حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد کی تعلیمی وتدریسی خدمات وخصوصیات قسط نمبر 09

مولانا اشتیاق احمد قاسمی
مدرس دارالعلوم دیوبند
۔
حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد ؒ کو خدائے ذوالمنن کی طرف سے بہت سی خوبیاں ملی تھیں، ان میں ان کے علمی محاسن سب پرغالب تھے، وہ بڑے مشّاق مدرس، حاضر دماغ باحث ، قابلِ رشک معقولی اور قابلِ فخر فقیہ تھے، ان کی فکر رسا اور رائے صائب تھی ان کا علم کتابی نہیں، آفاقی تھا، ملک بھر میں ان کے طرز تدریس کی دھوم تھی ، دور دور تک ان کاکوئی ہمسر نظر نہ آتا تھا، طلبہ ان کے عاشقِ زار تھے، وہ اسلامی انقلاب کے ساتھ تعلیمی انقلاب کے داعی اور ساعی تھے، دیارِ کفر میں اسلامی شیرازہ بندی کے ذریعے مسلمانوں کو ایک نظام کے تحت دیکھنا چاہتے تھے، ان کی حاضر دماغی ضرب المثل تھی۔ حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:
فلسفۂ تاریخ کے ماہر کہتے ہیں کہ علم اورعمل کم یکجا ہوتے ہیں؛لیکن انہی کم یاب مثالوں میں مولانامحمد سجادؒ کی ذات تھی، وہ اپنے وقت کے بڑے مشاق مدرس اور حاضر العلم عالم تھے،خصوصیت کے ساتھ معقولات اور فقہ پر ان کی نظر بہت وسیع تھی،جزئیات فقہ اورخصوصاً ان کا وہ حصہ جو معاملات سے متعلق ہے، ان کی نظر میں تھا، امارتِ شرعیہ کے تعلق سے اقتصادی ومالی وسیاسی مسائل پر ان کو عبور کامل تھا، زکوٰۃ ، خراج وقضا وامامت وولایت کے مسائل کی پوری تحقیق فرمائی تھی ۔۔۔ جب بھی گفتگو کی گئی ان کاعلم تازہ نظر آیا، ان کاعلم محض کتابی نہ تھا بلکہ آفاقی بھی تھا۔۔۔ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا عطیہ فکر رسا اور رائے صائب تھی، مسائل وحوادث میں ان کی نظر بہت دور پہنچ جاتی تھی، وہ ہر گتھی کو نہایت آسانی سے سلجھا دیتے تھے‘‘۔(۱)
حضرت مولانا وحید الحق استھانوی ؒ سے ان کے مدرسہ اسلامیہ بہار شریف میں فیض حاصل کیا، پھر وقت کے معروف مربی ومدرس حضرت مولانا عبدالکافی ؒ سے ’’مدرسہ سبحانیہ الہ آباد‘‘ میں علوم وفنون حاصل کیے، دیوبند تشریف لائے؛ مگر سوئے اتفاق کہ ایک تبتی طالب علم سے لڑائی ہوگئی، اس کی وجہ سے جن طلبہ کو دیوبند چھوڑنا پڑا، ان میں موصوف بھی تھے، دیوبند سے واپس ہونے کے باوجود دیوبندکی یاد ہمیشہ تازہ رہی ، اپنی مجلسوں میں برابر دیوبند کا تذکرہ فرماتے، بالآخر حضرت شیخ الہندؒ کی تحریک سے جڑگئے،جمعیۃ علمائے ہند اور امارت شرعیہ کے اوّلین یوم تاسیس سے اپنے دم واپسیں تک ساتھ رہے،(۲)غرض یہ کہ مدرسہ سبحانیہ الہ آباد میں ہی اپنی تعلیم مکمل فرمائی۔
علمی مقام:
حضرت ابوالمحاسن کا زمانہ معقولات کے غلبے کاتھا، حضرت کوبھی معقولات میں کافی عبور تھا؛ اس لیے عام طلبہ معقولی سمجھتے تھے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کو منطق وفلسفہ سے زیادہ فقہ میں عبور تھا، تفسیر اور حدیث شریف سے بڑی مناسبت تھی، علم بلاغت اور عَروض میں بھی اچھی خاصی مہارت تھی، تھوڑی دیر میں عربی زبان میں قصیدہ منظوم فرمالیتے تھے۔ حضرت مولانا عبدالحکیم اوکانوی لکھتے ہیں:
’’ یوں تو مولانا جامع العلوم تھے؛ مگر جن علوم میں کافی؛بلکہ کافی سے زیادہ دست گاہ رکھتے تھے، وہ منطق ، فلسفہ ، بلاغت اور علمِ ادب تھا، کانپور میں کوئی عالم آپ کے پایہ کا نہ تھا اور الہ آباد میں بھی بجز مولاا منیر الدین مرحوم الہ آبادی کے کوئی مدرس عالم آپ کاہمسر نظر نہ آیا‘‘۔(۳)
حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد کے عزیز ترین شاگرد رشید مولانا عبدالصمد رحمانیؒ نے موصوف کی قرآن وسنت ، فقہ اسلامی اور معقولات سے مناسبت کو بڑے اچھے انداز میں بیان فرمایا ہے، معقولات سے مناسبت کو بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’اس دور میں عموماً طلبہ میں معقولات کا ذوق زیادہ تھا اوراس کی جانب دل چسپی میرے خیال میں افراط کی حد سے بھی زیادہ تھی، اسی بنا پر عموماً اس دور میں طلبہ میں مولاناکی ممتاز حیثیت معقولی ہونے کی تھی اور یہ واقعہ ہے کہ مولانا اس فن میں ناقدانہ نظر رکھتے تھے اور ہر مسئلہ میں مولانا کی رائے قولِ فیصل کا درجہ رکھتی تھی۔۔۔‘‘۔
آگے قرآن مجید سے طبعی مناسبت کو ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’قرآن مجید کا مولانا کو طبعی ذوق تھا وہ مجھ سے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میں جب قرآن مجید تلاوت کرنے بیٹھتا ہوں تو بہ مشکل گھنٹہ آدھ گھنٹہ میں ایک صفحہ کی تلاوت کرپاتاہوں،قرآن کی بلاغت، اس کا عمق ، پھر اس کے احکام، پھر احکام کی روح اوراس کا مناط، پھر اس کے ماتحت اس کے فروع پھر فروع کے تنوعات، پھر ان میں باہم تفاوت کی بو قلمونی ؛ اس طرح ایک ساتھ سامنے آنے لگتی ہیں کہ میں اس میں کھوجاتا ہوں اور اکثر ایک ہی دو آیت میں وقت ختم ہوجاتا ہے اور تھک کر تلاوت ختم کردیتا ہوں‘‘۔
احادیثِ نبویہ سے متعلق مولانا ابوالمحاسن کی مناسبت یوں بیان کرتے ہیں:
’’ احادیث کے متعلق مولانا کا نظریہ بہت بلند تھا، مولانا فرماتے تھے کہ ہر حدیث قرآن مجید کی کسی نہ کسی آیت کی تفسیر ہے، نیز یہ کہ ہر حدیث مشکوٰۃِ نبوت کی ہی تنویر کی روشنی میں-جو’’ بِمَا اَرَاکَ اللّٰہ‘‘ کے ماتحت۔ آپ کو حاصل تھی، اس امرپر زبردست دلیل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تشریح وتبیین آیاتِ قرآن کی فرمائی ہے؛ سب کے لیے آپ نے قرآن کے الفاظ میں اشارات پائے ہیں،جس طرح مجتہدین آیات منصوصہ میں مدارِ حکم کے اشارات پاتے ہیں، پھر اس پر قیاسات کی بنیاد رکھتے ہیں اور فروعی احکامات کا استخراج کرتے ہیں۔
اس لیے مولانا کی رائے تھی کہ ہر حدیث کا تعلق قرآن سے بتانا چاہیے اور ہر نوع کے مسائل کے متعلق سب سے پہلے قرآن کریم سے جو کچھ ثابت ہے، اس کو زیر بحث لانا چاہیے، اس کے بعد احادیث سے جو کچھ سمجھا ہے، اس کو بتاناچاہیے،اس کے بعد طلبہ کو اس طرف رہنمائی کرنی چاہیے کہ مسئلہ کے اس خاص نوع میں مجتہد ین کی کیا خدمات ہیں؟ اور کیوں کر ہیں؟ اوران کا مدار کیا ہے؟‘‘۔
مولانا رحمانی اپنے استاذمحترم کے فقہی درک، گہرائی وگہرائی کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’مولانا جس طرح اختلافات احادیث کے باب میں جمع وتطبیق سے کام لیتے تھے اوراختلاف احوال اور مقتضائے ماحول پر اس کو محمول فرماتے تھے، یا اختلاف مدارج یعنی اباحت، رخصت، عزیمت کو سبب قرار دیتے تھے،اسی طرح فقہاء کے مختلف اقوال میں جمع وتطبیق سے کام لیتے تھے اور امام صاحب اور صاحبین کے اختلاف کونیز دوسرے ائمہ: امام شافعیؒ وغیرہم کے اختلاف کو خصوصاً معاملات میں مقتضائے ماحول اور اسی طرح کے دوسرے اسباب پر محمول فرماتے تھے اور کہتے تھے کہ مختلف جہات کی بنا پر جو مختلف احکام ہیں، ان میں واقعیت کے اعتبار سے کوئی اختلاف ہی نہیں ہے‘‘۔
آگے لکھتے ہیں:
’’ یہی وہ خصوصیات تھیں جن کی بنا پر مولانا ان مسائل میں جوارتقائی اسباب کی بنا پر آئے دن نئی نئی صورتوں میں رونما ہوا کرتے ہیں، بلاتکلف صائب رائے دیتے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس کو پہلے سے سوچے بیٹھے ہیں اوراس کے شواہد اور نظیر پر غور وفکر کے تمام مراحل کو طے فرماچکے ہیں۔۔۔ میرے خیال میں مولانا کی اصلی خصوصیت ’’تفقہ فی الدین‘‘ کی خداداد دولت تھی، جس میں وہ فقیہ اور یگانہ تھے‘‘۔(۴)
الٰہ آباد سے رخصت ہوتے وقت محبوبیت کے مظاہر:
اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت فرماتے ہیں تو روئے زمین پر اس کے مظاہر دکھا بھی دیتے ہیں، حضرت مولانا اپنے عزیزوں، دوستوں اور ہم عصروں میں محبوب تھے، طلبۂ کرام بے پناہ محبت کی نظروں سے دیکھتے تھے، عام لوگوں میں بھی محبوبیت کی یہی شان نظرآتی تھی۔ حضرت مولانا محمد یوسف خاں لکھتے ہیں:
’’مولاناعلیہ الرحمہ جس وقت الہ آبادچھوڑرہے تھے، شہر کے عماقدین ورؤسا اسٹیشن پر آکر رورہے تھے‘‘۔(۵)
اور حضرت مولانا عبدالصمد رحمانی لکھتے ہیں:
’’۔۔۔عمائدین کی ایک جماعت مولانا کو رخصت کرنے کے لیے اسٹیشن پر آئی تھی تو ہر شخص کی زبان پریہی تھا کہ الہ آباد سے’’ فقہ ‘‘رخصت ہورہا ہے‘‘۔(۶)
مولاناکے تین ادارے:
فراغت کے بعد سب سے پہلے ’’مدرسہ سبحانہ الہ آباد‘‘ میں درس وتدریس کا آغاز فرمایا، وہاں اپنے محسن ومربی استاذ محترم کے زیر سایہ رہنے لگے، (معلوم ہوا ہے کہ اب یہ مدرسہ سرکاری ہوگیا ہے، اس کے ذمہ دار جناب مولانا ریاض الدین صاحب ہیں) پھر اپنے وطن کی مادر علمی یعنی ’’مدرسہ اسلامیہ بہار شریف‘‘ آئے، یہ موصوف کے استاذ اورخسرحضرت مولانا وحید الحق صاحبؒ کا مدرسہ تھا، اس کو بھی سنبھالہ دیتے رہے، پھر جب مولانا عبدالکافی صاحبؒ نے اصرار فرمایا تو وہاں سے دوبارہ الٰہ آباد آگئے اور ’نائب مدرس اوّل‘‘ کی حیثیت سے پڑھانے لگے، وہاں سے گیا تشریف لائے اور ’’مدرسہ انوار العلوم ‘‘ کی بنیاد رکھی۔(۷)
تدریس کا آغاز:
جب اپنی مادرعلمی میں اسباق شروع کیے تو مدرسہ کی بڑی شہرت ہوئی، بڑی محنت وجانفشانی سے پڑھاتے تھے، مزاج کی نرمی،عفو ودرگزر اورطلبہ کے ساتھ ہمدردی نے آپ کی مقبولیت کو دوچندکردیا، مدرسہ کے تعلیمی قالب میں نئی روح پھونک دی ، مدرسہ میں متوسطات کے ساتھ علیا کی کتابیں بھی پڑھائی جانے لگیں، آپ کے شاگرد رشید حضرت مولانا محمد اصغر حسین ؒ نائب پرنسپل مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ رقم طراز ہیں:
’’ ۔۔۔ مدرسہ اسلامیہ تشریف لے آئے اور در س جاری فرمایا، مزاج کی نرمی، عفوودرگزر کی طینت اور طلبہ کی ہمدردی کے ساتھ جو اپنی طباعی اور انہماکی شان سے شب وروز درس وتدریس کی مہم شروع کی تو تھوڑے ہی عرصہ میں مدرسہ کے تعلیمی قالب میں نئی روح پھونک دی،ایک مدت سے مدرسہ قائم تھا؛ لیکن شرح وقایہ، جلالین شریف، قطبی اور میر قطبی وغیرہ سے اوپر پڑھنے والے طلبہ کبھی نہ رہے۔۔۔ مگر حضرت ابوالمحاسن کے پرُ محبت درس نے ایسی سحر کاری کی کہ اب طلبہ مدرسہ میں جمنے لگے؛ چناں چہ (مدرسہ) میر زاہد رسالہ اور ترمذی شریف تک پہنچ گیا‘‘۔(۸)
تدریس کا نرالا انداز:
حضرت ابوالمحاسن کے طریقۂ تعلیم وتدریس کو حضرت مولانا عبدالصمد رحمانیؒ نے بڑے اچھے انداز میں لکھا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت طلبۂ کرام سے کتاب حل کراتے تھے،ان کی قوتِ مطالعہ کی پختگی کی طرف متوجہ رہتے اوراس حد تک محنت کراتے کہ طلبہ کو کتاب سے اچھی خاصی مناسبت پیدا ہوجاتی، وہ فرماتے تھے:
’’پڑھنے والے کے سامنے دوباتیں رہنی ضروری ہیں :
۱۔ ایک تو یہ کہ جس مسئلہ کو تم کتاب میں پڑھ رہے ہو، پہلے اس کو کتاب سے سمجھو کہ صاحبِ کتاب اس مسئلہ کے متعلق کیا کہہ رہا ہے؟اور اس کے سمجھنے میں جو کچھ سمجھو اس عبارت سے سمجھو اور کسی خیال کو اپنی طرف سے زبردستی اس میں نہ ٹھونسو۔
۲۔ دوسری چیز یہ ہے کہ یہ سمجھو کہ اصل مسئلہ کی حقیقت کیا ہے؟اور جب اصل مسئلہ کی حقیقت سمجھ لوتو اس کے بعد یہ بھی دیکھو کہ صاحبِ کتاب سے اس حقیقت کے سمجھنے میں چوک تو نہیں ہوئی ہے‘‘۔(۹)
آگے لکھتے ہیں:
’’ پس حضرت استاذ (سبق میں) پہلے کتاب کو سمجھاتے ،پھر نفسِ مسئلہ کی طرف رہنمائی فرماتے، اس طرح پڑھنے والے میں تحقیق، تلاش ، محنت، مطالعہ کی فکر کا جذبہ پیدا کردیتے اور پڑھنے والے کے دماغ کی تربیت فرماتے تھے‘‘۔(۱۱)
حضرت مولانا عبدالصمد رحمانی ؒ نے اپنے استاذ محترم کے طرزِ تدریس کو بیان کرنے سے پہلے اس وقت کے رائج دوطریقوں کو بیان کرکے، دونوں کے افراط وتفریط کی نشاندہی کی ہے،اس کاحاصل یہ ہے کہ!
(الف) اس زمانے میں ایک انداز تو یہ تھا کہ طالب علم ایک اندازے سے پورے سبق کی عبارت پڑھ جاتا اور پڑھانے والا مدرس پورے سبق کی تقریر کرتا تھا، مطلب بیان کرتا ،اس سے متعلق اعترض وجواب کوذکرکرتا ، پھر طالب علم ترجمہ کرتا اور سبق ختم ہوجاتا۔
اس طریقے پر نقد فرمایا ہے کہ اس سے طالب علم کو ہر مسئلہ پر رواں دواں تقریر تو آجاتی تھی؛ مگر کتاب سے مناسبت نہ ہوپاتی تھی، قوتِ مطالعہ میں کمزوری ہوتی، بہت سے طلبہ کتاب سمجھانے پرقادر نہ ہو پاتے تھے،ایسے طلبہ کی رواں دوں تقریر کے دوران اگر کوئی اعتراض کردیتا تو ساری تقریر پانی ہوجاتی تھی۔
(ب) اس زمانے کا دوسرا طریقہ یہ تھاکہ طالب علم ایک دوسطر عبارت پڑھتا اور استاذ صاحب اس کا مطلب بیان کرتے،اعتراض وجواب ذکر کرتے ، پھر طالب علم آگے بڑھتا ،ایک دوسطر عبارت پڑھتا اور اسی طرح سبق پورا ہوجاتا تھا۔
اس صورت میں طلبہ کو کتاب سے مناسبت ہوجاتی، تفہیم کی صلاحیت بڑھتی اور قوتِ مطالعہ میں اضافہ ہوجاتاتھا؛ مگر طالب علم اپنے دماغ میں کسی مسئلہ سے متعلق کوئی خاص روشنی نہیں رکھتا تھا، نہ یہ قدرت ہوتی کہ کتاب سے الگ ہوکر ایک سلجھی ہوئی تقریر میں مقصدِ کتاب کو بیان کردے۔
اس لیے حضرت ابوالمحاسن نے اپنے اندازِ درس کو معتدل کیا اور زمانے کے طرز میں تبدیلی کرکے اپنا امتیاز قائم کیا،جس نے ان کو اپنے معاصرین میں ممتاز کردیا۔
تدریس کی تیاری اور تفہیم پر محنت:
حضرت ابوالمحاسن کے امتیاز ات میں ان کی تدریس وتفہیم کو اوّلیت حاصل ہے، زبان میں لکنت کے باوجود اتنی کامیاب مدرسی تاریخ میں نظر نہیں آتی، بڑی محنت سے تیاری کرکے درس دیتے، سمجھانے کا انداز آسان اختیار کرتے،اوراس طرح کامیابی کے ساتھ طالب علم کے ذہن ودماغ میں مضمون بٹھاتے کہ ان کے دلوں سے صدائے آفریں بلند ہونے لگتی، موصوف کے طرز تدریس کی بڑی شہرت تھی طلبہ کو مدرسہ کے اوقات کے علاوہ وقت بھی دیتے اگر مدرسہ میں کسی وجہ سے چھٹی ہوجاتی تو اپنے گھر بلاکر اسباق پڑھاتے اورکھانے پینے کا انتظام بھی کرتے تھے، حضرت مولانا عبدالحکیم ؒ لکھتے ہیں:
’’ مولانا کے درس وتدریس کا یہ حال تھا کہ بڑی محنت اورکاوش سے پڑھاتے تھے اور کتاب کے مطالب مع مالہ وماعلیہ اس آسانی سے طلبہ کے دماغ میں اُتاردیتے تھے کہ دماغ چمک اٹھتا تھا، مولانا کے طرز تدریس کی بڑی شہرت اور دھوم رہی،بہت سے تشنہ کامانِ علم اس چشمہ سے سیراب ہوئے اور اپنی پیاس بجھائی‘‘۔(۱۲)
اور حضرت مولانا محمد اصغر حسین نائب پرنسپل مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ لکھتے ہیں:
’’درس وتدریس میں جن امور کی رعایت سے طلبہ کوپوری تشفی ہوسکتی ہے، مولانا اس میں کسی طرح کی کمی جائز نہ رکھتے تھے، مطالب کتاب کوخوب کھول سامنے رکھنے کی سعی فرماتے، ظاہر ہے کہ اس کے لیے کس قدر گہرے مطالعہ اور توسیع معلومات کی محنت برداشت کرنے کی ضرورت ہے (اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے) ‘‘۔
آگے لکھتے ہیں:
’’پھر ایک بار کی تقریر سے تشفی نہ ہوتی تو دوبارہ سہ بارہ تقریر کرنے میں چیں بہ چیں نہ ہوتے اوراگر اوقات مدرسہ میں آسودگی نہ ہوتی تو خارج وقت دینے میں کوئی دریغ نہ فرماتے، حتی کہ شروح وحواشی دکھلاکر تشفی فرمانے کی زحمت گوارہ کرتے؛بلکہ کتاب کے مشکل مقامات کو اہلِ فضل کے سامنے رکھ کر تشفی کرانے میں بھی بے نفسی کا ثبوت دیتے، اگرمدرسہ ہفتہ دوہفتہ کے لیے بند ہوجاتا تو پندرہ بیس طلبہ کو اپنے مکان لے جاتے اور سب کے ناشتے کھانے کے خود کفیل ہوکر مکان ہی پر درس میں مشغول ہوتے‘‘۔(۱۳)
جواب میں برجستگی:
حضرت مولانا کو علمی بحث میں مضمون کا بڑا استحضار رہتا تھا، گفتگو میں سامنے والے کو الزامی جواب دے کر خاموش کردینا ان کے لیے چٹکی کا کھیل تھا، موصوف کے شاگرد رشید جناب مولانا محمدیوسف خاں ایک واقعہ اس طرح لکھتے ہیں:
’’ایک آریہ مناظر مولانا رحمہ اللہ سے ملنے آیا اور کہنے لگا کہ مولانا اس میں تو کوئی مضائقہ نہیں کہ مسلمان گائے کی قربانی ترک کردیں اورہنود مسلمانوں کو بکرا دے کر قربانی کا انتظام کردیں، مولانانے فوراً برجستہ فرمایا کہ میاں! ہم لوگوں کو جانور کے بالوں کی تعدادکے مطابق ثواب ملتاہے، اتنا بال اورجانور میں کہاں؟ وہ لاجواب ہوگیا اورکچھ دیر خاموش ہوکر رخصت کی اجازت چاہی اور چلا گیا‘‘۔(۱۴)
جمعرات کو تقریرومناظرہ کی تربیت:
حضرت ابوالمحاسن کا زمانہ مناظروں کا تھا، پورے ملک میں عیسائی اسلام کو چیلنج کرتے پھرتے تھے؛ اس لیے طلبہ کو کتاب کے علم کے ساتھ ہی مناظرہ بھی سکھایاجاتا تھا، جگہ جگہ اسلام کی حقانیت کی دلیل بیان کرنے کے لیے تقریر کی مشق کی ضرورت تھی،حضرت نانوتوی ؒ اوران سے پہلے حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اور ڈاکٹر وزیر خان کے مناظرے مشہور ہیں؛غرض یہ کہ حضرت مولانا تقریر کے ساتھ مناظرے کی تربیت بھی دیتے تھے، اس کے لیے جمعرات کا دن متعین تھا، مولانا محمدیوسف خاں لکھتے ہیں:
’’مولانا طلبہ کو بلاناغہ ہر پنچ شنبہ کے روز تقریر ومناظرہ کی تعلیم دیا کرتے تھے‘‘۔(۱۵)
مولاناکی قبولیت عامہ:
زبان میں لکنت کے باوجود حضرت ابوالمحاسن کی تدریس کے اسلوب کی مقبولیت عام تھی، دور دور سے طلبہ مولانا کے پاس آتے اور علوم وفنون کی تشنگی دور کرتے، مولانا کے عاشق زار شاگرد رشید جناب مولانا محمدیوسف خان جن کو ناز تھا کہ انھوں نے ساری کتابیں مولانا سے ہی پڑھی ہیں، لکھتے ہیں:
’’(الٰہ آباد میں) ایک شیعہ رئیس زادہ مولانا سے ریاضی پڑھنے آتا تھا وہ سارے ہندوستان کی خاک چھان چکا تھا؛ لیکن کہیں اس کی تشفی نہیں ہوئی، آخر میں وہ مولانا کے طرز تعلیم پر فریفتہ ہوگیا اور باوجود رئیس زادہ ہونے کے برابر مولانا ہی کی خدمت میں قیام گاہ پر (جاکر) تعلیم حاصل کرتا تھا اور اس کے والدین مولانا کو پچیس روپے دیا کرتے تھے، مولانا ؒ اس سے روپے لے کر طلبہ کی ذات میں کل کاکل خرچ کردیاکرتے تھے اور اپنے لیے ایک ایک پیسہ بھی نہیں رکھتے تھے‘‘۔(۱۶)
طلبہ کے امتحانات سے حضرت ابوالمحاسن کی کامیاب تدریس کا اندازہ:
درخت اپنے پھل سے استاذ اپنے شاگرد سے پہچانا جاتا ہے، حضرت ابوالمحاسن کی شب وروز کی محنت اور مادرِ علمی کے لیے جانفشا نی نے طلبہ کے اندر حیرت انگیز استعداد پیدا کردی ، سارے طلبہ کو ساری کتابیں نوک زباں رہتی تھیں، اس کا اندازہ سالانہ امتحان میں طلبہ کے شان دار مظاہرے سے کیا جاسکتا ہے،اس مضمون کو مولانامحمد اصغرحسین صاحبؒ نے اس طرح بیان کیاہے:
’’ممتحن اور طلبہ کے گردا گرد دوسرے حضرات اہل علم امتحان کی کیفیت کا تماشہ کرنے کو بیٹھ جاتے تو اس وقت کی تعلیمی نمائش کا قابلِ دید منظر ہوتا تھا، مولانا محمداحسن استھانوی۔۔۔ امتحان کے لیے تشریف لائے اور میر زاہد رسالہ مع حاشیہ غلام یحییٰ بہاری کے امتحان کے سلسلہ میں ، میں اور مولانا عبدالرحمن جون پوریؒ پیش کیے گئے تو انھوں نے فرمایا کہ آج ایک عجیب منظر دیکھنے میں آرہا ہے کہ بہار شریف میں ان کتابوں کے پڑھنے والے طلبہ موجود ہیں، پھر جو انھوں نے اپنی منطقیانہ شان سے امتحان لینے کے دوران سوالات شروع کیے اورہم دونوں جوابات دینے لگے تو اس دن کے اس منظر کی لذت آج بھی اہلِ علم بزرگوں کے کام ودہن میں باقی ہے‘‘۔
آگے لکھتے ہیں :
’’مولانا سید شاہ اسماعیل (مدرس فقہ مدرسہ عالیہ کلکتہ) سے جب ملنے کا اتفاق ہوتا تو اس امتحانی مظاہرہ کا تذکرہ مزہ لے کر فرمایا کرتے تھے‘‘۔
حضرت ابوالمحاسن کی محنت کا نتیجہ تھا کہ جس مدرسہ میں بڑی مشکل سے متوسطات تک کے طلبہ ٹھہرپاتے تھے، وہاں تعلیمی ترقی اتنی ہوئی کہ وہاں سے طلبہ فضیلت کی سند بھی حاصل کرنے لگے۔(۱۷)
چند باکمال شاگردان:
حضرت ابوالمحاسن کے شاگردوں کی بہت بڑی فہرست ہے؛ مگر افسوس اس بات پر ہے کہ اس کی تفصیل سوانح نگاروں نے بیان نہیں کی ہے؛ا گر زندگی میں یا وفات کے بعد فوراً منظم طور پر سوانحی تحریریں تیار کی جاتیں تواس کی فہرست بھی ملتی،ہمارے لیے ان میں رہنمائی ہوتی؛ بہر کیف جن شاگردوں کا تذکرہ بعض خاکہ نگاروں نے کیا ہے، وہ درج ذیل ہیں۔
۱۔ حضرت مولانا عبدالصمد رحمانی ؒ امیر شریعت امارتِ شرعیہ، پٹنہ
۲۔ حضرت مولانا عبدالحکیم ؒ اوگانوی مہتمم مدرسہ انوارالعلوم، گیا
۳۔ حضرت مولانا محمد اصغر حسین ؒ نائب پرنسپل مدرسہ شمس الہدیٰ، پٹنہ
۴۔ حضرت مولانا عبدالرحمن جون پوری
۵۔ حضرت مولانا محمد شرافت کریم
۶۔ حضرت مولانا محمدیعقوب گیاوی
۷۔ حضرت مولانا فرخند علی سہسرامی
۸۔ حضرت مولانا محمد یوسف خان بن مولانا الٰہی بخش خاں بہار شریف
۹۔ حضرت مولانا احمد اللہ آبگلوی محقق دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن
انقلابی تعلیمی نظریہ:
حضرت ابوالمحاسن کی علمی گہرائی ،گیرائی ، سیاسی سوجھ بوجھ ، ملی اور تصنیفی خدمات سے اکثر اہل علم واقف ہیں؛ مگر بہت کم لوگوں کو ان کے انقلابی تعلیمی نظریہ کی واقفیت ہے، غیر مسلم اکثری ملک میں امارت شرعیہ اور جمعیۃ علماء ہند کے ذریعہ ہندی مسلمانوں کو اسلام اور شعائر اسلام کے بقا وتحفظ کی نعمت نصیب ہوئی ہے، یہ انھیں دوررَس نگاہ والے بزرگان کی بے لوث جدوجہد کی وجہ سے ہے؛ غرض یہ ہے کہ حضرت ابوالمحاسن کے انقلابی افکار میں سے ان کا تعلیمی نظریہ بڑی اہمیت کا حامل تھا،کاش اس کی عملی تنفیذ کا موقع نصیب ہوجاتا توآج ہندوستان کے مدارسِ اسلامیہ کی یہ درگت نہ بنتی جو دیکھنے کو مل رہی ہے، اس زمانے میں مدارس کا تعلیمی معیار آج سے کہیں اونچا تھا، پھربھی حضرت ابوالمحاسن بے چین تھے، وہ یہ چاہتے تھے:
۱۔ تمام مدارس کے لیے ایک مرکز بنایا جائے۔
۲۔ نصاب کو مزید مضبوط ، مفید اور بہتر بنایا جائے۔
۳۔ سارے مدارس کا نصاب ایک رہے۔
۴۔ ہر قابل اعتناء مدرسہ کے ذمہ ایک مخصوص فن کیا جائے،جس کی تکمیل وہاں ہو، ابتدا ہی سے وہاں کے ہر درجہ میں اس کا لحاظ رکھا جائے، مثلاً کسی مدرسہ میں تفسیر کا اختصاص ہوتو کسی میں حدیث کا، تو کسی میں فقہ اسلامی کا ،وغیرہ۔
۵۔ امتحانات کے لیے تمام مدارس کے لائق علماء کی ایک مجلس ممتحنہ ہو جو سوالات مرتب کرے اور نتائج شائع کرے۔
اسی خاکے میں رنگ بھرنے کے لیے حضرت ابوالمحاسن نے الہ آباد چھوڑا اور انوارالعلوم گیا کی بنیاد رکھی اور وہیں سے اس تحریک کی ابتداکی؛ مگر وسائل کی کمی کی وجہ سے مشکلات پیش آئیں اور یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔
خلاصہ:
حضرت ابوالمحاسن سجاد ؒ ہندوستان کی انقلابی شخصیات میں سے ہیں، ان ی زندگی میں بہت سی خوبیاں جمع تھیں، سارے علوم شرعیہ میں قابلِ رشک مہارت رکھتے تھے، ’’مدرسہ سبحانیہ الہ آباد، مدرسہ اسلامیہ بہار شریف اور مدرسہ انوارالعلوم گیا‘‘ کے ذریعے اپنے فیوض پھیلائے، تدریس کا انداز نرالا تھا، اس وصف سے اپنے ہم عصروں میں ممتاز تھے، مناظرے میں برجستہ جواب سے مقابل کو خاموش کردیتے تھے، اسلامی تعلیم کے سلسلے میں نہایت ہی معتدل انقلابی نظریہ رکھتے تھے، موصوف کی ظاہری شکل وصورت کو دیکھ کر کوئی متاثر نہ ہوتا تھا؛ لیکن گفتگو کے بعد مرعوب اور گرویدہ ہوجاتا تھا، زبان میں لکنت کے باوجود تقریر ایسی کرتے ہیں کہ اہلِ علم سامعین صدائے آفریں بلند کیے بغیر نہ رہتے، موصوف کی بے لوث تعلیمی ، تدریسی، تصنیفی اور ملی خدمات تاریخِ ہند کے صفحات پر آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں، اگر موصوف کے انقلابی تعلیمی نظر پر ٹھیک ٹھیک عمل ہوتا تو آج مدارس اسلامیہ کی زبوں حالی دیکھنے کونہ ملتی۔
مصادر ومراجع
(۱) محاسنِ سجاد،ص:۴۰، الہلال بک ایجنسی۔
(۲) محاسن سجاد،ص:۲۳)
(۳) محاسن سجاد،ص:۵۔
(۴) حضرت استاذ کی یاد: مولانا عبدالصمد رحمانی،ص:۳۱، ۳۷۔
(۵) محاسن سجاد،ص:۳۲۔
(۶) حضرت استاذ کی یاد،ص:۳۷۔
(۷) محاسن سجاد،ص:۱۲،۱۳۔
(۸) محاسن سجاد،ص:۲۰۔
(۹) حضرت استاذ کی یاد،ص:۳۰۔
(۱۱) حضرت استاذ کی یاد،ص:۳۰۔
(۱۲) محاسن سجاد،ص:۵۔
(۱۳)محاسن سجاد،ص:۲۲۔
(۱۴) محاسن سجاد،ص:۳۲۔
(۱۵)محاسن سجاد،ص:۳۱۔
(۱۶) محاسن سجاد،ص:۳۲۔
(۱۷) تفصیل کے لیے دیکھیے: محاسن سجاد،ص:۲۰،۲۱۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.