے (جس سے ان کو عذاب زیادہ معلوم ہو گا )صرف کا ن کی لو سے کاندھوں تک کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت کے برابر ہو گا ،اس کی کھال کی موٹائی ستر گز کے برابر ہو گی، اور اس کے دانت اُحُد پہاڑ کے برابرہوں گے۔(مسند احمد)
سوال:۔
جب جہنمی کے صرف کان اور کندھے کی درمیانی مسافت اتنی طویل ہو گی کہ: سات سوسال کے بقدر فاصلہ ہو گا ،تو اس سے پوری جہنم کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے ،کہ وہ بہت بڑی اور بے انتہاء طویل و عریض ہو گی، اور جنت و جہنم کے طول و عرض کی کوئی انتہاء نہیں تو بھلا اتنی وسیع و عریض چیز چھوٹی سی دیوار کے سامنے کس طرح ممثل اور مُشَکَّل ہو کر آگئی؟
جواب ۱:۔
شراح حدیث نے اس اشکال کا جواب کئی طرح سے دیا ہے، پہلا جواب یہ ہے کہ: اس حدیث پا ک میں تمثیل بمعنی شکل و صورت نہیں تمثیل بمعنی عکس ہے، اور کسی چیز کے عکس و تمثیل کے لئے یہ ضروری نہیں ہو تا کہ: وہ شئی کے اصل طول و عرض کے ساتھ منعکس ہو، اس کوبطور مثال اس طرح سمجھئے کہ: ایک پیالہ پانی یا چھوٹے سے آئینے میں کسی بڑے باغ یا محل کا جو عکس نظر آتا ہے، وہ پورے محل کا عکس ہو تا ہے ،مگر باغ یا محل کے اصل طول و عرض کے ساتھ ہر گز نہیں ہو تا، اور سوچنے کی بات ہے کہ: بھلا اتنا بڑا باغ یا محل ایک چھوٹے سے آئینہ یا ایک پیالہ پانی میں اپنے پورے حجم کے ساتھ منعکس ہو بھی کیسے سکتا ہے؟ جب کہ یہ بات بھی طے ہے کہ :کوئی بھی عقلمند انسان اس عکس کو ادھورا نہیں کہتا ہے ،یہی حال حدیث بالا کا بھی سمجھنا چاہئے۔
جواب ۲:۔
دوسرے جواب کا حاصل یہ ہے کہ: حدیث پا ک کے متعلقہ الفاظ سے یہ لاز م نہیں آتا کہ: جنت کی تصویر و تمثیل یا عکس دیوار پر نقش و کندہ ہو گئی ہویا چھپ گی ہو ،بلکہ ان الفاظ میں ’’ان کی تمثیل کو دیوار کی جانبس میں دیکھنے کا ذکر ہے ‘‘جس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ : وہ تمثیل آپ ا کو دکھا ئی تو گئی ہو دیوار کی سَمت میں، مگر حقیقت میں اُن تمثیلوں کا وجود اِس دنیا میں نہ ہو، کسی اور عالم یا جگہ میں ہو، جیسا کہ ایک دوسری حدیث کے الفاظ سے بھی یہی ظاہر ہو تا ہے ،مسلم شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہی حدیث ان الفاظ سے آئی ہے :
حدیث(۱۶):۔عُرِضَتْ عَلَیَّ الجَنَّۃُ والنَّارُ اٰنِفاً فِیْ عُرْضِ ھٰذَا الحَاءِطِ ، فَلَمْ اَرَ کَالْیَوْمِ فِیْ الخَیْرِوَالشَّرِّ وَلَوْ تَعْلَمُوْنَ مَااَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلاً وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیْراً۔ (مسلم :۲/۲۶۳،رقم:۲۳۵۹،مرقاۃ فیصل:۱۰/۳۶۲)
میرے سامنے ابھی ابھی جنت و جہنم اِس دیوار کی جانب میں پیش کی گئی، اور حقیقت یہ ہے کہ میں نے آج تک اس جیسی خیر و شر کی چیز نہیں دیکھی ،اور اگر تمہیں وہ چیز معلوم ہو جائے جو میں جانتا ہوں، تو تم ہنسنا کم کر دو، اور تمہارا زیادہ تر وقت رونے میں گزرے۔
جواب: ۳۔
بعض علماء نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ حضور اقدس ا کے اس ارشاد گرامی کہ:’’مجھے نماز ہی میں جنت و جہنم کی تمثیل و شبیہ دکھائی گئی ‘‘کا مطلب یہ نہیں ہے کہ: ظاہری آنکھ سے دکھائی گئی ،بلکہ اس فرمان سے حضور اقدس ا کی مراد یہ تھی کہ: میں نے اپنی روحانی آنکھوں سے جنت و جہنم کی تمثیل دیکھی، جب کہ میں اپنی قبلہ کی جانب میں تھا ، اور جب روحانی آنکھوں سے دیکھنے کے معنی مراد لے لئے تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ : وہ اشکال ہی پیدا نہیں ہو تا ہے ۔واللہ اعلم (مرقاۃ :۱۰/۳۷۴، التعلیق الصبیح: ۶/۴۵۷ مظاہر حق قدیم و جدید: ۷/۲۵۶)
حدیث بالا سے پتہ چلتا ہے کہ: جنت و جہنم موجود ہیں، کیونکہ اصل شئی کے وجود کے بغیر اس کے لئے عکس و تمثیل ثابت نہیں ہو تی، منطق کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ:’’ثبوتِ شئی لِشئیٍ فرع ہے مُثْبتْ لَہٗ کے ثبوت کی ‘‘یعنی کسی چیز کے لئے کوئی دوسری چیز اسی وقت ثابت ہو سکتی ہے جب کہ وہ شئی پہلے سے موجود ہو ۔ (حاشیہ عقیدہ الطحاوی : ۱۲۱)



 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں