حاکمِ شہر ہی جب شہر کا قاتل ہوجائے

محمد طارق قاسمی لکھیم پوری 

قلبِ  مضطر  یہ  بھلے طائرِ بسمل  ہو جائے
کم ہے جتنی بھی تڑپ عشق میں حاصل ہوجائے


پھر  تو  باتوں  میں  اثر  دیکھنے   لائق  ہوگا
ناصح اپنی ہی نصیحت پہ جو عامل ہوجائے


جھوٹ اور مکر میں حاصل ہو مہارت جس کو
کیا تماشہ ہے  سیاست میں وہ کامل ہو جائے


حور و غلماں سے بھی راحت نہ ملے گی دل کو
دید جب تک  نہ  تری ، خلد  میں حاصل ہوجائے


کوئی فریاد کرے بھی تو بھلا کس سے کرے
حاکمِ  شہر  ہی  جب شہر  کا  قاتل  ہو جائے


جو کسی  ٹوٹے  ہوئے  دل سے  نکل کر آئے
وہ صدا کیسے  نہ  ہنگامہء محفل ہو جائے


ہو  ترقی  کا  اگر  شوق تو کیا مشکل ہے
ایک  ٹوٹا  ہوا  تارہ   مہِ  کامل  ہو جائے

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں