حضرت عائشہ ؓ کا بچپنے میں نکاح حضرت ابو بکرؓ کا جذبہ عشق تھا

مولانا ثمیر الدین قاسمی مانچسٹر انگلینڈ  

حضرت مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب دامت برکاتہم ، حدیث کے ماہر ہیں ، ان کا ہمیشہ طریقہ یہ رہا ہے کہ صرف آیت اور حدیث ہی سے استدلال کرتے ہیں ، اور اسی سے مسئلہ ثابت کرتے ہیں
چنانچہ ، پوری اثمار الھدایہ ، پوری الشرح الثمیری ، پوری ثمرۃ النجاح میں تین تین حدیثیں سیٹ کیں، اسی طرح ثمرۃ العقائد میں ۳۵۰ عقائد لکھے اور ہر ہر عقیدے کے لئے دس دس آیتیں ، اور دس دس حدیثیں لائے ٹھیک اسی طرح حضرت عائشہؓ کے بچپنے میں نکاح کے سلسلے میں صرف حدیثوں سے استدلال کیا ہے
اہل علم کے لئے یہ بڑا تحفہ ہے اس سے استفادہ کریں ، اور ادارے کے لئے دعا کریں 
اس مضمون میں 15 حدیثیں ہیں
ادارہ 

آج کل بہت اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ کی نکاح چھ سال کی عمر میں کیوں کرایا ، اور نو سال میں رخصی کیو ں کر دی 
اور اس سے بڑا اعتراض یہ کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کی عمر اس وقت ۵۴ سال کی تھی ، تو ایک چھوٹی سی بچی کو ایک عمر دراز آدمی کے حوالے کیسے کیا ، کیا یہ بچی پر ظلم نہیں ہے ؟ 
اور نعوذ باللہ اس سے یہ ثابت کرتے ہیں ہے کہ حضور ؐ عیاش تھے 
اس پورے مضمون میں احادیث سے ثابت کیا جائے گا کہ یہ نکاح کیوں ہو گیا ،اور یہ بھی ثابت کیا جائے گا کہ حضور ؐ ہر گز ہر گز عیاش نہیں ہیں ، بلکہ بڑی مصلحت کے تحت یہ نکاح ہوا ہے 

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جذبہ عشق 
انبیاء کرام کے بعد دنیا میں اتنا بڑا سچا عاشق کوئی اور نہیں گزرا ہے جتنا حضرت ابو بکر صدیقؓ تھے ، انہوں نے ہر چیز حضور ﷺ پر قربان کردی ، اور آخر اپنی چھوٹی سی بچی کا بھی نذرانہ پیش کر دیا، یہ بات کہنا بہت آسان ہے لیکن کر گزرنا بہت مشکل ہے 
حضرت ابو بکر صدیقؓ نے یہ حدیث سنی کہ آخرت میں کوئی نسب ، یا کوئی رشتہ کام نہیں آئے گا ، لیکن حضور ؐ کا رشتہ کام آئے گا ، اب حضرت ابو بکرؓ نے دیکھا کہ میں تو حضور کے رشتہ میں کوئی نہیں ہوں ، میں انکے قریبی خاندان کا بھی نہیں ہوں تو قیامت میں میرا کیا ہو گا ، ، اب دیکھا کہ ایک ہی راستہ ہے کہ میں اپنی بچی کو حضور کے نکاح میں دے دوں ، اور کل قیامت میں حضور ؐ کا خسر بن جاؤں ، یہ ایک بہترین طریقہ ہے جس سے میں حضور کے رشتہ میں داخل ہو جاؤں گا 
اس سوچ کے آتے ہی انہوں نے دیر نہیں کی ، یہ عشق اتنا تیز ہوا کہ ہجرت سے سال پہلے ہی نکاح کر دیا ، اور جلد سے جلد حضور کے رشتے میں شامل ہو گئے 
اس لئے یہ کہا جائے گا کہ یہ صرف نکاح نہیں تھا بلکہ حضرت ابو بکرؓ کی ذوق جنوں کی تکمیل تھی ، ایک باپ کو ہی یہ جنون تیار ہو[ ، اور بہت ہی اچھا جنون ہو ] تو ہم جیسے بے عشقوں کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے 

حضرت ابو بکر رضی اللہ نے یہ حدیث صھر ی سنی تھی 
حضرت ابو بکرؓ نے یہ حدیث سنی تھی کہ قیامت میں حضور کا رشتہ کام آئے گا ۔ حدیث یہ ہے 
1۔۔۔ ولکن رسول اللہ قال ۔۔۔و ان الانساب یوم القیامۃ تنقطع غیر نسبی و سببی و صھری ۔ ( مسند احمد ، حدیث المسور بن مخرمۃ الزھری ، جلد ۳۱، ص ۲۰۷، نمبر ۱۸۹۰۷) 
ترجمہ : حضور ؐ نے فرمایا کہ قیامت کے روز تمام نسب منقطع ہو جائیں گے ، سوائے میرے نسب کے ساتھ جن کا تعلق ہے ، یا میری رشتہ جن کے ساتھ ہو ، یا میر ے ساتھ دامادگی کا رشتہ ہے ، وہ کام آئیں گے 
جیسے ہی یہ حدیث حضرت ابو بکرؓ نے حضور ؐ کے مبارک منہ سے سنی تو دیکھا کہ حضور ؐ کے نسب کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں ہے ، کیونکہ حضرت ابو بکر قریش کے تو تھے لیکن دور کے نسب کے تھے ، تو انہوں نے فورا یہ سوچا کہ میں ان کے ساتھ رشتہ داری کا تعلق قائم کر لوں ، اور صھر ، یعنی دامادگی کا رشہ قائم کر لوں ، اور اس کی ایک صورت ہے کہ میں اپنی بچی چاہے چھوٹی ہی صحیح حضور ﷺ کے نکاح میں دے دوں ، اور میں حضور خسر بن جاوں ، اور رشتہ دار بن جاؤں ، تاکہ یہ رشتہ داری مجھے قیامت میں کام آئے 
یہ سوچ کے آتے ہی حضرت ابو بکرؓ نے ایک دن کی بھی تاخیر نہیں کی ، اور فورا اپنی بیٹی کا نکاح حضور ﷺ سے کر دیا 
یہ ہے حضرت ابو بکرؓ کے رشتہ داری کا وہ شوق جس کی وجہ سے اس ننی منی بچی کی کا نکاح ہوا ہے

ع 
دو عالم سے بیگانہ کرتی ہے دل کو عجب چیز ہے لذت آشنائی 

یہ خیال بالکل غلط ہے کہ نعوذ باللہ حضور ؐ نے شوق میں نکاح کیا ، جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں وہ بالکل غلط خیال کرتے ہیں 

یہ نکاح تو خود اللہ نے کروایا ہے تو بندے کو اعتراض کا کیا حق ہے 

حضور ؐ تو بالکل نہیں چاہتے تھے کہ ابھی اس بچی سے نکاح ہو لیکن دو مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام اللہ کا پیغام لیکر آئے کہ حضرت عائشہ آپ کی بیوی ہے ، ان کا باپ پیغام لیکر آئے تو بچپنے کی وجہ سے انکار نہیں کیجئے گا ، اشارے اشارے میں ہاں کر دیجئے گا ، اس میں بہت ساری مصلحتیں چھپی ہوئی ہیں ، جو صرف اللہ جانتے ہیں 
جب خدا ہی بار بار نکاح کرنے کا حکم دیں تو بتائے کہ حضور ؐکس طرح انکار کرتے ۔ اس حکم خداوندی کے باوجود کوئی اعتراض کرتا ہے تو وہ اللہ اور رسول کے راز و نیازسے واقف نہیں ہے 

اس حدیث میں ہے کہ دو بار اشارہ کیا گیا کہ حضرت عائشہؓ سے نکاح کر لیں 
2۔۔۔عن عائشۃؓ ان النبی ﷺ قال لھا أریتک فی المنام مرتین اری أنک فی سرقۃ من حریر و یقول ھذہ امرأتک فأکشف فاذا ھی أنت فأقول ، ان یک ھذا من عند اللہ یمضہ ۔ ( بخاری شریف ، کتاب مناقب الانصار ، باب تزویج النبی ﷺ عائشۃ و قدومھا المدینۃ و بناۂ بھا ، ص ۶۵۵، نمبر۳۸۹۵) 
ترجمہ : حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضور ؐ نے حضرت عائشہؓ سے کہا مجھے دو مرتبہ خواب میں تم کو دکھلایا گیا ،میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ریشم کے ایک ٹکڑے میں ہو ، اور یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ تمہاری بیوی ہو گی ، جب میں نے اس کو کھولا تو وہ ، تم ہی تھی ، تو میں نے دل میں کہا اگر یہ بات اللہ کی جانب سے مقدر ہے تو ہو کر رہے گی ۔ 
یہ یاد رہے کہ نبی کا خواب وحی ہوتی ہے ، اس لئے گویا کہ آپ کو وحی کے ذریعہ یہ بات دو مرتبہ بتائی گئی کہ حضرت عائشہ حضور ؐ کی بیوی ہو گی ۔ اس لئے جب اللہ نے حضرت عائشہؓ کا نکاح کروایا تو ہم اور آپ کو اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے ۔ 

ام رومانؓ حضور ؐ کے گھر کا کام جی بھر کے کر سکے 
جس وقت حضرت عائشہؓ کی شادی ہوئی اس وقت حضور کے گھر میں صرف حضرت سودہ بنت زمعہؓ تھیں ، جو بیوہ تھیں ، اور ان کی عمر اس وقت ۵۵ سال تھی ، کیونکہ حضور ؐ کی عمر اس وقت ۵۱ سال تھی اور حضرت سودہ حضور ؐ سے بڑی تھیں ، اس لئے ان کی عمر ۵۵ سال سے کم نہیں رہی ہو گی 
حضرت سودہ بنت زمعہ ہماری سب کی ماں ہیں اس لئے ان کا احترام ضروری ہے ، لیکن یہ بات احترام کے ساتھ کہنی پڑتی ہے کہ حضرت سودہ بھولی ، اور سیدھی خاتون تھی۔ ، حدیث میں ان کے بھولے پن کے کئی قصے مذکور ہیں ۔ اور حضور ؐ کو تبلیغ کے لئے باہر جانا پڑتا تھا ، اس لئے گھر کا کام اس وقت اتنا اچھا نہیں چل رہا تھا جتنا خانہ نبوت میں چلنا چاہئے ، حضرت ابو بکر نے دیکھا کہ گھر کا کام دھیما چل رہا اس لئے حضرت ابو بکرؓ نے جلدی سے اپنی بچی کا نکاح کر دیا ، تاکہ ان کی اہلیہ حضرت ام رومان داماد کے گھر میں بے تکلفی کے ساتھ جا سکے ، اور گھر کا پورا کام کر سکے 
گھر کا پورا کام حضرت عائشہ کی ماں کرے یہ بھی بڑی وجہ تھی اس جلدی شادی کی ، صرف ہم بستری کرنا ہی نکاح کا مقصد نہیں ہوتا ، بلکہ گھر کا کام کاج کرنا بھی نکاح کی وجہ ہوتی ہے ، اور یہاں جلدی شادی کی ایک بڑی وجہ بھی یہی تھی ۔ اعتراض کرنے والوں کو اس نکتے پر بھی غور کرنا چاہئے ،

عرب میں بچپنے میں نکاح کر دینے کا رواج تھا 
یہ تو جب سے کالج پڑھنے کا رواج ہوا ، اور بے پناہ جہیز لینے کا رواج ہوا تب سے شادی کرنے میں تاخیر کرنے لگے ہیں ، کیونکہ کالج اور یونیورسیٹی کی پڑھائی میں ۲۲ سال کی عمر گزر جاتی ہے ، پھر تلاش کرنے میں دو سال گزر جاتا ہے ، اس لئے ۲۴ سال کے بعد ہی شادی ہوتی ہے ، اور یورپ میں تو تیس تیس سال کے بعد شادی کر پاتے ہیں، اور اس سے پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں حرام کاریوں میں ڈوب چکے ہوتے ہیں ۔ الامان و الحفیظ۔

ہمارے دیہات میں سات سال کی عمر میں شادی ہوجاتی تھی 
ہمارے دیہات میں عموما ۱۰ سال کی عمر میں شادی ہوتی تھی ، ۱۳ سال کی عمر میں رخصتی ہو جاتی تھی ، میری بھانجی کا نکاح صرف چار سال کی عمر میں ہوئی تھی ، میرے بہنوئی نے بچی کو اپنی گود میں لیکر خود بہنوئی نے نکاح پڑھا تھا ، کیونکہ بچی صرف چار سال کی تھی ، میرے گاؤں میں بھی کئی واقعات ہوئے کہ صرف چار سال کی بچی کا نکاح ہوا اور نکاح اس کے باپ نے پڑھا 
ہمارے بچپنے میں پورے علاقے میں ہندو اور مسلم کا یہ رواج تھا کہ سات سال میں شادی ہوتی ، اور تین سال کے بعد تین بچھرا [ یعنی تین سال میں ] گونا ہوتا ، یعنی رخصتی ہوتی ، پھر چودہ سال کی عمر میں پہلی بیداگی ہوتی [ یعنی دوسری رخصتی ہوتی ] ، پھر پندرہ سال کی عمر میں ، دوسری بیداگی ہوتی ، پھر سولہ سال کی عمر میں لڑکی سسرال میں بستی ، یعنی دیر تک رہنے لگتی ، یہ میرے علاقے کا رواج تھا اور میں اس کا شاہد ہوں ، اس لئے بچپنے میں شادی کوئی نئی بات نہیں ہے 
عرب میں بچیوں کی شادی بوڑھوں سے کر دینے کا رواج تھا 
عرب میں یہ رواج تھا کہ جوان لڑکیوں کی شادی عمر دراز بوڑھوں سے کر دینے میں کوئی عیب نہیں سمجھتے تھے ، یہ تو ہمارے یہاں یہ عیب کی چیز ہے 
چنانچہ حضرت عمرؓ کی عمر ساٹھ سال کی تھی اور انہوں حضرت فاطمہؓ کی بیٹی ام کلثوم سے شادی کی ، اس وقت ان کی عمر ۱۷ سال کی تھی 
اس کے لئے حدیث یہ ہے 
3۔۔۔سمعت نافعا ۔۔۔ و وضعت جنازۃ ام کلثوم بنت علی امرأۃ عمر بن الخطاب و ابن لھا یقال لہ زید وضعا جمیعا و الامام یومئذ سعید بن بن العاص ۔ ( نسائی شریف ، کتاب الجنائز ، باب اجتماع جنائز الرجال و النساء ، ص ۲۷۸، نمبر ۱۹۸۰) 
ترجمہ ۔ نافع ؒ سے سنا ہے کہ ۔۔۔ام کلثوم بنت علیؓ جو حضرت عمرؓ کی بیوی تھیں ان کا جنازہ ، اور ان کے بیٹے زید کا جنازہ ایک ساتھ رکھا گیا ، اور ان دونوں کی امامت سعید بن عاصؓ نے کی 
اس قول صحابی میں ہے کہ ام کلثوم بن علیؓ ، حضرت عمر ؓ کی بیوی تھیں اس وقت حضرت عمرؓ کی عمر تقربیا ۵۸ سال تھی ، اور ام کلثوم کی عمر ۱۶ سال تھی ۔
اس لئے حضور کی عمر ۵۱ سال کی ہو اور حضرت عائشہؓ کی عمر چھ سال ہو اور ان کے باپ نے نکاح کر دیا تو یہ تعجب کی بات نہیں ہے ، عرب میں سیکڑوں ایسے نکاح ہوتے تھے کہ لڑکی عمر بہت کم ہے ، اور شوہر کی عمر زیادہ ہے ۔ اور یہاں تو سردار جہاں سے نکاح کرنا تھا اس لئے حضرت ابو بکرؓ نے ایک منٹ کی بھی تاخیر نہیں کی ، اور عمر کو نہیں دیکھا 
عرب میں آج بھی بوڑھے لوگ جوان لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں ۔
حضرت عائشہؓ کی رخصتی کرنے میں بھی 
حضرت ابو بکرؓ کا جذبہ عشق تھا 

حدیث کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ حضور ؐ اتنی جلدی رخصتی کرنا نہیں چاہتے تھے ، لیکن حضرت ابو بکرؓ اور ان کی بیوی ام رومان حضور ؐ کے گھر کو اپنا گھر سمجھتے تھے، بلکہ اپنے گھر سے بھی زیادہ اہمیت دیتے تھے ، اس لئے حضور ؐ کے گھر میں کوئی کمی ہو اس کو برداشت نہیں کرتے تھے 
حضرت ابو بکرؓ دیکھ رہے تھے کہ گھر میں ۶۰ سال کی حضرت سودہ ہیں جو بھولی بھالی ہیں ،ان سے گھر کا پورا کام نہیں ہو رہا ہے ، حضور کے گھر میں حضرت فاطمہ ؓ بھی تھیں جن کی عمر اس وقت نو ۔ دس سال ہی تھی ، ان کی حفاظت ، اور ان کا تعاون بھی ایک مسئلہ تھا ، حضور روزانہ تبلیغ میں جاتے تھے ، اور لوگ آپ کے گھر پر مہمان بن کر آتے تھے ، ان کے کھانے پینے کا انتظام ، ان کی مہمان نوازی بھی ایک مسئلہ تھا 
اس لئے حضرت ابو بکرؓ نے چاہا کہ میری بیٹی کی رخصتی ہو جائے گی تو کچھ کام حضرت عائشہؓ کر لے گی ، کیونکہ نو سال کی بچی ذہین ہو تو کافی کام کر لیتی ہے ، اور بڑی بات یہ ہو گی کہ ان کی ماں ام رومانؓ بے محابہ حضورؓ کے گھر میں جائے گی ، اور گھر کا پورا کام سنبھال لے گی ، اب اس سوچ کے آتے ہی حضرت ابو بکر مچل پڑے ، اور حضور ؐ سے کہا کہ آپ رخصتی کیوں نہیں کرتے ، تو حضور ؐ نے فرمایا کہ میرے پاس مہر دینے کی رقم نہیں ہے ، تو حضرت ابو بکرؓ نے فورا مہر کے لئے ساڑھے بارہ اقیہ ، یعنی 500 درہم حضور ؐ کو پیش کر دی ، اور حضور ؐ نے جیسے ہی اس کو لیا تو ام رومان نے کسی کو خبر بھی نہیں دی ، بلکہ خود حضرت عائشہ کی بھی نہیں بتایا اور بلا کر رخصتی کر دی 
اس کے لئے اس حدیث کو دیکھیں 
4۔۔۔عن عائشۃؓ انھا سئلت متی بنی بک رسول اللہ ﷺ ؟ ۔۔۔قال ابو بکر : یا رسول اللہ ﷺ ما ما یمنعک ان تبنی بأھلک ؟ فقال رسول اللہ ﷺ [[الصداق ]] فأعطاہ ابو بکر اثنتی عشرۃ اوقیۃ و نشأ فبعث بھا رسول اللہ ﷺ الینا و بنی بی رسول اللہ ﷺ فی بیتی ھذا ۔ ( مستدرک للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابۃ ، باب ذکر الصحابیات من ازواج النبی ﷺ ، ج ۴، ص ۶، نمبر ۶۷۱۶) 
ترجمہ : حضرت عائشہؓ کو پوچھا کہ حضور نے آپ کی رخصتی کب کروائی ۔۔۔حضرت ابو بکرؓ نے حضور سے درخواست کی کہ یا رسول اللہ آپ اپنی گھر والی کی رخصتی کیوں نہیں کر وا لیتی ؟ تو حضور ؐ نے فرمایا کہ مہر دینے کی مجبوری ہے ، تو حضرت ابو بکرؓ نے حضور ؐ کو ساڑھے بارہ اوقیہ پیش کر دی ، اس رقم کو حضور ؐ نے مجھے دی ، اور حضور ؐ نے میرے اسی گھر میں رخصتی کی ۔
اس حدیث میں دیکھیں کہ حضرت ابو بکرؓ نے کس طرح حضور ﷺ کو ساڑھے بارہ اوقیہ ، پانچ سو درہم چاندی حضور کو صرف اس لئے دیا کہ آپ حضرت عائشہ کا فوری مہر ادا کریں ، اور جلدی سے رخصتی کر لیں ۔ 

حضرت ام رومانؓ رخصتی کروانے کے لئے مچل پڑی تھیں 
جب حضرت عائشہؓ کی ماں ام رومان کو رخصتی پر حضور کی رضامندی کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے نہ تو حضرت عائشہ کو بتایا ، اور نہ پڑوس کو خبر دی ، حضرت عائشہ جھولے پر کھیل رہی تھی، ان کو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے ، ان کو آواز دیکر بلایا، منہ دھلایا ، کنگھی کی اور دو چار عورتیں مل کر حضور ؐ کے گھر پہنچا دیا، حضرت ام رومان کو اتنی جلدی تھی کہ خود دلہن کو بھی نہ بتا سکی کہ تمہاری رخصتی ہو رہی ہے 
اس کے لئے یہ حدیث دیکھیں 
5۔۔۔عن عائشۃ ؓ قالت تزوجنی النبی ﷺ و انا بنت ست سنین ۔۔۔فأتتنی امی ام رومان و انی لفی ارجوحۃ و معی صواحبی لی فصرخت بی فأتیتھا لا ادری ماترید بی فأخذت بیدی حتی اوقفنی علی باب الدار ، و انی لانھج حتی سکن بعض نفسی ، ثم اخذت شیئا من ماء فمسحت بہ وجھی و رأسی ، ثم ادخلنی الدار فاذا نسوۃ من الانصار فی البیت فقلن علی الخیر و البرکۃ و علی خیر طائر فاسلمتنی الیھن فأصلحن من شأنی فلم یرعنی الا رسول اللہ ﷺ ضحی فأسلمتنی الیہ و أنا یومئذ بنت تسع سنین ۔ ( بخاری شریف ، کتاب مناقب الانصار ، باب تزویج النبی ﷺ عائشۃ و قدومھا المدینۃ و بناۂ بھا ، ص ۶۵۵، نمبر ۳۸۹۴) 
ترجمہ : حضور ؐ نے مجھ سے چھ سال کی عمر میں شادی کی ہے ۔۔۔میری ماں ام رومان آئیں ، میں اس وقت جھولے میں کھیل رہی تھی ، اور میری سہیلیاں بھی میرے ساتھ تھیں ، میری ماں نے مجھے آواز دی ، میں پاس آئی ، مجھے یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ یہ میرے ساتھ کیا کریں گے ، میرا ہاتھ پکڑا اور گھر کے دروازے پر بیٹھا دیا ، میرا سانس پھولا ہوا تھا ، مجھے کچھ سکون ہوا ، توکچھ پانی لیا اور میرے چہرے ، اور میرے سر کو پوچھا، پھر مجھے گھر کے اندر لے گئے ، وہاں گھر میں انصار کی کچھ عورتیں تھیں ، انہوں نے دعا دیتے ہوئے کہا کہ خیر اور برکت ہو ، اور ہر قسم کی خیر ہو ، میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے حوالے کیا ، انہوں نے میرا بناؤ سنگار کیا ، حضور ؐ چاشت کے وقت تشریف لائے ، اور مجھے ان کے حوالے کر دیا ، اس وقت میری عمر نو سال کی تھی ۔ 
اس حدیث میں دو باتیں دیکھنے کی ہیں
[۱] ایک تو یہ ہے کہ حضرت ام رومان کو کتنا شوق تھا کہ کسی کو خبر بھی نہیں دی اور رخصتی کر دی ، اور جس طرح حضرت ابو بکرؓ کو رخصتی کرنے کی جلدی تھی ، ٹھیک اسی طرح حضرت ام رومان جو حضرت عائشہ کی والدہ تھیں ان کو بھی رخصتی کرنے کی جلدی تھی ، اور اسی ماں باپ کی بیتابی کی وجہ سے حضرت عائشہ کی رخصتی صرف نو سال میں ہوئی ہے ، اور جب ماں باپ کو ہی جلدی ہو تو دوسروں کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے
[۲] اور دوسری بات یہ ہے کہ خود حضرت عائشہؓ کو اس پر کبھی اعتراض نہیں ہو ا بلکہ وہ اس پر فخر کرتی رہیں 

اس لئے بھی جلدی رخصتی کی کہ حضور ؐ کی حدیثیں سیکھ سکیں 
جلدی رخصتی کرنے کی اصل وجہ تو وہی ہیں جنکو میں نے پہلے بیان کیا ، لیکن ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ حضرت عائشہؓ بہت ذہین تھیں ، اور اللہ کو یہ منظور تھا کہ حضور ؐ دنیا میں اس کے بعد صرف نو سال زندہ رہیں گے ، اس لئے ہر طرف سے کوشش یہ ہوئی کہ جلدی سے حضور کی خدمت میں پہونچ جائیں تو حدیث کی زبان بھی سیکھ لیں ، کیونکہ اسی عمر میں کوئی زبان سیکھی جاتی ہے ، بعد میں نہیں سیکھی جاتی ، اور حضور کی تمام حدیثوں کو یاد بھی کر لیں ، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت عائشہؓ نے حضور سے بے پناہ حدیثیں سیکھیں ، اور ایک بڑی محدثہ بن کر امت کے سامنے پیش ہوئی ، یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کے بعد سب سے زیادہ حدیثیں حضرت عائشہؓ کی ہے ، اور حضرت ابو ہریرہؓ کو حدیثیں یاد کرنے کی حضور ؐ نے خصوصی دعا دی تھی ، اس لئے وہ زیادہ حدیث یاد کر پائے ، اور حضرت عائشہؓ نے اللہ کی توفیق سے اور اپنی فطری ذہانت سے تمام حدیثیں یاد کیں ، چونکہ بچپنے ہی سے حضرت عائشہ میں ذہانت ، اور ادب عیاں تھا اس لئے بھی اس کے باپ اور ماں نے جلدی رخصتی کر دی ، اور امت کو ایک بہت بڑی محدثہ بنا کر پیش کی 
یہی وجہ ہے کہ کتنے ہی بڑے بڑے مسائل میں حضرت عائشہؓ کا موقف بڑے بڑے صحابہ کرام سے وزنی ہے اور دلائل سے بھر پور ہے [ اس موضوع پر کسی اور موقع پر بحث کروں گا ] 

رخصتی کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر نو سال ہی ہے 
احادیث ، اور قرائن سے اس کا ثبوت 
غیروں کے اعتراض سے بچنے کے لئے کچھ حضرات نے یہ تأثر دیا ہے کہ رخصتی کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر اٹھارہ سال ہے ، ممکن ہے کہ یہ بات صحیح ہو، لیکن احادیث ، اور قرائن کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عائشہؓ کی عمر شادی کے وقت چھ سال تھی ، اور رخصتی کے وقت نو سال تھی ، اور حضور ؐ کے وصال کے وقت ۱۸ سال تھی 
آپ ان احادیث کو دیکھیں کہ حضرت عائشہ حضور کے یہاں اپنی گڑیوں سے کھیلتی تھیں ، اور گوڑیوں سے کھیلنا چودہ سال کے اندر کی عمر میں ہوتا ہے ، کیونکہ پندرہ سال کی عمر میں بچی کا ذوق بدل جاتا ہے وہ اب گوڑیوں سے نہیں کھیلتی ، بلکہ اپنے دیہات کے رواج کے مطابق گھر میں کوئی پنکھا بناتی ہے ، کوئی چٹائی بناتی ہے ، کوئی بھوتھری سیتی ہے [ بھوتھری : جھار کھنڈ میں کپڑے کا بستر جو بچیاں اپنے گھروں میں سیتی ہیں] گڑیا سے تو کھیلنے کا اب ذوق ہی نہیں رہتا ، اس لئے حضرت عائشہؓ جب دسیوں حدیثوں میں کہہ رہی ہے کہ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ گوڑیا کھیلتی تھی ، تو یہ طے ہے کہ رخصتی کے وقت ان کی عمر نو سال ہی رہی ہو گی ، جو دسیوں حدیثوں میں موجود ہے 
گڑیوں سے کھیلنے کی حدیثیں دسیوں ہیں ان میں کچھ یہ ہیں 
6۔۔۔عن عائشۃ قالت قدم رسول اللہ ﷺ من غزوۃ تبوک او خیبر و فی سہوتھا ستر فہبت الریح فکشفت ناحیۃ الستر عن بنات لعائشۃ لعب ، فقال ما ھذا یا عائشۃ ؟ قالت بناتی ، و رأی بینھن فرسا لہ جناحان من رقاع فقال ما ھذا الذی أری وسطھن ؟ قالت فرس، قال : و ما ھذا الذی علیہ ؟ قلت جناحان قال : فرس لہ جناحان ؟ قالت : اما سمعت ان لسلیمان خیلا لھا اجنحۃ ؟ قالت فضحک رسول اللہ ﷺ حتی رأیت نواجذہ ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب الادب ، باب اللعب بالبنات ، ص ۶۹۵، نمبر ۴۹۳۲ ) 
ترجمہ : حضرت عائشہؓ فر ماتیں ہیں کہ حضور ؐ غزوہ تبوک ، یا غزوہ خیبر سے تشریف لا رہے تھے ،کہ ان کی پالکی میں ایک پردہ تھا ، ہوا چلی تو حضرت عائشہ کے جو گڑئے تھے اس کا ایک کنارہ کھل گیا ، حضور ؐ نے پوچھا : عائشہ یہ کیا ہے ، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ یہ میری گڑیاں ہیں !،حضور ؐ نے ان گڑیوں کے درمیان ایک ایسا گھوڑا دیکھا جس کو کپڑے کے دو پر بھی تھے ، تو حضور ؐ نے فرمایا کہ عائشہ یہ درمیان میں کیا ہے، تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ یہ گھوڑا ہے، تو حضور ؐ نے پوچھا گھوڑے پر یہ پ کیا ہے [ کیونکہ گھوڑے کو پر نہیں ہوتے ] ، تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا دو پر ہیں ، آپ نے تعجب سے کہا ، گھوڑے کو دوپر ؟ تو میں نے کہا کہ آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑوں کے پر تھے ، ؟، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میرے اس جواب سے حضور ؐ اتنے ہنسے کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں ۔ 
اس حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ غزوہ خیبر میں بھی اتنی چھوٹی تھیں کہ سفر میں بھی گڑیا ساتھ رکھتی تھیں 
غزوہ خیبر محرم ۷ ؁ھ ، مطابق مئی ۶۲۸ ؁ ء میں ہوئی ہے ،اس وقت حضرت عائشہؓ کی عمر ۱۴ سال کی بنتی ہے ، بس یوں سمجھئے کہ یہ گڑیا رکھنے کی آخیر عمر ہے ، اس لئے یہ بات طے ہے کہ حضرت عائشہ کی شادی ۶ سال کی عمر میں ہوئی ہے ، اور رخصتی ۹ سال کی عمر میں ہوئی ہے 

گڑیوں سے کھیلنے کی دوسری حدیث دیکھیں 
7۔۔۔عن عائشۃ قالت کنت العب بالبنات فربما دخل علی رسول اللہ ﷺ وعندی الجواری فاذا دخل خرجن و اذا خرج دخلن ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب الادب ، باب اللعب بالبنات ، ص ۶۹۵، نمبر ۴۹۳۱ ) 
ترجمہ : حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں گوڑیوں سے کھیلا کرتی تھی ، کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ میرے پاس میری سہیلیاں[ گڑیاا کھیلنے کے لئے ] ہوتیں ، جب حضور ؐ گھر میں تشریف لاتے تو وہ لڑکیاں چلی جاتیں ، اور جب حضور ؐ چلے جاتے تو وہ لڑکیاں واپس آجاتیں 
اس حدیث میں بھی ہے کہ حضرت عائشہ رخصتی کے بعد بھی حضور ؐ کے گھر گڑیا سے کھیلا کرتی تھیں ، اور ان کے ساتھ ان کی سہیلیاں بھی ہوتی تھیں ، اور یہ بچپنے میں ہی ہوتی ہے 

ان احادیث میں صراحت کے ساتھ ہے 
کہ رخصتی کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر نو [۹] سال تھی

پہلی حدیث 
8۔۔۔عن عائشۃ ان النبی ﷺ تزوجھا و ھی بنت سبع سنین و زفت الیہ و ھی بنت تسع سنین و لعبھا معھا و مات عنھا و ھی بنت ثمان عشرۃ ۔ ( مسلم شریف ، کتاب النکاح ، باب جواز تزویج الاب البکر الصغیرۃ ، ص ۵۹۷، نمبر ۱۴۲۲ ؍ ۳۴۸۱) 
ترجمہ : حضرت عائشہ فر ماتیں ہیں کہ سات سال کی عمر میں حضور ؐ سے نکاح ہوا ہے ، اور نو سال کی عمر میں رخصتی ہوئی ہے ، اور اس وقت حضرت عائشہؓ کی گوڑیا ان کے ساتھ ہوا کرتی تھیں ، اور اٹھارہ سال کی عمر میں حضور ؐ کا وصال ہوا ہے 
اس حدیث میں دونوں باتیں ہیں 
[۱] سات سال کی عمر میں نکاح ، نو سال کی عمر میں رخصتی ، اور اٹھارہ سال کی عمر میں حضور ؐ کا وصال
[۲] ، اور یہ بھی فرمایا کہ رخصتی کے وقت گڑیا ان کے ساتھ تھی
، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ رخصتی کے وقت حضرت عائشہ بہت چھوٹی تھیں، یعنی نو سال کی عمر تھی 

دوسری حدیث 
9۔۔۔عن ھشام عن ابیہ قال توفیت خدیجۃ قبل مخرج النبی ﷺ الی المدینۃ بثلاث سنین ، فلبث سنتین او قریبا من ذالک و نکح عائشۃ و ھی بنت ست سنین ، ثم بنی بھا و ھی بنت تسع سنین ۔ ( بخاری شریف ، کتاب مناقب الانصار ، باب تزویج النبی ﷺ عائشۃ و قدومھا المدینۃ و بناۂ بھا ، ص ۶۵۵، نمبر ۳۸۹۶) 
ترجمہ : حضرت ہشام اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے تین سال پہلے حضرت خدیجہ کا انتقال ہو گیا ، پھر دو سال یا اس کے قریب آپ ٹھہرے رہے ، اور حضرت عائشہؓ سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی ، پھر ان سے رخصتی کی تو ان کی عمر نو سال تھی 
اس حدیث میں بھی ہے کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر چھ سال تھی ، اور رخصتی کے وقت ان کی عمر نو سال تھی 

تیسری حدیث
اس حدیث میں ہے کہ ہجرت سے تین سال پہلے شادی ہوئی ، اور ہجرت کے ۸ مہینے بعد رخصتی ہوئی ہے 
10۔۔۔حدثنا محمد بن عمر قال عائشہ بنت ابی بکر ۔۔۔تزوجھا رسول اللہ ﷺ فی شوال سنۃ عشر من النبوۃ قبل الھجرۃ بثلاث سنین ،و عرس بھا رسول اللہ ﷺ فی شوال علی رأس ثمانیۃ أشھر من الھجرۃ و کانت یوم ابنتی بھا بنت تسع سنین ۔ ( مستدرک للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابۃ ، باب ذکر الصحابیات من ازواج رسول اللہ ﷺ، جلد ۴، ص ۵، نمبر ۶۷۱۶ ) 
ترجمہ : محمد بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ۔۔۔حضور ؐ نے نبوت کے دسویں سال میں شوال کے مہینے میں ہجرت سے تین سال پہلے اس سے شادی کی،اور ہجرت سے آٹھ مہینے بعد شوال کے مہینے میں ان کی رخصتی ہوئی ، اور اس وقت ان کی عمر نو سال تھی 

چوتھی حدیث
اس حدیث میں ہے کہ حضرت عائشۃؓ ۴ نبوی میں پیدا ہوئی ہیں، اور چھ سال کی عمر میں شادی ہوئی ہے ۔ اور ہجرت کے ۸ مہینے بعد رخصتی ہوئی ہے
11۔۔۔عن حبیب مولی عروۃ ۔۔۔و کانت عائشۃؓ ولدت فی السنۃ الرابعۃ من النبوۃ و تزوجھا رسول اللہ ﷺ فی السنۃ العاشرۃ فی شوال ، و ھی یومئذ ابنۃ ست سنین و تزوجھا بعد سودۃبشھر ۔ ( مستدرک للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابۃ ، باب ذکر الصحابیات من ازواج رسول اللہ ﷺ، جلد ۴، ص ۵، نمبر ۶۷۱۶ ) 
ترجمہ : حضرت عروہ کے آزاد کردہ غلام حضرت حبیب سے روایت ہے ۔۔۔حضرت عائشہ نبوت کے چوتھے سال میں پیدا ہوئی ہیں ، اور نبوت کے دسویں سال شوال میں ان کی شادی ہوئی ، اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی ، اور حضرت سودہ بنت زمعہؓ کے نکاح کے ایک ماہ کے بعد ہی حضرت عائشہ کا نکاح ہوا

اور حضرت عائشہ کی وفات کے بارے میں ہے کہ سن ہجری ۵۸ میں ان کی وفات ہوئی 
حدیث کا ٹکڑا یہ ہے 
12۔۔۔عن عروۃ عن عائشہ ۔۔۔و توفیت عائشۃؓ سنۃ ثمان و خمسین فی شہر رمضان ۔ ( مستدرک للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابۃ ، باب ذکر الصحابیات من ازواج رسول اللہ ﷺ، جلد ۴، ص ۶، نمبر ۶۷۱۶ ) 
ترجمہ : حضرت عروہ حضرت عائشہؓ سے نقل کرتے ہیں کہ ۔۔۔رمضان کے مہینے میں ۵۸ سال کی عمر میں حضرت عائشہؓ کی وفات ہوئی ہے ۔
اس قول تابعی میں ہے کہ ۵۸ ہجری ،مطابق جولائی ۶۷۸ ؁ ء میں حضرت عائشہؓ کی وفات ہوئی ہے 

اس لئے اتنی صراحت کے ساتھ دسیوں حدیثیں ہوں ، اور گوڑیوں سے کھیلنے کی بھی دسیوں حدیثیں ہوں تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ رخصتی کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر ۱۸ سال ہے ، یہ عمر تو حضور ؐ کے وصال کے وقت کی بنتی ہے 

حضور ؐ نے حضرت عائشہ پر بے پناہ مہربانیاں کی ہیں 
ایک سوال ذہن میں ا بھرتا ہے کہ حضور ؐ عمر دراز تھے ، اور حضرت عائشہؓ بہت چھوٹی تھیں تو ایسا ممکن ہوگا ، کہ حضرت عائشہؓ ہم بستری کے لئے تیار نہ ہو ، اور حضور ؐ نے پہل کی ہو جس سے حضرت عائشہ ؓ کو ناگواری ہوتی ہو، یا ان کو تکلیف ہوتی ہو ، اور یہی خیال لیکر لوگ اعتراض کرتے ہوں ، بار بار اس اعتراض کو دہراتے ہوں 

لیکن ایسا بالکل نہیں ہے 
کیوں کہ دسیوں حدیث میں ہے کہ اس بچی نے حضور سے جیسی فرمائش کی حضور ؐ نے اس سے زیادہ اس کی رعایت کی ، 
مثلا۔۔حضرت عائشہ اہل حبشہ کے کھیل کو دیکھنے کے لئے حضور ؐ کی اوٹ میں گھنٹوں کھڑی رہی تو حضور ؐ بھی ان کو اوٹ دینے کے لئے گھنٹوں کھڑے رہے ، پھر جب حضرت عائشہ ہی تھک کر بیٹھ گئی تب حضور ؐ وہاں سے ہٹے 
اس کے لئے حدیث یہ ہے 
13۔۔۔عن عائشہؓ قالت رأیت النبی ﷺ یسترنی برداۂ ، و انا انظر الی الحبشۃ یلعبون فی المسجد حتی اکون أنا الذی أسأم ، فاقدروا قدر الجاریۃ الحدیثۃ السن الحریصۃ علی الھو ۔ (بخاری شریف ، کتاب النکاح ، باب نظر المرأۃ الی الحبش و نحوھم من غیر ریبۃ ، ص ۹۳۵، نمبر ۵۲۳۶) 
ترجمہ : حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور ؐ کو دیکھا کہ وہ اپنی چادر سے مجھے ڈھانک رہے ہیں ، اور مسجد میں حبشہ والے کھیل رہے تھے میں ان کو دیکھ رہی تھی ، جب میں ہی تھک کر بیٹھ گئی تو حضور ؐ ہٹے ، ایسی لڑکی جو نئی عمر کی ہو ، اور کھیلنے کا دل چاہتا ہو اس کی قدر کرو ۔ 
اس حدیث میں دو باتیں ہیں 
[۱] ایک تو یہ کہ حضور ؐ نے حضرت عائشہ کی کتنی رعایت کی کہ جب تک وہ تھک کر نہیں بیٹھیں ، آپ وہاں کھڑے رہے 
[۲] اور دوسری بات یہ ہے کہ حضرت عائشہ اس وقت نئی عمر کی تھی، ایسے کھیل دیکھنے کا دل چاہتا تھا ، جس سے ثابت ہوا کہ رخصتی کے وقت ان کی عمر ۹ سال کی تھی ۔

حضرت عائشہ سہیلیوں کے ساتھ گڑیا کھیلتی تھی ، حضور ؐ نے اس کو بار بار دیکھا لیکن کبھی ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا، بلکہ ہر بار دیکھ کر مسکرا گئے 
حضرت عائشہ گڑیا لیکر سفر میں جاتی رہیں ، آپ نے کبھی منع نہیں کیا ، بلکہ اس کی ہمت افزائی کی ، اور مسکراتے رہے ، اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ حضور نے کبھی بھی کسی کام کے لئے حضرت عائشہؓ کو مجبور نہیں کیا ، اس لئے یہ بالکل اندر کی بات ہے ، لیکن یقین کامل یہی ہے کہ حضرت عائشہؓ کی پہل سے پہلے حضور ؐ نے ہم بستری کی پہل نہیں کی ہو گی ، یہ تو صرف دین سیکھنے کے لئے اتنی جلدی رخصتی کی گئی تھی 

حضور ؐ کے پاس ہم بستری کے لئے حضرت سودہؓ تھیں ، اس لئے انہیں سے کام چلاتے ہوں گے ، اس لئے حضرت عائشہؓ کی ضرورت کم ہی پڑی ہو گی 
اور ایک سال کے بعد ہی جنگ بدر [ ۱۷ رمضان ۲ ؁ ھ مطابق ۱۳ مارچ ۶۲۴ ؁ ء]کے بعد حضرت ام سلمہؓ اور حضرت حفصہ نکاح میں آگئیں وہ بیوہ تھیں، اور بھر پور جوانی کی عمر پار کر چکی تھیں ، حضور ؐ ان سے بھی استفادہ کرتے تھے ، اس لئے حضرت عائشہؓ کوہم بستری کی اتنی زحمت نہیں دی ہوگی ، جو اعتراض کرنے والوں کے خیال میں ہے ، اور جس کی وجہ وہ آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہیں ۔
اور یہ تمام باتیں حدیث میں موجود ہیں ، میں ہر ایک کا حوالہ اس لئے نہیں دے رہا ہوں ، کیوں کہ اس سے مضمون بہت لمبا ہو جائے گا 

۱۶ عورتوں سے نکاح کرنے کی 5 مصلحتیں ہیں

یہ بات تو آپ کو پتہ ہے کہ صرف حضرت عائشہؓ کنواری تھیں ، باقی تمام بیویاں بیوہ تھیں ، نعوذ باللہ اگر آپ عیاش ہوتے تو پہلی دو شادیاں اپنے سے زیادہ عمرکی بیوہ سے کیوں کرتے ، آپ تو پہلے ہی کنواری لڑکیوں سے نکاح کرتے ، یہ بھی آپ کو پچھلی حدیث سے پتہ ہے کہ حضرت عائشہ جو کنواری تھیں ، وہ شادی بھی اللہ نے کروائی تھی ، حضور ؐ نے اپنی مرضی سے پیش کش نہیں کی تھی ، اور اس جلدی کرنے پر حضرت ابو بکرؓ کی بیتابی تھی ۔ 

[۱] پہلی مصلحت۔۔ ان بیواؤں کو کوئی سہارا مل جائے ، یہ سارے بیوہ پریشان تھیں کہ کہاں شادی کریں اور کس کے گھر جائیں ،آپ نے نکاح کرکے ان تمام کو زندگی بھر کا سہارا دیا 

[۲] دوسری مصلحت۔۔ یہ بیوائیں مختلف خاندانوں کی ہیں ، ان تمام خاندانوں سے آپ کی رشتہ داری ہوئی ، یہ تمام خاندان کے لوگ آ پ کے قریب آئے ، کوئی سالہ بنا ، کوئی سالی بنی ، کوئی خسر بنے ، اور کوئی خسرانی بنی ، اور یہ سارا کنبہ آپ کے ساتھ مل گئے ، بعد میں یہ لوگ دین اسلام کے ہمدرد بنے ، خود بھی مسلمان ہوئے ، اور ان کی کوششوں سے ان کے سارے خاندان والے مسلمان ہوئے ، اس کی وجہ سے پورے عرب میں بہت جلد اسلام پھیل گیا ، اس کے لئے آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں 
[۳]تیسری مصلحت۔۔ ان جتنے خاندانوں سے آپ کی رشتہ داری ہوئی ،ان سب کو دامادگی کی وجہ اللہ رعایت کریں گے ، ان شاء اللہ 
14۔۔ ۔ ولکن رسول اللہ قال ۔۔۔و ان الانساب یوم القیامۃ تنقطع غیر نسبی و سببی و صھری ۔ ( مسند احمد ، حدیث المسور بن مخرمۃ الزھری ، جلد ۳۱، ص ۲۰۷، نمبر ۱۸۹۰۷) 
ترجمہ : حضور ؐ نے فرمایا کہ قیامت کے روز تمام نسب منقطع ہو جائیں گے ، سوائے میرے نسب کے ساتھ جن کا تعلق ہے ، یا میری رشتہ جن کے ساتھ ہو ، یا میر ے ساتھ دامادگی کا رشتہ ہے ، وہ کام آئیں گے 
اس حدیث کے مطابق یہ تمام خاندان کل قیامت میں حضور کی دامادگی کی وجہ سے بخشے جائیں گے ، حضور کو یہ بہت پسند تھا کہ یہ تمام لوگ کسی نہ کسی طرح بخشے جائیں اس لئے آپ نے ان تمام سے نکاح کرکے بخشش کا پروانہ دیا ، یہ ہے ۱۶ عورتوں سے نکاح کی اصل وجہ ، لوگ خواہ مخواہ اعتراض کرتے ہیں کہ اتنی عورتوں سے نکاح عیاشی کے لئے تھا ، ان لوگوں کو حقیقت حال سے واقف ہونا چاہئے

[۴] چوتھی مصلحت۔۔ یہ عورتیں حضور کے گھر میں حدیث سنیں ، اور گھر کے بارے میں جو لوگوں سے مخفی ہوتا ہے وہ تمام حدیثیں قیامت تک کی امت کو پہنچائیں ، یہ کام اتنا آسان نہیں تھا کہ ایک دو عورتیں یہ کام کر لیں ، اس لئے مختلف مصلحتوں کی بنیاد پر آپ نے اتنی شادیاں کیں ، ہر گز ہر گز یہ عیاشی کے لئے نہیں تھی ، بلکہ دین کو عام کرنے کی خاطر تھی 
[۵] پانچویں مصلحت۔۔ان عورتوں میں سے کسی نے کبھی اعتراض نہیں کیا کہ مجھ پر ظلم ہوا ہے، اور نہ انکے والدین یا خاندان والوں نے کبھی اعتراض نہیں کیا ہے ، بلکہ وہ اس رشتہ داری پر فخر کا اظہار کیا ہے ، تو آج چودہ سو سال بعد کیوں کچھ لوگ وکیل بن کر اعتراض کرتے ہیں 

حضور ﷺ نے ۱۶ عورتوں سے شادی کی 
مستدرک للحاکم کی حدیث میں ان بیویوں کا ذکر اس طرح ہے 
15۔۔۔قال ابو عبیدۃ فأول من تزوج ﷺ من نساۂ فی الجاھلیۃ 
[1]۔خدیجۃ 
[2]۔ثم تزوج بعد خدیجۃ سودہ بنت زمعۃ بمکۃ فی الاسلام 
[3]۔ثم تزوج عائشۃ قبل الھجرۃ بسنتین 
[4]۔ثم تزوج بالمدینۃ بعد وقعۃ بدرسنۃ اثنتین من التاریخ ام سلمۃ 
[5]۔ثم تزوج حفصۃ بنت عمر ایضا سنۃ اثنتین من التاریخ فھؤلاء الخمسۃ من قریش 
[6]۔ثم تزوج فی سنۃ ثلاث من التاریخ زینب بنت جحش 
[7]۔ثم تزوج فی سنۃ خمس من التاریخ جویریۃ بنت الحارث 
[8]۔ثم تزوج سنۃ ست من التاریخ أم حبیبۃ بنت ابی سفیان 
[9]۔ثم تزوج سنۃ سبع من التاریخ صفیۃ بنت حیی 
[10]۔ثم تزوج میمونۃ بنت الحارث 
[11]۔ثم تزوج فاطمۃ بنت شریح 
[12]۔ثم تزوج زینب بنت خزیمۃ 
[13]۔ثم تزوج ھند بنت یزید 
[14]۔ثم تزوج اسماء بنت النعمان 
[15]۔ثم تزوج قتیلۃ بنت قیس أخت الاشعث 
[16]۔ثم تزوج سناء بنت الصلت السلمیۃ 
( مستدرک للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابۃ ، باب تسمیۃ ازواج رسول اللہ ﷺ ، ج ۴، ص ۶، نمبر ۶۷۱۳)

حضرت عائشہؓ کی زندگی ایک نظر میں 
حضرت عائشہ ؓ کی پیدائش۔ ۵ نبوی ، مطابق جولائی ۶۱۴ ؁ ء 
اس وقت حضور ؐ کی عمر ۴۵ سال تھی 
حضرت عائشہؓ کی شادی ۱۱ نبوی ، مطابق ۶۲۲ ؁ ء ۶ سال کی عمر میں 
اس وقت حضور ؐ کی عمر ۵۱ سال تھی 
حضرت عاشہ کی رخصتی پہلی ہجری ، مطابق ۱۷ ؍ اپریل ر ۶۲۳ ؁ ء میں ، ۹ سال کی عمر میں 
اس وقت حضور ؐ کی عمر ۵۴ سال تھی 
حضور ؐ کی وفات ۱۲ ربیع الاول ۱۱ ؁ ھ مطابق ۸ جون ۶۳۲ ؁ ء میں
اس وقت حضور کی عمر ۶۳ اسلامی سال تھی 
اور حضرت عائشہ ؓ کی عمر ۱۸ سال تھی 
حضرت عائشہ کی وفات ۱۷ رمضان ۵۸ ؁ ھ مطابق ۱۳ جولائی ۶۷۸ ؁ ء بروز منگل ہے
اس وقت حضرت عائشہؓ کی عمر ۶۶ سال تھی۔

و السلام 
احقر ثمیر الدین قاسمی ، مانچیسٹر ، انگلینڈ 
یکم مارچ ؍ ۲۰۱۹ ؁ ء 

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں