حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ حیات وخدمات

Views: 28
Avantgardia
       

مولانامفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی
صدر مفتی(دارالعلوم وقف)دیوبند،وامیرجامعہ دارالسلام مالیر کوٹلہ


بیسوی صدی کے نصف اول میں ہندوستان کے علمی وفکری،دینی وملی،سیاسی وسماجی افق پر مسلم علما ومشائخ اورقائدین ودانشوران کا ایک بڑا طبقہ نمودار ہوا تھا،جس نے علم وادب،دین ومذہب اورسیاست وسماج پر بہت گہرا اثر ڈالا؛مگر ان تمام شخصیتوں میں ایسی ہستی جس نے فکر وعمل،مذہب وسیاست پر بہت دیرپا اوردوررس گہرا اثر ڈالا ہو، جیسے جیسے زمانہ گذرتا ہے،اس کی رائے کی صلابت،فکر کی گہرائی،سوچ کی بلندی اجاگر ہوتی جاتی ہے، علما اوردانشوران کی رائے کو ماننے اوران کے طریقہ کار پر چلنے پر اپنے آپ کو مجبور پاررہے تھے،وہ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ کی ذات گرامی ہے،ان کی وفات پر ایک طویل عرصہ گذر گیا،مگر آج بھی ان کے اصول،ان کی فکر ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔
مولانا کو قدرت نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا،ان کی ذات گوناگوں صفات کی حامل تھی،وہ ایک عہد ساز شخصیت کے مالک تھے،تواضع اوراخلاص کے ساتھ جرأت وبے باکی،حق شناسی وحق گوئی ان کی خاص صفت تھی،اپنے گہرے وعمیق علم،وسعت مطالعہ،اصابت رائے اورمعاملہ فہمی میں وہ اپنے زمانہ کے علماومشائخ اورقومی وملی قیادت کرنے والی ہستیوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے،کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ کے علم اورمسائل حاضرہ میں ان کو مہارت تامہ حاصل تھی،ان کی فقہی بصیرت ایسی تھی کہ علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ وسلم جیسا صاحب علم انہیں فقیہ النفس عالم کہا کرتے تھے اورحضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد کو فقیہ العصر عالم کہا کرتے تھے،اس ذیل میں وہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ جب نازک فقہی سوالات ابھرتے تو مولانا برجستہ کتابوں کی طرف مراجعت کئے بغیر جو جواب دیتے تو ہم وہی جواب کتاب وسنت اورفقہ میں غور وفکر کرنے کے بعد پاتے،جو مولانا اول وہلہ میں فرمادیا کرتے تھے۔
حضرت مولانا محمد سجادؒ ملت کے لیے دردمندی اوران کے مسائل ومشکلات کا حل اورمستقبل کا صحیح تجزبہ کرکے علمی طریقہئ کار طے کرنے اوران کو عملی جامہ پہنانے میں یکتا تھے،امت کی شیرازہ بندی اوردین اسلام کی بالادستی ان کی زندگی کا نصب العین تھا،انہوں نے حالات سے مصالحت نہیں کی تھی،وہ مشکل حالات سے نمٹنے کا فن جانتے تھے،وہ نہ تھکنے والی جدوجہد اورنہ ہارنے والی ہمت کے مالک تھے؛اسی لیے انہوں نے اجتماعی کاموں کی ضرورتوں میں تن کی آسانی کو راہ نہ دی اورلفظوں کے پردہ میں واقعات وحقائق کی غلط تاویل وتعبیر کو قبول نہ کیا۔
مولانا صرف درس وتدریس کے عالم نہ تھے؛بلکہ مسلکی اوربین الاقوامی سیاست پربھی گہری نظر رکھتے تھے اورہرمسئلہ فکر وتدبر سے حل کرتے،سیاست کی گتھیوں کو اس طرح سلجھاتے جیسے کوئی فقہی مسئلہ ہو،سیاسی مشکلات کو سلجھانے کا ملکہ رکھتے تھے،مختلف المسلک اورمختلف المشرب جماعتوں کو منظم کرنے میں ان کے اندر خدا داد صلاحیت موجود تھی،وہ روادارتھے،دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے تھے؛مگر خود اپنے نظریہ میں مستحکم تھے،حضرت سجاد برقعہ پوش سیاست کے قائل نہ تھے،وہ خطرات سے کھیلنا جانتے تھے،حالات سے نپٹنے کی صلاحیت ان میں تھی۔وہ اپنی شخصیت کو بنانے سنوارنے اوراس کی عظمت کے داؤ پیچ کے قائل نہ تھے،وہ ملت کی سربلندی کے خواہاں اورامت کی سرفرازی کے طلب گار تھے،اسی لیے انہوں نے اتحاد ملت کے بعد سیاسی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا، الیکشن لڑایا،حکومت بنائی،پارٹی کے اندروباہر لوگوں کو وزیر بنایا اوربتادیا کہ اقلیت میں ہوتے ہوئے اکثریت کے ذہن ومزاج اوران کی سیاست کو کس طرح متاثر کیا جاسکتا ہے۔(۱)
جمعیۃ علماء ہند کا قیام:
مسلمانوں کو منظم کرنا اوراس کے لیے اولاً علماء کو منظم کرنا تھا،اس کے لیے ہر وقت فکر مند اورپریشان رہتے، اجتماعات،جلسوں،کانفرنسوں میں علما اوردانشوران قوم سے اس موضوع پر بحث وتمحیص بھی ہوتی رہتی، چنانچہ دہلی میں خلافت کانفرنس میں بعض اہل علم(جس میں مولانا پیش پیش تھے اوردراصل یہ مولانا ہی کی تحریک تھی)نے مشورہ کیا کہ ہندوستان کے علما کی ایک تنظیم ہونی چاہیے،چنانچہ خاص خاص علما کا ایک مختصر سا اجتماع دہلی کے سیدشاہ حسن کی درگاہ پر منعقد ہوا،جس میں تمام علماء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا،مولانا نے بھی اس اجتماع میں مختصر؛ مگر جامع ومانع اورمدلل تقریر فرمائی،اس اجتماع میں موجود مولانا احمد سعید صاحب نائب صدر جمعیۃ علماء ہند کا بیان ہے کہ:
”اس تقریر کا ایک ایک لفظ مولانا کے جذبات ایمانی کا ترجمان تھا،حاضرین کی تعداد اگرچہ دس بارہ آدمیوں سے زیادہ نہ تھی؛لیکن کوئی آنکھ اورکوئی دل ایسا نہ تھا،جس نے اثر قبول نہ کیا ہو“۔
چنانچہ اس مختصر اجتماع کی برکت اورمولانا کی سعی سے ۹۱۹۱ء؁ میں جمعیۃ علماء ہند قائم ہوئی،جس کا پہلا اجلاس ۹۱۹۱ء؁ میں امرتسر میں خلافت کانفرنس کے ساتھ منعقد ہوا۔
خود داری وغیرت:
مولانا تواضع وانکساری کے ساتھ نہایت خوددار اورغیور تھے،ابتدائی دور میں مولانا کے گھر وسعت اورفارغ البالی تھی اوردوچار کام کرنے والے ملازم ہمیشہ مصروف خدمت رہتے تھے؛مگر یہ سب کچھ اس زمانہ میں تھا،جب مولانا مدرسہ اسلامیہ بہار شریف میں مدرس تھے،چنانچہ جب کبھی ایسا اتفاق ہوتا کہ کسی وجہ سے مدرسہ ہفتہ دو ہفتہ کے لیے بند ہوجاتا تھا تو مولانا پندرہ بیس طلبہ کو اپنے ساتھ اپنے مکان پنہسہ لے جاتے تھے اورسب کے ناشتہ اورکھانے کے خود کفیل ہوتے تھے اوران کو وہیں پڑھاتے تھے،ایک مرتبہ نواب خاں بہادر عبدالوہاب خاں صاحب مونگیری نے مجھ سے بیان کیا،میں نے تنہائی میں مولاناسے ایک دفعہ کہاکہ مجھ کو خدمت کا موقع دیجئے تو مولانا نے فرمایاکہ اس سے مجھے معاف کیجئے،اس سے ہمارے اوراللہ کے درمیان توکل کا جو رابطہ ہے،اس میں خلل واقع ہوجائے گا۔نواب صاحب کہتے ہیں کہ اس کے بعد میری ہمت نہیں ہوئی کہ ایک لفظ زبان پر لاؤں اوردوبارہ درخواست کروں۔(۲)
بیعت وسلوک:
حضرت مولانا کم عمری ہی میں مولاناقاضی سیداحمد صاحب شاہ جہاں پوری سے بیعت ہوچکے تھے،قاضی صاحب موصوف نہایت دیندار،متقی،پرہیزگار اورمشائخ حقہ میں سے تھے،موصوف ہی سے حضرت مولانا کے والد اورگھر کے دیگر افراد بھی بیعت تھے،حضرت مولانا نے اپنے شیخ سے بھی تعلیم حاصل کی اورآخر میں شیخ نے اجازت وخلافت سے بھی سرفراز کیا،حضرت مولانا بہت کم بیعت کیا کرتے تھے،اسی وجہ سے ان کے مریدین ومتوسلین کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ملتی۔(۳)
اورفنائے قومیت اوراسلامی غیرت کے خلاف ہے۔(۴)
علالت ووفات:
مولاناکی طبیعت ۰۱/نومبر ۰۴۹۱ء کو خراب ہوئی،بخار شروع ہوگیا تھا،مختلف ڈاکٹروں اورحکیموں کا علاج ہوتا رہا،لیکن افاقہ نہیں ہوا،آخر ۹/دنوں کی مختصر علالت کے بعد ۷۱/شوال ۹۵۳۱ھ مطابق ۸۱/نومبر ۰۴۹۱بروز دو شنبہ کو بوقت پونے پانچ بجے اس دار فانی سے رحلت فرماگئے،دس بجے نماز جنازہ ہوئی اورساڑھے دس بجے خانقاہ مجیبیہ کے قبرستان میں مدفون ہوئے۔(انا للہ وانا الیہ راجعون)
مولانا نے کل انسٹھ (۹۵)بر س ساڑھے آٹھ ماہ کی عمر پائی،ہر وہ شخص جس نے مولانا کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے، وہ اس اعتراف پرمجبور ہے کہ اتنے بہتر دل ودماغ کا مالک،فکر وعمل کا ایسا جامع،ایثار وقربانی کا ایسا پتلا،علوم وفون کا ایسا ماہر،خلوص وللٰہیت کا ایسا مجسمہ اورپھر ان ساری اچھائیوں کے ساتھ ایسا منکسر اورمتواضع شخص کم دیکھا گیا ہے۔
مصادر ومراجع
(۱) حیات سجاد،ص:۴
(۲) حیات سجاد،ص:۲۴
(۳) حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد حیات وخدمات،ص:۸۵
(۴) حیات سجادص:۵۴

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart