حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادعلیہ الرحمہ کی تدریسی خدمات،امتیازات وخصوصیات قسط نمبر 10

مفتی اخترامام عادل قاسمی
مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف،سمستی پور(بہار)
۔
حضرت مولانامحمدسجادؒ کی علمی خدمات کاسب سے اہم ترین باب زندگی کاوہ حصہ ہے،جومدارس میں طلبہ کی تعلیم وتدریس میں گذرا اور یہ حصہ آپ کی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے،اسی دورانیہ میں آپ کے علم میں پختگی اور مطالعہ میں وسعت پیدا ہوئی، مختلف سوالات وجوابات کے تجربات ہوئے،نئے حالات ومسائل سے آگاہی ہوئی،یہیں سے آپ کوکام کرنے والے افرادکی ٹیم میسر ہوئی،ملک کے علماء واعیان سے آپ کے روابط قائم ہوئے،عوام میں آپ کی علمی وانتظامی صلاحیتوں کاتعارف ہوااور عوامی اعتماد کی راہ ہموار ہوئی، لکھنے پڑھنے کے مواقع حاصل ہوئے،جن سے آپ کے علمی ذخائروجود میں آئے،غرض آپ کی علمی،فکری،ملی اور سیاسی شخصیت کی تعمیر میں مدارس میں گذرے ہوئے لمحات کابڑاحصہ ہے اورکسی بھی عالم دین کے لییعلمی وملی سیادت کے مقام تک پہونچنے کے لیے اس سے بہتر اورمعتبر راستہ کوئی نہیں ہے۔
ایک بڑی غلطی :
لیکن ہوتایہ ہے کہ جب شخصیت بڑی ہوجاتی ہے اور اس کاحلقۂ اثر وسیع ہوجاتاہے توقافلہ میں شامل ہونے والے نئے شہسوار پرانے خون کونظراندازکردیتے ہیں اور شخصیت جہاں سے بن کرآتی ہے، اسی کوفراموش کردیا جاتاہے،حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادعلیہ الرحمہ کے ساتھ بھی یہی ہوا،ان کی ساٹھ (۶۰)سالہ مختصر سی زندگی کابڑاعرصہ مدارس میں گذراہے،وہ خالص علمی اور درسی آدمی تھے،ان کوپڑھنے پڑھانے میں جولذت ملتی تھی،وہ کہیں میسر نہ تھی،مدرسہ ہی میں انہوں نے پڑھا،یہیں کی چٹائیوں پر ان کی شخصیت تیار ہوئی، یہیں سے پڑھے ہوئے طلبہ نے ہرمیدان میں ان کی جانشینی کی؛لیکن ان کی بیس بائیس (۲۲)سالہ ملی وسیاسی زندگی کو جس قدر اہمیت دی گئی اور لکھنے والوں نے جس تفصیل اورتسلسل سے اس پرروشنی ڈالی کہ تاریخ کی نگاہ میں یہی زندگی ان کی اصل زندگی سمجھی جانے لگی اورمدارس دینیہ میں گذرے ہوئے لمحات تاریکی میں چلے گئے،جیسے وہ عہدطفولیت ہو اور یہ عہدشباب،وہ عہد ظلمت ہواور یہ عہدنور اوروہ دورجاہلیت ہو اوریہ دورشعور،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مولاناکے ہرقسم کے شباب ونور وشعورکی پرورش وپرداخت مدارس ہی کے ماحول میں ہوئی،ہر رنگ یہیں پیداہوا اورہربلندی تک پہونچنے کی گذرگاہ یہی رہے ہیں۔
تدریسی ادوار:
مولانامحمدسجادؒ کی تدریسی زندگی کوتین(۳)ادوارمیں تقسیم کیاجاسکتاہے:
* تدریس بہ عہد طالب علمی 150زمانہ قیام الٰہ آباد
(۱۳۱۸ ؁ھ مطابق۱۹۰۰ ؁ء تا ۱۳۲۲ ؁ھ مطابق ۱۹۰۴ ؁ء ۔ چار(۴) سال)
* تدریس بہ عہد ملازمت تدریس150 زمانۂقیام بہارشریف والٰہ آباد
(۱۳۲۲ ؁ھ مطابق ۱۹۰۴ ؁ء تا ۱۳۲۹ ؁ھ مطابق ۱۹۱۱ ؁ء 150سات(۷) سال)
* تدریس بہ عہداہتمام 150 زمانۂ قیام گیا
(۱۳۲۹ ؁ھ مطابق ۱۹۱۱ ؁ء تا۱۳۳۹ ؁ھ مطابق ۱۹۲۱ ؁ء 150 دس(۱۰)سال)
علماء میں بہت کم ایسے خوش نصیب لوگ ہوئے ہیں،جن کی زندگی میںیہ تینوں ادوارجمع ہوئے ہوں،حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ نے بہت مختصر زندگی پائی؛لیکن ان کی زندگی کے دوسرے حصوں کی طرح ان کی تدریس میں بھی کافی تنوعات پائے جاتے ہیں۔
تدریس بہ عہد طالب علمی:
(۱۳۱۸ ؁ھ مطابق۱۹۰۰ ؁ء تا ۱۳۲۲ ؁ھ مطابق ۱۹۰۴ ؁ء ۔ چار(۴) سال)
زمانۂ طالب علمی مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد:
مولانامحمدسجادصاحبؒ مدارس کے جس دورکی پیداوارہیں اس دور میں ذہین طلبہ سے نیچے کے طلبہ کی تدریس کاکام لیاجاناایک عام سی بات تھی،خود مولانامحمدسجاد صاحبؒ بھی ایک عرصہ تک طالب علم اساتذہ(مولانامبارک کریم صاحبؒ اور مولاناسیدعبدالشکورصاحب ؒ وغیرہ)سے پڑھ چکے تھے؛لیکن مولانامحمدسجادصاحب ؒ نے زمانہ طالب علمی ہی میں جس تدریسی مہارت ومقبولیت کامظاہرہ کیا،وہ عام بات نہیں تھی۔
مولانامحمدسجادؒ کی تدریس کاآغازالٰہ آبادمیں مدرسہ سبحانیہ کی عہدطالب علمی سے ہوا، جس کے کچھ احوال آپ کی عہدطالب علمی کے بیان میں آچکے ہیں،اس عہد کاآنکھوں دیکھاحال آپ کے تلامذہ میں مولانااصغرحسین صاحب بہاری نے بیا ن کیاہے،مولاناکی تدریسی صلاحیت کاجوہر اسی زمانے میں سامنے آنے لگاتھا،جس شہر میں حضرت مولاناعبدالکافی الٰہ آبادیؒ ،حضرت مولاناعبدالحمیدجونپوری ؒ ،حضرت مولانامنیرالدین الٰہ آبادیؒ اور استاذالقراء حضرت حافظ قاری عبدالرحمن مہاجرمکیؒ جیسے اساتذۂ فن موجود ہوں،وہاں ایک طالب علم کے اسلوب تدریس اور طریقہ تفہیم کوایسی قبولیت حاصل ہونا کہ اساتذہ کے بجائے طلبہ اپنی کتابیں اسی طالب علم سے پڑھنے کی تمناکرنے لگیں،یہ بجائے خود علمی تاریخ میں ایک عظیم واقعہ ہے اور اس کو مولاناسجاد کی کرامات وخصوصیات میں شمارکیاجاناچاہئے،مولانااصغرحسین صاحب ؒ کے الفاظ میں:
’’اس کشش سے ظاہرہے کہ طلب علم ہی کے زمانہ سے آپ کی تعلیم میں مقناطیسی اثرتھا‘‘۔(محاسن سجادص ۱۷)
مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد میں مولانامحمدسجادؒ کاداخلہ۱۳۱۷ ؁ھ مطابق ۱۸۹۹ ؁ء میں ہواتھا؛لیکن ظاہرہے کہ پہلے ہی سال ان کی اس صلاحیت کاجوہرسامنے نہیں آیاہوگااورنہ تدریس کے مواقع میسرآئے ہوں گے،مولانااصغرحسین صاحب نے۱۹۰۲ ؁ء مطابق ۱۳۲۰ ؁ھ کے واقعات لکھے ہیں؛ لیکن اندازہ یہ ہے کہ مولاناسجاد کویہ موقعہ ۱۳۱۸ ؁ھ مطابق ۱۹۰۰ ؁ء ہی سے مل گیاہوگا۔
ممتازتلامذہ:
اس دورکے تلامذہ میں مولانافرخندعلی سہسرامی ؒ بانی ومہتمم مدرسہ خیریہ سہسرام ،(مولانافرخندعلی سہسرامی ؒ سیاسیات میں تاحیات اپنے استاذ محترم حضرت مولانامحمدسجادؒ کے دست وبازو رہے،افکارسجاد کی توسیع واشاعت میں آپ کابڑاحصہ تھا۔)مولانا حافظ عبدالرحمن بادشاہ پوری جون پوریؒ سابق صدرالمدرسین مدرسہ امدادیہ دربھنگہ اورجناب حکیم مولانامحمدیعقوب صاحب ؒ ساکن کڑا(گیا) قابل ذکرہیں۔ ( محاسن سجادص۱۸)
تدریس بہ عہد ملازمت تدریس :
(۱۳۲۲ ؁ھ مطابق ۱۹۰۴ ؁ء تا ۱۳۲۹ ؁ھ مطابق ۱۹۱۱ ؁ء 150سات(۷) سال)
مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد سے سندفراغت اور دستارفضلیت لے کر ۱۳۲۲ ؁ھ مطابق ۱۹۰۴ ؁ء میں مولانا محمدسجاد صاحب اپنے وطن واپس تشریف لے آئے،اس وقت تک الٰہ آباد سے آنے جانے والے طلبہ اوردیگرواردین وصادرین کے ذریعہ آپ کی علمی وتدریسی صلاحیت کی گونج آپ کے اساتذہ کے کانوں تک بھی پہونچ چکی تھی، علاقہ کو ایسے عالم ومدرس کی سخت ضرورت تھی۔
مدرسہ اسلامیہ بہارشریف میں تقرر:
چنانچہ حکیم سیدوحیدالحق صاحبؒ ناظم مدرسہ اسلامیہ بہارشریف کی خواہش اورمولانامبارک کریم صاحب مدرس اول مدرسہ اسلامیہ کے ایماپرآپ علاقہ کی سب سے مرکزی درسگاہ’’مدرسہ اسلامیہ بہارشریف‘‘ سے وابستہ ہوگئے۔(۱)یہاں کے بزرگوں سے آپ کے خصوصی مراسم کے علاوہ یہ مدرسہ آپ کی مادرعلمی بھی تھا،اس کے بانی حضرت مولانا سید وحیدالحق استھانوی ؒ (متوفیٰ ۱۳۱۵ ؁ھ مطابق ۱۸۹۸ ؁ء)آپ کے استاذ خاص اور خسر محترم تھے، انہوں نے بڑی شفقت ومحبت کے ساتھ عہدطفلی میں آپ کی تربیت کی تھی،یہ مدرسہ ان کی یادگار تھا؛اس لیے اس مدرسہ کاآپ پر حق بنتاتھاکہ آپ اس کی خدمت کریں۔
* نیز یہ وطن سے قریب تھا،والدکاسایہ بچپن ہی میں سرسے اٹھ چکاتھا،شادی کے بعداہل وعیال کی ذمہ داری بھی آگئی تھی،گھرسے قریب رہ کران ذمہ داریوں کوبحسن وخوبی انجام دیاجاسکتاتھا،انہی وجوہات سے مولانامحمدسجادنے مدرسہ اسلامیہ میں خدمت کواپنی اولین ترجیح قراردیا۔(۲)
مدرسہ اسلامیہ میں ایک نئے تعلیمی دورکاآغاز:
مولانامحمدسجادؒ کے آتے ہی مدرسہ نے ایک نئی کروٹ لی،بقول مولاناسیدمنت اللہ رحمانی ؒ :
’’اس وقت مولاناؒ کی عمر صرف ۳۲ سال کی تھی؛لیکن آتے ہی مدرسہ کا رنگ بدل گیا،طلبہ کا شوق،مدرسین کی جدوجہد،اور مقامی حضرات کی توجہ اوردلچسپی ہرچیزمیں اضافہ ہوگیا‘‘۔(۳)
اورآپ کے شاگردرشیدحضرت مولانااصغرحسین صاحب کے الفاظ میں:
’’مزاج کی نرمی،عفوودرگذرکی طینت،اور طلبہ کی ہمدردی کے ساتھ جواپنی طباعی اور انہماکی شان سے شب وروز درس و تدریس کی مہم شروع کی توتھوڑے ہی عرصہ میں مدرسہ کے تعلیمی قالب میں نئی روح پھونک دی‘‘۔(۴)
آپ نے تعلیمی نظام کی اصلاح پر پوری توجہ دی،طلبہ پر اجتماعی اور انفرادی دونوں سطح پر محنتیں کیں،کتاب کی تفہیم وتدریس کاوہ معیار اختیار کیاجو انہوں نے کانپور اور الٰہ آباد وغیرہ درسگاہوں میں دیکھاتھا،خود بھی مطالعہ کرتے اور طلبہ کو بھی مطالعہ کی عادت ڈلواتے،ان میں مشکلات کامقابلہ کرنے کاعزم بیدارفرماتے،طریقۂ تفہیم میں ایسی شیرینی اور سحرکاری تھی کہ طلبہ آپ کے دلدادہ ہوجاتے تھے،اس طرح آپ کی توجہات عالیہ سے مدرسہ میں خوبصورت تعلیمی ماحول پیداہوگیا،طلبہ کاشوق فراوں دیکھ کرمنتظمین کے حوصلے بلند ہوئے، مدرسہ کے تعلق سے عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ہوا،ایک عرصہ دراز سے مدرسہ قائم تھا،کئی نسلیں ختم ہوچکی تھیں؛لیکن اس کامعیارتعلیم شرح وقایہ، جلالین اورقطبی ومیرقطبی سے آگے نہیں بڑھ سکاتھا، ملاحسن،رسالہ میرزاہد اور صحاح ستہ جیسی اعلیٰ کتابوں کی تعلیم کاتویہاں تصور بھی نہیں کیاجاسکتاتھا، طلبہ ٹھہرتے ہی نہیں تھے،بلکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کانپوراوردہلی کی راہ لیتے تھے۔
مدرسہ اسلامیہ کاعہدعروج :
مولانامحمدسجاد کی تدریسی مساعی اور ان کی شخصیت کی سحرکاری نے طلبہ کادل جیت لیااورنہ صرف یہ کہ طلبہ یہاں جمنے لگے؛بلکہ دوسرے مدارس کوچھوڑچھوڑکریہاں آنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے منتہی درجات تک کی تعلیم ہونے لگی اورطلبہ یہاں سے سندفراغ بھی حاصل کرنے لگے۔مولاناسیدمنت اللہ رحمانی ؒ کے الفاظ میں:
’’یوں تومدرسہ ایک عرصہ سے قائم تھا؛مگر نہ کبھی طلبہ کی تعداد زیادہ رہی اور نہ کبھی جلالین،شرح وقایہ اور میرقطبی سے اونچے پڑھنے والے مدرسہ میں آئے؛لیکن ایک ہی سال میں مولاناکے درس کاایساشہرہ ہواکہ طلبہ جوق درجوق آنے لگے اور دوسرے ہی سال عربی کے نصاب کی آخری کتابیں ہونے لگیں‘‘۔ (۵)
مولانااصغرحسین صاحب حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادکے اسی تدریسی عہدشباب کی یادگارہیں،اپناوہ دور یادکرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’میں بھی میرزاہدرسالہ اور ترمذی شریف تک پہونچ گیا‘‘۔(۶)
اسی زمانہ میں ایک بار مولانامحمداحسن استھانوی تلمیذرشیدمولاناہدایت اللہ خان صاحبؒ مدرسہ میں امتحان کے لئے تشریف لائے،جوکسی زمانہ میں یہاں مدرس اول رہ چکے تھے،ان کے پاس جب طلبہ(مولانااصغرحسین اورمولاناعبدالرحمن جونپوری وغیرہ)رسالہ میرزاہد مع حاشیہ غلام یحییٰ بہاری لے کر امتحان دینے کے لیے پہونچے توان کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں، انہوں نے فرمایاکہ:
’’ آج عجیب منظردیکھ رہاہوں کہ بہارشریف میں ان کتابوں کے پڑھنے والے طلبہ موجود ہیں‘‘۔(۷)
پھرانہوں نے اپنی منطقیانہ شان سے جوسوالات کئے اور ان طلبہ کی طرف سے ان کے جوابات دئیے گئے،اس نے ان کے تحیرکوانتہاتک پہونچادیا۔
اسی دور میں مولاناسیدشاہ محمداسمعیل صاحب استاذفقہ مدرسہ عالیہ کلکتہ بھی امتحان کے لیے بلائے گئے تھے،وہ ساری زندگی ان امتحانی مناظرکوفراموش نہ کرسکے،جب ادھر آتے،یایہاں کاکوئی طالب علم مل جاتا،توبہت لطف لے کر اس منظر کوبیان فرماتے تھے۔(۸)
امتحانی مظاہرے:
مولانامحمدسجادصاحب ؒ نے ایک طرف تدریس اورطلبہ کے جمانے پرپوری توجہ دی،دوسری طرف ناظم صاحب اور مدرس اول مولانامبارک کریم کے مشورہ سے طلبہ کے معیار تعلیم اوربدلے ہوئے ماحول سے عام مسلمانوں کو باخبرکرنے کامنصوبہ بنایا،وہ اس طرح کہ امتحان کے مواقع پر شہر کے معززین اور اصحاب علم کو مدرسہ میں مدعو کیاجائے،ان کے لیے ضیافت کااہتمام ہواور امتحانات ومناقشات کا سارامنظر لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے اور عوام وخواص اپنی آنکھوں سے مدرسہ کی تعلیمی کارکردگی کامشاہدہ کریں۔۔۔۔چنانچہ اس منصوبہ کے بے شمارفوائد مرتب ہوئے،مدرسہ کی عظمت واہمیت کااحساس دلوں میں بیدار ہوا،لوگوں کی آمدورفت سے مدرسہ میں چہل پہل رہنے لگی،اصحاب خیرمدرسہ کے تعاون میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے لگے،مدرسہ کی مالی حیثیت مستحکم ہوئی، اورلوگوں کی ضیافت(صرف چائے بسکٹ)پر جومعمولی اخراجات ہوتے تھے،اس سے کہیں زیادہ مالی منافع مدرسہ کوحاصل ہونے لگے، اس کااثراساتذہ کی تنخواہوں پر بھی پڑا،تنخواہوں میں خاطرخواہ اضافے کئے گئے اور خوش دل مزدوروں نے جی جان لگاکر محنت کی اور مدرسہ اپنی تاریخ کے نقطۂ ارتقاپر پہونچ گیا،دستاربندی کے جلسے ہوئے اور فضلاء مدرسہ کے سروں پردستارفضیلت باندھی گئی،درس نظامی کے فارغین کوسندتکمیل عطاکی گئی اورتعلیم میں بہارکے خودکفیل ہونے کی تاریخ ایک بارپھررقم کی گئی ۔(۹)
ایک جلسۂ دستاربندی :
اسی طرح کے ایک جلسہ دستاربندی میں دیگر بہت سے اکابرعلماء کے علاوہ الٰہ آبادکے استاذالعلماء حضرت مولانا منیرالدین الٰہ ٰبادیؒ (ناظم مدرسہ احیاء العلوم الٰہ آبادوتلمیذ رشید حضرت علامہ مولانااحمدحسن کانپوری ؒ )بھی بحیثیت مہمان خصوصی تشریف لائے،اور ان کے خادم کی حیثیت سے مولانااصغرحسین صاحب(جوان دنوں مدرسہ احیاء العلوم الٰہ آبادمیں زیرتعلیم تھے)بھی شریک ہوئے، وہ اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
’’بہارشریف میں مدرسہ قائم ہونے کے مدتوں بعدیہ پہلازریں موقعہ تھا،جس میں درس نظامی کے فارغین کو سند تکمیل عطاہوئی اوربیضاوی شریف میں امتحان لیے جانے کے بعدان کے سروں پردستارفضیلت باندھی گئی، اس جلسہ میں عمائدین شہراورعوام بڑے ذوق وشوق سے شریک ہوئے،یہ حضرت سجادؒ ہی کی محنت وکاوش وحسن تعلیم کانتیجہ تھا،۔۔۔خصوصاًعربی پڑھنے والے طلبہ بغیرکانپور،دہلی وغیرہ سے فراغت کئے ہوئے علماء معتبر کی صف میں جگہ نہیں پاتے تھے،ایسی صورت میں طلبۂ عربی کوفراغت تک پہونچانا،یہ حضرت سجادؒ کی کرامت تھی‘‘۔(۱۰)
ممتازتلامذہ:
حضرت مولاناکے اس دورکے تلامذہ میں جناب مولانااصغرحسین صاحب(۱۱)اورمولانا عبدالرحمن صاحب جونپوریؒ ،(۱۲) مولاناحافظ عبدالرحمن صاحب بہاری ؒ ،(۱۳)اور مولاناشرافت کریم صاحب برادرخورد مولانا مبارک کریم صاحب ؒ خاص طورپرقابل ذکرہیں۔(۱۴)
مدرسہ سبحانیہ الٰہ آبادمیں بحیثیت نائب صدرمدرس تقرر:
مدرسہ اسلامیہ بہارشریف میں مولاناسجادصاحب کے قیام کوابھی صرف تین(۳) سال ہوئے تھے کہ مولانا عبدالکافی الٰہ آبادی ؒ نے اپنے مدرسہ کی شدیدضرورت کے پیش نظرآپ کوالٰہ آباد طلب فرمایااور آپ تعمیل حکم میں الٰہ آبادتشریف لے گئے، یکم محرم الحرام ۱۳۲۵ ؁ھ مطابق ۱۳؍فروری ۱۹۰۷ ؁ء کومدرسہ سبحانیہ میں بحیثیت نائب مدرس اول(نائب صدر المدرسین) آپ کاتقرر عمل میں آیا۔(۱۵)
مدرسہ سبحانیہ میں آتے ہی براہ راست نائب صدرالمدرسین کے عہدہ پرتقرر بجائے خودآپ کی علمی قابلیت اورحضرت مولاناعبدالکافی الٰہ آبادیؒ کے نزدیک بے انتہا اعتمادواستناد کی دلیل ہے،مدرسہ سبحانیہ کی اس زمانہ میں جوشان تھی اورالٰہ آباد کی علمی تاریخ میں اس کاجومقام رہاہے،اس کے پیش نظراسی مدرسہ کے ایک پروردہ طالب علم کانائب صدر مدرس کے عہدہ پرراست فائز ہوناکوئی معمولی بات نہیں ہے،۔۔۔۔ لیکن مولاناسجادصاحب کاتدریسی جوہر چونکہ الٰہ آباد کے زمانہ طالب علمی میں سامنے آچکاتھااورآپ کی تفہیم وتعلیم کاسکہ پڑھنے کے زمانے ہی میں بیٹھ چکاتھا؛اس لیے کسی منتہی سے منتہی جماعت کی کتاب آپ کے حوالہ کرنے میں کسی تامل کی بات نہیں تھی؛لیکن جہاں تک انتظامی صلاحیت کی بات ہے تومدرسہ اسلامیہ بہارشریف میں جوخوشگوارتبدیلیاں آپ کے دم قدم سے پیداہوئی تھیں،مولانا عبدالکافی صاحب یقیناًان سے بے خبرنہیں تھے اور مولاناکی طلبی کے پیچھے عجب نہیں کہ یہ بھی اس کابھی دخل رہاہو۔
بہرحال مولاناسجاد صاحب نے الٰہ آبادمیں بھی اپناکام اسی شان کے مطابق شروع کیا،جس کی آپ کے اساتذہ اور مدرسہ کے ذمہ داروں کوتوقع تھی،تھوڑے ہی دنوں میں مدرسہ کی شہرت اورنیک نامی میں اضافہ ہوا اورطلبہ کارجوع عام شروع ہوگیا،الٰہ آباد اور اطراف ہی سے نہیں؛بلکہ کانپورجیسے علمی مراکز سے بھی طلبہ مدرسہ سبحانیہ الٰہ آبادکی طرف رخ کرنے لگے اور یہیں سے سندفضیلت حاصل کرنے لگے۔حضرت مولاناسیدمنت اللہ رحمانی علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں:
’’جب مولانابہارشریف سے مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد تشریف لے گئے توچندہی دنوں کے بعدآپ کے درس کاایساچرچاہواکہ طلبہ کانپورچھوڑکرالٰہ آبادآنے لگے، باوجودیکہ کانپور میں اچھے فضلاء موجود تھے‘‘۔(۱۶)
یہی وہ دور ہے جب مولاناعبدالحکیم اوگانویؒ صاحب کانپور میں زیر تعلیم تھے اور مولانا کی شہرت سن کر الٰہ آباد چلے آئے تھے۔وہ لکھتے ہیں کہ:
’’میں اس زمانے میں کانپورمیں پڑھتاتھا،جب یہ معلوم ہوا کہ مولاناالٰہ آباد تشریف لے آئے ہیں تومیں کانپورسے الٰہ آبادچلاآیااورمولاناکے سلسلۂ تلمذمیں داخل ہوگیااوراپنی بقیہ کتابیں مولاناہی سے تمام کیں، اس لیے آج مجھے یہ فخرحاصل ہے کہ میں مولانا کاشاگرد ہوں اگرچہ حقیراورکمترین ہوں‘‘۔(۱۷)
مولاناعبدالحکیم صاحب نے کانپورسے قبل مولاناسجادکاذکرضرورسنا ہوگا،شایدکہیں ملاقات بھی ہوئی ہو؛ لیکن آپ سے اخذواستفادہ کاموقعہ غالباًنہ ملاتھا؛مگرجب وہ کانپورسے الٰہ آبادپہونچے اورمولانامحمدسجادکی ہمہ گیر صلاحیت اورعلم بیکراں کامشاہدہ کیاتومحسوس ہواکہ اگر وہ کانپورچھوڑکر الٰہ آباد نہ آتے توعلم کے بڑے باب سے محروم رہ جاتے؛ اس لیے کہ:
’’کانپور میں کوئی عالم آپ کے پایہ کانہ تھااور الٰہ آباد میں بھی بجزمولانامنیرالدین مرحوم الٰہ آبادی کے کوئی مدرس عالم آپ کاہمسر نظر نہ آیا‘‘۔(۱۸)
الٰہ آبادسے بہارشریف واپسی :
لیکن الٰہ آباد میں ابھی صرف چندماہ ہوئے تھے کہ مدرسہ اسلامیہ بہارشریف کی طرف سے آپ کی واپسی کامطالبہ ہونے لگا؛اس لیے آپ کی سعی جمیل سے مدرسہ کاجو تعلیمی معیار قائم ہواتھا،وہ اضمحلال کاشکار ہونے لگاتھا،چنانچہ ذمہ داران مدرسہ کے بے حداصرارپر چار(۴)ماہ کے بعدہی آپ مدرسہ اسلامیہ بہار شریف واپس تشریف لے آئے اورپھر ڈیڑھ سال یہاں خدمت انجام دی۔(۱۹)
دوبارہ بہارشریف سے الٰہ آباد:
ڈیڑھ سال کے بعد اہل الٰہ آبادکے مسلسل اصرارپر ۱۳۲۶ ؁ھ مطابق ۱۹۰۸ ؁ء میں آپ دوبارہ مدرسہ سبحانیہ الٰہ آبادمیں اپنی ذمہ داریوں پر واپس تشریف لے آئے اور مسلسل ۱۳۲۹ ؁ھ مطابق ۱۹۱۱ ؁ء تک یہیں خدمت انجام دی، اس دوران آپ نے انہی تعلیمی خطوط کوتسلسل بخشا،جو آپ نے ایک ڈیڑھ سال قبل قائم کئے تھے اور مدرسہ کی نیک نامی اورعلمی مرکزیت کواپنے نقطۂ عروج تک پہونچایا۔
الٰہ آباد میں آپ کا قیام تقریباً چار(۴)سال رہا،جوآپ کی تعلیمی وتدریسی زندگی میں شاہکارکادرجہ رکھتا ہے، الٰہ آباد میں آپ نے جملہ علوم وفنون کی کتابوں کادرس دیا، بالخصوص منطق وفلسفہ،بلاغت،علم ادب اور فقہ اسلامی میں آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا۔(۲۰)
الٰہ آبادمیں کتب فقہ کی تدریس کے علاوہ کارافتابھی آپ کے ذمہ تھا،مدرسہ سبحانیہ میں اسی دورکے طالب علم اورحضرت مولانامحمدسجادکے شاگردرشیدمولاناعبدالصمدرحمانی ؒ کے بیان کے مطابق:
’’اکثردں کے کھانے کے بعدکتب خانہ میں جودارالطلبہ کے نیچے کی منزل میں تھا،تشریف لے آتے اوراہم استفتاء کاجواب تحریرفرماتے تھے‘‘۔(۲۱)
اسلامی قانون کی تشریح وتفہیم میں آپ کوکمال حاصل تھا،فقہی مسائل میں الٰہ آباد میں آپ کوایک مرجع کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی؛اسی لیے جب آپ الٰہ آباد سے دائمی طورپررخصت ہونے لگے توعمائدین اوررؤساء شہرکی ایک بڑی جماعت اسٹیشن تک آپ کورخصت کرنے کے لیے آئی اور ان میں سے ہر ایک کی زبان پر یہی جملہ تھاکہ:
’’آج الٰہ آبادسے ’’فقہ‘‘رخصت ہورہی ہے‘‘۔(۲۲)
آپ کے طرز تعلیم اوراسلوب درس سے متاثرہوکرایک شیعہ رئیس زادہ جناب زاہدحسین خان دریاآبادی(۲۳) بھی آپ کے حلقۂ تلمذمیں داخل ہوگیاتھا،انگریزی اورعلوم عصریہ سے وہ واقف تھااور بڑی بڑی درسگاہوں کاتجربہ کرچکاتھا، مولاناسے ریاضی اورمعقولات پڑھتا تھااور بہت اہتمام اورعقیدت کے ساتھ حاضر ہوتاتھا۔(۲۴)اس منظر کے عینی شاہدجناب قاری یوسف حسن خان صاحب ؒ (جواس وقت مدرسہ سبحانیہ میں زیرتعلیم تھے)لکھتے ہیں کہ:
’’دوران قیام ایک شیعہ رئیس زادہ مولاناؒ سے ریاضی پڑھنے آتاتھا،وہ سارے ہندوستان کی خاک چھان چکاتھا؛لیکن کہیں اس کی تشفی نہیں ہوئی،آخرمیں وہ مولاناکے طریقہ تعلیم پرفریفتہ ہوگیااور باوجود رئیس زادہ ہونے کے برابرمولاناہی کی خدمت میں قیامگاہ پرتعلیم حاصل کرتا تھا اور اس کے والدین مولاناکو پچیس(۲۵) روپے دیاکرتے تھے،مولاناؒ اس سے روپے لے کرطلبہ کی ذات میں کل کاکل خرچ کردیاکرتے تھے اور اپنے لیے ایک پیسہ بھی نہیں رکھتے تھے‘‘۔(۲۵)
الٰہ آباد میں آپ کی وجہ سے بہار کے طلبہ کی بڑی تعدادرہتی تھی، مولاناعبدالصمدرحمانیؒ کے بقول:
’’جب وہ کانپور سے الٰہ آباد حصول تعلیم کی غرض سے پہونچے تو’’مدرسہ سبحانیہ کادارالطلبہ بہار کاایک گاؤں معلوم ہوتاتھا‘‘۔ (۲۶)
ممتازتلامذہ:
یہاں جن تلامذہ نے آپ سے فیض پایاان میں حضرت مولاناعبدالحکیم اوگانوی ؒ ،(۲۷) حضرت مولانا عبدالصمد رحمانی ؒ (۲۸)اور مولاناقاری یوسف حسن خان صاحب ؒ خاص طور پر قابل ذکرہیں ۔(۲۹)
تدریس بہ عہداہتمام 150 زمانۂ قیام گیا :
(۱۳۲۹ ؁ھ مطابق ۱۹۱۱ ؁ء تا۱۳۴۱ ؁ھ مطابق ۱۹۲۳ ؁ء 150 بارہ(۱۲)سال)
الٰہ آباد سے گیاتشریف آوری:
تدریس کاتیسرادور زمانۂ قیام گیاسے متعلق ہے اور مسلسل بارہ (۱۲)سالوں پرمحیط ہے اور اس پورے دور میں مدرسہ کے اہتمام وانتظام اور دیگر کئی ملی وقومی ذمہ داریوں کے ساتھ مولاناسجاد ؒ نے درسی خدمات انجام دی ہیں،یہ بے حد ہماہمی اورمصروفیت کادور تھا،اسی دور میں مولاناسجاد کی ایک شخصیت سے دوسری شخصیت وجود میں آئی،یہ انقلابات کادور تھا،ملک میں افراتفری مچی ہوئی تھی اورمولانا سجادکے فکر وخیال میں بھی ارتعاش برپاتھا، ایک پرت سے دوسری پرت نکل رہی تھی؛لیکن ان حالات میں بھی مولانامحمدسجادصاحب ؒ کے اندر کامدرس پورے آب وتاب کے ساتھ جلوہ گرتھااورانہوں نے اپنادرسی اشتغال اور افرادسازی کاعمل برقراررکھاتھا۔
الٰہ آبادچھوڑنے کے اسباب:
مولانامحمد سجاد صاحب نے الٰہ آباد کیوں ترک کیا؟ اور وہ کیااسباب تھے،جن کی بناپر وہ الٰہ آبادچھوڑنے پرمجبور ہوئے؟ان کے کئی تلامذہ نے اس کاجواب دینے کی کوشش کی ہے:
* مولاناقاری حکیم یوسف حسن خان صاحب ان دنوں وہیں مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد میں زیرتعلیم تھے، انہوں نے اجمال کے ساتھ صرف اتنالکھاہے کہ:
’’شروع رجب۱۳۲۹ھ(مطابق۱۹۱۱ء)میں مولانامرحوم کوچندناگزیرواقعات کی بناپرالٰہ آبادچھوڑناپڑا‘‘۔(۳۰)
ممکن ہے کہ بعض خلاف مزاج واقعات سے مولاناکے دل پرچوٹ پہونچی ہواور مدارس کے کردارومعیار کے بارے میں آپ کوکچھ مایوسی ہوئی ہو۔واللہ اعلم بالصواب
* البتہ مولاناکے دوسرے تلمیذمولاناعبدالصمدرحمانیؒ بھی ان دنوں الٰہ آبادمیں ہی تھے،انہوں نے تھوڑی تفصیل کے ساتھ الٰہ آبادچھوڑنے کے اسباب پرروشنی ڈالی ہے،جس کاخلاصہ دوباتیں ہیں:
(۱) مولاناہندوستان کے بدلتے پس منظرمیں اپنے وسیع ترتعلیمی نظریات کے لئے کسی کھلی تجربہ گاہ کی ضرورت محسوس کرتے تھے،جہاں وہ خود اختیاری کے ساتھ اپنے افکار ونظریات کے تجربات کرسکیں اور روایت کے ساتھ جدت کے عملی نمونے پیش کرسکیں،یہ چیزان کو الٰہ آبادمیں میسر نہیں تھی۔
(۲) دوسراسبب مدارس کی زبوں حالی اورعلمی واخلاقی معیارکاروزبروززوال تھا، بالخصوص بہار کے مدارس سب سے زیادہ گراوٹ کاشکارتھے،مولانامحمدسجادصاحبؒ نے مسلسل مدارس پر محنت کی تھی اور نسل نوکی تعمیر میں اپناخون جگرصرف کیاتھا،لیکن مادیت کے غلبہ اورنئے تعلیمی نظام کے نفوذ کی وجہ سے مدارس کو اب نئے امکانات کی تلاش پربھی توجہ دینے کی ضرورت تھی۔
مولاناعبدالصمد رحمانی صاحب ؒ نے یہ بھی لکھاہے کہ کئی بہاری طلبہ مولاناکوایک معیاری اورنمونہ کامدرسہ قائم کرنے مشورہ دیتے تھے اور کہتے تھے کہ جب تک نمونہ عمل کے طور پر آپ کوئی مدرسہ قائم نہیں کریں گے،آپ کے تعلیمی نظریات کی افادیت سامنے نہیں آسکے گی اورنہ مدارس کے نظام میں انقلاب کی روح پھونکی جاسکے گی،قدرتی طور پر مولانااس قسم تقاضوں سے متاثر ہوئے اورتعلیمی میدان میں عملی اقدامات کافیصلہ فرمایا۔(۳۱)
* مولاناسیدمنت اللہ رحمانی صاحب ؒ نے لکھاہے کہ اس انقلاب کے پیچھے ان عالمی اورملکی احوال واطلاعات کادخل تھا،جوحضرت مولاناکے انگریزی داں شاگرد(زاہدحسین خان)کے ذریعہ آپ کوپہونچتی تھیں، وہ انگریزی اخبارات برابرلاکرسناتے تھے،جن میں ممالک اسلامیہ کے بارے میں بے حد تشویشناک خبریں ہوا کرتی تھیں،جن سے مولاناکے دل ودماغ بہت زیادہ متاثر ہوتے تھے،اسی تاثر نے مولاناکے غوروفکرکے موضوع کوبدلا اوربال وپرکے لیے ایک آزادآب وہواکی تلاش ہوئی،جہاں نئی فکر،نئی ترتیب اور نئے اعتماد کے ساتھ تعلیمی وتربیتی سفر کاآغاز کیاجاسکے اور یہی ضرورت ان کوالٰہ آبادسے گیا(بہار)لے گئی ۔(۳۲)
فکروعمل کے ایک جامع مرکزکامنصوبہ :
یعنی صرف روایتی مدرسہ کے لئے آپ نے الٰہ آباد ترک نہیں کیا؛بلکہ ایک ایسے مدرسہ کامنصوبہ لے کرآپ وہاں سے اٹھے،جوہرطرح کی دینی،ملی،قومی اورسیاسی تحریکات کامرکزبننے کی صلاحیت رکھے،جو ملک وملت کو ہرصلاحیت کے افراددے سکے،جوصرف روایتی تعلیم گاہ نہ ہو؛بلکہ اسلام اور ملت اسلامیہ کے لیے مناسب افراد وشخصیات تیارکرنے کاکارخانہ ہو، مولانا الٰہ آباد سے اسی عزم کے ساتھ اٹھے،یہ محض ایک مدرسہ سے دوسرے مدرسہ کی طرف منتقلی نہیں تھی؛بلکہ تاریخ کے ایک دور سے دوسرے دورکی طرف انتقال اورماضی سے مستقبل کی طرف کاایک سفرارتقاتھا۔
۱۳۲۹ ؁ھ مطابق ۱۹۱۱ ؁ء کے رجب کاآغازتھاجب استاذ محترم حضرت مولاناعبدالکافی الٰہ آبادیؒ کے مشورہ اور اجازت سے آپ نے الٰہ آباد ترک کرنے کافیصلہ کیا۔(۳۳)
مگر گیا جانے سے قبل آپ نے پہلے حالات کاجائزہ لینے کے لیے ایک دونفری وفدوہاں روانہ فرمایا،جس میں آپ کے دوتلامذہ مولاناعبدالصمدرحمانی ؒ اور مولانااحمداللہ صاحب آبگلوی ؒ شامل تھے،ان حضرات نے پورے شہر کادورہ کیا،ایک ایک محلے میں گئے،خواص اوررؤسائے شہر سے ملاقاتیں کیں،مولاناکے منصوبوں سے ان کوآگاہ کیا،ان کی آراء اور ممکنہ تعاون کا جائزہ لیااور بالآخر ایک مکان کومناسب سمجھ کر اس پر نشان انتخاب ڈال دیا اوروہیں سے مولانا کو(غالباً ڈاک سے)تحریری رپورٹ ارسال کی،رپورٹ ملنے کے پندرہ بیس(۲۰) دن کے بعدحضرت مولانا سجاد کے قافلہ نے جس میں بہار کے پندرہ بیس طلبہ بھی شامل تھے الٰہ آبادسے گیاکی طرف کوچ کیا،الٰہ آباد اسٹیشن پرآپ کوالوداع کہنے والوں کابڑاہجوم تھا،جس میں خاصی تعدادشہرکے رؤساء اورعمائدین کی تھی،سب نے نم آنکھوں کے ساتھ آپ کو رخصت کیااورآپ اوائل شعبان ۱۳۲۹ ؁ھ مطابق اگست ۱۹۱۱ ؁ء میں بذریعہ ٹرین شہرگیاجلوہ افروزہوئے۔(۳۴)
گیاکاتاریخی پس منظر:
’’گیا‘‘بہارکاانتہائی قدیم تاریخی اورافسانوی اہمیت کاحامل شہرہے،اس کاذکر ہندؤں کی قدیم مذہبی کتابوں رامائن اورمہابھارت وغیرہ میں بھی ملتا ہے،یہ بہارکے بڑے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے،گیا بہار کا دوسرا بڑا شہر ہے، جس کی آبادی 470،839. دریائے فالگو کے کنارے پرواقع (یا نرنجانا، جیسا کہ رامائن میں ذکر کیا گیا ہے)جین،ھندو اوربودھ تینوں مذاہب کے لئے ایک مقدس مقام کادرجہ رکھتاہے،یہ تین جانب میں چھوٹی پہاڑیوں(منگلا۔گوروری،شریرا۔شانان،رام۔ شیہ اور برہمونی)سے گھرا ہواہے، اور چوتھی (مشرقی) سمت میں دریائے فالگوہے،شہر قدرتی مناظر اور خوبصورت عمارات سے آراستہ ہے۔(۳۵)
ذراتاریخ میں اورپیچھے کی طرف جائیں توگیادنیا بھر میں لوگوں کے لیے جیاہ حج کی جگہ تھی اور ہندوستانی برصغیر کی سرحدوںٍ سے بھی پرے وسیع علاقوں پرمشتمل تھا،اس مدت میں گیامگڑعلاقے کاحصہ تھا،مایا میگڑ علاقہ سے بہت سے راجاؤں کے عروج وزوال کی داستانیں وابستہ ہیں،چھٹی صدی قبل مسیح سے اٹھارہویں صدی عیسوی تک اس پورے خطے کاثقافتی تاریخ میں ایک اہم مقام رہاہے،تہذیبی تاریخ میں ایک اہم جگہ حاصل کرنے کے بعد،بی بساراکے دور میں گوتم بدھ اوربھجن مہاویرنے اس علاقے کواپنی رزمگاہ بنایا،نالندہ خاندان کی مختصر حکمرانی کے بعد گیا اور پورے مگدھ کاعلاقہ بدھ مت کے اشوک (272 قبل مسیح ۔ 232 ق م) کے ساتھ موریان کی حکومت کے تحت آگیا.۔۔۔۔گپت سلطنت کے دوران گیابہار کا ہیڈکوارٹر تھا،پھر گیا پالا سلطنت کاحصہ بن گیا،مورخین کاخیال یہ ہے کہ بوہیاکاموجودہ مندرگوپال کے بیٹے دھرمپل کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔
بارہویں صدی عیسوی میں محمدبختیارخلجی نے حملہ کیااور یہ مغل سلطنت کا حصہ بن گیا۔(۳۶)
گیاکاانتخاب:
اس تاریخی پس منظر سے ظاہر ہوتاہے کہ گیاکوبین الاقوامی شہرکی حیثیت حاصل رہی ہے اور آج بھی یہ شہر اپنی اہمیت برقرار رکھنے کی پوری جدوجہد کررہاہے،بہار کاانٹرنیشنل ایرپورٹ بھی اسی شہر میں واقع ہے،ایک سیاحتی شہر کی حیثیت سے اس کی بین الاقوامی حیثیت آج بھی قائم ہے،دنیاکے مختلف ملکوں کے سیاح یہاں آتے ہیں،خاص طور پربرما،جاپان اور چائناکے لوگوں کی توجہات کایہ مرکزہے،یہ شہر آج بھی بہت سی سہولیات سے مالامال ہے، جو بہارکے دوسرے شہروں میں میسرنہیں ہیں۔۔۔۔اور عجب نہیں کہ حضرت مولانامحمدسجاد صاحبؒ نے انہی وجوہات سے اپنی تعلیمی، ملی،دینی اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے اس بین الاقوامی شہر کاانتخاب کیاہو اوروہ گیامیں نالندہ کی تاریخی یونیورسیٹی کے طرزکاکوئی عالمی ادارہ قائم کرنے کے آرزومندہوں ۔(۳۷)
گیاکے بعض مدرسے:
گیامیں بعض مدارس اسلامیہ مولاناسجادکی آمدسے پہلے سے بھی قائم تھے،مثلاً:
مدرسہ(قاسمیہ)اسلامیہ:
* حضرت مولاناعبدالغفار خان سرحدی ؒ (متوفیٰ۱۳۳۴ ؁ھ مطابق۱۹۱۶ ؁ء)خلیفۂ ارشد قطب العالم حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی ؒ نے ۱۳۰۲ ؁ھ مطابق ۱۸۸۵ ؁ء سے قبل ایک مدرسہ’’مدرسہ اسلامیہ‘‘کے نام سے قائم کیا تھا،جو آپ کے دامادحضرت مولاناسیدخیرالدین گیاوی ؒ (متوفیٰ ۱۳۶۷ ؁ھ مطابق ۱۹۴۸ ؁ء)کے عہداہتمام میں مدرسہ قاسمیہ اسلامیہ کے نام سے مشہور ہوا۔(۳۸)یہ مدرسہ مولانا محمدسجاد صاحب ؒ کی گیاتشریف آوری کے زمانہ میں جاری تھا؛لیکن کسی بلندحیثیت کاحامل نہیں تھا۔
مدرسہ انوارالعلوم (بناء اول):
* اسی طرح ۱۳۲۷ ؁ھ مطابق ۱۹۰۹ ؁ء میں مولانامحمدسجاد ؒ کے ہم وطن اور استاذ مشہور منطقی عالم دین شمس العلماء حضرت مولاناعبدالوہاب فاضل بہاریؒ نے بھی قاضی فرزنداحمد صاحب رئیس گیا کے تعاون سے قاضی صاحب کے صاحبزادے قاضی انواراحمد مرحوم کے نام پر’’مدرسہ انوارالعلوم‘‘ کی بنیاد ڈالی تھی،جس کے سالانہ جلسہ میں مولاناعبدالوہاب صاحب کی دعوت پرعلامہ شبلی نعمانی ؒ اورمولاناعبدالحق حقانی دہلوی ؒ جیسے مشاہیرہندتشریف لاچکے تھے۔(۳۹)
لیکن ایک دوسال کے بعدہی مولاناعبدالوہاب بہاری ؒ کے چلے جانے کے بعد وہ مدرسہ بند ہوگیاتھا،ظاہر ہے کہ ایک دوسال کے عرصہ میں مدرسہ کی اپنی عمارت ہونے کا بھی کوئی سوال پیدانہیں ہوتا،لگتاہے کہ مدرسہ کسی عارضی عمارت میں رہاہوگا،جو بندہونے کے بعد صاحب ملکیت کے پاس واپس چلی گئی۔(۴۰)
غرض مولانامحمدسجادصاحب ؒ کی گیاتشریف آوری کے وقت یہاں کوئی بھی قابل ذکرمدرسہ موجود نہیں تھااور غالباً آپ نے اپنی آمدسے قبل جووفد یہاں بھیجاتھا،اس کامقصدحالات کاجائزہ لینے کے ساتھ مدارس کی صورت حال اور کسی نئے مدرسہ کی فی الواقع ضرورت کاپتہ لگانا بھی تھا۔مولانازکریافاطمی ندوی صاحب ؒ رقمطرازہیں:
’’المختصرجس وقت آپ تشریف لائے،گیامیں کوئی مدرسہ نہیں تھااور ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ کوئی عربی درسگاہ جاری کی جائے‘‘۔(۴۱)
مدرسہ انوارالعلوم گیا کااحیا:
حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒ نے نئے نام سے کوئی مدرسہ قائم کرنے کے بجائے مناسب محسوس کیا کہ حضرت مولاناعبدالوہاب صاحب والے مدرسہ ہی کااحیاکیاجائے،مدرسہ توختم ہوچکاتھا،نہ اس کی کوئی عمارت تھی اور نہ اس کابچاہواکوئی اثاثہ،البتہ مدرسہ کا نام ابھی تک لوگوں کے ذہنوں سے محونہیں ہواتھا،اس نام نے ایک زمانہ میں لوگوں کاکافی اعتماد سمیٹاتھا؛اس لیے اس نام کودوبارہ زندہ کرنے سے قدیم مخلصین ومعاونین بھی خوشی محسوس کریں گے۔
* نیزاس نام پر اس سے قبل ملک کے مشاہیر کی تشریف آوری ہوچکی تھی؛اس لیے یہ نام ان کے ذہنوں کے کسی گوشہ میں بھی ضرور محفوظ ہوگااور اس سے مدرسہ کی تشہیرو اشاعت میں مددملے گی۔
* ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ یہ نام ملک کے ایک شمس العلماء کاتجویزکردہ تھا،جوحضرت مولانا محمدسجادصاحب ؒ کے استاذ بھی تھے اور ہم وطن بھی۔
* اورغالباً اس نام کوباقی رکھنے کاایک بڑاسبب یہ بھی ہواکہ جب حضرت مولاناسجاد صاحبؒ قیام مدرسہ کے ارادہ سے گیاتشریف لائے تویہاں کے مقامی لوگوں میں سے جن خاص لوگوں نے آپ کاپرتپاک استقبال کیا،ان میں قاضی احمدحسین صاحب کی شخصیت سرفہرست تھی،(۴۲)قاضی صاحب کی ایک خالہ جونیک کاموں میں دل کھول کرخرچ کرتی تھیں اورمخیرہ ہونے کی وجہ سے سرکارعالیہ کہلاتی تھیں،قاضی صاحب کی سفارش پر انہوں نے ایک بڑی رقم مدرسہ کھولنے کے لیے عنایت کی، سرکارعالیہ کوکوئی اولادنرینہ نہیں تھی،قاضی فرزنداحمد صاحب کے اکلوتے صاحبزادے قاضی انواراحمدصاحب (جن کاذکراوپرآیا) ان کے داماد تھے اور عین جوانی میں دوبچوں کویتیم چھوڑکرانتقال کرچکے تھے،ممکن ہے کہ سرکارعالیہ کی خواہش رہی ہو کہ میرے دامادکانام زندہ رہے۔
یہ بات خودقاضی احمدحسین صاحبؒ کی سوانح حیات ’’حسن حیات‘‘میں ان کے پھوپھی زادبھائی شاہ محمدعثمانی صاحب ؒ مہاجرمکی نے لکھی ہے،(۴۳)اس سے قبل حضرت مولانا عبدالوہاب صاحب بہاری ؒ کاتعاون بھی قاضی انواراحمدمرحوم کے والدقاضی فرزند احمد صاحب نے کیاتھا اوراب مولانامحمدسجادصاحبؒ کوبھی اسی کام کے لیے قاضی انواراحمد کی خوشدامن صاحبہ خطیرتعاون پیش کررہی تھیں؛اس لیے قدرتی طور پروہی قدیم نام ’’انوارالعلوم‘‘ باقی رکھناہرلحاظ سے قرین مصلحت تھا۔
غرض یہ نام برکتوں اور دینی ودنیوی منافع سے خالی نہیں تھا،بس مولاناسجاد صاحب نے اسی نام سے شعبان المعظم ۱۳۲۹ ؁ھ مطابق جولائی ۱۹۱۱ ؁ء میں ایک نئے ادارہ کی بنیاد ڈالی،کرایہ پرایک دومنزلہ مکان’’ظفر منزل‘‘ کے سامنے مولاناسجادصاحب کی آمدسے قبل ہی لے لیاگیاتھا،یہی دارالاقامہ بھی تھا اور یہی درسگاہ بھی۔۔۔ آپ نے ایک شاندارافتتاحی اجلاس کے ذریعہ مدرسہ کاآغازفرمایا،جس میں اپنے استاذومربی حضرت مولاناعبدالکافی الٰہ آبادی علیہ الرحمہ کو بھی مدعوفرمایا۔(۴۴)
بے مثال صبروایثار:
مولانانے مدرسہ کی تعمیر وترقی کے لئے بے پناہ محنت کی،الٰہ آباد کی آمدنی سے جوکچھ بچاتھا سب مدرسہ کے طلبہ پر خرچ کردیا،اس کے بعد فاقہ تک کی نوبت آگئی؛مگر نہ مولاناکے پائے استقلال میں فرق آیااور نہ آپ کی برکت سے طلبہ مایوس ہوئے،مدرسہ کے ابتدائی دور میں بڑے مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا اور سخت تکلیفیں اورصعوبتیں اٹھانی پڑیں،بقول مولانا عبدالحکیم صاحب اوگانویؒ :
’’یہ ایک داستان لرزہ خیزاور حیرت انگیزہے،جن کوکچھ میں ہی جانتاہوں؛کیوں کہ میں مولاناکارفیق اور ساتھی تھا‘‘۔(۴۵)
مولاناعبدالصمدرحمانی صاحب بھی یہاں شریک کاررہے ہیں،وہ فرماتے ہیں کہ:
’’یہاں پہونچ کر قیام کے بعدسب سے پہلااہم مسئلہ طعام کاتھا،جس کاحل یہ کیاگیاکہ جس کے پاس جو کچھ تھا،وہ سب ایک جگہ جمع کردیاگیا اور اسی سے قوت لا یموت کا یہ انتظام کیاگیاکہ اکثر کھچڑی اورکبھی صرف خشکہ پکالیاجاتاتھااس کوسرخ مرچ کے بھرتہ کے ساتھ جو آگ پربھون لی جاتی تھی اوراس میں نمک ملادیاجاتا تھامولاناایک دسترخوان پربلاتکلف طلبہ کے ساتھ بیٹھ کرکھالیتے تھے،اور مولاناکی پیشانی پرکبھی شکن بھی نہیں پڑتی تھی،مجھ کویاد ہے کہ ایک عید ایسی بھی گذری تھی کہ مولانامدرسہ کی ضرورت سے کہیں باہر تشریف لے گئے تھے، اس روز کھانے کاکوئی سامان نہ تھا،صرف چندسیر گیہوں تھے،ان ہی کوبھون کرصوم عید کی حرمت سے گلو خلاصی کرکے صبروشکر کے ساتھ عیدکادوگانہ اداکیاگیاتھا۔ان غیرمعمولی حالات میں مولانا کومیں نے کبھی نہیں دیکھاکہ وہ اس رنج ومحن کے کٹھن ایام میں کبھی مایوس ہوئے ہوں، یایہ کہ ان کوکبھی خیال ہواہوکہ بیٹھے بٹھائے کیوں الٰہ آباد کی طمانیت کی خوش عیش اور خوشگوارزندگی کوچھوڑکراس دردسرکوخریدا،مولاناہمیشہ پرامیدرہتے تھے اورطلبہ کوبھی پرامیدرکھتے تھے، مشکلات سے نہ گھبراتے تھے، نہ کام کے ہجوم سے پریشان ہوتے تھے،ان ایام میں وہ تنہا سب کام انجام دیتے تھے،خود ہی مدرسہ کے مہتمم بھی تھے،مدرس بھی تھے،سفیر بھی تھے اور طلبہ کے اتالیق بھی تھے اوران کے غمگساراور مربی بھی تھے‘‘۔(۴۶)
فتوحات کاآغاز:
آخر مولاناکی محنت رنگ لائی،آپ کی امیدوں کے شجر ہرے ہونے لگے، خزاں کے دن رخصت ہونے لگے،بہار کی ہوائیں چلنے لگیں اور آپ کے صبر واخلاص کی گرمی نے اس سنگلاخ شہر کا جگر پگھلاکررکھ دیا،شہر کے عمائدین متوجہ ہوئے،ہرطرف سے مدرسہ کو تعاون ملنے لگا،مسماۃ بی بی مریم صاحبہ دخترمرزادوست محمددیوان ریاست ٹکاری گیانے زمین، کئی مکانات اور جائیدادیں مدرسہ کے لئے وقف کیں،جس سے مدرسہ میں کافی سہولتیں پیداہوگئیں، مولاناطلبہ کے ساتھ کرایہ کے مکان سے منتقل ہوکر موقوفہ مکانات میں چلے آئے۔(۴۷)
اس کے بعدمولانانے معقول سرمایہ کاانتظام کرکے اینٹ کابھٹہ لگوایااوراحاطہ باغ (محلہ معروف گنج) میں تعمیری کام کاآغازفرمایا۔تعمیرکے دوران رات میں مولاناطلبہ کے ساتھ خود اینٹیں ڈھوڈھوکر مقام تعمیر تک پہونچاتے تھے، تاکہ مدرسہ زیادہ زیربارنہ ہو، نیز تعمیری کام جلد مکمل ہوسکے،طلبہ میں بھی بڑاجوش وخروش تھا،ہر طالب علم بڑھ چڑھ کر حصہ لیتاتھا اور اس کو اپنے لیے سعادت تصور کرتاتھا۔(۴۸)
منتہی درجات تک تعلیم :
تعمیرات کے ساتھ مولانانے اس مدرسہ کی علمی بنیادیں بھی مستحکم کیں،ایک ہی چھت کے نیچے ابتدائی درجہ سے لے کر دورۂ حدیث تک کی تعلیم ہونے لگی،قریب وبعید کے طالبان علوم نبوت کارجوع عام ہوگیا،صرف بہار ہی نہیں؛بلکہ ملک کے دوسرے صوبوں سے بھی تشنگان علم وفن کی قطارلگ گئی اور جس عظیم اسلامی یونیورسیٹی کاآپ نے خواب دیکھا،اس کانقشہ سامنے آنے لگا،مدرسہ کے بڑے بڑے جلسے ہونے لگے،جس میں ملک کی ممتاز شخصیتوں کی شرکت ہوتی تھی اور فضیلت حاصل کرنے والے طلبہ کودستار بھی عنایت کی جاتی تھی اورسند بھی۔(۴۹)
ملی،تعلیمی وقومی تحریکات کامرکز:
علاوہ اس مدرسہ کی بڑی خصوصیت،جس میں برصغیر کے کم مدارس اس کی ہمسری کرسکیں گے،یہ تھی کہ حضرت مولانامحمدسجاد کی اکثر دینی،ملی،قومی اور سیاسی تحریکات کی جائے پیدایش یہی ہے،فکر سجادکی نشوونمااسی آب وہوا میں ہوئی اورمولاناسجادکے افکاروخیالات اورامیدوں اورآرزؤں کااصل دارالسلطنت یہی مدرسہ تھا۔حضرت مولاناسیدمنت اللہ رحمانی صاحبؒ کے الفاظ میں:
’’علماء کی تنظیم،جمعیۃ علماء کاقیام،تمام مدارس عربی میں ایک اصلاحی نصاب کااجرا،امارت شرعیہ کی اسکیم وغیرہ یہ سب چیزیں مولاناکے دماغ نے گیاہی میں پیداکیں اوراسی زمانہ میں مولانانے اپنی اسکیموں کوعملی شکل بھی دیناشروع کردی‘‘۔(۵۰)
اس مدرسہ کے ممتاز فضلاء میں جنہوں نے یہاں حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ کے پاس دورہ حدیث کی تکمیل کی اوریہیں سے فراغت حاصل کی۔حضرت مولانامظہرعلی صاحب(مقام شمس پورتھانہ بیلا،ضلع گیابہار) بطور خاص قابل ذکرہیں،اس خطہ میں ان کوخاصی شہرت حاصل ہوئی۔(۵۱)
خوبصورت تسلسل :
مدرسہ کی ایک مطبوعہ سند ہمیں دریافت ہوئی ہے، جو مولانامحمدسجاد صاحب ؒ کے بعد طبع ہوئی تھی،اس سے اندازہ ہوتاہے کہ مولاناسجاد ؒ کے بعد بھی دورہ حدیث کے اسباق یہاں جاری تھے ور طلبہ یہاں سے فارغ ہوتے رہے، مولانامحمدسجادصاحب ؒ کے بعد اس مدرسہ کے مہتمم آپ کے شاگردرشیدمولاناعبدالحکیم صاحب ہوئے،جن کوخود حضرت سجادؒ نے اپنی گوناگوں مصروفیات کی بناپریہ ذمہ داری اپنی حیات میں حوالے کردی تھی،ان کے دور میں بھی مدرسہ کی ہمہ جہتی ترقیات کاسفر جاری رہااوریہ اعلیٰ تعلیم کے مرکزکی حیثیت سے اپنی نیک نامی میں اضافہ کرتارہا، غالباً دورۂ حدیث کی یہ سندمولاناعبدالحکیم صاحب ہی کے زمانے میں طبع کرائی گئی تھی۔
زوال کی طرف :
مولاناعبدالحکیم صاحب کاانتقال حضرت سجادؒ کی وفات کے ایک ہی سال کے بعد ہوگیاتھا، مولاناعبدالحکیم صاحب کے وصال کے بعدمدرسہ کی نظامت حضرت مولاناسجادہی کے ایک اورتربیت یافتہ قاضی احمدحسین صاحب ؒ کے سپرد ہوئی،قاضی صاحب نے اس مدرسہ کوترقی دینے کی بھرپورکوششیں کیں،وہ اعلیٰ درجہ کے اساتذہ کی تلاش میں سرگرداں رہے اورکئی باصلاحیت اساتذہ کی خدمات انہوں نے حاصل کیں،انہی میں ایک نامور استاذمولانامظاہرامام صاحب بھی تھے،جوشیرگھاٹی گیاکے رہنے والے تھے،ایک عرصہ تک بہارشریف میں پڑھا چکے تھے۔علامہ سیدسلیمان ندویؒ بھی ان کی استعداد کی تعریفیں کرتے تھے،وہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ جیسی عظیم درسگاہ میں پرنسپل بننے کی لیاقت رکھتے تھے؛لیکن انگریزی میں دستخط نہ کرسکنے کی بناپراس دوڑ میں پیچھے رہ گئے،۔۔۔جمعیۃ علماء اورکانگریس کے حامی تھے اور یہی چیزمدرسہ کیلئے فتنہ بن گئی،حضرت مولاناسجادکے بعد گیاکی ملی سیاست کانقشہ ہی تبدیل ہوگیاتھا،جوشہرجمعیۃ علماء ہند اور اس کے واسطے سے کانگریس کاگہوارہ رہ چکاتھا، جہاں،خلافت،جمعیۃ اورکانگریس کے بڑے بڑے اجلاس ہوچکے تھے،مولانا سجادصاحب کے بعدملکی حالات کے تغیرات کے نتیجے میں وہاں کی اکثریت کانگریس اورجمعیۃسے بیزار ہونے لگی تھی،مسلم لیگ کے پاکستان جیسے خوشنمانعروں کاجادو سرچڑھ کربول رہاتھا،شہر کے اکثرمسلمان مسلم لیگ کے حامی ہوگئے تھے، مولانامظاہرامام صاحب کاجمیعتی اورکانگریسی انتساب ان کوقطعی گوارانہیں ہوا،ناظم مدرسہ قاضی احمدحسین صاحب ان دنوں امارت شرعیہ پھلواری شریف میں مقیم تھے،ان کی غیرموجودگی میں مقامی لیڈروں نے مدرسہ پرقبضہ کرلیا،آگے کی رپورٹ قاضی صاحب کے پھوپھی زاد بھائی اور سوانح نگار شاہ محمدعثمانی ؒ کی زبانی سنئے:
’’قاضی صاحب کوتاردیاگیا،وہ گیاتشریف لائے اورچاہتے تھے کہ مقدمہ کی کاروائی کریں؛لیکن ان کے چھوٹے بھائی نے مشورہ دیاکہ لڑائی نہ کی جائے،انہوں نے کہا کہ مدرسوں کی کیااہمیت ہے،ملک میں ہزاروں مدرسے ہیں اوران کوعلماء دین جو جمعیۃ علماء سے وابستہ ہیں چلارہے ہیں،ایک مدرسہ نہ سہی،مولاناسجادکی یادگار صرف یہی مدرسہ تونہیں،ان کی یادگار جمعیۃ علماء اور امارت شرعیہ بھی توہے،ان کوچلایا جائے،چنانچہ قاضی صاحب نے لڑنے کاارادہ ترک کردیااور پھلواری شریف واپس تشریف لے گئے۔
اس کے بعدیہ مدرسہ مختلف دوروں سے گزرتارہامولاناابومحمدصاحب مرحوم اورمولانااصغرحسین نے اس کے لئے بہت بڑی جائیدادبھی حاصل کی،پھراس کاانتظام ان لوگوں کے قبضہ میں چلاگیاجن کامزاج عربی مدارس کے چلانے کانہ تھا،وہ کوئی اسکول البتہ اچھی طرح چلاسکتے تھے‘‘۔ (۵۲)
اس طرح ملت کایہ قیمتی سرمایہ زوال پذیرہوگیااورباوجودبے پناہ جائداد موقوفہ کے اس مدرسہ کامعیارتعلیم گرتاچلاگیا،اب یہ درجات حفظ تک محدود ہوکررہ گیا ہے۔
آج کل یہ مدرسہ بہاروقف بورڈکے ماتحت ہے،سرکاری تنخواہ یاب ملازمین ہیں، وسیع وعریض عمارتیں ہیں،بڑی جائیدادہے اور سب کچھ ہے؛ مگرمولانامحمدسجادؒ جیساکوہ کن کوئی نہیں ہے ؂
گرچہ ہیں تابدارابھی گیسوئے دجلہ وفرات
قافلہ حجاز میں کوئی حسین ہی نہیں
تدریسی امتیازات وخصوصیات:
بے نظیراستاذ:
حضرت مولانامحمد سجاد صاحب ؒ بڑے عالم ہونے کے ساتھ کامیاب مدرس بھی تھے، طالب علمی کے زمانہ ہی سے ان کواس میدان میں شہرت حاصل ہوگئی تھی،مختلف علوم وفنون پربے پناہ قدرت کے ساتھ تفہیم کی جوصلاحیت اللہ پاک کی جانب سے ان کوعطا ہوئی تھی،اس کی بناپروہ طالب علم کے ذہن ودماغ پرچھاجاتے تھے اور طالب علم محسوس کرتاتھاکہ علم اسے گھول کرپلایاجارہاہو،گوکہ مولاناکازمانہ تدریس بہت زیادہ طویل نہیں رہا، زمانہ طالب علمی کی تدریس کو بھی شامل کرلیاجائے تو کل مدت تدریس بیس اکیس(۲۱) سال ہوتی ہے،اس مختصر سی مدت میں جس طرح آپ کی تدریس کے جوہرکھلے،اگر کچھ عرصہ اوربھی آپ کوموقعہ ملاہوتاتوشایدپورے غیرمنقسم ہندوستان میں کوئی آپ کی نظیر نہ ہوتااوریہ خیال میرانہیں؛بلکہ آپ کوبہت قریب سے دیکھنے والے اورپورے ملک کے اداروں اور شخصیات پر گہری نظر رکھنے والے ماہرتعلیم اورمبصرحضرت مولاناسیدمنت اللہ رحمانی علیہ الرحمہ کاہے۔تحریر فرماتے ہیں:
’’ہندوستان میں بڑے فضلاء اورکامیاب ترین درس دینے والے گذرے ہیں اورآج بھی کچھ موجود ہیں؛ مگرکم لوگوں کویہ فخرحاصل ہے کہ اس قدرجلدعلمی صفوں میں نمایاں ہوئے ہوں،جس قدر جلد اور جتنی کم سنی میں مولاناکے علم وتبحر کو اہل علم نے تسلیم کرلیا،اگر مولانانے اپنی زندگی کارخ دوسری طرف نہ پھیردیاہوتا،اوروہ برابر پڑھنے پڑھانے میں مشغول رہتے،توبلاخوف تردیدکہاجاسکتاہے کہ وہ ہندوستان کے سب سے زیادہ کامیاب مدرس اورسب سے زیادہ شفیق استاذ ہوتے‘‘۔ (۵۳)
اور یہ رائے تنہامولاناسیدمنت اللہ رحمانیؒ کی نہیں؛بلکہ مولاناکے تمام تلامذہ اس باب میں متفق الرائے ہیں،جس نے ایک سبق بھی مولاناسے پڑھا،وہ ساری زندگی کے لیے آپ کا گرویدہ ہوگیااوراس سعادت کواپنے لئے سرمایہ فخرتصور کرنے لگا،آپ کے سب سے بڑے علمی وفکری جانشین مولاناعبدالحکیم صاحب نے پورے یقین کے ساتھ لکھاہے کہ میں نے اپنی پوری علمی زندگی میں مولاناکے پایہ کانہ عالم دیکھااور نہ مدرس دیکھا،مولاناکی شاگردی پر اظہارفخر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’آج مجھے یہ فخرحاصل ہے کہ میں مولاناکاشاگرد ہوں،اگرچہ حقیراورکمترین ہوں۔۔۔مولاناکے درس وتدریس کایہ حال تھاکہ بڑی محنت اورکاوش سے پڑھاتے تھے اور کتاب کے مطالب مع مالہ وماعلیہ اس آسانی سے طلبہ کے دماغ میں اتار دیتے تھے کہ دماغ چمک اٹھتا تھا، مولاناکے طرزتدریس کی بڑی شہرت اوردھوم رہی‘‘۔(۵۴)
مولاناکے متعددتلامذہ نے مولاناکے درس کی جوکیفیات لکھی ہیں،ان کی روشنی میں آپ کے درس کی درج ذیل خصوصیات نظرآتی ہیں:
درسی خصوصیات:
* مکمل مطالعہ وتیاری کے بعدپورے انہماک کے ساتھ آپ کتابوں کوسمجھاتے تھے،نہ اس میں الفاظ کابخل ہوتاتھااور نہ وقت کی تنگ دامانی کاگلہ۔
* اگرایک بارکی تقریرسے تشفی نہ ہوتی تودوبارہ سہ بارہ تقریر کرنے میں چیں بجبیں نہ ہوتے۔
* اگر اوقات مدرسہ میں آسودگی نہ ہوتی توالگ سے وقت دینے میں دریغ نہ فرماتے۔
* حدتویہ تھی کہ کسی طالب علم کوآپ کے بیان کردہ مطلب پراعتمادنہ ہوتاتو شروح وحواشی دکھلاکراس کی تشفی فرماتے۔
* مشکل مقامات میں کسی طالب علم کوشبہ ہوتاتواپنے سے بڑے صاحب علم وفضل کے سامنے مقام شبہ کی تقریر فرماکر طالب علم کومطمئن کرتے اور اس میں ذرابھی اپنے لیے عارمحسوس نہ کرتے اورنہ طالب علم سے بدگمان ہوتے ۔(۵۵)
طلبہ کی ضروریات کالحاظ:
* طلبہ کی تمام ضروریات کاخیال رکھتے،پڑھنے لکھنے کے علاوہ ان کے کھانے پینے رہنے سہنے،صحت وبیماری اور گھریلوحالات سے بھی واقف رہتے اوراپنی اولادکی طرح ان کوہرممکن سہولیات بہم پہونچانے کی کوشش کرتے تھے۔مولانامنت اللہ رحمانی صاحب نے لکھاہے کہ:
’’مولاناکاسلوک طلبہ کے ساتھ اس درجہ بہتر تھاکہ ان دنوں اس کاتصورمشکل ہے کھانے پینے،رہنے سہنے، پہننے اوڑھنے میں مولانانے کبھی امتیازروانہ رکھا، یہ ناممکن تھا،کہ مولانا کھائیں اور طالب علم بھوکارہ جائے،بیمار طلبہ کے علاج کا نظم خود مولانا کیاکرتے تھے،حکیم کے یہاں لے جانا،دوالانا، دواپلانا،تیمارداری کرنا،ان میں سے زیادہ تر کام مولاناخوداپنے ہاتھوں سے انجام دیا کرتے تھیاس کانتیجہ یہ تھاکہ طلبہ مولاناپراپنی جان قربان کرنے کوتیار رہتے تھے، آج بھی مولاناکے جو شاگرد موجود ہیں، وہ اس وقت بھی مولانا کی شفقت اورمہربانیوں کوہمیشہ یادکرتے ہیں اور انہیں اس کااعتراف ہے کہ جتنی خدمت مولانانے ہماری کی ہوگی اتنی خدمت ہم مولاناکی نہیں کرسکے ہیں‘‘۔(۵۶)
بغیراحترام ومحبت کے علم دل ودماغ میں نہیں اترتا،طلبہ کے ساتھ مولاناکایہ سلوک محض انسانی خدمت کے نقطہ نظر سے نہیں تھا؛بلکہ ان کے لئے علم کی منزل کوآسان کرنابھی مقصودتھا،مولانااپنے حسن سلوک اورمحبت کے ذریعہ طلبہ پر علم کاایسانشہ چڑھادیتے تھے کہ حصول علم کے لیے ثریاتک کے لیے وہ آمادہ سفر ہوجاتے تھے،بقول ڈاکٹر محمداقبال ؔ :
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
تدریسی فنائیت:
* مولاناایک نہ تھکنے والے مدرس تھے،ان کادرس فجر کی نماز سے قبل شروع ہو جاتاتھا،اور سونے کے وقت جاری رہتاتھا،دوپہراور عصر کے بعد کاوقت بھی ان کاخدمت علم ہی میں گذرتاتھا،استاذ الکل حضرت مولانااحمدحسن کانپوری کے بعد کسی بھی مدرس کی ایسی تدریسی فنائیت سننے میں نہیں آئی۔
چھٹیوں میں تعلیم :
* طلبہ کے اوقات کاخیال رکھنا،اورزیادہ سے ان کوتعلیم میں مشغول رکھنا،مولانا اس کے لئے کبھی خود بھی زیربار ہوتے تھے؛ لیکن ممکن حد تک اس کو گوارا فرماتے تھے،مثلاً مدرسہ میں لمبی چھٹیاں ہوجاتیں تو آپ کچھ طلبہ کواپنے گھر لے جاتے اور ان کوگھر پرتعلیم دیتے اوران کے اخراجات کی کفالت خود برداشت کرتے تھے، مولانا اصغر حسین صاحب بہاریؒ ان خوش نصیب طلبہ میں سے ایک ہیں،جو تعلیمی چھٹیاں کاشانۂ سجاد پرگذارچکے ہیں۔ تحریرفرماتے ہیں:
’’طلبہ کے اسباق کااس قدراحساس تھا،کہ شہر کی آب وہواکی ردائت کے باعث مدرسہ ہفتہ دوہفتہ کے لیے بند ہوجاتا توپندرہ بیس طلبہ کوپنہسہ اپنے مکان لے جاتے اور سب کے ناشتے کھانے کے خود کفیل ہوکر مکان ہی پر درس میں مشغول ہوتے،مجھ کوبھی ایک مرتبہ ایساموقعہ ملاہے،اس وقت مولاناکے یہاں خوب کاشتکاری ہوتی تھی‘‘۔(۵۷)
طلبہ میں اعتمادکی روح پھونکنا:
* وہ طلبہ میں اعتماد کی روح پھونکتے تھے،وہ کتاب کی تفہیم ضرور فرماتے تھے؛لیکن چاہتے تھے کہ طلبہ کتاب کی عبارت سے بالاترہوکر نفس موضوع پربھی قابو پالیں اور وہ مسئلہ پربراہ راست غور کرناسیکھ جائیں؛تاکہ کتابوں کی مرعوبیت سے آزاد ہوکرکسی بھی مسئلہ میں صحت وسقم کافیصلہ کرنے کی ان میں صلاحیت پیداہوجائے، آپ کے شاگردرشیدحضرت مولاناعبدالصمدرحمانی ؒ جوخود بڑے اعلیٰ درجہ کے عالم،فقیہ اور مدرس ہوئے ہیں اور جنہوں نے سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ اپنے استاذکے طریقہ تعلیم پر روشنی ڈالی ہے، تحریر فرماتے ہیں:
’’استاذمرحوم فرمایاکرتے تھے کہ پڑھنے والے کے سامنے دوباتیں رہنی ضروری ہیں،ایک تویہ کہ جس مسئلہ کو تم کتاب میں پڑھ رہے ہو،پہلے اس کوکتاب سے سمجھوکہ صاحب کتاب اس کے متعلق کیاکہہ رہاہے اور اس سمجھنے میں جو کچھ سمجھواس کی عبارت سے سمجھوکسی خیال کواپنی طرف سے زبردستی اس میں نہ ٹھونسو،اس کے سمجھ لینے کے بعددوسری چیز یہ ہے کہ یہ سمجھوکہ اصل مسئلہ کی حقیقت ہے کیا؟اور جب اصل مسئلہ کی حقیقت سمجھ لوتواس کے بعد یہ بھی دیکھو کہ صاحب کتاب سے اس حقیقت کے سمجھنے میں چوک تو نہیں ہوئی ہے، پس حضرت استاذ پہلے کتاب کی تفہیم فرماتے ،پھر نفس مسئلہ کی طرف رہنمائی فرماتے،اس طرح پڑھنے والے میں تحقیق، تلاش، محنت، مطالعہ اور فکرکاجذبہ پیداکردیتے تھے اور پڑھنے والے کے دماغ کی تربیت فرماتے تھے،حضرت استاذ طلبہ کونہ توبے محابا،بگ ٹٹ،ایسارواں دواں دیکھناچاہتے تھے کہ بے خبری میں ہر موڑاس کے لیے خطرناک خندق بن جائے اور اس کے لئے مغلطہ کاباعث ہواور نہ وہ طلبہ کے لیے یہ پسندفرماتے تھے کہ صرف کتاب کارٹوہوکررہ جائے اور دماغ اس جوہر لطیف سے خالی رہے،جوعلم کامقصود ومطلوب ہے‘‘۔(۵۸)
ظاہر ہے کہ اس کے لیے وسیع علم،گہرے مطالعہ اورطویل تجربہ کی ضرورت ہے اورلازم ہے کہ استاذ کتاب وفن دونوں پرپوری طرح حاوی ہو،حضرت مولاناسجاد کایہ طریقہ تدریس ان کے بے پناہ علم وکمال اور تدریس کی مجتہدانہ صلاحیت کی علامت ہے،حضرت مولاناسجاد کوہرعلم وفن میں کمال حاصل تھااور ہرفن کی کتاب وہ اسی شان سے پڑھاتے تھے،آج علم وفن کی درسگاہیں ایسے باکمال مدرسین سے خالی ہیں؛بلکہ پہلے بھی خال خال ہی ایسے لوگ ہوئے ہیں۔
طلبہ کی نفسیات تک رسائی :
* ایک استاذ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ انسانی نفسیات سے واقف اور طلبہ کانبض شناس ہو؛تاکہ جہاں مرض ہووہیں سے علاج شروع کیاجاسکے اور طالب علم میں کتاب سے محبت اور فن میں بصیرت پیدا ہو،حضرت مولاناسجاد کواس میں خصوصی امتیازحاصل تھا،مولانا عبدالصمدرحمانی صاحبؒ رقمطرازہیں:
’’استاذ رحمۃ اللہ علیہ کے طریقہ تعلیم کی ایک خصوصی خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ اپنے عمیق تعلیمی تجربہ اور تبحر کی بناپراول نگاہ میں پڑھنے والے کی صلاحیت،اس کی استعداد،اس کی خامی اور اس کے نقص کوبھانپ لیتے تھے اور سبق کے وقت سب سے پہلے اس کی اس خامی کاازالہ فرمادیتے تھے،جس کاہونے والے سبق سے تعلق ہوتا تھا؛ تاکہ فہم سبق کی راہ میں دشواری نہ رہے اوراس کے لیے ایسالطیف پیرایہ اختیارفرماتے کہ دوسرے ہم سبق کو اس کا پتہ بھی نہیں چلتاتھااوراس کے دل کی گرہ کھل جاتی تھی‘‘۔(۵۹)
طریقہ تفہیم کی انفرادیت:
* حضرت مولانامحمدسجاد صاحب ہرمیدان کی طرح طریقہ تدریس میں بھی ایک انفرادی شان کے حامل تھے،وہ مروجہ طریقہائے تدریس کی پابندی کے بجائے ایک مستقل طرز تدریس کے بانی تھے،ان کا طرز تدریس افراط وتفریط سے پاک اور عدل کامل کانمونہ تھا،مولانا کے طریقہ تعلیم کے سب سے بڑے مبصر مولانا عبدالصمد رحمانی صاحبؒ مولاناکے طرزتفہیم کی انفرادیت پرروشنی ڈالتے ہوئے اپناذاتی تجربہ بیان کرتے ہیں:
’’میں جس دور میں حضرت استاذ کے حضور میں حاضرہواتھا،طریقہ تعلیم میں عجب قسم کی افراط وتفریط تھی، جو تمام مدارس عربیہ میں الاماشاء اللہ عام تھی‘‘۔(۶۰)
* درس کے وقت اساتذہ کامعمو ل یاتویہ تھاکہ پڑھنے والاایک انداز کردہ مقدارمیں عبارت پڑھ جاتاتھااورپڑھانے والااس کے متعلق ایک زوردار تقریرمیں اس کے مطالب کوپیش کردیتاتھااور اسی سلسلہ میں اعتراض وجواب اوراس کی ضروری تنقیحات کوبیان کردیتااس کے بعد پڑھنے والاعبارت کاترجمہ کرتاتھااوراس طرح پروہ سبق ختم ہوجاتاتھا۔(۶۱)
* یایہ دستورتھاکہ پڑھنے والاہونے والے سبق کی ایک دوسطریں پڑھ کر ترجمہ کرتاتھااورپڑھانے والا اس کامطلب بیان کرتا،پھراس عبارت پرجوایراد و اعتراض ہوتا اس کو بیان کرکے جواب دیتا،پھر اسی طرح دوچارسطریں پڑھی جاتیں اور ان کاترجمہ اور مطلب اور ایراد واشکال اسی طرح بیان کیاجاتا،یہاں تک کہ اندازہ کردہ مقدارمیں عبارت پوری ہوجاتی،اوریہاں پہونچ کرسبق ختم ہوجاتا۔(۶۲)
پہلی صورت میں عملاًیہ نقص ہوتاتھاکہ طلبہ میں محاکات اور نقل کی استعدادتوتام ہوجاتی تھی اور کتاب کے ہرمسئلہ پروہ ایک رواں دواں تقریرکے عادی تو ہو جاتے تھے؛مگرکتاب سے خصوصی مناسبت نہیں ہوتی تھی اور نہ قوت مطالعہ قوی ہوتی تھی اور بسااوقات پڑھنے والااس تفہیم پربھی قابونہیں رکھتاتھاکہ وہ جوکچھ کہہ رہاہے، عبارت اس کی متحمل ہے،یانہیں؟اور اگر متحمل ہے تواس کے لیے سبق کی کون سی عبارت منشا وماخذ ہے؟پھر اس کے علاوہ اگراس کی محاکاتی تقریرپربیچ میں اگرکوئی اشکال پیش کردیاجاتا،تومیں نے دیکھاکہ یہ ساری تقریراس طرح الجھ کررہ جاتی تھی کہ اس کوسمجھنامشکل اور دشوارہوجاتاتھاکہ اس کی تقریرکے جس ٹکڑے پریہ ایراد ہورہاہے یہ کیوں ہورہاہے؟ اور اس کاجواب خودعبارت میں موجود ہے یانہیں؟
دوسری صورت میں عموماًعملاًیہ تومحسوس ہوتاتھاکہ طلبہ میں کتاب سے کافی مناسبت بھی ہے،قوت مطالعہ بھی ہے،وہ عبارت کاصحیح مفہوم بھی سمجھتاہے؛مگر اسی کے ساتھ یہ بڑی کمی دیکھنے میں آتی تھی کہ وہ اپنے دماغ میں کسی مسئلہ کے متعلق کوئی خاص روشنی نہیں رکھتاہے اور نہ اس پر قدرت رکھتاہے کہ وہ کتاب سے الگ ہوکرایک سلجھی ہوئی تقریرمیں اس چیزکی ترجمانی کرے،جوصاحب کتاب کامقصدہے اورجوخود اس کے پڑھنے کامطلوب ومقصودہے۔
حضرت استاذ کاطریقہ تعلیم اس افراط وتفریط سے الگ بین بین تھا،وہ طلبہ کوکتاب سے اخذمطلب پر زور دیتے تھے اور اس طرح ان کی قوت مطالعہ میں پختگی ہوجاتی تھی اور کتاب سے خاصی مناسبت پیداہوجاتی تھی۔(۶۳)
مصادر ومراجع
(۱) مدرسہ اسلامیہ بہارشریف کی بنیادجامع الکمالات حضرت مولاناسیدوحیدالحق صاحب استھانویؒ نے رکھی اور تا حیات اس کے ناظم رہے،یہ اپنے علاقہ کامرکزی مدرسہ تھا،دورہ حدیث شریف تک یہاں تعلیم ہوتی تھی،بڑے بڑے علماء نے یہاں تعلیم حاصل کی اور اکابرعلماء کی خدمات اس ادارہ کوحاصل رہی ہیں، مولاناسجادصاحب کی بہت سی علمی وتحریکی سرگرمیوں کا یہ مرکزتھا،مولاناسجادؒ نے مدارس کے جس وفاقی ڈھانچہ کی بنیاد رکھی تھی اس کامرکزی آفس بھی یہی مدرسہ تھا،اس کے سالانہ جلسے بڑے یادگار ہوتے تھے،اس کے جلسوں میں حضرت مخدوم شرف الدین یحییٰ منیری ؒ کی نسبت ارضی سے بڑے بڑے اکابر اپنی تشریف آوری کوباعث سعادت تصور کرتے تھے۔
اس مدرسہ کی بنیادکب پڑی؟ جناب سیدمحمدشرف صاحب موجودہ متولی بی بی صغریٰ وقف اسٹیٹ بہار شریف کابیان ہے کہ مدرسہ اسلامیہ کے وثیقۂ وقف پر ۱۳۱۰ ؁ھ مطابق ۱۸۹۲ ؁ء کی تاریخ درج ہے،اس سے اندازہ لگایا جاتاہے کہ مدرسہ اسی سال قائم ہوا،لیکن یہ بھی امکان ہے کہ مولاناسید وحیدالحق صاحب نے اپنے طورپرمدرسہ پہلے ہی قائم کیاہواور وقف کی یہ جائیداد بعدمیں حاصل ہوئی ہو،وثیقہ کی تاریخ زمین کی رجسٹری کی تاریخ ہوتی ہے،قیام مدرسہ کی تاریخ سے اس کاتعلق نہیں ہوتا۔۔۔۔۔بلکہ مجھے تو زیادہ قرین قیاس یہ معلوم ہوتاہے کہ مدرسہ پہلے ہی قائم ہواہوگا، اس لیے کہ بانی مدرسہ مولاناسیدوحیدالحق صاحب استھانوی کاوصال ۱۳۱۵ ؁ھ مطابق ۱۸۹۸ ؁ء میں ہوا،اس مدرسہ نے حضرت استھانوی ؒ کی حین حیات تعلیم وتربیت کے میدان میں جومثالی شہرت ونیک نامی حاصل کی،وہ عام حالات میں اس مختصر سی(پانچ چھ سال کی)مدت میں مستبعدہے،جبکہ اسی علاقے کے نامورمورخ علامہ سیدسلیمان ندویؒ نے جن الفاظ سے مولاناسیدوحیدالحق استھانوی ؒ اورمدرسہ اسلامیہ کی انقلابی تعلیمی خدمات کاذکرکیاہے کہ:
’’تیرھویں صدی کے شروع میں صوبہ بہار میں مولاناوحیدالحق صاحب استھانوی ؒ بہاری کے دم قدم سے علم کو نئی رونق حاصل ہوئی،قصبۂ بہار میں انہوں نے مدرسہ اسلامیہ کی بنیاد ڈالی اور بہت سے عزیزوں کی تربیت کی، ان میں سے ایک مولاناسجاد بھی تھے۔ (محاسن سجادص۳۷)
اس سے اندازہ ہوتاہے کہ شایدمولانااستھانوی ؒ کی حیات میں اس مدرسہ کاتعلیمی وتدریسی سفرنصف صدی سے بھی متجاوزرہاہے۔واللہ اعلم بالصواب
مگر افسوس اب یہ مدرسہ روبہ زوال ہے اور معمولی مکتب سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔
(۲) محاسن سجادص۱۹
(۳) حیات سجادص ۱۱
(۴) محاسن سجادص۱۹
(۵) حیات سجادص ۱۱
(۶) محاسن سجادص ۲۰
(۷) بہارشریف کے ایک ممتازعالم اور بزرگ تھے،حضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ کے وصال سے چندسال قبل ان کی وفات ہوئی۔(محاسن سجادص ۲۱ حاشیہ)
(۸) محاسن سجادص ۲۱(خلاصہ)مضمون مولانااصغرحسین صاحب
(۹) محاسن سجادص۲۰،۲۱ (الفاظ کے تھوڑے فرق کے ساتھ)مضمون مولانااصغرحسین صاحب
(۱۰) محاسن سجادص ۲۱،۲۲مضمون مولانااصغرحسین صاحب
(۱۱) (مولانااصغرحسین صاحب مولاناسجاد صاحب کے بالکل ابتدائی دور کے تلامذہ میں ہیں،آپ نے مولاناسجاد کاعہد طالب علمی بھی دیکھااورعہدمعلمی بھی، عہداہتمام بھی اورعہدقیادت بھی،آپ کے علمی عہدعروج کے بھی مشاہدرہے اور ملی وسیاسی دور میں بھی قدم بقدم اپنے استاذ محترم کے ساتھ ساتھ چلے،آپ کی پیدائش محلہ بنولیہ بہارشریف میں شعبان المعظم ۱۳۰۲ ؁ھ مطابق مئی ۱۸۸۵ ؁ء کوہوئی،مکتب اورابتدائی تعلیم گھرمیں حاصل کی، اس کے بعدمولانارفیع الدین صاحب زمیندارموضع شکرانواں کی خدمت میں حاضرہوکر صرف ونحوکی تعلیم حاصل کی،پھرمدرسہ اسلامیہ بہار شریف میں داخلہ لیااور ترمذی شریف اورمیرزاہد تک یہیں تعلیم حاصل کی،درمیان میں(۱۳۲۰ ؁ھ مطابق ۱۹۰۲ ؁ء میں) قطبی کے سال ارادہ متزلزل ہواتھااور وہ حصول تعلیم کے لئے مدرسہ سبحانیہ الٰہ آبادپہونچ گئے تھے،جہاں حضرت مولاناسجادصاحب پہلے سے ہی درجات علیامیں تعلیم حاصل کررہے تھے اوریہیں انہوں نے پہلی مرتبہ مولاناسجاد کی عظمت کامشاہدہ کیا،جوپڑھنے کے زمانے ہی میں پڑھانے کی شہرت رکھتے تھے،لیکن بعض اسباب کی بناپرداخلہ سے قبل ہی ان کووطن مالوف بہارشریف واپس آناپڑا،اورمدرسہ اسلامیہ ہی میں داخل ہوکرتعلیمی سلسلہ شروع کردیا،۱۹۰۴ ؁ء میں مولاناسجادصاحب مدرس ہوکر مدرسہ اسلامیہ بہارشریف تشریف لائے توآپ کے تلمذکاشرف حاصل ہوا،اور بشمول میرزاہد و ترمذی شریف کئی کتابوں کادرس آپ سے لیا،اس کے بعد قریب ایک سال مدرسہ احیاء العلوم الٰہ آباد میں حضرت مولانامنیرالدین الٰہ آبادی کے حلقہ تلمذمیں داخل رہے،شوال المکرم ۱۳۲۶ ؁ھ مطابق اکتوبر۱۹۰۸ ؁ء میں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیااور دوسال وہاں رہ کر حضرت شیخ الہندمولانامحمودحسن دیوبندی ؒ اور دیگراساتذہ کرام کے زیرسایہ علوم عالیہ اور حدیث میں کمال واختصاص پیداکیا،۱۳۲۸ ؁ھ مطابق ۱۹۱۰ ؁ء میں دیوبندسے فراغت کے بعدغالباًاستاذمحترم کے حکم پرمدرسہ اسلامیہ بہار شریف میں مدرس ہوئے،اور عرصہ دراز تک وہاں علمی وملی خدمات انجام دیں اوراعلٰی کتابوں کادرس دیااوراس دوران حضرت مولانامحمدسجادؒ کی خاص عنایات حاصل رہیں، حضرت مولاناسجاد کی تحریکات کادور شروع ہواتو حکم کے مطابق استاذ محترم کے قدم بقدم ساتھ ساتھ چلتے رہے، ۱۳۳۸ ؁ھ مطابق ۱۹۱۹ ؁ء میں حضرت مولاناکی اجازت سے مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کی ملازمت اختیارکرلی،کچھ دنوں کے بعد اس کے وائس پرنسپل کے عہدہ پرفائزہوئے،۱۹۴۰ ؁ء میں حضرت مولانامحمدسجادصاحب کی توجہ سے انجمن محمدیہ پٹنہ سیٹی کے صدرمقررہوئے،۱۴؍اپریل ۱۹۴۱ ؁ء سے۱۵؍مئی ۱۹۴۸ ؁ء مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کے پرنسپل رہے، بڑے عالم دین،صاحب قلم اور اپنے استاذ کے افکار کے سچے جانشین تھے،بقول آپ کے شاگرد رشید مولانا ابوسلمہ شفیع بہاری ثم کلکتوی(متوفی ۱۹۸۵ ؁ء) مولانااصغرحسین صاحب نے ترمذی شریف کوحنفی نقطہ نظر سے حل کرنے کے لیے سوال وجواب کے طرزپردوجلدوں میں عربی زبان میں ”نزل الثوی”کے نام سے لکھی،جس کی پہلی جلد مطبوعہ ہے، کہتے ہیں کہ اس کاایک نسخہ مدرسہ قومیہ محلہ شیخانہ بہارشریف کے کتب خانہ میں موجود تھا۔(محاسن سجاد ص ۱۷تا ۲۹مولانااصغر حسین کے مضمون سے ماخوذ،بعض چیزیں تذکرہ مولاناابوسلمہ شفیع بہاری ؒ ص ۲۸ مرتبہ مولانارشیداحمدفریدی شائع کردہ ادارہ ترجمہ وتالیف،سرسیداحمدروڈ کلکتہ،۲۰۰۹ ؁ء سے بھی لی گئی ہیں۔)ع خدارحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
(۱۲) مولانامسعودعالم ندوی نے ان کے بارے میں لکھاہے کہ ’’قدیم طرزکے معقولی علماء میں خاص امتیازی حیثیت کے مالک ہیں۔(محاسن سجادص۲۰ حاشیہ) مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ میں مدرس تھے۔
(۱۳) آپ مولانااصغرحسین صاحب کے ساتھ دارالعلوم دیوبندسے فارغ ہوئے اور مدرسہ امدادیہ دربھنگہ میں صدرمدرس ہوئے۔(محاسن سجادص۱۲ ،مضمون مولانازکریافاطمی ندوی صاحب)
(۱۴) محاسن سجادص ۱۲ ،مضمون مولانازکریافاطمی ندوی صاحب
(۱۵) محاسن سجادص ۵ مضمون مولاناحافظ عبدالحکیم اوگانوی ؒ وص۱۳ مضمون مولانامحمدزکریافاطمی ندویؒ * حیات سجادص۱۰مضمون مولاناسیدمنت اللہ رحمانی
(۱۶) اس زمانہ میں کانپور کے بڑے مدارس میں دارالعلوم کانپور،مدرسہ فیض عام اور مدرسہ جامع العلوم بہت مشہور تھے؛لیکن ان اداروں کی ممتاز اوربڑی شخصیتیں رخصت ہوچکی تھیں،شہرکے سب سے ممتاز عالم ومدرس استاذالکل حضرت مولانااحمدحسن کانپوری ؒ ۱۳۲۲ ؁ھ مطابق ۱۹۰۴ ؁ء میں انتقال کرچکے تھے،جو مدرسہ فیض عام اور دارالعلوم کانپور کے روح رواں تھے،اسی طرح مدرسہ جامع العلوم کی سب سے بافیض شخصیت حضرت مولانامحمد اشرف علی تھانوی ۱۳۱۴ ؁ھ مطابق ۱۸۹۶ ؁ء ہی میں اس شہر کوخیرباد کہہ کر وطن منتقل ہوچکے تھے؛اس لیے قدرتی طور پر کانپور کے بازار علم کی رونق ماند پڑنے لگی تھی اورطلبہ اپنے اپنے لحاظ سے تعلیم کے نئے میدانوں کی تلاش میں سرگرداں ہوگئے تھے۔
(۱۷) حیات سجاد ص ۱۱
(۱۸) محاسن سجادص ۵ مضمون مولاناحافظ عبدالحکیم اوگانویؒ
(۱۹) محاسن سجادص ۵ مضمون مولاناحافظ عبدالحکیم اوگانویؒ
(۲۰) محاسن سجادص ۵ مضمون مولاناحافظ عبدالحکیم اوگانویؒ
(۲۱) حیات سجاد ص۳۰ مرتبہ مولاناعبدالصمدرحمانیؒ
(۲۲) حیات سجاد ص ۳۵ مضمون مولاناعبدالصمدرحمانیؒ *محاسن سجادص ۳۲ مضمون مولاناحافظ قاری حکیم یوسف حسن خان صاحب بہارشریف
(۲۳) دریاآباد الٰہ آباد کاایک محلہ ہے۔(حیات سجاد ص۱۲)
(۲۴) حیات سجاد ص۳۰ مضمون مولاناعبدالصمدرحمانیؒ وص۱۲مضمون مولاناسیدمنت اللہ رحمانیؒ
(۲۵) محاسن سجادص ۳۲ مضمون مولاناحافظ قاری حکیم یوسف حسن خان صاحب بہارشریف
(۲۶) حیات سجاد ص ۲۷
(۲۷) حضرت مولاناعبدالحکیم اوگانوی ؒ حضرت مولاناسجادکے ابتدائی دور کے تلامذہ اوررفقائے کارمیں بہت زیادہ ممتاز، مقرب اوررازدار تھے،اپنے استاذ محترم کے ہرعلمی،ملی اور سیاسی کام میں پوری طرح شریک رہے،کانپور پڑھنے کے لئے حاضرہوئے،پھرمولاناسجادکے درس کی شہرت سے متاثر ہوکرالٰہ آباد چلے آئے اور تمام کتابیں مولاناکے پاس پڑھیں، ۱۳۲۹ ؁ھ مطابق ۱۹۱۱ ؁ء میں مدرسہ سبحانیہ سے فراغت کے بعد مدرسہ انوارالعلوم گیاکی تاسیس میں اپنے استاذکے حکم سے شریک رہے اور اس کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں اور ہرتکلیف وراحت میں استاذمحترم کے دامن سے وابستہ رہے، حضرت مولاناسجاد صاحب اکثر ملی،تنظیمی اور سیاسی امور میں جہاں وہ خود شریک نہیں ہوسکتے تھے،مولاناعبدالحکیم صاحب ہی کو اپنے نمائندہ کی حیثیت سے بھیجتے تھے،کئی اہم میٹنگوں اورکانفرنسوں میںآپ نے اپنے استاذ محترم کی شاندارنمائندگی کی، خلافت، جمعیۃ، امارت اورسیاسی پارٹی ہرتحریک کے بنیادی مشیروں اور کارکنوں میں تھے، یوم انقرہ کے سلسلہ میں گیاکے ایک چھوٹے سے محلہ سے ڈیڑھ سوروپیہ(۱۵۰) چندہ جمع کرکے انہوں نے دفتر میں داخل کیا،امارت شرعیہ کے قیام کے بعد جب مولاناسجاد کی مصروفیات بہت زیادہ بڑھ گئیں تومولاناسجادؒ نے مدرسہ انوارالعلوم گیاآپ ہی کے حوالہ کیا اور آپ اس مدرسہ کے مہتمم مقرر ہوئے،اس مدرسہ کی تعمیروترقی میں مولاناسجادصاحب کے بعدسب سے زیادہ جس شخص نے اپناخون جگرصرف کیا،وہ مولاناعبدالحکیم اوگانوی ؒ ہی تھے،مولاناسجاد کے تلامذہ میں شاید ہی کوئی ہو،جس کوفکروعمل میں مولاناعبدالحکیم صاحب کاہم پلہ قرار دیاجاسکے،فکر سجاد کی معنویت کو جس بہتر اندازمیں انہوں نے سمجھاتھااور جس طرح ہر اہم کام میں مولاناسجادصاحب ان کواپنی نیابت کے لئے منتخب فرماتے تھے،اس کے پیش نظرمجھے فکر وعمل اور ذہنی وذوقی ہم آہنگی کے لحاظ سے وہ پورے حلق�ۂسجاد میں بڑے بھائی اورمربی کی طرح نظر آتے ہیں،افسوس ان کی عمر نے وفانہ کی،اگر مولاناسجاد ؒ کے بعد ان کو کچھ عرصہ اور زندہ رہنے کاموقعہ ملاہوتاتوشاید ان کے سامنے دوسروں کے چراغ روشن نہ ہوپاتے؛لیکن حیرت ہے کہ حلقہ سجاد میں ان کوآہستہ آہستہ فراموش کردیاگیااور ان کی وہ قدرشناشی نہیں کی گئی،جس کے وہ مستحق تھے، آپ کی وفات ربیع الاول ۱۳۶۰ ؁ھ مطابق اپریل ۱۹۴۱ ؁ء میں ہوئی۔(محاسن سجادؒ ص ۵ تا۸ ماخوذاز مضامین مولانامسعودعالم ندوی ومولاناعبدالحکیم اوگانویؒ )
(۲۸) مولاناعبدالصمدرحمانی ؒ کی ولادت ۱۳۰۰ ؁ فصلی میں قصبہ باڑھ(ضلع بیگوسرائے)کے ایک گاؤں ’’بارندپور‘‘ میں ہوئی،ابتدائی تعلیم گھرپرہوئی،عربی کی تعلیم ہدایۃ النحوکی جماعت تک مولاناحکیم محمدصدیق صاحب سے حاصل کی،اس سے آگے کی تعلیم کے لیے۱۳۲۷ ؁ھ مطابق ۱۹۰۹ ؁ء میں کانپور حاضر ہوئے اور مدرسہ جامع العلوم کانپور میں داخلہ لیا؛لیکن وہاں جی نہیں لگااوربالقائے ربانی الٰہ آباد چلے آئے اورمدرسہ سبحانیہ میں حضرت مولانامحمد سجاد ؒ کے حلقۂ تلمذ میں داخل ہوئے،یہاں کے بعد دیوبندتشریف لے گئے اور ۱۳۳۲ ؁ھ یا۱۳۳۳ ؁ھ مطابق ۱۹۱۳ ؁ء یا۱۹۱۴ ؁ء میں دارالعلوم دیوبندسے فراغت حاصل کی،علم باطن کے لیے قطب عالم حضرت مولانامحمدعلی مونگیری ؒ سے رجوع فرمایااور کسب کمال کیا،حضرت مونگیری کے ساتھ ردقادیانیت اور ردآریہ سماج اور ردعیسائیت کی تحریکوں میں پیش پیش رہے اور کتابیں تصنیف کیں،ردآریہ سماج میں بارہ(۱۲)رسالے لکھے،جن میں ’’ویدکابھید‘‘اور’’آریہ دھرم کاانصاف‘‘بہت مقبول ہوئے۔
ابتداء میں علوم معقولہ کی طرف زیادہ رجحان تھا،چنانچہ حضرت مونگیری سے بیعت کے بعدان کومعلوم ہواکہ صوبہ سرحدمیں کابل سے قریب’’غورغشتی‘‘گاؤں میں علامہ شمس الحق معقولی رہتے ہیں،جومعقولات کے امام مانے جاتے ہیں،بس خاموشی کے ساتھ حضرت شیخ کی اجازت واطلاع کے بغیر غورغشتی کے لیے روانہ ہوگئے اور امام المعقولات سے منطق وفلسفہ کی بعض کتابوں کادرس لیا، واپسی پر ایک دن ڈرتے ڈرتے حضرت مونگیریؒ سے اس کاذکرکیاتوحضرت نے فرمایا:’’لاحول ولاقوۃ الاباللہ‘‘اس سے کیاحاصل؟معقولی کے مزار پرجاکے دیکھو،تاریکی محسوس ہوگی اور ایک محدث یافقیہ کی قبر پرجاؤ انوار ہی انوار ہی نظرآئیں گے،حضرت کی اس تنبیہ سے ذہن بدل گیااور پھر ساری توجہ قرآن وحدیث اورفقہ اسلامی پرمرکوزکردی۔
مولانارحمانی ؒ نے کچھ دنوں انجمن حمایت اسلام مونگیرمیں درسی خدمات انجام دیں،جامع مسجد مونگیرکے امام بھی رہے، آپ کی امامت کے زمانہ میں مونگیرکے تعلیم یافتہ طبقہ میں قرآن پڑھنے اورسمجھنے کاخاص ذوق پیداہوگیاتھا،مونگیروالوں میں اچھی تقریریں اورتحریریں سننے اورپڑھنے کامزاج اور دینی مذاق آپ ہی کی سعی جمیل کاثمرہ ہے،اسی زمانے میں امیرشریعت رابع مولاناسیدمنت اللہ رحمانی ؒ نے صرف ونحواورمنطق کی بعض کتابیں مولاناسے پڑھیں۔
۱۹۲۷ ؁ء میں جامعہ رحمانی قائم ہوا توآپ اس سے وابستہ ہوگئے اورعرصہ تک وہاں مدرس رہے،بہت زمانہ تک خانقاہ رحمانی مونگیرسے شائع ہونے والے علمی ماہنامہ’’الجامعہ‘‘کے مدیربھی رہے۔
۱۹۳۰ ؁ء میں مولانامحمدسجاد ؒ کی سیاسی جماعت’’مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی ‘‘کے دفتر کے ذمہ داراعلٰی مقرر ہوئے۔جمعیۃ علماء ہند کی سول نافرمانی تحریک کے موقعہ پر جب اکابرجمعیۃ گرفتارکرلیے گئے تھے توجمعیۃ علماء ہند کے ناظم اور مرکزی دفتر کے ذمہ دار اعلیٰ بنائے گئے۔
حضرت مونگیریؒ کے وصال کے بعداپنے استاذ محترم حضرت مولانامحمدسجادؒ کی خواہش پر مونگیر سے پھلواری شریف منتقل ہوگئے اور امارت شرعیہ کے مرکزی دفتر کے نگران اعلیٰ مقرر ہوئے اور اپنی پوری زندگی امارت شرعیہ کی تعمیروترقی اورعلوم سجادکی تشریح وترجمانی کے لیے وقف کردی۔
۱۳۵۹ ؁ھ مطابق ۱۹۴۰ ؁ء میں حضرت مولاناسجادکے وصال کے بعد امیرشریعت ثانی حضرت مولاناشاہ محی الدین پھلواروی ؒ نے آپ کونائب امیرشریعت ثانی نامزد فرمایا۔
مولاناعبدالصمدرحمانی نے اپنی کتابوں اورخدمات کے ذریعہ امارت شرعیہ کا وقار بڑھایا،بانی امارت کے چھوڑے ہوئے کاموں کی تکمیل کی،بہت سے مختلف فیہ مسائل پر یادگارعلمی تحریریں چھوڑیں،آپ ایک عظیم محقق اورفقیہ تھے،فقہ وفتاویٰ اوراصول فقہ میں اپنے دورمیں فردفریدتھے،بقول فقیہ العصرحضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمیؒ قاضی القضاۃ امارت شرعیہ:
’’معقولات ومنقولات دونوں میں یدطولیٰ رکھتے تھے،دینیات کے متبحرعالم،مسائل پربڑی وسیع اورگہری نظرتھی اسلام کے اجتماعی نظام اور فقہ کے اصولوں پربڑی اچھی نگاہ تھی،فقہ اسلامی پرہندوستان کے علمی ودینی حلقہ میں آپ کا منفرد اور ممتاز مقام تھا،تفقہ فی الدین کی دولت سے مالامال تھے اور اس میں ہندوستان گیرشہرت رکھتے تھے‘‘۔(کتاب الفسخ والتفریق مصنفہ:حضرت مولاناعبدالصمد رحمانیؒ پرحضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمیؒ کا مقدمہ ص ۱۸،۱۹ شائع کردہ:مکتبہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ،۱۴۲۲ ؁ھ مطابق ۲۰۰۰ ؁ء)
آپ کی تصانیف کی تعدادتقریباً سرسٹھ(۶۷)ہے،ان میں حیات سجاد،تفسیرالقرآن،ہندوستان اور مسئلہ امارت،قرآن محکم،کتاب العشرو الزکوٰۃ،تاریخ امارت،کتاب القضاء،کتاب الفسخ والتفریق،غیرمسلموں کے جان ومال کے متعلق اسلامی نقطہ نظر اور’’پیغمبرعالم‘‘کوبڑی شہرت حاصل ہوئی۔
پیغمبر عالم زندگی کے عہدآخر کی تصنیف ہے،حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ تحریر فرماتے ہیں کہ:
’’مولاناعبدالصمدصاحب رحمانیؒ نے اپنے اخیرزمانے میں حضرت اقدس محمدرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح پر ایک خاص جہت سے قلم اٹھایااورخوب لکھا،خانقاہ مونگیر ہی کے کتب خانہ میں بیٹھ کر لکھتے تھے اور جب تھک کرباہرنکلتے توکبھی کبھی علامہ شبلی ؒ کایہ قطعہ پڑھتے:
عجم کی مدح کی عباسیوں کی داستاں لکھی
مجھے چندے مقیم آستان غیرہوناتھا
مگر اب لکھ رہاہوں سیرت پیغمبر خاتم
خداکاشکرہے یوں خاتمہ بالخیرہوناتھا
۱۰؍ربیع الثانی ۱۳۹۳ ؁ھ مطابق ۱۴؍مئی ۱۹۷۳ ؁ء بروزدوشنبہ گیارہ (۱۱)بجے دن میں خانقاہ رحمانی مونگیر میں وفات پائی،مزارمبارک خانقاہ رحمانی کے قبرستان میں ہے(حوالہ بالا،*حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجاد۔حیات وخدمات ص ۵۰۱ تا۵۰۳ مضمون مولاناابوالکلام قاسمی صاحب،ناشر مکتبہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ۲۰۰۳ء ؁)
(۲۹) مولاناحکیم حافظ قاری یوسف حسن خان صاحب بہارشریف کے جنوب میں پنہسہ سے تین چارمیل کے فاصلہ پر’’بڑاکر‘‘گاؤں کے رہنے والے تھے،اپنے وقت کے ممتازاہل حدیث عالم اور بیسیوں کتاب کے مصنف مولاناالٰہی بخش خان صاحب بڑاکری بہاریؒ کے صاحبزادہ ہیں،۱۳۱۳ ؁ھ مطابق ۱۸۹۶ ؁ء میں آپ کی ولادت ہوئی، ابتدائی تعلیم گھر پرحاصل کی،حافظ عبداللہ صاحب (سابق پیش امام جامع مسجدبہارشریف)کے پاس حفظ مکمل کیا،پھر مدرسہ اسلامیہ بہار شریف میں داخل ہوئے،خان بہادرمولانامبارک کریم صاحب سے مرقاۃ،شرح تہذیب اورمولانااصغرحسین صاحب سے شرح وقایہ اورابوداؤدپڑھی،۷؍صفر المظفر۱۳۲۹ ؁ھ مطابق ۷؍فروری ۱۹۱۱ ؁ء کومدرسہ سبحانیہ الٰہ آبادپہونچے اور مولانامحمدسجادکے حلقہ تلمذمیں داخل ہوئے اورباقی تمام درسی کتابیں آپ ہی کے پاس پڑھیں،فن تجوید کے لیے مولاناسجاد صاحب ہی نے مدرسہ احیاء العلوم الٰہ آبادمیں استاذالقراء قاری عبدالرحمن مہاجرمکی ؒ کے پاس ان کانظم فرمادیاتھا،تجوید مکمل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹ گئے، ان سے اوران کے والدصاحب سے مولاناسجادصاحب کے خصوصی مراسم تھے،تاریخ وفات کاعلم نہ ہوسکا۔(محاسن سجاد ص۳۰تا۳۴ مضمون مولاناقاری یوسف حسن خان صاحب مع حواشی مولانامسعودعالم ندوی ؒ )
علامہ سیدمناظر احسن گیلانی ؒ نے اپنے مضمون ’’ارتسامات گیلانیہ ‘‘میں اپنے ایک رفیق درس(ٹونک راجپوتانہ کے زمانہ تعلیم کے)مولانافضل الکریم کاذکر کیاہے جن کوکثرت کلام کی بناپرامام المعقولات حضرت مولاناحکیم برکات احمدبہاریؒ نے’’بالشٹر‘‘ کاخطاب دیاتھا،وہ بہار شریف کے محلہ ’’محل پر‘‘کے رہنے والے تھے اور اپنے نام کے آخرمیں اپنے محلہ کی نسبت سے’’محلپروی‘‘لکھتے تھے،ان کوبھی الٰہ آباد میں مولاناسجادصاحب سے شرف تلمذحاصل ہواتھا اور مولاناکے خصوصی عقیدت مندوں میں تھے،یہ بعد میں آگرہ کی جامع مسجد کے مدرسہ میں مفتی ومدرس ہوئے،علامہ گیلانی ؒ نے ان کا ذکر’’مولوی بالشٹر‘‘کے نام سے کیاہے،اس سے زیادہ ان کے حالات معلوم نہیں ہیں۔(حیات سجادص ۴۹،۵۰، ارتسامات گیلانیہ)
(۳۰) محاسن سجاد ص ۳۲
(۳۱) حیات سجادص ۳۵،۳۶ مضمون مولاناعبدالصمدرحمانی ؒ
(۳۲) حیات سجادص ۱۲،۱۳ مضمون مولاناسیدمنت اللہ رحمانیؒ (خلاصہ مفہوم)
(۳۳)محاسن سجادص۳۲۔یہ مولاناحکیم یوسف حسن خان صاحب کی روایت ہے،جو ان دنوں خود الٰہ آباد میں حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒ کے پاس موجود تھے،جب کہ مولاناسیدمنت اللہ رحمانی صاحب نے الٰہ آباد سے گیا تشریف آوری کی تاریخ شعبان ۱۳۲۹ ؁ھ (مطابق ۱۹۱۱ ؁ء) لکھی ہے۔(حیات سجاد ص ۱۰)
ممکن ہے کہ حضرت مولانامحمدسجادؒ نے رجب ہی میں الٰہ آباد چھوڑنے کافیصلہ کرلیاہو اور اس کی ضروری تیاری بھی شروع کردی ہو،لیکن باقاعدہ روانگی شعبان المعظم میں ہوسکی ہو،اس طرح دونوں روایتوں میں تطبیق ہوجائے گی۔واللہ اعلم بالصواب
(۳۴) حیات سجاد ص۳۶ مضمون مولاناعبدالصمدرحمانیؒ
(۳۵) The Hare Krsnas Battles of Vishnu Avatars
March 2016. Retrieved 7 January 2016.۔ Gayasur”. Harekrsna.com. Archived from the original on 4
(۳۶) گیاکے بارے میں یہ معلومات ویکی پیڈیاسے لی گئی ہیں۔
(۳۷) تاریخی دستاویزات سے معلوم ہوتاہے کہ بودھ مت کے زمانہ میں نالندہ میں جو یونیورسیٹی قائم تھی اس میں صرف ہندوستان نہیں؛بلکہ تمام ایشیائی ممالک کے طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے،جہا ں اعلیٰ علوم کی تعلیم پانے والوں کی تعداد کبھی کبھی بارہ ہزار(۱۲۰۰۰) تک پہونچ جاتی تھی۔(اعیان وطن،مقدمہ حضرت علامہ مناظر احسن گیلانی ؒ ص ۶،شائع شدہ دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ)
(۳۸) درس حیات ص۱۱۴،۱۱۵،مرتبہ حضرت مولاناقاری فخرالدین گیاوی ؒ (متوفی ۱۴۰۹ ؁ھ مطابق ۱۹۸۸ ؁ء)ناشر:مدرسہ قاسمیہ اسلامیہ گیا،۲۰۱۰ ؁ء)
(۳۹) محاسن سجاد ص ۱۳مضمون مولانامحمدزکریافاطمی ندوی ؒ *نیزخطبہ استقبالیہ دوروزہ عظیم الشان جلسہ دستاربندی ۱۵،۱۶؍ اپریل ۲۰۰۶ ؁ء ،ص ۳ پیش کردہ منتظمہ کمیٹی مدرسہ انوارالعلوم گیا*مدرسہ انوارالعلوم کاتعارف ص ۴ مرتبہ قاری غضنفرقاسمی،۲۰۰۰ ؁ء۔
(۴۰) محاسن سجاد ص۳۷،۳۸ مضمون علامہ سیدسلیمان ندویؒ
(۴۱) محاسن سجاد ص۱۳ مضمون مولانامحمدزکریافاطمی ندوی ؒ
(۴۲) محاسن سجاد ص ۱۳
(۴۳) قاضی حسین احمدصاحب بہارہی نہیں؛بلکہ ملک کے ممتازملی ا ورسیاسی قائدین میں تھے،آپ کا خاندان سادات سے تھااوربڑے زمینداروں میں شمارہوتاتھا،اس خاندان میں قضاء کامحکمہ پشتہاپشت تک رہاہے،اسی نسبت سے قاضی کالفظ اس خاندان کے نام کاجزوبن گیاہے،دادیہالی اعتبارسے آپ کاشجرۂ نسب حضرت امام حسینؓ کے واسطے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک اور نانیہالی اعتبارسے حضرت سیدناعثمان غنیؓ تک پہونچتاہے، قاضی صاحب کانانیہال عثمانی پیرزادوں میں تھا،پوراشجرہ نسب (پدری اورمادری)شاہ محمدعثمانی صاحبؒ نے ان کی سوانح حیات’’حسن حیات‘‘میں محفوظ کردیاہے، قاضی صاحب کے والدگرامی کانام عبداللطیف اوروالدہ ماجدہ کانام بی بی رحمت تھا،قاضی صاحب دوبھائی تھے،آپ بڑے تھے اور آپ سے چھوٹے کانام محمدحسین تھا،آپ کی پیدائش مقام’’کونی بر‘‘ضلع گیامیں ۱۳۰۵۱ ؁ھ مطابق ۱۸۸۸ ؁ء میں ہوئی،۱۴؍سال کے تھے کہ والد کاانتقال ہوگیا،والدنے بڑی جائیدادچھوڑی تھی،اس کادیکھنے والاکوئی نہ تھا،اس طرح کمسنی میں گھر کاسارابوجھ سرپرآگیااورتعلیم پوری نہ کرسکے،چھوٹے بھائی محمدحسین کوتعلیم کیلئے علی گڑھ بھیج دیا،قاضی صاحب کی تعلیم حفظ قرآن اورابتدائی اردوفارسی تک محدودرہی؛لیکن مسلسل مطالعہ اور قدیم وجدید علماء کی صحبتوں سے دل ودماغ کے دروازے کھل گئے تھے۔
والدہ ماجدہ بی بی رحمت کے چچاشاہ ابوالحسن خانقاہ برہانیہ دیورہ کے سجادہ نشیں تھے اور انہوں نے ہی آپ کی والدہ اورسب بھائی بہنوں کی شادی کرائی تھی،ان کی باربارکی زیارت وملاقات سے تصوف کاذوق پیدا ہوگیا اور انگریزوں کی مخالفت کاشوق بھی۔
قاضی صاحب کے سنجھلے خالو میرابوصالح ؒ ضلع گیاکے سب سے بڑے نواب تھے اورمذہبی آدمی بھی تھے، شہرکے علماء دین روازنہ ایک خاص وقت میں ان کے یہاں جمع ہوتے تھے اورمذہبی امورپرتبادلہ خیال کرتے تھے۔
قاضی صاحب کو اپنے نانیہال والوں سے بڑی عقیدت تھی؛ لیکن بیعت وہ مولاناعبدالعلیم آسی ؒ (جون پوری)سے ہوئے،جہاں سے ان کے والدکاروحانی سلسلہ قائم تھا،البتہ روحانی استفادہ زیادہ تراپنے نانیہال والوں ہی سے کیا۔
قاضی صاحب تحریکی آدمی تھے،ان کی زندگی کی بڑی خصوصیت ایمان وعبادت اورتدبیروسیاست کااجتماع تھا،انہوں نے اپنے گاؤں میں’’تعلیم بالغاں‘‘کاکام اس وقت شروع کیا،جب ہندوستان میں اس تصورسے بھی لوگ ناآشناتھے،کہتے ہیں کہ اس تعلیم کااثریہ ہواکہ ان کے گاؤں میں ایک شخص بھی ناخواندہ باقی نہ رہا، ۔۔۔ خلافت کمیٹی کے سرگرم رکن رہے،۱۹۲۱ ؁ء میں خلافت کانفرنس کے دوران گرفتار ہوئے اورچھ(۶)ماہ کی سزاہوئی،۱۹۲۶ ؁ء میں آل انڈیاکانگریس کے ممبرمنتخب ہوئے،آزادی کے بعدپارلیامنٹ کے ممبرنامزد ہوئے ۔۔۔۱۹۲۶ ؁ء ہی میں حج کی سعادت سے سرفرازہوئے اور مؤتمرعالم اسلامی مکہ مکرمہ میں بھی شرکت کاموقعہ ملا،مولاناابوالکلام آزادؒ سے خاص تعلق تھا،الہلال کوجاری کرنے میں ان کی تحریض کاخاص دخل تھا،انہوں نے مولانا آزادکواس کیلئے دس ہزار (۱۰۰۰۰)کی خطیررقم سے بطورامدادپیش کی تھی،تبلیغی جماعت سے بھی گہرارابطہ تھا، مہاتماگاندھی اورڈاکٹرراجندرپرشادسے بھی گہرے تعلقات تھے،حضرت مولاناسجادصاحب کے خصوصی عاشقوں میں تھے،آپ کے اشارے کوحکم کادرجہ دیتے تھے،مولاناسجادکی تحریکات:مدرسہ انوارالعلوم گیا،امارت شرعیہ،تحریک خلافت،جمعیۃ علماء ہند،تحریک عقدبیوگان،مسلم انڈی پنڈینٹ پارٹی سب میں پیش پیش رہے،امارت شرعیہ کے ناظم اعلیٰ بھی ہوئے،تحریکی سرگرمیوں کی وجہ سے وقت پرشادی نہ کرسکے،حضرت مولانا محمدسجادرحمۃاللہ علیہ نے تاخیرکے ساتھ ان کی شادی قاضی نورالحسن صاحب پھلواروی ؒ کی صاحبزادی سے کرادی، شعبان المعظم ۱۳۴۱ ؁ھ بروزیک شنبہ آپ کی شادی ہوئی،۱۳۴۶ ؁ھ میں وہ بیمارپڑیں اور انتقال کرگئیں،مرحومہ سے قاضی صاحب کو کوئی اولادنہیں ہوئی،قاضی صاحب نے اس کے بعد پھرشادی نہیں کی،۱۴؍صفرالمظفر۱۳۸۱ ؁ھ مطابق ۲۹؍جولائی ۱۹۶۱ ؁ء کو حرکت قلب بندہوجانے کی وجہ سے تہتر(۷۳)سال کی عمرمیں قاضی صاحب کا انتقال ہوا،انتقال گیاشہرمیں ان کے اپنے مکان میں ہوااورتدفین شہرکے دوسری طرف پھلکو(فالگو)ندی عبورکرکے آبگلہ کے قبرستان میں ہوئی،مولانامحمدطٰہ ندوی جو اس وقت مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ میں استاذ تھے قاضی صاحب ؒ کی وفات پر ایک دردانگیزنظم لکھی تھی،جس کایہ شعر خاص طورپرقابل ذکرہے:
خدابخشے بڑابے باک ہمت ورمجاہدتھا
سپاہی دن کووہ راتوں کوشب بیدارعابدتھا
(حسن حیات ص۲۵۲ تا۲۵۴)
(۴۴) حسن حیات-سوانح قاضی سیداحمدحسین صاحبؒ ۔ص۳۹ مصنفہ:شاہ محمدعثمانی ؒ ،شائع کردہ مجلس علمی،ذاکرباغ اوکھلا نئی دہلی،۱۹۹۱ ؁ء
(۴۵) محاسن سجاد ص ۳۳ ،مضمون قاری یوسف حسن خان صاحب،یہ بات قاری صاحب کے نام مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ کے ایک مکتوب گرامی سے معلوم ہوئی۔
(۴۶) محاسن سجاد ص ۶
(۴۷) حیات سجاد ص۳۷،۳۸
(۴۸) حیات سجاد ص۳۸،مضمون مولاناعبدالصمدرحمانی ؒ ،تعارف مدرسہ انوارالعلوم ص۴
(۴۹) حیات سجاد ص۳۸،۳۹مضمون مولاناعبدالصمدرحمانی
(۵۰) محاسن سجاد ص۱۳، مضمون مولانازکریافاطمی ندویؒ
(۵۱) یہاں پر یہ بات بلاخوف تردیدکہی جاسکتی ہے کہ اگر مولاناسجاد کی توجہ خالصتاًاسی مدرسہ پرمرکوزرہتی اور وہ خلافت،جمعیۃ،امارت شرعیہ اورمسلم پارٹی جیسی تحریکات کی وجہ سے مدرسہ سے بالکلیہ دستبردار نہ ہوتے توبالیقین وہ اس مدرسہ کوغیرمنقسم ہندوستان کی منفرد یونیورسیٹی بناسکتے تھے،جودینیات میں دارالعلوم دیوبندکاعکس جمیل اورعلوم وفنون اور عصریات وسیاسیات میں نالندہ کی قدیم تاریخی یونیورسیٹی کی نشأۃ ثانیہ ہوتی،جہاں صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ ایشیا سے یورپ تک کے طالبان علوم نبوت مستفیدہونے کے لیے آتے،جیساکہ جمعیۃ علماء ہنداورامارت شرعیہ جیسے بے مثال اداروں کے قیام سے ان کی بے نظیر صلاحیتوں کااندازہ ہوتاہے، مولاناامین احسن اصلاحیؒ کے بقول:
’’وہ ایک ایسے دریاکے مانند تھے،جس میں تموج وطغیانی کی سرجوشی تونہ ہولیکن روانی کاپوراجوش وخروش موجود ہو،جو بغیردم لیے ہر آن وہرلمحہ چٹانوں سے ٹکراتا،پتھروں سے لڑتا،جھاڑیوں سے الجھتا،رواں دواں،۔۔۔۔ان کے پبلک اشغال نہ فیشن کے طورپرتھے،نہ حصول سروری وسعات کی طمع میں،وہ جس مسئلہ کواٹھاتے وہ زندگی اور موت کاسوال بن کر ان سے چمٹ جاتا؛اس لیے وہ کسی کام کوبے دلی (Disheartedly)کے ساتھ کرکے اپنے نفس کومطمئن نہیں کرسکتے تھے، بلکہ مجبور تھے کہ اس کے لیے اپنے فکروعمل کی تمام قوتیں میدان میں ڈال دیں،سوتے جاگتے،بس وہی مسئلہ ان کے سامنے ہوتااور ان کی ساری راحت وطمانیت اس کے اندرسمٹ آتی۔۔۔۔اور چونکہ وہ ایک زبردست عالم تھے؛اس لیے یقیناًیہ چیزانہوں نے پیغمبران عظام ؑ کے اسوہ حسنہ سے اخذ کی تھی،میں نے یہ چیزوقت کے بڑے بڑے لیڈروں میں بھی نہیں پائی ‘‘۔(محاسن سجاد ص ۵۳)
مگر مولاناکی مثال اپنے زمانے میں’’یک انارصدبیمار‘‘کی تھی،بیمار ملت کے ایک مرض کے علاج سے چھٹی نہیں ملتی تھی کہ دوسرابڑامرض سامنے آجاتاتھااور مولاناترجیح کے اصول پراس کوچھوڑکر دوسرے مرض کے علاج میں مشغول ہوجاتے تھے،جیساکہ مولانا کے سیاسی امور کے شریک کاراورمزاج شناس جناب مسٹر محمدیونس صاحب سابق وزیر اعظم حکومت بہارلکھتے ہیں:
’’مولانامرحوم کی ذات ’’یک اناروصدبیمار‘‘کے مصداق تھی،وہ جس وقت ایک چیزکی تخلیق کرکے،اس کی ابتدائی مبادیات کو درست کرکے عملی ڈھانچہ میں لاکرکھڑاکرتے،زمانہ دوسری ضروری چیزان کے سامنے اس طرح لاکھڑا کردیتا کہ وہ اس کی طرف توجہ کرنے پرمجبورہوجاتے،اور اس کی فکرمیں لگ جاتے‘‘۔(حیات سجادص ۸۷)
بقول ڈاکٹرکلیم عاجزؔ :
کوئی بزم ہو کوئی انجمن یہ شعار اپناقدیم ہے
جہاں روشنی کی کمی ملی وہیں ایک چراغ جلادیا
(۵۲) حیات سجاد ص ۱۳،۱۴
(۵۳)حیات سجادص ۱۲
(۵۴)حسن حیات مصنفہ شیخ محمدعثمانیؒ ص ۱۱۱،۱۱۲
(۵۵) حیات سجاد ص ۱۲
(۵۶) محاسن سجاد ص ۵
(۵۷) محاسن سجادص ۲۲مضمون مولانااصغرحسین بہاریؒ
(۵۸) حیات سجاد ص ۱۱،۱۲
(۵۹) حیات سجاد ص۳۰، مضمون مولاناعبدالصمدرحمانیؒ
(۶۰) محاسن سجادص ۲۲مضمون مولانااصغرحسین بہاریؒ ۔مولاناعبدالصمدرحمانی ؒ نے بھی حیات سجاد میں مولاناکی اس خصوصیت کاذکرکیاہے۔(حیات سجادص ۴۰)
(۶۱) حیات سجاد ص۲۹،۳۰ مضمون مولاناعبدالصمدرحمانیؒ
(۶۲) حیات سجاد ص۳۰ مضمون مولاناعبدالصمدرحمانیؒ
(۶۳) حیات سجاد ص۲۸،۲۹ مضمون مولاناعبدالصمدرحمانیؒ

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں