حضرت مولانا محمد سجاد کے رفقاء واحباب قسط نمبر 07

مولانا محبوب فروغ احمد قاسمی
استاذ حدیث مدرسہ حسینیہ کائم کولم
۔
سرزمین ہند آفاقی شخصیتوں کو جنم دینے میں کبھی بھی بخیل نہیں رہی اورنہ ہی ضرورتوں اورتقاضوں کے وقت اپنے سپوتوں کی قربانی دینے سے دریغ کیا ہے؛کیوں کہ باد خزاں کے جھونکے ہوں،یا موسم بہار کی بھینی بھینی ہوائیں،سرد لہروں کے تھپیڑے ہوں یا چلچلاتی دھوپ کی شدت وحرارت ملک وملت کے الجھے ہوئے گیسو کو سنوارنے اوردرست کرنے میں قربانیاں مطلوب ہوتی ہیں،ان قربانیوں کی نوعیتیں مختلف ہوسکتی ہیں اورہوتی ہیں؛کیوں کہ حالات ووقت کا تیور یکساں نہیں رہتا،لہذا اسی زد میں بہ جانا کمال نہیں؛بلکہ اس کو اپنے فیور میں کرلینا مرد میدان کا کام ہوتا ہے،حکمت عملی کا سہارا ضرور ہو،مگر اصل مقصد نگاہ ونظر سے اوجھل نہ ہونے پائے،راہ کی دشواریوں سے اکتا کر سفر کو ملتوی کرنے کے بجائے پوری قوت صرف کرکے ان مشکلات کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا جائے،صرف گزرے ہوؤں کے نقش قدم کی تلاش نہ ہو؛بلکہ نئے خدوخال کی ایجاد کا مزاج بن جائے،جلوت جس قدر پرکشش ہو،خلوت اس سے کہیں زیادہتاباں ہو،جم غفیر کو لے کر چلنے کی صلاحیت ہی نہ ہو؛بلکہ جس فرد پر نگاہ پڑجائے اورجس کو ہم نشیں بنالے،سب پر اپنا جلوہ چھوڑ جائے،دور میں نگاہ بصیرت،خیالات اورافکار کی پاکیزگی وتقدس کے ساتھ سب کچھ کرنے کے بعد بھی اپنے کو کچھ نہ سمجھے،زبان سے زیادہ دل ونگاہ اورجسم وجان سے کام لیتا ہو،تب جاکر کسی بھی شخصیت میں حقیقی آفاقیت آتی ہے،ایسے لوگوں کے جسموں سے روح تو نکل جاتی ہے؛مگر زندگی کی یہ لہر بت دنوں تک باقی رہتی ہے اوروہ اپنا کام کرتی رہتی ہے،ایسے جیالوں سے ہندوستان کی سرزمین ہمیشہ مالا مال رہی ہے،انہی آفاقی شخصیتوں میں سے ایک نمایاں نام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ کا ہے،جنہوں نے زندگی کی بہاریں تو بہت کم دیکھی،مگر خزاں زدہ ہندوستان کو باد بہاراں سے بھرنے کاکام خوب سے خوب کیا،آپ نے جس دور میں آنکھ کھولی،وہ انتہائی پرآشوب اورفتنوں کا دور تھا،انگریزی تسلط اورسامراجی آمریت اپنے عروج پر تھی،ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں کا سب کچھ لٹ چکا تھا،انگریزی ساہوکاروں نے ہرچیز پر دھاوا بولا تھا،دین وایمان پر تو ان سامراجوں کے نشتر چلتے ہی رہتے تھے،سیاسیات واقتصادیات سے بھی ڈاکہ زنی کرکے خوروش کردیا تھا،عرصے سے پیشرو بن کر رہنے والی قوموں میں نفرتوں وعداوتوں کی دیوار کھڑی کردی تھی، جس کی وجہ سے باشندگان وطن کی اجتماعی قوتیں تارتار ہوگئی تھیں،ان سامراجیوں سے ملک کو آزاد کرانے میں اور مسلمانوں کو اجتماعی پلیٹ فارم پر لانے میں مسلمانوں،خاص طور پر یہ اصحاب علم وفضل نے کتنی قربانیاں دی ہیں، ان کی داستان تو بہت طویل ہیں،تاریخ کے صفحات کے صفحات ان ریکارڈوں سے سیاہ ہیں،اس دور کی علمی وفکری، نیز سیاسی زبوں حالی کا حال حضرت مولانا علی میاں ندوی علیہ الرحمہ کی ایک چشم کشا تحریر سے عیاں ہے۔
تیرہویں صدی ہجری اورانیسوی صدی عیسوی پورے عالم اسلام میں سیاسی زوال اورفکری اضمحلال کی صدی ہے،اسی صدی میں عالم اسلام کی نہایت اہم زرخیز ومردم خیز ملک مغربی اقوام کے غلام بنے،ہر جگہ اسلامی تہذیب اوراسلامی علوم کو موت وزیست کی کش مکش سے سابقہ پڑا،عالم اسلام میں نئے نئے دینی فتنے،گمراہ کن تحریکیں، یہاں تک کہ مدعی نبوت تک پیدا ہوئے،عیسائی مبلغین نئے جوش وخروش کے ساتھ میدان میں آئے،نئے نظام تعلیم نے جو خالص مادی بنیادوں پر قائم تھا،سارے اسلامی ممالک پر اپنا سایہ پھیلایا،عالم اسلام کے یہ ساعت اس بات کے لیے بالکل کافی تھے کہ ذہانت وجرأت کے سب سوتے خشک اوراسلامی فکر وحیات کا درخت خزان رسیدہ اوربے برگ وبار ہوجائے۔
ہندوستان کا حصہ اس عالمگیر سیاسی زوال اورفکری اضمحلال میں دوسرے ممالک سے زیادہ ہی ہونا چاہیے تھا،یہاں سلطنت مغلیہ اوردرحقیقت مسلمانوں کے آخری سیاسی اقتدار کا شراغ ابھی گل ہوا تھا اوراس پر براہ راست انگریزی تسلط قائم ہوا تھا جو مسلمانوں کی آخری قوت مقابلہ کا زخم کھاکر مسلمانوں کے لیے ہمدردی ورواداری؛بلکہ حاکمانہ عدل وانصاف اورمساویانہ سلوک کے جذبات وتردد اورببے کسی وکسمپرسی کا دور تھا،ایسی حالت میں اگر ہندوستان عظیم ومنفرد شخصیتوں سے خالی اورقحط الرجال کا دور دورہ ہوتا تو کوئی تعجب کی بات نہ تھی،مگر اس کے برعکس یہ دور اکابر رجال ومردان کار کی حیثیت سے بھی ،ماہرین فنون،اہل تصنیف اوراصحاب فکر کے لحاظ سے بھی،اہل قلوب اوراصحاب باطن کے نقطۂ نظر سے بھی اورتعلیمی واصلاحی تحریکوں کے اعتبار سے بھی اوراس حیثیت سے بھی کہ اس دور میں بعض عظیم ترین تعلیمی مراکز اورادارے جو صرف درسگاہیں نہیں؛بلکہ مدارس فکر اورمستقل دبستان ہیں،قائم ہوئے،سارے عالم اسلام میں خصوصی امتیاز رکھتا ہے۔(۱)
فرنگی ظلم وبربریت وحاکمیت وآمریت کے کم وبیش ڈیڑھ سو سالہ عرصے میں بہت سے مردان میدان نے علمی وفکری،نیز سیاسی سہارادینے کی بھرپور کوششیں کیں،حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ اسی سلسلہ کی سنہری کڑی کا نام ہے،اس خاموش میر کارواں نے اپنا سب کچھ لٹا کر مسلمانوں اورہندوستانیوں کی قیادت کا بوجھ اٹھایا اور راہ کی دشوار گذار گھاٹیوں سے گزرنے کا حوصلہ بخشا،نیز ان کے عزم وحوصلہ،یقین واعتماد اورمشین کی طرح متحرک عمل پیہم کے سامنے چٹانوں کے چٹان،ریزے ریزے ہوتے چلے گئے،پھر کارناموں کی بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کی،اگر ان عمارتوں کے ایک کونے پر جمعیۃ علماء ہند،امارت شرعیہ،انڈی پنڈٹ پارٹی اوربہار کی وزارت یونس کی تشکیل لکھ دیا جائے تو ایک سچی حقیقت کی ترجمانیہوگئی،مگر اتنی بڑی بڑی حقیقتوں کے متوجہ ہونے کے باوجود کہیں ان کو اپنے نام کی فکر نہیں،جب بھی موقع نام وری کا آیا،تاریخ شاہد ہے کہ انہوں نے دوسرے کے نام کو آگے کردیا،آپ کی زندگی کا نقشہ حقیقت سجاد کے مؤلف سید احمد عروج قادری جنہوں نے بیس سالوں تک ان کے شبانہ روز کے احوال کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا تھا،نے اس طرح کھینچا ہے:
’’مجاہد جلیل مولانا ابوالمحاسن سجاد رحمۃاللہ علیہ نے صرف صوبہ بہار بلکہ سارے ہندوستان کے ان چند مجاہدین میں سے تھے،جنہوں نے پوری للٰہیت اورخلوص کے ساتھ اپنی زندگیاں ملک وملت کے لیے وقف کردیں،مولانا سجاد اس دن سے جب وہ اس میدان میں اترے،اپنی زندگی کی آخری سانس تک کبھی نہ رکنے والی مشین کی طرح متحرک رہے،ان کے دبلے پتلے جسم میں خدا نے عزم ویقین اورایمان وعمل کی ایک ایسی برقی رو دوڑا دی تھی، جس نے انہیں زندگی بھر دین ووطن کی بھلائی کے لیے بے چین رکھا‘‘۔(۲)
ملک وملت کے متعلق ان کے خیالات کیا تھے؟کس انداز سے سوچتے تھے،نیز وہ اپنی ذات میں کیا تھے،کس طرح کے عزم ویقین کے مالک تھے؟پھر اس عزم کو رو بعمل لانے کے لیے کتنا کچھ جتن کرنے پر ایمان رکھتے تھے؟ اورکیسا کچھ حکیمانہ ومخلصانہ طریقہ اختیار کرتے کہ مخالف سے مخالف انسان بھی فریفتہ ہوئے بغیر نہیں رہ جاتا تھا،یہ سب سلسلہ وار مضمون کا حصہ ہے،راقم مختصر طور پر عینی مشاہدین کی کچھ تحریریں پیش کرتا ہوں،جن سے ان کے عزم وعمل،قوت واعتماد اورطوروطریق کا عکس سامنے آسکے گا۔
مولانا راغب صاحب آپ کے ناقدین میں سے ہیں،مگر مندرجہ ذیل تحریر میں ان کی تڑپ کا احساس کئے بغیر نہیں رہ سکے:
’’مولانا سجاد کی زندگی کا گلوب اپنے دورحیات میں جس محور پر گھومتا رہا،وہ اسلامی مرکزیت کی فکر اوراس کی پیدائش کے لیے تعمیری جدوجہد کا محور تھا‘‘۔(۳)
’’لیکن ان شاء اللہ اب پوری ملت اسلامیہ ہند جن میں مولانا سجاد کے تربیت دادہ بہت سے پیش پیش ہوں گے،ہندوستان میں ایک آزاد مستقل اسلامی مرکزیت کو قائم کرنے اورمولانا مرحوم کے حقیقی نصب العین کو حاصل کرنے کی جدوجہد میں کامیاب ہوگی،لامرکزیت دور ہوگی،مولانا کا خواب تقدیر الٰہی کے مطابق پورا ہوگا اورہندوستان ایک اسلامستان بن کر رہے گا،کیوں کہ جیساکہ مولانا کا اصلی عقیدہ تھا،اس ملک کی نجات نہ ہوتو پراچین بھارت کے دھوم راشٹریا میں ہے اورنہ نوین بھارت کی گاندھیت اوررام راجیہ میں ہے اورنہ فرنگی سیاست کی پارلمنٹری جمہوریت یا اشتراکیت،ناریت وفسطائیت میں ہے؛بلکہ اس کی حقیقی حدیث صرف سلطنت اسلامی کی تعمیر اورنظام تمدن اسلامی تاسیس میں ہے‘‘۔(۴)
حضرت مولانا منت اللہ رحمانی علیہ الرحمہ جنہوں نے ان کو بہت قریب سے دیکھاتھا اوران کے ہی خواب وخیال میں ڈھل کر اپنی زندگی کا رخ متعین کیا تھا،وہ لکھتے ہیں:
’’لیکن مولانا کی طرح مذہب کی لگن،قوم وملک کا جنون،کام کا سودا اورپھر اس سلسلہ میں پوری طرح خود فراموشی کسی اورمیں نہیں دیکھی‘‘۔(۵)
’’ہر وہ شخص جس نے مولانا کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے،وہ اس اعتراف پر مجبور ہے کہ اتنے بہتر دل ودماغ کا مالک، فکروعمل کا ایسا جامع،ایثار وقربانی کا ایسا پتلا،علوم وفنون کا ایسا ماہر،خلوص وللٰہیت کا ایسا مجسمہ اورپھر ان ساری بڑائیوں کے ساتھ ایسا منکسر اورمتواضع شخص کم دیکھا گیا‘‘۔(۶)
حضرت مولانا احمد سعید جو جمعیت کے فعام منتظم رہے ہیں اورانہوں نے ۱۳۳۴ ؁ھ کے تباہ کن زلزلہ بہار کے موقع پر ایک ماہ مولانا سجاد کے ساتھ گزاراتھا،اپنے آپ کو مولانا سجاد کا روحانی بیٹا تصور فرماتے تھے،وہ ان کے افکار وخیالات کی ترجمانی ان الفاظ میں کیا کرتے ہیں:
’’وہ ہندوستان کے مسلمانوں کی زندی کو بغیر امیر کے غیر شرعی زندگی سمجھتے تھے،کسی اسلامی ملکپر کفار کے تسلط کو وہ نہایت تشویش کی نظر سے دیکھتے تھے۔۔۔۔ان کا خیال یہ تھاکہ کفر کے اس بے پناہ غلبہ اوراثرات کو جس قدر کم کیا جاسکے کرنا ہے،اس راستے میں جس قدر قربانیاں پیش کرنے کی ضرورت ہو،اس سے دریغ نہ کیا جائے، حکومت متسلطہ مداخلت نہیں کرتی اورجو چیزیں اس کی دست برد سے باہر ہیں،ان میں اپنا ملکی نظام قائم کیا جائے، وہ فرماتے تھے:اسلام ایک تنظیمی مذہب ہے،اس مذہب کی روح ڈسپلن اورنظم چاہتا ہے،اگر مسلمان منتشر رہیں اورکسی ایک شخص کی اجتماعیت نہ کریں اوراپنا کوئی امیر منتخب نہ کریں تو یہ زندگی غیر شرعی ہوگی‘‘۔(۷)
’’نظام حکومت کی تخریب جب ہی ہوسکتی ہے،جب دونوں قومیں مل کر اس کام کو کریں اوردونوں قوموں پر پورا پورا اشتراک ہو،یہ رائے انہوں نے بہت سوچ سمجھ کر قائم کی تھی‘‘۔(۸)
حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب اپنی ذات میں انجمن تھے،سیاسی قوت کی بازیابی کے لیے ایک پارٹی کے مؤسس،مسلمانوں کی صف میں اجتماعیت لانے کے لیے امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ کے بانی،جمعیۃ علماء ہند کے خاکہ ساز کمیٹی کے روح رواں اوروقتا فوقتا اس سے مربوط رہنے والے کامیاب منتظم بھی تھے،آپ کے گذرجانے سے جمعیت کو کتنا کچھ نقصان کا احساس تھا،اس درد کا احساس مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہاروی رحمہ اللہ نے اپنے الفاظ میں بیان کیاہے:
’’میں بلاشبہ مبالغہ نہ صرف اپنی بلکہ اپنے تمام رفقائے کار کی متفقہ رائے کے مطابق یہ کہہ سکتا ہوں کہ حضرت مولانا محمد سجاد صاحب کی شخصیت جمعیۃ علماء ہند کے مقاصد کی تکمیل میں زبردست معین ومددگار رہی اوران کی وفات سے جمعیۃ علماء ہند کو ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے‘‘۔(۹)
ان چند شہادتوں سے ان کے افکار وخیالات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے،اللہ نے ان کے اردوں کو قبول کیا اوردیکھتے دیکھتے ان کے حامی ومددگار،اساتذہ،تلامذہ اورمعاصرین رفقا تک ہوگئے اوران کے سوچے سمجھے مشن کو آگے بڑھانے میں سب نے اپنی اپنی وسعت کے بقدر حصہ لیا،اساتذہ وتلامذہ کا باب چوں کہ مستقل ہے؛اس لیے زیر نظر مضمون میں ان کے ان رفقائے کار کے تذکرے پر اکتفا کیا جاتاہے،جن کی سوانح عمریاں کتابوں کے سفینوں میں محفوظ ہیں اورراقم کی پہنچ بھی وہاں تک ہوسکی،مگر ان چند نفوس کے علاوہ بھی رفقا کی خود فراموش جماعت ایسی ہوں گی،جو گمنامی کے دفینے میں گم ہوں گی،ہم ان حضرات کے لیے دعائے رحمت ومغفرت کے سوا اورکسی چیز پر قادر نہیں ہیں،خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔
حضرت مولانا شاہ محمد سلیمان پھلواروی:
ہندی سلسلہ حضرت غوث پاک کے واسطے سے ہاشمی خاندان تک پہنچتا ہے،والد بزرگوار مولانا شاہ حکیم محمد داؤد ہاشمی قادری ضلع سارن بہار کے رہنے والے تھے،مگر حضرت مولانا شاہ محمد سلیمان کی ولادت اپنے نانا کے گھر ۱۰؍اگست ۱۸۵۹ء کو پھلواری شریف پٹنہ میں ہوئی،پھر یہیں بود وباش اختیار کرلیں،گھریلو ماحول عالمانہ اور عارفانہ تھا،گھر پر ہی ابتدائی تعلیم ہوئی،بلکہ پٹنہ سے میبذی وملا حسن وغیرہ تک پڑھ کر فرنگی محل لکھنؤ حضرت مولانا عبدالحئی فرنگی محل کی خدمت میں پہنچے،حدیث کی تکمیل حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری اورمولانا سید نذیر حسین دہلوی شیخ الکل فی الکل سے کی،ان کے علاوہ شیوخ حرمین جن کی تعداد ستر کو پہنچتی ہے،ان سے سنن ومسانید کی اجازت حاصل کی،یہ سارے اساتذہ اپنے وقت کے بالغ النظر ووسیع الفکر مشائخ میں سے تھے۔
آپ کو عربی،اردو،فارسی ہر سہ زبان پر عبور حاصل تھا،تینوں زبانوں میں اشعار بے تکلف کہا کرتے تھے،فارسی میں اشعار کی تعداد کچھ کم ہیں،اردو وعربی میں اشعار آپ نے زیادہ کہے ہیں،شعری تخلص بہت ہی بامعنی ’’حاذق‘‘تھا۔
تصوف وسلوک کا خاص ذوق رکھتے تھے،اس سلسلہ میں آپ نے سب سے پہلے شاہ قدرت اللہ علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے،شاہ قدرت اللہ نے بھی حضرت محدث سہارنپوری سے سمااع حدیث کیا ہے،اسی زمانہ میں حضرت پھلواروی صاحب وہاں زیر درس تھے،دونوں ایک ساتھ رہتے تھے،شاہ قدرت اللہ اس راہ کے مجھے ہوئے سالک وکامل تھے،بارہا تصوف کے مسائل پر گفتگو ہوتی رہی،آخر حضرت پھلواروی کا دل مطمئن ہوا اوران ہی سے سلسلہ چشتیہ میں بیعت ہوکر خرقۂ خلافت سے سرفراز ہوئے،پھر جب حجاز مقدس کا سفر ہواتوحاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ سے بھی اس سلسلہ کی اجازت حاصل ہوئی،دلائل الخیرات کی اجازت بھی آپ کو حضرت حاجی صاحب سے ملی۔
حضرت حاجی صاحب کی صحبت کا اثر تھاکہ مثنوئی مولائے روم کے اشعار جھوم جھوم کر پڑھا کرتے تھے،جب سریلی آواز میں ترنم کے ساتھ مثنوی کے اشعار پڑھتے تو مجمع بے خود ہوجاتا،اپنی تقریر وبیان کے دوران اشعار اتنی کثرت سے پڑھا کرتے کہ مثنوی کی اشاعت وہرت کا سہرا بھی آپ کے سر باندھا جاتا ہے،۱۹۲۰ء میں جب عراق کا سفر ہوا،وہاں آستانہ غوث پاک کے سجادہ نشیں سید عبدالرحمن علیہ الرحمہ سے سلسلہ قادریہ کی نسبت کی تکمیل فرمائی،آپ اپنے خسر محترم مولانا شاہ علی حبیب نصر پھلواروی کے دست گرفتہ بھی تھے،اس طرح علمی وروحانی ہر دو کے مختلف مکاتب فکر ومراکز معرفت سے خوب سیراب ہوئے،جس کی وجہ سے فکر وخیال میں توازن واعتدال آگیا تھا،چنانچہ سرسید احمد خاں کی تعلیمی تحریک کے معاون بھی سمجھے جاتے تھے،اہل تصوف وسلوک کو بھی دل وجان سے عزیز رکھتے،ملک وملت کی خدمت وقیادت میں بھی انفرادی شان کے مالک تھے،مختلف کانفرنسوں اورانجمنوں کے روح رواں کی حیثیت سے شاہ صاحب کی پہچان تھی،مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے قائد ورہبر،انجمن اسلامیہ پٹنہ،انجمن حمایت الاسلام لاہور کے مقبول ومعروف رہنما ولیڈر سمجھے جاتے تھے،علامہ اقبال کی اقبال مندی بھی اسی انجمن حمایت السلام سے ہی متعلق ہے،علامہ اقبال جیسا فلسفی انسان بھی بعض مسائل میں حضرت شاہ صاحب سے رجوع کرتا تھا اورآپ کے جواب سے مطمئن ہوجاتا تھا،آپ کے قلم سے مختلف وقیع کتابیں بھی تصنیف ہوئیں،شجرۃ السعادۃ وسلسلۃ الکرامۃ(بزبان فارسی)،رسالہ فی الصلاۃ والسلام،ذکر الحبیب،شرح قصیدہ غوثیہ، شرح حدیث مسلسل بالاولیۃ(بزبان عربی)،تذکرہ بزرگان پھلواری،کتاب الاشغال والاوراد،عین التوحید اورشمس المعارف جو کہ علمی وعرفانی مکاتیب کا مجموعہ ہے،خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
نمایاں خدمات میں سے ندوۃالعلماء کی تاسیس ہے،حضرت مولانا محمد علی مونگیری علیہ الرحمہ کے شانہ بشانہ رہے اورہر نظام وپروگرام میں برابر شریک رہے،جب ندوۃ العلماء کاخواب شرمندۂ تعبیر ہوگیا تو اندرونی نظام تعلیم وتربیت سنبھالنے کے لیے معتمد تعلیمات کے عہدہ پر فائز بھ رہے؛مگر بہت دنوں تک بعض روشن خیال علماء کی وجہ سے نہیں رہ سکے،کچھ اختلافات ہوئے،چنانچہ سبکدوش ہوکر وطن مالوف پھلواری شریف چلے گئے اوروہیں بروز جمعہ ۳۱؍مئی ۱۹۳۵ء میں انتقال کرکے خاک وطن میں مل گئے۔(۱۰)
حضرت مفکراسلام ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ نے جب جمعیۃ علماء بہار کی تشکیل کے لے تگ ودو شروع کی اورپھر امارت شرعیہ کا نظام مرتب کیاتو دونوں کی موقعوں پہ آپ کا ساتھ دینے والوں اورسرتوڑ کوشش کرنے والوں میں حضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی علیہ الرحمہ کا نام نامی بھی آتا ہے؛لیکن یہ رفاقت بھی تادیر نہیں رہ سکی، خیالات نے پلٹاکھایا اوردونوں رفیقوں کے مابیں بعد بھی ہوگیا،مولانا محمد اصغر حسین بہاری جو مفکر اسلام کے شاگرد رشید ہیں،وہ مختصر تعلیمی وسیاسی زندگی کے عنوان سے لکھتے ہوئے جمعیۃ علماء بہار کی تشکیل کا قصہ رقم کرتے ہیں:
’’آخر جمعیۃ علماء بہار کی تشکیل کا عزم ہوا اوراس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بہار شریف تشریف لاکر تگ ودو شروع کی،مسٹر سید قاسم مرحوم(متولی صغریٰ وقف اسٹیٹ بہار)کو راضی کرکے مدرسہ عزیزیہ میں جلسہ کرنے کی اجازت لی اوراستقبالیہ کمیٹی قائم کرکے اس ناچیز کو صدراستقبالیہ مقررفرمایا،پھر اس کے ماتحت کارروائی شروع ہوئی،تاریخ جلسہ معین کرکے علماء بہار کی خدمات میں دعوتی رقعہ ارسال کئے،شوال ۱۳۳۶ھ میں حضرت مخدوم الملک شاہ شرف الدین احمد قدس سرہ کے عرس کے موقع پر یہ جلسہ طلب کیا گیا اورمدرسہ عزیزیہ کے وسیع صحن میں شامیانے کے تلے علماء مدعوئین اورعوام کے جلسہ میں جمعیۃ علماء بہار کی بنیاد رکھ دی گئی،حضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی غفرلہ مع اپنے صاحبزادہ شاہ حسین میاں کے شریک ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔پھر دوسرے سال پھلواری شریف میں بڑے پیمانہ پر اس کا جلسہ ہوا،مولاناآزاد سبحانی و دعوت دے کر بلایا گیا،انہوں نے اپنی زبردست تقریر وسحر بیانی سے حاضرین میں جوش وولولہ کی روح پھونک دی،جلسہ نہاء کامیاب رہا،اس میں شک نہیں کہ کامیابی میں حضرت مولانا شاہ سلیمان مرحوم کا بڑا ہاتھ تھا۔
پھر جب حضرت الاستاذ نے امارت شرعیہ کی تمہید ڈالی تو حضرت شاہ صاحب مرحوم نے اس کی تاسیس وتعمیر میں ساتھ دیا؛لیکن امارت کے دوسرے دور کے بعد خیال نے پلٹا کھایا،جس کے باعث دونوں ہستیو کے درمیان مخالفت کی خلیج حائل ہوگئی‘‘۔(۱۱)
حضرت مولانا خدا بخش مظفرپوری:
جمعیۃ علماء ہند کے اولین قائدین اورمولانا سجاد صاحب ؒ کے اہم مشیرین میں سے حضرت مولانا خدا بخش مظفرپوری تھے۔(۱۲)
آپ ایسے گھرانہ کے چشم وچراغ ہیں،جس میں علم دین کا چرچہ نہ تھا،تھوڑا بہت انگریزی وہندی کا رواج تھا، رائس برادری سے تعلق رکھتے تھے،۱۸۶۹ء مطابق ۱۲۸۵ھ میں مظفرپور میں پیدا ہوئے،۱۹۳۶ء مطابق ۱۳۵۵ھ میں وفات پائی،تھوڑی تاخیر سے تعلیم کا آغازکیا،متوسطات تک جامع العلوم مظفرپور میں حاصل کی،پھر حضرت مولانا نصیر الدین نصر جو ایک جید عالم دین،نقشبندی بزرگ ودرویش،حضرت مولانافضل رحمان کے ہردلعزیز اوران کے عاشق زار،جامع العلوم مظفرپور کی تاسیس ،دنیا کے مشیرکار اوربڑے بڑے علماء واکابر ے استاذ تھے،ان کے حلقہ درس میں داخل ہوگئے،حضرت مولانا نصیر الدین نے اپنی چشم بصیرت سے اس ہونہار طالب کو تاڑ لیا تھا،چنانچہ پوری زندگی ان کی تعلیمی وفکری سرپرستی فرماتے رہے،مولانا نصیر الدین نصر کے تعلقات حلقۂ کانپور سے بھی تھے اوردیوبند سے بھی،چنانچہ اولاد ان کو کانپور بھیجا،پھر دیوبند کے لیے روانہ کیا،چنانچہ شعبان ۱۳۱۸ھ نومبر ۱۹۰۰ء ؁ میں دارالعلوم دیوبند سے سند فراغت حاصل کی،مولانا ریاض بتیاوی وغیرہ آپ کے ساتھیوں میں سے تھے۔(۱۳)
آپ نے مظفرپور میں’’فیض عام‘‘کے نام سے ایک مدرسہ کی بناکی،جو بیس سالوں تک اپنا فیض بکھیرتا رہا،آپ کی وفات کے وہ بند ہوگیا،آپ نے دوشادیاں کیں،مگر نرینہ اولاد نہ ہوسکیں،البتہ تین لڑکیاں پیدا ہوئی،ایک کی شادی جناب محمد اسماعیل صاحب مجلہ اسلام پور مظفرپور سے ہوئی،دو کی شادیاں بعد میں ہوئیں۔
آپ کے حالات بہت زیادہ دستیاب نہیں ہیں،مگر حضرت مولانا نصیر الدین نصرؔ کی چوں کہ سرپرستی رہی ہے، ان کے زیر سایہ پروان چڑھنے والے علماء کی لمبی فہرست ہے،ان میں ایک ان کے صاحبزادہ حضرت مولانا عبدالشکور آہ مظفرپوری ہی ہیں،حضرت مولانا عبدالشکور کا حضرت مولانامحمد سجاد علیہ الرحمہ کی علمی فکر پر گہرااثر تھا، مولانا محمدسجاد علیہ الرحمہ بھی اس کا اعتراف کیا کرتے تھے اورذہانت وفطانت،فہم وفراست کو بالیدہ بنانے میں ان کا احسان مانتے تھے،بعض تحریروں سے ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ مولانا محمدسجاد کی سیاسی سوجھ وبوجھ اورملی ودینی فکر کے ہم خیال وہم نوا مولانا عبدالشکور بھی تھے،ظاہر ہے کہ مولانا خدا بخش مظفرپوری ان کے گھر کے پروردہ اوران کے والد کے زیر تربیت رہے ہیں،وہ بھی انہی افکار وخیالات کے حامی ہوں گے،جو مولانا عبدالشکور صاحب اورمولانا محمد سجاد صاحب کے تھے،چنانچہ اس کی شہادت کے لیے ناظرین کی توجہ پانچ سو علما کے دستخط سے جاری ہونے والا متفقہ فیصلہ کی طرف پھیرتا ہوں،یہ فیصلہ وفتویٰ انگریزوں کے خلاف ترک موالات کے متعلق تھا،جس کو حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ کے فکر ساز قلم نے تحریر کیا تھا اورجمعیت کے پلیٹ فارم سے پانچ سو علما ودانشوران نے اس پر اپنے اپنے دستخط ثبت کیا تھا،ان دستخط کنندہ لوگوں میں مولانا خدا بخش مظرپوری علیہ الرحمہ کا نام بھی ہے،اس سے جمعیۃ کے کاز اورمولانا محمد سجادکی فکر سے آپ کی وابستگی جھلکتی ہے۔واللہ اعلم
شیخ عدالت حسین رحمہ اللّٰہ:
شیخ عدالت حسین صاحب ضلع چمپارن کے رہنے والے اوروطن کے بگہی گاؤں میں ۱۸۶۷ء میں پیدا ہوئے، والد بزرگوار شیخ دلاور حسین تھے،ابتدائی تعلیم علاقہ میں ہوئی،پھر گورکھپور وجونپور میں اردو وفارسی اورعربی میں مہارت پیدا کی،تھوڑا بہت ہندی سے بھی واقف تھے،۱۹۱۴ء میں آپ قوم کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوگئے، انگریزوں کے ان مظالم کا خاص طور پر سینہ سپر ہوکر مقابلہ کیا،جو کاشتکاروں پر ان کے زرعی پیداوار واراضی پر ہورہے تھے،ضلع کی خلافت تحریک وکانگریس کے روح رواں بھی تے،آپ نے جدوجہد کرکے بگہی مڈل اسکول بھی قائم کیا تھا،۱۹۳۰ء میں ستیہ گرہ میں حصہ لیا،چنانچہ فرنگی ظلم کے شکار ہوکر پکڑے گئے،ایک سال کی سزادی گئی،انگریز دشمنی آپ کی گھٹی میں تھی،چنانچہ ایک مینابازار کے نام سے انگریزوں کی موافقت میں مارکیٹ لگتی تھی،آپ نیدوسری مارکیٹ اس کے مقابلہ میں لگوائی،جس کو جرم قراردیاگیا،بالآخر اس میں بھی گرفتار ہوئے اور سزا یاب ہوئے۔
۱۹۳۷ء میں آپ کی کوششوں سے کانگریس کا اجلاس بگہی میں منعقد ہوسکا،۱۹۳۸ء میں عبدالغفار خاں کو اپنے علاقہ کا دورہ کرایا،۱۹۴۲ء میں جب ’’ہندوستان چھوڑو‘‘}کوئٹ انڈیا{(۱۴)تحریک ملک گیر پیمانہ پر شروع کی گئی اورکانگریس نے ماہ اگست میں کھلے لفظوں میں انگریزوں کو الٹی میٹم دے دیا کہ بہت جلد ہندوستان چھوڑو،ورنہ حالات سنگین ہوں گے،اس کی تائید جمعیۃ علماء ہند کے ارکان کی طرف سے بھی ہوئی۔(۱۵)
چنانچہ ہر طرف باغیانہ نعرے شروع ہوئے،املاک حکومت کو نقصان بھی پہنچایاگیا،مسلم قائدین گرفتار بھی ہوتے رہے؛مگر ’’نعرۂ مستانہ‘‘کی آواز دب نہ سکی؛بلکہ روز بروز بڑھتی رہی،اس تحریک میں شیخ عدالت حسین بہت پیش پیش رہے۔(۱۶)
شیخ عدالت حسین حضرت مولاناابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ کے قابل اعتماد رفقا میں سے تھے،حافظ محمد کافی علیہ الرحمہ کا بیان ہے:
’’حضرت مولانا محمد سجاد علیہ الرحمہ کے دورہ میں احقر اورشیخ عدالت ہمیشہ ساتھ رہتے تھے‘‘۔(۱۷)
اسی لیے امارت شرعیہ کے قیام کے وقت سے ہی امارت کے فعال ارکان میں شمار ہوتے تھے،امارت کو سب سے زیادہ فعالیت اورقوت جن اضلاع میں ملی،ان میں چمپارن سرفہرست ہے،اس کو فعال بنانے میں آپ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے،جن کے نمایاں اثرات آج تک دیکھے جاسکتے ہیں،اس لیے حضرت مفکر اسلام بھی ان پر ناز کیا کرتے تھے،کم وبیش سات دہائی تک شیخ قائدانہ کردار ادا کرتے رہے،بالآخر ۱۹۴۳ء ۲۱؍مارچ کو ۸؍بجے صبح انتقال کرگئے۔(نقیب فروری:۱۹۵۶ء،مولانا سجاد حیات وخدمات،ص:۵۲۰)
بیرسٹر مسٹر محمد یونس مرحوم:
حضرت مفکر اسلام کے احباب ورفقا میں ایک نمایاں مقام مسٹر یونس کا ہے،مسٹر یونس کی پیدائش ۴؍مئی ۱۸۸۴ ؁ء کو پنہرا گاؤں،ہربت پور،داناپورپٹنہ میں ہوئی،والد محترم پیشہ کے ایک کامیاب مختار تھے،ابتدائی تعلیم اوراردو،فارسی،عربی پڑھ کر اولاًپٹنہ اسکول میں داخلہ لیا اورانٹرپاس کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے پٹنہ کالج میں داخل ہوئے۔
۱۹۰۳ ؁ء میں لندن تشریف لے گئے،وہاں تین سال رہ کر بیرسٹر کی تعلیم حاصل کی اور۲۶؍جنوری ۱۹۰۶ء ؁ کو وطن واپس آگئے،روزگار کے لیے وکالت کا پیشہ ہی اختیار کیا،چنانچہ پہلے کلکتہ ہائی کورٹ میں،پھر پٹنہ ہائی کورٹ میں کامیاب بیرسٹر سے شہرت رکھتے تھے،دہلی فیڈرل کورٹ میں بھی کام کیا اوراکثر مقدموں میں کامیابی بھی ملی۔
مسٹر محمدیونس صاحب سماجی وسیاسی خدمت سے بھی جڑے رہے،بہار ینگ ایسوسی ایشن کے سکریٹری،بہار اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر،پٹنہ سٹی میونسپلٹی میں تین بار میونسپل کمشنر،۱۹۰۸ء میں کانگریس لاہور سیشن میں لیجلیٹو کانسل کے ممبر،۱۹۲۱ء و۱۹۲۲ء میں بہار قانون ساز کونسل کے رکن وغیرہ عہدوں پر فائز رہے،اس طرح مختلف کونسلوں اورعہدوں سے جڑ کر جتنا بن پایا،قوم کی خدمت کرتے رہے۔
مسٹر محمد یونس بھی حضرت مفکر اسلام کی طرح مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں حکومت کی مداخلت یا سیاسی جمہوری اداروں کی دخل اندازی کو بالکل پسند نہیں کرتے تھے،ان کا بھی خیال تھاکہ جن معاملات میں حکومت متسلطہ کی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے؛بلکہ وہ پرسنل لا کے تحت آتے ہیں،ان میں مسلمانوں کا اپنا مکمل نظام ہونا چاہیے اورکوئی خالص مذہبی تنظیم ہونی چاہیے،چنانچہ جب امارت شرعیہ کا قیام حضرت مفکر اسلام کے ذریعہ ہوا تو مکمل طور پر مسٹر محمد یونس صاحب اس کے حامی ومعاون ثابت ہوئے۔
اسی طرح مسٹر محمد یونس مرحوم کانگریس کے نظریات کو بھی سراہتے تھے،مگر حضرت مفکر اسلام کی طرح ایسی سایسی تنظیم کے خواہاں تھے جو آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اشتراک عمل بھی کرے اوربوقت ضرورت مسلم قوم کے مفاد کے لیے اس سے الگ بھی ہوسکے،جب حضرت مولانا محمد سجاد صاحب نے انڈی پنڈنٹ پارٹی بنائی تو مسٹر محمد یونس اس کے سب سے بڑے لیڈر ہوئے۔
انڈیا ایکٹ۱۹۳۱ کے بعد انڈی پنڈنٹ کی حکومت سازی:
چنانچہ ۱۹۲۵ء میں انگریزوں کو اس بات کا شدید احساس ہواکہ ہندوستانی قوم پر جبر وتشدد کے ساتھ حکومت آسان نہیں ہے،نیز ہندوستانیوں کے حقوق کو پامال کرکے بہت دنوں تک حکومت قائم نہیں رکھی جاسکتی ہے،اس لیے نیا دستور وضع کیا گیا کہ ہندوستانیوں کو اپنی حکومتیں قائم کرکے داخلی اختیارات دے دیئے جائیں؛لیکن اس کے لیے الیکشن کو شرط قراردیاگیا،الیکشن کا قانون اپنی چالبازی’’لڑو اورحکومت کرو‘‘سے یہ بنایا کہ ہندوہندو امیدوار کو اورمسلمان مسلم امیدوار کو ہی ووٹ دے سکتا ہے،چنانچہ ۱۹۳۶ء میں الیکشن ہوا،کانگریس نے پورے ملک میں برتری حاصل کی،اس موقع پر مسلم لیگ نے بھی قسمت آزمائی کی تھی۔(۱۸)
بہار میں مولوی شفیع داؤد کی احرار پارٹی اورمیاں سید عبدالعزیز سابق وزیر تعلیم کی بھی پارٹی امیدوار میدان میں تھے،مگر انڈی پنڈنٹ کے رہنماؤں نے بالخصوص حضرت مولانا محمد سجاد علیہ الرحمہ بانی وصدر پارٹی اورمسٹر محمدیونس نے شب وروز ایک کرکے پارٹی کا ایسا تعارف کرایا اورووٹروں کو صحیح صورت ھال سے آگاہ کیا کہ ووتوں کی گنتی ہوئی تو کانگریس بڑی پارٹی ضرور تھی،،مگر دوسرے نمبر پر سب سے بڑی پارٹی انڈی پنڈنٹ ہی تھی،۱۵۲؍سیٹوں والی اسمبلی میں اس پارٹی کو ۲۸؍سیٹیں حاصل ہوئیں،حکومت سازی کے لیے اصل حقدار کانگریس تھی،مگر کانگریس کے کچھ مطالبات وتقاضے تھے،جن کو گورنر نے تسلیم نہیں کیا تو کانگریس بھی حکومت سازی سے ہاتھ کھینچ لیا،مجبورا گورنر نے انڈی پنڈنٹ پارٹی کو دعوت دی،چنانچہ حضرت مفکر اسلام نے وزارت کی تشکیل کے لیے مسٹر یونس کو آگے کردیا اوروزارت عظمیٰ کے لیے محمد یونس صاحب کا نام پیش کردیا،چنانچہ ۱۹۳۷ء کے اوائل میں مسٹر محمد یونس کی حکومت قائم ہوئی،کل تین مہینے اس پارٹی کی حکومت رہی،کانگریس سے گورنر کو جو اختلافات تھے،ان کو دور کرلیا گیاتو کانگریس بھی حکومت بنانے کے لیے تیار ہوگئی اوراس طرح مسٹر محمد یونس کی حکومت گرگئی،۱۹۳۹ء تک وزارتوں کا دور رہا،اسی سال کے آخر میں بطور احتجاج وزرا نے استعفیٰ بھی دے دیا۔
مسٹر محمد یونس نے بہت کم مدت میں بڑے بڑے کام کئے،عدالتوں میں اردو رسم الخط کو جاری کیا،پٹنہ عدالت اورایوان کونسل کی عمارتیں بھی اس حکومت کی یادگار ہیں۔
مسٹر محمد یونس مرحوم کی یہ وزارت پہلی مسلم وزارت تھی اوروزارت عظمیٰ پر محمد یونس فائز تھے،مگر پارلیمنٹری بورڈ کے صدر نشیں حضرت مفکر اسلام ہی تھے،حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی لکھتے ہیں:
’’لہذا یونس صاحب نے وزارت ترتیب دے کر قلمدان وزارت سنبھال لیا اوراس طرح بہار کی حکومت اگرچہ یونس صاحب کی وزارت کے ہاتھ میں تھی،مگر دراصل پارٹی کے پارلیمنٹری بورڈ کے صدر حضرت مولانا محمد سجاد صاحب اس حکومت کے روح رواں تھے‘‘۔(۱۹)
آخر عمر میں طبیعت خراب ہوئی تو علاج کے لیے لندن گئے،۳؍مئی ۱۹۵۲ء کو وفات پاگئے اوربروک وود کے قبرستان میں مدفون ہوئے۔
مفتی اعظم ہند حضرت مفتی کفایت اللّٰہ صاحب:
ہندوستان کے فقیہ بے مثال،مدرسہ امینیہ کے محدث عالی وقار،تحریک آزادی کے قائد وسالار،جمعیۃ علماء ہند کے بانی ورہنما حضرت مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ دہلوی علیہ الرحمہ ایک کامیاب سیاست داں اورمختلف کمالات واوصاف کی جامع شخصیت کانام ہے۔
خاندان وہندوستان: شیخ جمال یمنی کے نسل سے ہیں،شیخ جمال اس قافلہ کے سردار کا معصوم بچہ ہے،جو یمن سے ہندوستان آرہاتھا،بحرین سے موتی خرید کر ہندوستان میں فروخت کرتا اوریہاں کے مسالہ جات اوردیگر اشیاء تجارت اپنے ملک میں لے جاکرفروخت کرنا مقصد سفر تھا،مگر بادبانی کشتی بیچ سمندر میں ہچکولے کھاکر غرق ہوگئی،ساتھ میں کشتی پر سوار ہر فرد سمندر کی نذر ہوا،صرف میر قافلہ کا ننا بچہ جمال زندہ بچ سکا،جو کشتی کے ٹوٹے ہوئے تختے پر بہتا ہوا کسی ساحل کے قریب پہونچا تو بھوپال کے ایک آدمی نے اس کو بچالیا اوراپنے ساتھ بھوپال لے گیا،اس شخص نے اچھی تربیت کی اوراپنے خاندان کی کسی دوشیزہ سے نکاح بھی کردیا،شیخ جمال مفتی اعظم کے مورث اعلیٰ ہیں۔
کچھ عرصہ بعد یہ خاندان بھوپال سے یوپی شہر شاہ جہاں پور پہونچ گیا،وہیں ۱۲۹۲ھ ۱۸۷۵ء کو قلہ’’سب زئی‘‘میں ایک غریب گھرانہ یعنی شیخ عنایت اللہ بن فیض اللہ کے گھر مفتی صاحب پیدا ہوئے۔(۲۰)
والد صاحب انتہائی متقی،پرہیزگارانسان تھے،غربت کے باوجود ارادے بلند رکھتے تھے،اپنے فرزند کے تئیں جذبات محض دینی تھے،وہ چاہتے تھے کہ ان کو عالم بنایا جائے،نامساعد حالات کے باوجود باب کی نیت اوربیٹے کی جد وجہد، اساتذہ کی شفقت رنگ لائی اورغریب گھر کا بچہ ہندوستان کے علمی ودینی،نیز سیاسی افق پر ماہ تاباں بن کر طلوع ہوا۔
تکمیل تعلیم:
پانچ سال کی عمر میں محلہ کے حافظ برکت اللہ کے پاس مکتب میں بیٹھائے گئے،قرآن مجید کی تعلیم تک اسی مکتب میں رہے،اردو وفارسی کی تعلیم کے لیے حافظ نسیم اللہ کے مکتب جو محلہ’’درک زئی‘‘میں تھا،داخل کئے گئے،پھر محلہ خلیل شرقی میں مولوی اعزاز حسن خاں کے مدرسہ اعزازیہ میں داخل ہوکر فارسی ادب،نیز عربی کی ابتدائی کتب ماہر استاذ حافظ بدھن خاں کے زیر سایہ شروع کی،اسی مدرسہ میں حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی کے شاگرد رشید مولانا عبیدالحق خاں افغانی کے سامنے بھی زانوئے تلمذ تہہ کیا،مولانا عبیدالحق ان کو دارالعلوم دیوبند بھیجنا چاہتے تھے؛مگر والد صاحب کی غربت کی وجہ سے یہ طے پایا کہ جامعہ قاسمیہ شاہی مراد آباد میں پڑھایاجائے،چنانچہ وہاں دوسال رہ کر حضرت نانوتوی کے شاگردرشید حضرت مولانا عبدالعلی میرٹھی اورمولانا محمد حسن وغیرہ سے کسب فیض کیا، ۱۳۱۲ھ میں دارالعلوم تشریف لے گئے،اس وقت دارالعلوم کے مہتمم حضرت مولانا منیر صاحب اور صدر المدرسین حضرت شیخ الہندرحمۃاللہ علیہ تھے،ان دونوں بزرگوں کے سایہ میں رہ مسلسل تین سالوں تک دارالعلوم میں پڑھتے رہے، اساتذہ میں مشہور شیخ الہند،حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری،مولانا حسن وغیرہ رحمہم اللہ ہیں،دورہ حدیث کے ساتھیوں میں حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری،حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی،مولانا ضیاء الحق اورمولانا امین الدین وغیرہ رحمہم اللہ ہیں۔
درس وتدریس:
درس وتدریس کا آغاز مدرسہ عین العلم سے کیا،جس کو آپ کے مشفق استاذ حضرت مولانا عبیدالحق صاحب نے شاہ جہانپورمیں ۱۳۱۴ھ مطابق ۱۸۹۶ء میں قائم کیا تھا،مسلسل پانچ سال اسی مدرسہ میں پڑھاتے رہے،مدرسہ کی مالی حالت اچھی نہیں تھی،پھر بھی حضرت مفتی صاحب نے انتہائی صبر اورتمام تر استغنا کے ساتھ ۱۳۲۱ھ یعنی مولانا عبیدالحق کے انتقال تک خدمت کرتے رہے،اسی مدرسہ کے تلامذہ میں حضرت مولانا اعزاز علی استاد حدیث وفقہ دارالعلوم اورحضرت مفتی مہدی حسن مفتی دارالعلوم دیوبند بھی ہیں۔
دوسری طرف آپ کے ساتھی اوررفیق خاص حضرت مولانا امین الدین صاحب نے ۱۳۱۵ھ میں مدرسہ امینیہ کے نام سے دہلی میں ایک معتبر ادارہ قائم کیا تھا،جس کے پہلے استاذ حضرت علامہ کشمیری مقرر ہوئے؛لیکن حضرت کشمیری کے گھریلو حالات کچھ خراب ہوئے،جن کی بناپر آپ کو وطن مالوف لوٹنا پڑا،ان کے بعد مدرسہ بانی نے اپنے دوسرے رفیق حضرت مفتی صاب کو اپنے یہاں آنے پر مجبور کیا،آپ وہاں پہونچے اورجب تک زندہ رہے، مسند حدیث وفقہ کو رونق بخشتے رہے،مولانا امین الدین صاحب کے دنیا سے رحلت فرمانے کے بعد اس مدرسہ کی باگ ڈور بھی سنبھالنی پڑی،آپ کے دور مسعود میں مدرسہ امینیہ کا وقار بہت بلند ہوا،ہر طرح کی عظمتوں ورفعتوں کے لیے علمی حلقوں میں جانا پہچانا جانے لگا،نیک نامی وشہرت سے متأثر ہوکر مدرسہ عالیہ فتح پور کے احباب حل وعقد نے بھی ذمہ داری آپ کو تفویض کردی،مدرسہ عالیہ نے بھی کافی بلندی کو چھوا،علمی وقار میں کافی ترقی ہوئی،مولوی وفاضل کے امتھانا میں اس مدرسہ کے طلبہ کی کامیابی نمایں رہنے لگی۔
علمی سرمایہ:
مدرسہ عین العلم کے زمانے سے ہی آپ کی دلچسپی فقہ وفتاویٰ کی طرف تھی اوراس کام کو بحسن وخوبی انجام دینا شروع بھی کردیا تھا،حضرت مولانا عبیدالحق صاحب کی ستائش اورتعریفی کلمات سے حوصلہ کو بلندی ملتی رہی،چنانچہ اسی زمانے سے آپ کے فتاویٰ کو علمی حلقوں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا،دہلی منتقل ہونے کے بعد اس معتبریت میں اوربھی اضافہ ہوا،چنانچہ آپ کو مفتی اعظم ہند کے اعزازی لقب سے سرفراز کیا گیا،جو آپ کی شخصیت کے لیے انتہائی موزوں ثابت ہوا،آپ کے فتاویٰ ’’کفایت المفتی‘‘کے نام سے شائع ہوئے،کفایت المفتی جدید وقدیم مسائل حل کرنے کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے،بہت سے راز سربستہ جو علمی نکات اس سے کھلتے ہیں،اس کے علاوہ تعلیم الاسلام کراماتی تحریر وترتیب ہے،زمانہ ہر قسم کے نشیب وفراز سے دوچار ہوا،مگر تعلیم الاسلام اپنے مقصد کی حفاظت کرنے اوراپنی حیثیت واہمیت کو بحال رکھنے میمں اپنی مثال آپ ثابت ہوئی،اس کے علاوہ روض الریاضین،مسلمانوں کے مذہبی اورقومی اغراض کی حفاظت،مختصر تاریخ مدرسہ امینیہ،جمعیۃ علماء پر ایک تاریخی تبصرہ وغیرہ بیش بہا علمی یادگار ہیں،عین العلم میں رہتے ہوئے آپ نے قادیانیوں کا تعاقب کیا اورالبرہان نامی مجلہ نکالنا شروع کیا،یہ رسالہ اس وقت تک نکلتا رہا،جب تک آپ دہلی منتقل نہیں ہوئے،اس رسالہ میں قادیانی عقائد کی زبردست تردید موجود ہے۔
سیاسی خدمات:
فقہ وحدیث کا یہ سرتاج جب ساسی اکھاڑے میں قدم رکھتا ہے تو اپنی ذکاوت وذہانت سے دشمنوں کی سازشیں طشت از بام کردیتا ہے،کوئی یہ نہیں سمجھتا تھاکہ بوریہ پر بیٹھ کر ھدیث وفقہ میں مگن رہنے والا سیاست کا اتنا تجربہ کار بھی ہوگا،آپ کی سیاسی بصیرت کا تھوڑا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت شیخ الہند جب بھی سیاسی امور میں مشورہ کرنا چاہتے تو حضرت مفتی اعظم کو ترجیح دیا کرتے تھے،بعض حضرات کے استفسار پر حضرت شیخ الہند نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:
’’بے شک تم لوگ سیاست داں ہو؛لیکن مولوی کفایت کا دماغ سیاست ساز ہے‘‘۔(۲۱)
۱۹۱۹ء میں جب جمعیۃ علماء ہند کی بنیاد پڑی اورجن لوگوں نے اپنی جدوجہد سے قائدانہ رول ادا کیا،ان میں سرفہرست حضرت مفتی اعظم ہی تھے،اس موقر پع متفقہ طور پر آپ کو صدر چنا گیا،ہرچند کہ حضرت شیخ الہندؒ کے احترام میں جو کہ جیل میں تھے،صدر کہلانے سے کتراتے رہے،مکمل ۱۹ ؍سالوں تک آپ منصب صدارت پر فائز رہ کر جمعیۃ کو بام عرو پر پہنچایا اورتحریک آزادی کی ہر کوشش میں راست حصہ لیتے رہے۔
جمعیۃ کا سب سے پہلا دفتر مدرسہ امینیہ دہلی آپ کے کمرے میں قائم ہوا،کوئی محرر اورخادم نہیں تھا؛بلکہ آپ خود اورمولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیۃ علماء ہند اپنے ہاتھوں سے کام کیا کرتے،آپ کے بلند اخلاق اورپاکیزہ کردار اورمضبوط ومحکم عزم وارادہ کا نتیجہ تھاکہ مختلف الخیال علماء جو ہمیشہ جزوی مسائل میں الجھتے رہتے تھے،ایک جگہ جمع ہوکر مستقبل کے بارے میں سوچنے لگے۔جمعیۃ علماء کی آپ نے اپنے ہاتھوں پرورش کی اوراپنی محنت وجانفشانی سے پروان چڑھایا۔(۲۲)
تحریک آزادی کی جدوجہد اورحکومت ہند کے خلاف کارروائیوں کی پاداش میں آپ کو دومرتبہ جیل بھی جانا پڑا،سول نافرمانی کی تحریک جو ۱۹۳۰ء میں شروع ہوئی،اس کے آپ اول ڈکٹیٹر بھی رہے،باغیانہ عزائم وخطرناک تقریری کے جرم میں ۱۱؍اکتوبر ۱۹۳۰ء مطابق ۱۷؍جمادی الاولی ۱۳۴۹ھ کو دولت خانہ کوچہ چیلان سے رات چار بجے گرفتار کیا گیا،چھ ماہ قید بامشقت کی سزاسنائی گئی،دہلی وگجرات کے جیل میں سزا کے ایام گزارے گئے۔
۱۹۳۱ء میں دوبارہ تحریک کی ابتدا ہوئی اورآپ اسٹیج پر کھڑے ہوکر طوفانی تقریر کرنا چاہ رہے تھے کہ پولیس نے لاٹھی چارج شروع کیا،لوگوں کی بھیڑ منتشر کرکے آپ کو گرفتار کرلیا اور۱۸؍ماہ قید بامشقت کی سزادی گئی،جو نیوسینٹرل جیل ملتان میں گزارنا پڑا۔
ترک موالات کی بات علماء کا متفقہ فیصلہ جو تقریبا ۹؍صفحے پر مشتمل ہے اورچار پانچ صفحات میں اس وقت کے اساطین امت کے دستخط ہیں،اس کو حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ نے جمعیۃ کے ناظم رہنے کے زمانے میں مرتب کیا ہے،جو حقیقت میں دستخط کنندہ بزرگوں کی متفقہ رائے وخیال کی ترجمانی ہے،اس میں حضرت مفتی صاحب کا دستخط بھی سب سے اوپر ثبت ہے،اس متفقہ فیصلہ کو یہاں نقل کرنا طوالت کا باعث ہوگا،اس مجلہ میں ان شاء اللہ کسی نہ کسی مناسب جگہ پر ضرور اس کا ذکر آجائے گا۔
وفات حسرت آیات:
کروڑوں مسلمان کا یہ رہنما،مختلف دینی ومذہبی تنظیموں کا سرپرست ۱۳۷۲ھ مطابق ۳۱؍دسمبر ۱۹۵۲ء رات ساڑھے دس بجے نئے عیسوی سال شروع ہونے سے دیڑھ گھنٹہ قبل اپنے مکان کوچہ چیلان میں وفات پاگیا،یک جنوری کو خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے قریب مہرولی میں ا ن کو دفن کردیا گیا،وقت کے بڑے بڑے اکابر نے جنازہ می شرکت کی،مولانا احمد سعید دہلوی نے نماز پڑھائی،آپ کی تاریخ وفات مندرجہ ذیل مصرعہ سے نکلتی ہے،جو آپ کی قبر پر کندہ بھی ہے۔
ہوگیا گل آہ دہلی کا چراغ
آپ کے جلوت وخلوت دونوں یکساں منور،جسم وجان کے ساتھ دل ودماغ بے نیازی کی دولت سے مالا مال،علم وعمل کے سلطان،اخلاص وللٰہیت کے پیکر،زہدوتقویٰ میں باکمال،سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ سمجھنے والی خود فراموشی،ملک ووطن کی خدمت کے لیے جان نثار کرنے والا مجاہد،خلاصہ یہ کہ ایسی جامع شخصیت نایاب نہیں تو بھی کمیاب ضرور ہوتی ہے،کسی نے بہت خوب کہاہے:
یہ رنگ جلوت یہ کیف خلوت یہ جامعیت خدا کی قدرت
یہ علم و حکمت یہ زہد وتقویٰ جمال ایسا کمال ایسا
جہاں سارا تو چھان مارو بتاؤ انصاف سے خدارا
کہیں بھی اے مہر وماہ دیکھا جمال ایسا کمال ایسا
حضرت مولانا سید شاہ محمد نورالحسن پھلواروی:
۱۲۹۹ھ مطابق ۱۸۸۲ء میں پھلواری شریف میں پیدا ہوئے،حضرت مولانا عبدالوہاب صاحب سے تعلیم حاصل کی،انتہائی متقی وپرہیزگار،صاحب علم وفن،بزرگانہ اوصاف کے حامل،اخلاق ومروت،تصوف واحسان میں قابل رشک،نمونۂ اسلاف،حدیث وفقہ،تفسیر وکلام میں باکمال اورتجربہ کار قاضی تھے،علمی وفکری گہرائی وگیرائی، فہم وفراست،ملی ودینی مسائل پر گرفت میں آپ کی شہرت تھی۔
امارت شرعیہ کے قیام سے پہلے جمعیۃ علماء بہار سے بڑے رہے،بیت المال کا حساس شعبہ آپ کے ذمہ تھا،نیز جمعیۃ علماء بہار کے دارالقضاء کے قاضی آپ ہی تھے،جب امارت شرعیہ کا قیام عمل میں آیا اوریہ دونوں شعبے امارت شرعیہ کے ساتھ ضم کردیئے گئے تو امارت شرعیہ کے اول قاضی کی حیثیت سے کام کرنے لگے اورتازندگی اس اہم عہدہ پر فائز رہے،آپ کو معاملہ فہمی کی خداداد صلاحیت تھی،جس کی وجہ سے کسی بھی کیس میں تہہ تک پہنچ کر فیصلہ فرمایا کرتے تھے،آپ کے فیصلے اتنے بے لاگ ہوتے کہ مسلم وغیرمسلم سب آپ کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔
وفات ۳؍رمضان ۱۳۲۵ھ مطابق ۲۷؍اپریل ۱۹۵۶ء میں ہوئی اورپھلواری شریف میں مدفون ہوئے،آپ کی وفات پر حضرت مولانا عبدالصمد رحمانی علیہ الرحمہ نے تحریر فرمایا:
’’آہ جمعیۃ علماء اورامارت شرعیہ کے ایک مخلص خادم بے ریا،راست باز ہستی اپنی جگہ بے وقت خالی کردی، جبکہ ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی،ان کی زندگی گوناگوں خصوصیتوں کی حامل تھی‘‘۔(۲۳)
مرد مجاہد مولانا نورالدین بہاری:
دارالعلوم دیوبند کا مایہ ناز فرزند،جنگ آزادی کا ہیرو،جمعیۃ علماء بہار کے صف اول کے رہنما،انتہائی غیور انسان مولانا نورالدین علیہ الرحمہ بھی اس کاروان سجاد کے رفیق دم ساز ومحرم راز ہیں،۱۸۹۷ء میں اورنگ آباد میں پیدا ہوئے،جہاں والد محترم ہائی اسکول کے ٹیچر تھے،اصل وطن مہونی تھانہ استھاواں ضلع پٹنہ تھا،مدرسہ اسلامیہ اورنگ آباد میں ابتدائی تعلیم ہوئی،پھر کانپور کے مدرسہ جامع العلو م میں تعلیم پائی،اس کے بعد مولانا ماجد جونپوری سے مکتلف کتب درسیہ پڑھ کر ۱۹۱۸ء میں دیوبند تشریف لے گئے اورامام العصر علامہ انور شاہ کشمیری سے شرف تلمذ پاکر فارغ ہوئے۔
فراغت کے بعد مدرسہ اسلامیہ اورنگ آباد میں پڑھانے لگے؛مگر تحریک ترک موالات کی مہم شروع ہوئی تو آپ نے مدرسہ کو محض اس وجہ سے خیرباد کہہ دیا کہ مدرسہ نیم سرکاری تھا،اس میں خدمت کرنا یک گونہ انگریزوں کی اعانت ہے،اس زمانہ میں امارت شرعیہ کا قیام بھی ہوچکا تھا،آپ ایک مبلغ کی حیثیت سے منسلک ہوگئے اورحضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد کے سجاد امارت شرعیہ کی تعمیر وترقی میں لگ گئے،اس کے بعد دہلی تشریف لائے اورجنگ آزادی کی مختلف مہموں میں قائدانہ کردار ادا کیا۔۱۹۳۰ میں تحریک نمک سازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، تحریک سول نافرمانی ۱۹۳۱۔۱۹۳۲ء میں چوتھے ڈکٹیٹر منتخب ہوئے،۶؍مئی ۱۹۳۲ء میں ایک عظیم جلوس کی قیادت کرتے ہوئے گرفتار ہوئے۔(۲۴)
اس طرح آپ آزادی وطن کی جدوجہد میں متعدد بار قیدوبند کی صعوبت سے دوچار ہوئے اورہر مرتبہ بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کیاکہ!
بمصیبتے گرفتم نہ بمعصیتے
جمعیۃ علماء ہند کے نائب ناظم اورصوبائی کانگریس کے صدر بھی رہے،ان کی جنگی وجہادی مہمات کے ساتھ درس قرآن کا سلسلہ برابر جاری رہا،ہر ہفتہ شہر بھوپال جاکر تفسیر بیان کیا کرتے تھے،سیاسی سوجھ بوجھ میں داد دی جاتی تھی،دلیری،بے خوفی اوربلند ہمتی میں کافی شہرت رکھتے تھے۔(۲۵)۱۶؍اکتوبر ۱۹۵۶ء کو انتقال ہوا۔(۲۶)
حضرت مولانا شاہ قمر الدین صاحب امیر شریعت ثالث:
حضرت مولانا شاہ قمر الدین صاحب خانقاہ مجیبیہ کے چشم وشراغ اورامیر شریعت اول حضرت شاہ بدرالدین صاح قادری کے منجھلے صاحبزادے،حضرت شاہ محی الدین جو امیر شریعت ثانی ہیں،ان کے برادر عزیز ہیں۔
تعلیم وتربیت والد بزرگوار حضرت شاہ بدرالدین کی ہی نگرانی میں ہوئی،اپنے برادر مکرم حضرت شاہ محی الدین سے ابتدائی کتابیں پرھیں،مولانا عبدالعزیز امجھری سے متوسطات کی تعلیم حاصل کی،پھر شہر دربھنگہ قلعہ گھاٹ کے مشہور ادارہ مدرسہ حمیدیہ میں رہ کر ۱۳۳۹ ؁ھ مطابق ۱۹۲۰ء ؁ میں تکمیل فرمائی،یہاں کے اساتذہ میں مولانا عبدالحمید صاحب ساکن راجو ضلع دربھنگہ اورمولانا مقبول احمد خاں ساکن گورا ضلع دربھنگہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں،آپ کی فراغت پر مدرسہ حمیدیہ میں جلسہ کیا گیا اورخانقاہ مجیبیہ میں بھی جلسہ تہنیت ہوا،جن میں اکابر امت نے شرکت کرکے سرپر دستار فضیلت باندھی،مائخ حجاز سے بھی سند حدیث حاصل تھی،مدینہ منورہ میں سید عبداللہ بن محمد غازی سے قصیدہ بردہ کی اجازت بھی ۲؍ذی الحجہ ۱۳۵۳ھ میں حاصل ہوئی،راہ سلوک کی سازی منزلیں والد بزرگوار سے طے کی۔اس خانوادے کا اصل امتیاز وشغل احسان وتصوف ہے،سالکین ومسترشدین کی روحانی تربیت ہی خاندان کی پہچان ہے،اس لیے گمنامی وخلوت اس خانقاہ کا ہرزمانے میں شعار رہاہے،عہدہ ومنصب اس خاندان کو کھلتا ہے،مگر ضرورت وتقاضوں کو پورا کرنے کا احساس بھی رہاہے،جب بھی گلستان وطن وقوم کو ضرورت پڑی،کسی بھی قربانی سے دریغ بھی نہیں ہوا،حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ نے جس نظام امارت شریعہ کا سراغ لگایا تھا، اس کو عملی جامہ پہنانے میں خانوادہ مجیبیہ پیش پیش رہا،حضرت شاہ بدرالدین صاحب اول امیر شریعت کی حیثیت سے بزرگانہ اقدار کے ساتھ مفکر اسلام کا ساتھ دیتے رہے،آپ کے بعد آپ کیلائق وفائق فرزند صوفی وصافی شخصیت حضرت شاہ محی الدین قادری اپنی پرزور قیادت سے امارت کے نظام کو آگے بڑھاتے رہے اورجب امیر شریعت ثانی کا بھی وصال ہوگیا تو ۶۔۷؍شعبان ۱۳۶۶ھ مطابق ۲۶۔۲۷؍جون ۱۹۴۷ء ؁ کو ڈھاکہ مشرقی چمپارن میں انتخاب امیر کا جو اجلاس منعقد ہوا،اس میں حضرت شاہ قمر الدین کو امیرشریعت ثالث کے جلیل القدر عہدہ کے لیے منتخب کیا گیا،ارباب حل وعقدنے بیعت سمع وطاعت کرکے اپا قائد اسی خاندان مجیبی کے ایک باہوش وبارعب شخصیت کو بناڈالا،چند ہی ماہ بعد ہندوستان آزاد ہوا،ہزارہا قربانیاں ملک کی آزادی میں دینی پڑھی تھیں، بے حد وحساب مالی ملک وملت کی نذر کرنا پڑا۔
ملک آزاد تو ہوا،مگر منقسم ہوکر تقسیم کا سارا ٹھیکرا مسلمانوں کے سرپھوڑا گیا،ہر طرف فساد پھوٹ پڑا،ملک کا بیشتر حصہ خونیں رنگ میں رنگ گیا،خطۂ بہار بھی بہت متأثر ہوا،امارت شرعیہ اوراس کے قائد نے اس پُرآشوب دور میں وقت کے لیڈروں کو اس طرف متوجہ کیا،تب جاکر عبدالغفار خاں،مہاتماگاندھی وغیرہ بہار کی طرف متوجہ ہوئے، ان لیڈروں کے بہار دورے سے خاطر خواہ فائدہ ہوا،امارت شرعیہ کا وقار بھی اہل ملک کی نگاہوں میں بلند ہوا، ہرچند کے لیلائے آزادی کے حصول کے وقت حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ دنیا میں موجود نہیں تھے،مگر آپ کی کوشش اورآپ کے رفقا کی جدوجہد رنگ لاچکی تھی،بچی کچھی کمی حضرت مولانا شاہ قمر الدین صاحب امارت شرعیہ کے پلیٹ فارم سے پوری کررہے تھے،بالآخر شاہ قمر الدین کا سنہرا ومنور دور بھی تمام ہوا اور ۱۹؍جمادی الثانی ۱۳۷۶ھ مطابق ۲۱؍جنوری ۱۹۵۷ء کو جمعہ کی شب میں آپ کا انتقال ہوگیا اورباغ مجیبی میں ہمیشہ کے لیے آسودۂ خواب ہوگئے۔(۲۷)
مجاہد آزادی حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی علیہ الرحمہ:
تحریک آزادی کا نڈر کمانڈر،فکر شیخ الہند کا امین،مالٹا کا یار غار،حرم نبوی کا کامیاب استاذ،حدیث وفنون حدیث کا رمز شناس،دینی وملی ہر مجلس کے لیے قابل فخر صدر نشیں،انکسار وتواضع کا پتلاکانام مولانا سید حسین احمد مدنی ہے، آپ کی زندگی ہمہ وقت نقل وحرکت سے عبارت تھی،خدمت خلق اورخدمت ملک کے لیے ہروقت سرگرداں رہتے،جو جذبہ مفکر اسلام کو بے چین رکھتا،وی احساس وشعور مولانا مدنی کو ہر لمحہ پریشان کئے رہتا،اسی لیے جمعہ کے کاز سے وابستگی دونوں ہی بزرگوں کو عشق کی حد تک تھی،آزادی ہند کے ان دونوں متوالوں کے سوچنے کا انداز ایک طرح تھا،خواہ تقسیم ہند کا مسئلہ ہو یا انگریزوں سے ہندوستان کو خالی گرانے کا قضیہ،سول نافرمانی کی تحریک ہو،یا رشدی فکری وسایسی ارتداد سے مقابلہ کرنے کا طریقہ،نہرو رپورٹ پر نقد وتبصرہ کا وقت ہو،یا کانگریس سے وابستگی کا مسئلہ،دونوں ہی بزرگوں کی یکساں آواز سنائی دیتی تھی،یہ الگ بات ہے کہ حضرت مدنی بہت بڑی یونیورسٹی سے وابستہ رہے اوربڑی تنظیم کو اوڑھنا بچھونا بنایا،نیز خاندانی وجاہت ووقار اورمدنی نسبت وساداتی انتساب نے چہار دانگ عالم میں اتنا معروف ومشہور کردیا کہ ہر کسی کو حضرت مدنی سے ادنی وابستگی پر فخر وناز محسوس ہونے لگتا ہے۔(ذلک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشاء)
حضرت مدنی-ذاتی احوال:
آپ کا آبائی وطن قصبہ ٹانڈہ ضلع فیض آباد یوپی ہے، ۱۹؍شوال ۱۲۹۶ھ مطابق ۶؍اکتوبر ۱۸۷۹ء کو ناگر مؤ ضلع اٹاؤ میں پیدا ہوئے،آپ کے والد بزرگوار سید حبیب اللہ علیہ الرحمہ یہاں اسکول میں ہیڈ ماسٹر تھے،اپنے والد صاحب سے ابتدائی تعلیم حاصل کی،۱۳۰۹ھ مطابق ۱۸۹۲ء کو ۱۳؍سال کی عمر میں دارالعلوم دیوبند پڑھنے کی غرض سے تشریف لے گئے اوراپنے برے بھائی مولانا صدیق احمد نیز حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کی سرپرستی میں ہر علم وفن سے بہرہ ور ہوئے،۱۳۱۶ھ مطابق ۱۸۹۸ء میں دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے،بڑے بڑے مشائخ وقت اورماہرین فن کے سامنے آپ نے زانوئے تلمذ تہہ کیا،ان میں سے حضرت شیخ الہند،حضرت مولانا ذوالفقار علی دیوبندی،حضرت مولانا عبدالعلی،حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری،مولانا حکیم محمد حسن،مولانا مفتی عزیز الرحمن،مولانا غلام رسول اورمولانا حبیب الرحمن نامور اسماہیں،روحانی کمالات قطب عالم حضرت گنگوہی کی صحبت بافیض سے حاصل ہوئے،۱۳۱۷ھ سے ۱۳۳۵ھ تک حجاز مقدس اورروضۂ اطہر کی مجاورت کا شرف حاصل رہا،اس دوران ہندوستان بھی تین مرتبہ آنے کا اتفاق ہوا،جس میں چار سال صرف ہوئے،جتنی مدت بھی ارض پاک میں رہنے کا اتفاق رہا،اس کے ایک لمحہ کو علم ودین کی راہ میں خرچ کرکے محفوظ کرلیا،اس طرح ۱۴؍سال حرم مدنی میں تدریس کی سعادت حاصل رہی،حضرت شیخ الہند جب گرفتار کرلیے گئے تو آپ نے بھی گرفتاری پیش کی،اس طرح حضرت شیخ الہند کی رفاقت مالٹا میں بھی رہی ،امروہہ،کلکتہ،سلہٹ وغیرہ میں تدریسی خدمت انجام دی،۱۳۴۶ھ میں ازہر ہند دارالعلوم دیوبند میں مسند شیخ الحدیث پر فائز ہوئے اورتازیست ہر طرح کے ہنگاموں اورپروگراموں کے باوجود اس پر فائز رہے،تین ہزارآٹھ سو چھبیس طلبہ نے دورۂ حدیث پڑھ کر سند فضیلت حاصل کی۔(۲۸)
سینکڑوں لوگوں کو راہ سلوک کی رہنمائی فرماکر کامل بنایا،بہت سے مدرسوں کی سرپرستی ونگرانی کی،واردین وصادرین کا آپ کے در پرہجوم رہتاتھا،سب کی ضیافت بنفس نفیس انتہائی خندہ پیشانی سے فرماتے،مہمان نوازی کا ایسا منظر کم دیکھنے کو ملتا ہے کہ خود ہی سارے مہمانوں کو اپنے ہاتھ سے روٹیاں تقسیم کررہے ہیں،درمیان میں سالن کا کعب رکھا ہے،سارے لوگ آپ کے ساتھ شریک طعام ہیں،کسی کے لقمہ کا کچھ حصہ دسترخوان پر رہ جاتا ہے تو آپ بے تکلف اس کو اٹھاتے ہیں اورکھالیتے ہیں،حضرت مولانا علی میاں ندوی علیہ الرحمہ اپنی چشم دید گواہی اس طرح بیان کرتے ہیں:
’’اس زمانۂ قیام میں مہمانوں کی کثرت اوراس پر مولانا کی مسرت وبشاشت بچشم خود دیکھی،مہمانوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں تھی،مستقل مہمان خاصی تعداد میں الگ تھے،بعض اوقات خود اندر سے کھانا لاتے، مہمانوں میں ہر طبقہ کے لوگ تھے،ارکان جمعیت،مشاہیر علماء،سیاسی کارکن،نوجوان ورکر،جیل سے آنے والے خفیہ پولس کے خفیہ اشخاص،بیت کے خواہش مند،تعویڈ کے طالب وغیرہ وغیرہ ،یہیں مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃاللہ علیہ کی پہلی زیارت ہوئی،کئی ہفتے ان کی ہمسائیگی رہی اوران کے محاسن کا علم ہوا‘‘۔(۲۹)
حضرت مدنی اورتحریک آزادی:
ہندوستان کی آزادی کے لیے مجاہدانہ اسپرٹ جو عشق وجنون کی حدوں سے بھی آگے ہوچکی تھی،آپ کو حضرت شیخ الہندنے کہتے ہوئے بطور امانت سونپی تھی،جب تک فتح کامل نصیب نہ ہوجائے اور ہندوستان آزاد نہ ہوجائے، ۱۸۵۷ء کا علم جہاد سرنگوں نہ ہونے پائے اورجنگ آزادی پورے حوصلے،ہوش مندی اورجان نثاری کے ساتھ جاری رہے،پھر یہ ایسا حرز جان بن کر رہاکہ ساری تگ ودو کا محور اورساری جدوجہد کا مقصد آزادی ومکمل آزادی تھا،آپ اس کو محض جنگ نہیں؛بلکہ دینی فریضہ سمجھتے تھے،چنانچہ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’دین کا خدمت کا یہی مطلب نہیں ہے کہ آپ لوگ مدرسہ وخانقاہ میں گوشہ گیر ہوکر کتاب ہی تک منحصر رہیں،مسلمانوں کی اورملک کی اقتصادی،معاشی نیز سیاسی ترقی بھی دینی فرائض میں شامل ہے‘‘۔(۳۰)
چنانچہ آپ کے طرز عمل میں خود غرضی اورموقع پرستی کی نحوست کے بجائے خلوص وللٰہیت کا بے پناہ تقدس پایا جاتا تھا،مولاناندوی ایک سفر کا حال لکھتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’ اس سفر سے اندازہ ہوا کہ مولانا اس کام کو اپنا ایک دینی فرض سمجھ کر اورایک عقیدہ وارادہ کے ماتحت کررہے ہیں،وہی بے غرضی،وہی مستعدی،وہی جفاکشی جو ایک سپاہی میں میدان جنگ کے اندر ہوتی ہے‘‘۔(۳۱)
ایک جگہ اورلکھتے ہیں:
’’مولانا سے تمام اصحاب اجتہاد کی طرح خطائے اجتہادی تو ممکن ہے؛لیکن خود غرضٰ،موقع پرستی، سربلندی وقیادت کی خواہش،حب جاہ وہ چیزیں ہیں،جن سے اللہ تعالیٰ نے مولانا کو بہت بلند کردیا ہے‘‘۔(۳۲)
حضرت نے ہر موقع پر انگریزوں کو للکارا،چیلنج دھمکی کے ساتھ آنکھ میں اانکھ ڈال کر بات کی،اپنوں اورغیروں سے طرح طرح کے طنز آمیز جملے؛بلکہ اذیت ناک حد تک رویوں کی پرواہ کئے بغیر انگریزوں کے لیے صاعقہ آسمانی سے کم نہیں تھے ؂
آں نہ من باشم کہ روز جنگ بینی پشت من
آن مستم کہ درمیان خاک و خون بینی سر کے
کے حقیقی مصداق تھے۔
اس سنگلاخ وادی کو طے کرنے اورحصول آزادی کے نیا کو پار لگانے میں چار بار قید وبند کی صعوبتوں کو بھی برداشت کرنا پڑا،تقریبا ساڑھے سات سالوں تک انگریزوں کے اسیر رہے،مگر جب تک آزادی کی صبح کو اپنی آنکھوں سے طلوع ہوتا ہوا دیکھ نہیں لیا،چین وسکون سے بیٹھنے کا نام نہیں لیا۔
جس وقت حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی،حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب،حضرت مولانا احمد سعید دہلوی جیسے چوٹی کے علما اورصف اول کے قائدین جمعیت کی تأاسیس کا تانا بانا بُن رہے تھے،اس وقت آپ فرنگیوں کی قید میں مالٹا کے اسیر تھے،مگر یہ اسیری بھی آزادئ وطن کے لیے تھی؛اس لیے جب جیل سے رہا ہوکر آئے ہیں تو اس تنظیم سے ایسا وابستہ ہوئے کہ جمعیت اورمولانا مدنی کی شخصیت کو الگ الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا،۱۹۲۳ء میں اس کے عاملہ کے رکن بے،۱۹۴۰ء میں(اس وقت ناظم مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ تھے) منصب صدارت تفویض ہوئی اورمسلسل ۱۷؍سال ۱۹۵۷ء تک آپ صدر رہے،عہدوں سے انسلاک ان دونوں (مولانا مدنی ومولانا ابوالمحاسن محمد سجاد)ہی بزرگوں کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا،اصل نظر مقاصد پر تھی،جن کی تکمیل کے لیے شروع سے ہی کسی نہ کسی طرح مربوط تھے۔یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی تحریک ۱۹۳۱۔۱۹۳۲ء میں پروان چڑھی،اس میں مولانا مدنی کو دیوبند سے دہلی آتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا،پھر ترک ولایت کا ہنگامہ ہو،یا ہندوستان چھوڑوکا نعرہ،کامل آزادی کا مطالبہ ہو،یا نہرو رپورٹ کی خامی اجاگر کرنے کی مہم،متحدہ قومیت کا فلسفہ ہو،یا تقسیم ہند کی مخالفت کا نظریہ،ہر میدان میں شہ سوار کی حیثیت سے قائدانہ رول ادا کرتے ہوئے مولانامدنی نظر آتے ہیں۔
تقسیم ہند کے بعد ملک کے گوشہ گوشہ میں خوف وہراس کا ماحول تھا،کسی بھی طرح اس ملک سے نکل جانے کو غنیمت سمجھنے لگے تھے،ایسے موقع پر مولانا مدنی اوران رفقائے کار کا بڑا احسان ہے کہ یہاں کی مسلم برادری کو دلاسہ دیا،ہرطرح اطمینان دلایا،سیاسی لیڈروں پہ دباؤ سخت کردیا کہ فسادی غنڈوں کا محاسبہ کیا جائے،حضرت مولانا علی میاں ندوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
’’مسلمانوں میں سخت مایوسی،مستقبل سے ناامیدی اوراپنے بارے میں بے اعتمادی اوراحساس کمتری رونما تھا،ان کا کوئی پُرسان حال نہ تھا،ہر شخس ایک یتیم اورکسمپرسی کی سی کیفیت محسوس کرتا تھا،اب مولانا اوران کے رفقا کی جماعت تھی کہ انہوں نے مسلمانوں میں خود اعتمادی،مستقبل کی طرف سے اطمینان،اپنے وطن میں رہنے اورناسازگار حالات کا مقابلہ کرنے کا عزم پیدا کرنے کی تبلیغ کی‘‘۔(۳۳)
حضرت مدنی نے جامع مسجد دیوبند میں تقریرکرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’آج خوف وبزدلی کا جو عالم ہے،اس کے تصور سے بھی شرم آتی ہے،گھروں میں بیٹھے ڈرتے ہو،راستے چلتے ہوئے ڈرتے ہو،کیا تم اپنے بزرگوں کے جانشیں نہیں ہوجو اس ملک میں گنی چنی تعداد میں آئے تھے،جب یہ ملک دشمنوں سے بھرا ہوا تھا،آج تم چار کروڑ کی تعداد میں اس ملک میں موجود ہو،یوپی میں تمہاری تعداد ۸۵؍لاکھ سے زیادہ ہے،پھر تمہارے خوف کا عالم یہ ہے کہ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ رہے ہو،آخر کہاں جارہے ہو،کیا تم نے کوئی ایسی جگہ ڈھونڈلی ہے،جہاں خدائی گرفت سے بچ سکوگے،جہاں تم کو موت نہیں پاسکے گا،موت سے بچ کر کہاں جاؤگے‘‘۔
پھر آگے فرمایا:
’’صبر واستقلال کے ساتھ مصائب کا مقابلہ کرو،کسی فساد کی ابتدا نہ کرو،اگر فسادی تم پر چڑھ آئیں تو تم ان کو سمجھاؤ؛لیکن اگر وہ نہ مانیں اورکسی طرح باز نہ آئیں تو پھر تم معذور ہو،بہادری کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرو اوراس طرح مقابلہ کرو کہ فسادیوں کی چھٹی کا دودھ یاد آئے،تمہاری تعداد خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو،مگر قدم پیچھے نہ ہٹاؤ اور اپنی عزت وحرمت کی حفاظت کرتے ہوئے جان دے دو،یہ عزت وشجاعت کی موت ہوگی،اس ملک کو تم نے اپنے خون سے سینچا ہے،آئندہ بھی اپنے سے سیچنے کا عزم رکھو،یہی ملک کی حقیقی وفاداری ہے،اس ملک پر تمہارا بھی اتنا ہی حق ہے،جتنا کسی دوسرے باشندے کا اوراس کی خدمت کی ذمہ داری تم پر بھی اسی طرح ضروری ہے، جس طرح کسی دوسرے شخس پر عائد ہوتی ہے‘‘۔(۳۴)
حضرت کی یہ تقریر صرف ایک فرد کی سوچ نہیں؛بلکہ پوری جماعت کی فکر تھی،جو بزبان حضرت مدنی ادا ہورہی تھی،یہ اس وقت کے تناظر میں کی گئی تقریرہے؛مگر ایسا لگتا ہے،آئندہ زمانہ کو بھی مدنظر رکھا گیا تھا،آج مسلمان ۲۰؍کروڑ سے زائد اس ہندوستان میں ہیں،پھر بھی قنوطیت ومایوسی کا جالا تنا ہوا ہے،عزم وحوصلہ چاہیے،تعداد کی قلت وکثرت پر فتح وکامرانی کا داز نہیں؛بلکہ عزم کی پختگی اورہمت کی بلندی میں سرفرازی منحصر ہوتی ہے،آج حرف بحرف ۴۷ء کی تقریر کے خدشات سامنے آرہے ہیں،بہر حال اس مرد مجاہد کی جہادی وسیاسی سرگزشت بہت طویل ہے،خود اس مجادہ کوبھی اس کا احساس ہے،اس لیے ہمہ وقت مصروفیت کے باوجود اپنی زندگی کی روداد نقش حیات کے نام سے لکھا تو اس میں ایک حصہ خاندانی حالات وذاتی احوال پر مشتمل ضرور ہے؛مگر اس کا معتد بہ حصہ ہندوستان میں انگریزوں کے ظلم وجور کی داستان اورمردان حق اورطائفہ ربانی کی پامردی وحکمت علمی کے بیان، نیز آزادی کی جدوجہد کے کارنامے پر مشتمل ہے۔
عزم وحوصلہ کا یہ پہاڑ انسان،وقت کا مایہ ناز محدث،اللہ کا ولی،انسانیت واخلاق کا پتلا،سچا محب وطن بالآخر اپنی زندگی کی ساعت مکمل کرکے ۱۳؍جمادی الاولی ۱۳۷۷ھ مطابق ۵؍دسمبر ۱۹۵۷ء کو اپنے مولائے حقیقی سے جاملا اورہمیشہ ہمیش کے لیے مزار قاسمی میں اپنے استاد ومربی حضرت شیخ الہند کے پہلو میں آسودۂ خواب ہوگیا۔
امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد:
حضرت مفکر اسلام کے ان رفیقوں میں سے جنہوں نے ان فکری وعملی کاوشوں کو سراہا اورمیدان عمل میں شانہ بشانہ رہ کر قابل رشک کارنامہ انجام دیا،ان میں حضرت مولانا ابوالکلام آزاد کا نام بھی شامل ہے۔
آبائی وطن تو دہلی ہے،مگر مادری وطن حجاز مبارک کا مقدس شہر مکہ ہے،آبائی ومادری ہر دوسلسلے ایسے خاندان سے ملتے ہیں،جو علم وفضل،معرفت وسلوک اورحال وقال میں شہرت رکھتے ہیں،ان کی والدہ ایک عرب خاندان کی چشم وچراغ تھیں،وہ حضرت شیخ محمد بن طاہر وتری جو کہ مفتی مدینہ اوراپنے وقت کے پایہ کے محدث اورشیخ حرمین تھے، کی بھانجی تھیں،داد مولانا محمد ہادی دہلی کے ایک مشہور وممتاز علمی وعرفانی خانوادہ سے تھے،اسی طرح والد مولانا خیر الدین کے نانا رکن المدرسین مولانا منور الدین مشہور صاحب طریقت اورصاحب سلسلہ بزرگوں میں سے تھے، نیز شاہ عبدالعزیز کے اجلہ تلامذہ میں شمار ہوتے تھے،ہرات کے قضاۃ،خاندان کے قابل فخر فرد تھے،مولانا آزاد کے مورث اعلیٰ شیخ جمال الدین دہلوی تھے جو کہ بہلول دہلوی سے مشہور تھے اورصرف دو واسطوں سے حافظ ابن حجر کے شاگرد تھے۔(۳۵)
مولانا منورالدین صاحب احمد شاہ ابدالی کے ساتھ ہندوستان آئے،پھر بعض وجوہ سے مکہ مکرمہ ہجرت کی تو مولانا خیر الدین بھی نانا کے ساتھ مکہ پہنچ گئے،وہیں ایک مکی خاتون سے شادی کی اورحرم میں بساط علم بچھا کر خوب افادہ کا کام کیا،مولانا آزاد مکہ معظمہ میں باب السلام سے متصل’’قدوۃ‘‘محلہ میں ۸ یا ۹؍ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ مطابق ۱۸۸۸ء کو پیدا ہوئے،تاریخی نام فیروز بخت اوراصلی نام احمد اورمشہور ابوالکلام سے ہوئے،مولانا آزاد خود لکھتے ہیں:
’’موسوم بہ احمد اورمشہور ابوالکلام ہے،۱۸۸۸ء مطابق ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ میں ہستئ عدم سے اس ہستی نما میں وارد ہوا اورتۃمت حیات سے متہم۔۔۔۔والد مرحوم نے تاریخی نام فیروزبخت رکھا تھا اورمصرعہ ذیل سے ہجری سال کا استخراج کیا تھا ؂
جواں بخت و جواں طالع جوان‘‘(۳۶)
تعلیم وتربیت:
سات سال کی عمر میں والدہ کا سایہ اٹھ گیا،جبکہ بسم اللہ کی تقریب بعمر پانچ سال حرم میں ہوچکی تھی،اپنے گھر میں اپنی خالہ سے پڑھنا شروع کیا،وہ عربی لب ولہجے میں قرآن پڑھتی تھیں،مولانا آزاد نے مکہ میں رہتے ہوئے ہی قرآن کریم ختم کرلیا تھا،اس کے بعد ہندوستان کا سفر پیش آگیا اورپورا گھر مولانا خیر الدین کی معیت میں کلکتہ میں فروکش ہوا،اس کے بعد ساری تعلیم وتربیت والد صاحب کے زیر سایہ گھریلو ماحول میں ہوئی،پندرہ سولہ سال کی عمر میں یعنی ۱۹۰۳ سے پہلے ہی سارے علوم وفنون میں مہارت حاصل کرکے شہرت حاصل کرلی تھی۔(۳۷)
آپ کے کچھ اوراساتذہ کا بھی سراغ ملتا ہے،جیساکہ مولانا آزاد حافظ ولی اللہ کا ذکر مربی ونگران کی حیثیت سے کیا کرتے ہیں،اسی طرح مولوی نذیرالحسن سے معقول پڑھنے کا ذکر بھی ملتا ہے،مولوی ظہیر الحسن سے شاعری کی اصلاح بھی لی اورآزاد تخلص رکھا۔
والد صاحب کا شمار مشائخ وقت میں ہوتا تھا،خانقاہی آب متاب،شان وشوکت کا نظارہ حویلی میں رہتا، سینکڑوں مریدین ومعتقدین کا جمگٹھا لگا رہتا،اندر وباہر ہر ایک ماحول نورانی وروحانی تھا،ہروقت علم وعرفان کے چرچے تھیکچھ غیر ضروری راہ ورسم کی پابندی بھی پائی جاتی تھی،بعض رسوم وخیالات سے مولانا آزاد بھی مانوس ومتاثر تھے،مگر وقت گذرنے کے ساتھ اورسوچ سمجھ میں پختگی آنے کے بعد رفتہ رفتہ اس کا راز کھلتا چلا گیا اورمولانا آزاد کی طبیعت ان قیود وشرائط سے مکمل طور پر آزاد ہوگئی،مولانا آزاد کے الفاظ ہیں:
’’میری پیدائش ایک ایسے خاندان میں ہوئی جو علم ومشیخیت کی بزرگی اورمرجعیت رکھتا تھا،اس لیے خلقت کا جو ہجوم واحترام آج کل سیاسی لیڈروں کے عروج کا کمال مرتبہ سمجھا جاتا ہے،وہ مجھے مذہبی عقیدت مندوں کی شکل میں بغیر طلب وسعی کے مل گیا تھا،میں نے ابھی ہوش بھی نہیں سنبھالا تھاکہ لوگ پیرزادہ سمجھ کر میرے ہاتھ پاؤں کو چومتے تھے،ہاتھ باندھ کر کھڑے رہتے تھے،خاندانی پیشوالی ومشیخیت کی اس حالت میں نوعمر طبیعتوں کے لیے بڑی آزمائش ہوتی ہے۔۔۔۔لیکن جہاں تک اپنی حالت کا جائزہ لے سکتا ہوں،مجھے کہنے میں تامل نہیں کہ میری طبیعت کی قدرتی افتاد مجھے بالکل دوسری طرف لے جارہی تھی‘‘۔(۳۸)
مولانا آزاد اورخدمت خلق:
اللہ نے علوم وفنون میں مہارت کے ساتھ روشن دماغ اوراجتہادی شان سے سرفراز کیا تھا،تقریر وبیان میں بلاکی سھر انگیزی اورطوفان برپا کرنے کی قوت تھی،لکھنے کا اچھا اورشگفتہ ذوق تھا،آپ نے ان نعمتوں کو دین وملت کی آبیاری کے لیے استعمال کیا،تقریر کی للکارسے ہندوستان کا کونہ کونہ گونج اٹھا،انداز شیریں بھی،تندوتیز بھی،دریا کی روانئی وشمشیر کی تابانی بھی،انداز وترتیب بھی تو اصلاح وترغیب بھی،قلم کا زور بیان اس سے بھی کہیں دوبالا، سفروحضر،آباد دنیا ہو یا جیل کی نامانوس فضا ہر وقت قلم کی جنبش جاری اورہمہ وقت ماضی پر نگاہ،حال کی فکر اورمستقبل کا کوئی نہ کوئی پروگرام طے ہوتا ہوا نطر آتا،ماضی وحال کے واقعات سے بے چین ضرور تھے،مگر مستقبل سے مایوس بھی ہ تھے اورنہ کسی کو مایوس ہوتا دیکھنا پسند فرماتے تھے،ایک اقتباس سے اندازہ کیجئے:
’’بڑوں بروں کا عذریہ ہوتا ہے کہ وقت ساتھ نہیں دیتا اورسروسامان واسباب کار فراہم نہیں؛لیکن وقت کا عازم وفاتح اٹھتا ہے اورکہتا ہے کہ اگر وقت ساتھ نہیں دیتا ہے تو میں اس کو ساتھ لوں گا،اگر سروسامان نہیں تو اپنے ہاتھوں سے تیار کرلوں گا،اگر زمین موافق نہیں تو آسمان کو اترنا چاہیے،اگر آدمی نہیں ملتے تو فرشتوں کو ساتھ دینا چاہیے، اگر انسانوں کی زبانیں گونگی ہوگئی ہیں تو پتھروں کو چیخنا چاہیے،اگر ساتھ چلنے والے نہیں توکیا مضائقہ، درختوں کو دوڑنا چاہیے،دشمن بے شمار ہیں تو آسمان کی بجلیوں کی بھی کوئی گنتی نہیں،اگر رکاوٹیں اورمشکلیں بہت ہیں تو پہاڑوں اورطوفانوں کو کیا ہوگیا،راہ صاف نہیں کرتے،وہ زمانہ کا مخلوق نہیں ہوتا کہ زمانہ اس سے اپنی چاکری کرائے،وہ وقت کا خالق اورعہد کا پالنے والا ہوتا ہے،وہ زمانہ کے حکموں پر نہیں چلتا؛بلکہ زمانہ آتا ہے؛تاکہ اس کی جنبش لب کا انتظار کرے،وہ دنیا پر اس لیے نظر نہیں ڈالتا کہ کیا کیا ہے،جس سے دامن بھرلوں،وہ یہ دیکھنے کے لیے آتا ہے کیا کیا نہیں ہے،جس کو پورا کروں‘‘۔(۳۹)
آپ کی انشاپردازی وادب نوازی ،نیز علمی وسیاسی خدمات پربہت کچھ لکھا جاچکا ہے اورلکھا جاتا رہے گا،یہاں تو صرف اتنا جتانا مقصود ہے کہ امام الہند اورمفکر اسلام دونوں میں ایک ہی جذبہ،ایک ہی فکر،ایک ہی خیال اور خدمت خلق ومحبت وطن کے لیے ایک ہی قسم کا پیمانہ وپروگرام ہے؛اس لیے مختلف محاذ پر اورتحریک آزادی کے مختلف پلیٹ فارم پر دونوں یکجا بھی نطر آتے ہیں،مولانا آزاد کا کانگریس سے کتنا کچھ تعلق تھا،وہ محتاج بیان نہیں، لیلائے آزادی کے حصول کے بعد ملک کے پہلے وزیر تعلیم کانگریس کی طرف سے آپ ہی ہوتے ہیں،نیز آزادی سے پہلے تقریبا سات سال کانگریس کے صدر بھی رہے،حضرت مفکر اسلام کا رشتہ بھی کانگریس سے مضبوط وپرانا رہاہے،اشتراک عمل کے وہ بھی قائل تھے؛مگر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کو بھی دماغ میں بسائے رکھتے، مولانا آزاد ابتدا سے ہی جمعیت کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر بھی رہے اورآخر تک اس کے کار کو آگے بڑھانے میں سرگرمی دکھاتے رہے،ملک کی آزادی کے بعد مسلمانوں میں عجیب وغریب قسم کا خوف طاری ہوا اورملک سے بھاگنے کو سب سے زیادہ غنیمت تصور کیا جانے لگا،اس موقع پر جمعیت نے قائدانہ رول ادا کیا تھا،مولانا آزاد کی دل سوز آواز اورروک تھام کی اندوہ گیں پگار بھی اس طرح سنائی دیتی تھی:
’’یہ فرار کی زندگی جو تم نے ہجرت کے مقدس نام پر اختیار کی ہے،اس پر بھی غور کرو،تمہیں محصوس ہوگا کہ یہ فیصلہ کتنے عاجلانہ ہیں،آخر کہاں جارہے ہو اورکیوں جارہے ہو،یہ مسجد کے مینار تم سے جھک کر سوال کرتے ہیں کہ تم نے اپنی تاریخ کے صفحات کو کہاں گم کردیا ہے،ابھی کل کی بات ہے کہ یہیں جمنا کے کنارے تمہارے قافلوں نے وضو کیا تھا اورآج تم ہوکہ تمہیں یہاں رہتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے،حالانکہ دہلی تمہارے خون سے سینچی ہوئی ہے۔
عزیزو!اپنے اندر بنیادی تبدیلی پیدا کرو،جس طرح آج سے کچھ عرصہ پہلے تمہارا جوش خروش بیجا تھا،اسی طرح آج تمہاری خوف وہراس بیجا ہے،بزدلی اورمسلمان ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے،سچے مسلمان کو نہ کوئی طمع ہوسکتی ہے،نہ کوئی خوف ہلا سکتا ہے‘‘۔(۴۰)
یہ تقریر ۲۴؍اکتوبر ۱۹۴۷ء ؁ کو جامع مسجد دہلی میں ہوئی تھی،مولانا آزاد کانگریس سے منسلک ضرورتھے،مگر آمنا وصدقنا کے قائل نہیں تھے،اکابر کی روح ان میں رہ رہ کر پھڑکتی تھی،جب بھی کوئی فیصلہ ونظریہ مسلم مفادات سے ٹکراتا نظر آتا،برملا اپنی بے زاری کا اظہار اکابر جمعیت کی طرح کردیا کرتے تھے،تقسیم ہند کی بابت آپ نے کبھی بھی لچک دار رویہ اختیار نہیں کیا،۱۴؍جون ۱۹۴۷ء کی کانگریس کی اہم میٹنگ سے متعلق لکھتے ہیں:
’’میں اس کمیٹی کے بہت سے جلسوں میں شرکت کرچکا ہوں،مگر اب تک ایسے عجیب وغریب جلسہ میں شرکت کی نوبت نہیں آئی تھی،وہی کانگریس جس نے ہمیشہ ملک کی آزادی اوراتحاد کے لیے جان کھپائی تھی،اب ملک کی تقسیم کے بارے میں خود ایک تجویز پر غور کرنے جارہی ہے۔۔۔۔کانگریس اپنے آپ کو اس طرح گراکر ہتھیار ڈال دے،میرے لیے یہ ناقابل برداشت تھا،میں اپنی تقریر میں صاف صاف کہہ دیا کہ ورگنگ کمیٹی کا فیصلہ واقعات کے ایک بہت افسوس ناک سلسلہ کا نتیجہ ہے،ہندوستان کی تقسیم کا ہوجانا ایک جانکاہ حادثہ ہے‘‘۔ (۴۱)
مسلمانوں کی دینی وملی اجتماعیت کو باقی رکھنے کے لیے حضرت مولانا اابوالمحاسن محمد سجاد صاحب علیہ الرحمہ نے امارت شرعیہ کا جو پروگرام مرتب کیا تھا،چوں کہ حضرت مفکر اسلام جمعیت کی بھی ذمہ داری نبھارہے تھے،اس لیے ان کی دلی خواہ تھی کہ اس نظام کو ملکی سطح پر پر شروع کیا جائے،مگر بعض اسباب کی بناپر اس وقت ایسا نہیں ہوسکا تو صوبائی سطح پر ہی اس کو قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا،چنانچہ ۱۹؍شوال ۱۳۳۹ھ مطابق ۲۶؍جون ۱۹۲۱ء کو امارت شرعیہ کے نام سے اس اجتماعی نظام کی تاسیس پٹنہ میں عمل میں آئی،اس جلسہ کی صدارت مولانا آزاد نے ہی کی تھی،اسی میں حضرت شاہ بدرالدین قادری سجادہ نشیں خانقاہ مجیبیہ کو امیر منتخب کیا گیااورحضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ کو نائب امیر بنایا گیا۔(۴۲)
یہ ان دونوں بزرگوں میں ذہنی ہم آہنگی کی دلیل ہے،مولانا آزاد جب تک زندہ رہے،اپنی مصروفیات کے باوجود ہمیشہ امارت سے چل چسپی لیتے رہے،۲۲؍فروری ۱۹۵۸ کو آسمان علم وسیاست کا یہ آفتاب بھی غروب ہوکر جامع مسجد دہلی کے سامنے روپوش ہوگیا۔
مرد درویش حضرت شاہ محمد قاسم فردوسی سملوی:
ایک گمنام مجاہد،باکمال شیخ طریقت حضرت شاہ محمد قاسم فردوسی قافلہ سجاد کے رکن رکین اوردم ساز ومحرم راز ہیں، ضلع اورنگ آباد می سملہ نامی چھوٹی سی بستی کے خانوادہ عثمانی کے چشم وچراغ میں اڑتیسویں پشت میں خلیفۂ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے سلسلۂ نسب ملتا ہے،ہردور میں یہ خاندان قافلہ رشدوہدایت کا سپہ سالار رہا ہے، حضرت شاہ محمد قاسم عثمانی فردوسی کی ولادت ۹؍صفر ۱۳۰۷ھ بمقام سملہ ہوئی،تصوف کے پُرکیف ماحول، خانقاہ کی پُرلطف فضا اورذکر وشغل،تسبیح وتلاوت کی گونج میں آنکھیں کھولی،ابتدائی ردو نوشت وخواند ،نیز قرآن مجید وفارسی کی تعلیم گھریلوں ماحول میں ہوئی،پھر انگریزی تعلیم کے لیے گیا کے مشہور تعلیمی ادارہ’’ہری داس سیمزی اسکول جو ٹاؤن اسکول گیا سے معروف تھاداخل کرائے گئے،بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونویرسٹی میں داخل ہوکر میٹرک پاس کیا، تعلیم کے درمیان ہی تحریک خلافت اورتحریک ترک موالات شروع ہوئیں تو آپ تعلیم کو ترک کرکے ان تحریکوں میں حصہ لینے لگے،عملا تحریکوں سے وابستہ ہونے سے حوصلہ میں اضافہ ہوتا چلا گیا،علماسے قرب بھی حاصل ہوا، انگریزی جانتے تھے،اردو کے نوک وپلک کو درست کرچکے تھے،اس لیے علما کو بھی ان کی ضرورت محسوس ہوئی، مختلف مجلات واخبارات سے رابطے بھی قوی ہوا،کلکتہ سے مولانا ابوالکلام آزاد کی ادارت میں ہلال طلوع ہوا تو آپ مترجم کی حیثیت سے شامل ہوئے،علامہ سید سلیمان ندوی،مولانا عبدالسلام ندوی جیسے انشاپرداز اور درددل رکھنے والے حضرات اس کی ادارت میں شریک تھے،اس لیے علمی وادبی ذوق میں انقلاب آیا،مولانا آزاد کی تحریک حزب اللہ سے بھی وابستہ رہے،اس لیے علمی وادبیذوق میں انقلاب آیا،مولانا آزاد کی تحریک حزب اللہ سے بھی وابستہ رہے،اس لیے جب مولانا آزاد کو رانچی میں نظ بند کیا گیا،آپ بھی رانچی منتقل ہوئے،وہاں اس زمانہ میں مدرسہ اسلامیہ کے نام سے ادارہ شروع ہواتو آپ اس مدرسہ میں مدرس اول کی حیثیت سے مقرر کئے گئے۔
آپ نے روحانی تعلیم وتربیت کے لیے پھلواری شریف کی خانقاہ مجیبہ کا بھی رخ کیا،اسی زمانے میں خانقاہ سے معارف کے نام سے ماہنامہ بھی نکلتا تھا،آپ اس کے مدیر رہے،ماہنامہ سے التحاق اورخانقاہ میں قیام نے دینی بصیرت کو اوربھی جلا بخشا،علمی معلومات اورعملی اسپرٹ میں خانقاہی ماحول میں خوب ترقی ہوئی،اسکولوں اور کالجوں کا ان کی زندگی پر مطلقا اثر نہیں تھا،دیکھنے والا اوران سے بات کرنے والا ہرگز یہ محسوس نہیں کرپاتا کہ وہ عالم نہیں ہے۔
بیعت وارشاد کا تعلق اپنے جد امجد مولانا شاہ احمد کبیر ابوالحسن شہید رحمۃاللہ علیہ سے بھی تھا،جومخدوم شیخ شرف الدین یحی منیزی کے سلسلۂ فردوسیہ میں کامل اورصاحب نسبت بزرگ تھے،انہوں نے ہی بیعت طریقت کے ساتھ بیعت جہاد بھی لینا شروع کیا،حضرت شاہ محمد قاسم اسی نسبت سے فردوسی کہلاتے ہیں اورانہوں نے بھی جد امجد سے طریقت کی بیعت کے ساتھ بیعت جہاد بھی کیا،حضرت شاہ محمد قاسم فردوسی کی زندگی سراپا عشق نبوی، اخلاص وللٰہیت اوراتباع سنت سے عبارت تھی،آپ کے نایاب کچھ خطوط کا مجموعہ بھی نقش دوام کے نام سے بعض مجلات میں دیکھنے کا اتفاق ہوا،ان سے خود اعتمادی،شریعت پر مرمٹنے کاجذبہ،اللہ پر یقین،رسوم وبدعات سے بیزاری جیسی تعلیمات عیاں ہوتی ہیں،اس کے مقدمے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک حصہ سیاست وحکومت سے بھی متعلق ہے،یہ تمام خطوط وہ ہیں جو انہوں ے اپنے متوسلین ومعتقدین اورراہ تصوف کے سالکین کو مختلف اوقات میں لکھا ہے۔
۱۹۱۲ء سے لے کر ۱۹۴۲ء تک کی جنگ آزادی کی جملہ تحریکات میں حصہ لتے رہے،تحریک ریشمی رومال میں بھی آپ کا اہم رول تھا،حضرت مولانا عبیداللہ سندھی سے اچھے اورذاتی مراسم تھے،مولانا سندھی کے ہندوستان سے فراء وغیرہ میں آپ کا کردار بہت اہم تھا۔(۴۳)
امارت شرعیہ کی تاسیس میں کلیدی کردار:
حضرت شاہ محمد قاسم علیہ الرحمہ خانقاہ مجیبیہ کے تربیت یافتہ اورایک عظیم خانقاہ کے چشم وچراغ؛بلکہ قائد وروح رواں تھے،امارت شرعیہ دراصل علما وخانقاہ کے مشائخ کی مشترکہ جدوجہد کانتیجہ ہے،اس کی داغ بیل حضرت مولانا ابوالمحاسن کے ہاتھوں ڈالی گئی،نیز ان کی بے پناہ کوششوں کا عکس جمیل بھی ہے؛لیکن پانچ سو بڑے بڑے علما ومشائخ کی تائید حاصل رہی،پہلی مجلس استقبالیہ کے صدر خانقاہ عمادیہ منگل تالاب پٹنہ کے سجادہ نشیں حضرت مولانا سید شاہ حبیب الحق رحمۃاللہ علیہ تھے تو پہلے امیر شریعت خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف کے روحانی پیشوا حضرت شاہ بدرالدین قادری علیہ الرحمہ تھے؛مگر حضرت قاضی احمد حسین اورحضرت شاہ محمد قاسم کی ذات برکات بنیاد عناصر اوربنیاد کے پتھر کی حیثیت رکھتے تھے،ان سہ رکنی(حضرت مولانا سجاد،حضرت قاضی احمد حسین،حضرت شاہ محمد قاسم)کاروان نے ہی خاکہ ونقشہ تیار کیا تھا،پھر حضرت شاہ محمد قاسم صاحب زندگی بھر اس سے وابستہ رہ کر خدت کرتے رہے،مگر خاندانی جذبۂ خود فراموشی نے خاک شو گم نام شو،واقعتا ان کو گمنام ہی کردیا۔
وفات: کارسازعالم کی طرف سے بہت طویل عمر نہیں ملی تھی،۵۹؍سال کی عمر میں اس مجاہد جلیل پر لقوہ کا دورہ پڑا،فالج کا اثر چہرہ وحلق پر تھا،جس کی وجہ سے چھ ماہ تک غذا سے محروم رہے،ڈاکٹروں نے علاج ومعالجہ کی ہرممکن کوشش کی،مگر تمام کوششیں تقدیر کے سامنے ناکام ہوگئیں،مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی،ہندوستانی افق پر آزادی کا سورج طلوع ہونے میں چند روز باقی تھے کہ ۱۹؍جولائی ۱۹۴۷ ؁ء کو اپنے آبائی گاؤں سملہ میں انتقال کرگئے، خاندانی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
سحبان الہند حضرت مولانااحمد سعید دہلوی:
خوش بیان مقرر،مفسر قرآن،مناظر اسلام،تحریک آزادی کے چوٹی کے رہنما،جمعیۃ علماء ہند سے کم وبیش ۴۰؍سال تک وابستہ رہ کر بے لوث خدمت انجام والے خادم کانام احمد سعید بن حافظ نواب بن خواجہ نواب علی تھا،خاص وعام حلقے میں سحبان الہند سے جانے پہچانے جاتے تھے،آپ کے دادامحترم مشہور صوفی اور خدا رسیدہ بزرگ تھے،متوسط گھرانہ سے تعلق رکھتے تھے۔
پیدائش وتعلیم:
سحبان الہند علیہ الرحمہ ۱۳۰۶ھ ؁ مطابق ۱۸۸۸ ؁ء کو دلی کے مشہور محلہ دریا گنج کوچہ ناہر خاں میں پیدا ہوئے،ساری تعلیم دلی کے مختلف مدرسوں میں ہوئی؛اس لیے آپ دلی کی ٹکسامی زبان میں تقریرکیا کرتے تھے،نیز تقریر میں دریا کی روانی پائی جاتی تھی،اس لیے سحبان الہند سے مشہور ومعروف ہوئے۔
اولاً مولوی عبدالحمید مصطفی آبادی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی،عربی کی ابتدائی تعلیم قاری یٰسین سکندرآبادی رائے پوری سے حاصل کی،حفظ وقرآن کی تکمیل بزرگوں کی دانش کدہ مدرسہ حسینیہ میں ہوئی۔۱۳۲۸ھ میں مدرسہ امینیہ میں داخل ہوکر حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب ودیگر مشائخ سے تکمیل علوم وفنون کی،۱۳۳۶ھ میں فارغ ہوئے اورعرصہ تک مدرسہ امینیہ میں پڑھاتے رہے۔(۴۴)
زیادہ شغف آپ کو تفسیر قرآن سے رہا،چھوٹی بری تقریبا بیس کتابیں آپ کے قلم سے منظر عام پر آئیں،تسہیل القرآن ،پردہ کی باتیں،رسول کی باتیں،جنت کی کنجی،دوزخ کا کھٹکا،پہلی تقریر سیرت،دوسری تقریر سیرت، مواعظ حسنہ،مضامین احمد سعید وغیرہ آپ کی گراں قدر تصانیف میں شمار ہوتی ہیں۔
سیاست میں حصہ اورحضرت مولانا ابوالمحاسن سے رفاقت کی مختصر سرگزشت:
۱۹۱۹ء میں جمعیت کاقیام ہوا،اس کے سب سے پہلے ناظم منتخب ہوئے،بیس برس فعال ناظم رہے،اس کے بعد ۱۷؍سال نائب صدر اوردو سال صدر کے عہدے پر فائز رہے،سیاسی خدمات کی ابتدا ۱۹۱۹ء ؁ سے ہی ہوتی ہے، جتنی تحریکیں چلائی گئیں،سب میں حضرت سحبان الہند کسی نہ کسی طرح شریک رہے،اس کی پاداش میں ۸؍مرتبہ جیل کی صعوبتوں سے بھی دوچار ہونا پڑا،سب سے پہلی مرتبہ اکتوبر ۱۹۲۱ء ؁ میں گرفتاری ہوئی اورآخری مرتبہ ۱۹۴۲ء ؁ میں تین سالوں کے لیے مختلف جیلوں میں رہنا پڑا،آزادئ کامل کا نعرہ جمعیت کی طرف سے کانگریس کے نعرے سے پانچ سال پیشتر ہی لگایا گیا،ظاہر ہے تنظیم سے وابستہ علما ودانشوران خاص طورپر صدروناظم کی تائید حمایت کے بغیر کسی قرارداد کا منظور ہونا ممکن نہیں؛اس لیے سہ روزہ الجمعیۃ۱۹۳۰ء کی فائلوں میں نمک ستیہ گرہ میں حصہ لینے والے بزرگوں میں دوسرے نمبر پر آپ کا ہی نام ثبت ہے،تحریک سول نافرمانی ۱۹۳۱ء۔۱۹۳۲ء میں حکومت آپ سے اتنی خائف ہوئی کہ بھنک لگتے ہی آپ کو اورمولانا حبیب الرحمن کو گرفتار کرلیا،آپ کے جذبات وخیالات خواہ خدمت خلق سے متعلق ہوں،یا تحریکات آزادی سے متعلق،وہی تھے جو حضرت مفکر اسلام مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ جیسے ابتدائی خاکہ ساز لوگوں کے تھے؛بلکہ حضرت سحبان الہند ہر مشن میں حضرت مفکر اسلام کو روحانی باپ ومربی کا درجہ دیا کرتے تھے،حضرت مولانا ابوالمحاسن کا رویہ بھی اپنے اس رفیق کار کے ساتھ فرزند جیساہی تھا،بہار کے ۱۹۳۴ء کے بھیانک زلزلہ میں ایک ماہ کا دورہ بھی حضرت مفکر اسلام کی رفاقت میں کیا،جس کی وجہ سے بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔(۴۵)
حضرت مفکر اسلام کی ہر فکر کو سینے سے لگاتے بھی تھے اورخوب سراہتے بھی تھے،آزادی کی جدوجہد میں ہندو مسلم دونوں قوموں کے اشتراک کے بابت حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد کا نظریہ لکھتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’نظام حکومت کی تخریب جب ہی ہوسکتی ہے،جب دونوں قومیں مل کر اس کام کو کریں اوردونوں قوموں پر پورا پورا اشتراک عمل ہو،یہ رائے انہوں نے بہت سوچ سمجھ کر قائم کیا تھا‘‘۔(۴۶)
وفات وتدفین: جمعیت کا جان باز سپاہی اورمفکر اسلام کا مخلص رفیق چالیس سالہ بھاگ دوڑ کے بعد اپنی آخری منزل پر پہنچ گیا،۴؍دسمبر ۱۹۵۹ء ؁ مطابق ۳؍جمادی الثانیہ ۱۳۷۹ ؁ھ بعد نماز مغرب حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہوگیا،درگاہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے جوار میں مہرولی میں اپنے استاد محترم مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ صاحب کے پہلو میں آرام فرماہوا۔(انا للہ وانا الیہ راجعون)
قاضی سید احمد حسین:
گیا(موجودہ نوادہ)بہار کے ایک گاؤں’’کونی ہر‘‘میں قاضی عبداللطیف صاحب کے گھر ۱۸۸۸ ؁ء میں ان کے لخت جگر قاضی سید احمد حسین پیدا ہوئے،پشتہا پشت سے محکمۂ قضا اس خاندان کو سپرد تھا؛اس لیے’’قاضی‘‘ان کے نام کا جز بن گیا،خاندان سادات سے تعلق تھا،نانیہال سملہ ضلع اورنگ آباد کے عثمانی خاندان میں تھا،جو رشدوہدایت،احسان وتصوف میں مشہور ومعروف تھا،دادیہال زمین دار وخوش حال تھا تو نانیہال شب زندہ دار کا آئینہ شفاف تھا،نانیہالی بزرگوں سے روحانی تعلیم پائی،اس طرح طبیعت ومزاج میں سلطانی کے ساتھ درویشی کا دل نشیں امتزاج ہوگیا،جناب طیب عثمانی لکھتے ہیں:
’’ان کو دن میں دینی وملی اورسیاسی واجتماعی سرگرمیوں میں مشغول پایا تو راتوں کو اخیر شب میں تہجد گزاری، ذکر واشتغال،اپنے خدا کے حضور روتے گڑگراتے اور آہ وبکا کرتے دیکھا،ایسی جامع شخصیت کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے‘‘۔(۴۷)
جب آپ کی عمر ۱۴؍سال ہوئی تو والد وفات پاگئے،البتہ اس وقت حفظ قرآن سے فارغ ہوچکے تھے،پھر باضابطہ تعلیم تو حاصل نہ کرسکے،مگر علما کی صحبت بالخصوص مفکر اسلام مولانا ابوالمحاسن کی رفاقت نے آپ کو کافی معلومات فراہم کیا،پھر اسی رفاقت کا اثر تھاکہ ۱۹۰۶ء ؁ جو عین شباب کا زمانہ تھا،سیاست سے دل چسپی لینے لگے، خلافت کمیٹی جس کے در پردہ روح رواں حضرت مفکر اسلام مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد تھے،اس کے سرگرم رکن قاضی صاحب تھے،حتی کہ اس کی سرگرمی میں گرفتار ہوکر چھ ماہ تک پابند سلاسل بھی رہے۔
آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے بھی ۱۹۲۶ء ؁ میں رکن منتخب ہوئے اور۱۹۳۰ء ؁ تک فعال ممبر رہے اورہمیشہ بقول ان کے ’’تعمیر کی پہلی اینٹ‘‘ہوئے،جس پر پوری عمارت کھڑی ہوئی؛مگر کسی کو نظر نہیں آئی،قاضی صاحب کا مولانا ابوالکلام آزاد سے بھی گہرا ربط تھا،الہلال نکالنے کے لیے صرف دباؤ والا مشورہ ہی نہیں دیا تھا؛بلکہ بطور چندہ دس ہزار روپے کا تعاون بھی پیش کیا تھا،سیاسی لیڈران بالخصوص مہاتما گاندھی اورراجندر پرساد جیسے دانشوروں سے اچھے مراسم تھے،مذہبی وملی کاموں میں عشق کی حد تک دل چسپی رکھتے تھے،نیز جو کچھ بھی خدمت کرتے انتہائی خلوص سے کرتے،کود غرضی کا شائبہ تک نہیں ہوتا،ملک کے لیڈروں کو بھی اس کا اعتراف تھا،گاندھی جی نے ۲۲؍دسمبر ۱۹۲۱ء ؁ کو اپنے اخبار’’ینگ انڈیا‘‘میں لکھا:
’’کرشن پرساد،راج رنگ دت،رانا شنگر،قاضی احمد حسین گیا کے یہ سب رہنما شخصیتیں ڈیڑھ سو رضاکاروں کے ساتھ گرفتار کرلی گئیں ہیں،بہار کی زمین غم والم بن گئی ہے،یہ حضرات ہندوستان کے سب سے زیادہ بے غرض کارکن ہیں،جو خاموشی سے کام کرتے ہیں اوربغیر ریا اورنمائش کے‘‘۔(۴۸)
امارت شرعیہ اورجمعیۃ علماء ہند کے قیام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،امارت شرعیہ کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ رہ کر دور ونزدیک دیہاتوں اورگاؤں کا اصلاحی وتبلیغی دورہ کیا،قاضی صاحب اورمولانا ابوالمحاسن میں ذرہ برابر دوری محسوس نہیں ہوتی تھی،ایک کی ذمہ داری دوسرا بحسن وخوبی انجام دیتا تھا،بالخصوص امارت شرعیہ کی تنظیم وتنسیق میں دوجان ایک قالب جانے جاتے،اسی وجہ سے ان کو گیا سے پھلواری شریف منتقل ہونا پڑا کہ جب مولانا ابوالمحاسن دفتر میں نہ ہوں تو کارکنان کو قاضی صاحب کے مشورے کی ضرورت ہوگی،نیز آپ مشورہ دے کر نگرانی فرماتے بھی رہے،اپنی نگرانی میں بیت المال کو منظم کیا،حساب وکتاب باضابطہ انتظام کیا؛لیکن ناگاہ اہلیہ کی وفات ہوگئی تو گیا منتقل ہونا پڑا،بالآخر وہیں ۲۹؍جولائی ۱۹۶۱ء ؁ کو ہارڈ اٹیک ہوا اورہمیشہ کے لیے ملت کا غم خوار وغم گسار اورسماج کا بے لوث خادم وکارکن آبگلہ قبرستان گیا میں ابدی نیند سوگیا۔(۴۹)
نقیب کے ایک مضمون نگار نے بہت صحیح لکھا ہے:
’’وہ ایک ایسے مرد مومن تھے،جن کے دنوں کی تپش اورشبوں کے گداز کو ان آنکھوں نے تقریبا دوسال شب وروز،خلوت وجلوت میں ساتھ رہ کر دیکھا اوران کی حکمت ودانائی ،روحانی واخلاقی وفکر وعمل سے فیض یاب ہوا، ان کی پوری زندگی جنگ آزادی کی جدوجہد،ملک وملت کی خدمت گزاری اوردعوت دین میں گزری‘‘۔ (۵۰)
مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی:
ضلع بجنور کے سیوہارہ گاؤں کے صدیقی اورخوش حال خاندان میں ۱۳۱۸ھ ؁ مطابق ۱۹۰۱ء ؁ کو پیدا ہوئے،آپ کا اسم گرامی تو معزالدین تھا؛مگر تاریخی نام حفظ الرحمن رکھا گیا،والد بزرگوار کانام مولوی شمس الدین تھا،وہ بھوپال اورپھر بیکانیر کی ریاستوں میں اسسٹنٹ انجینئر تھے،ان کی کئی اولادیں تھیں،سب کی اعلیٰ تعلیم علی گرھ مسلم یونیورسٹی سے ہوئی تھی،صرف مولانا حفظ الرحمن کو ان کی والدہ کی خواہش پر دینی تعلیم دلانے کا فیصلہ کیا گیا،زیادہ تر تعلیمی مراحل سیوہارہ کے مدرسہ فیض عام میں طے ہوئے،کچھ کتابیں شاہی مرادآباد میں بھی پڑھیں،۱۳۴۱ھ ؁ کو دارالعلوم میں داخل کئے گئے اور۱۳۴۲ھ ؁ میں حضرت علامہ کشمیری سے دورہ پرح کر فارغ ہوئے،مختلف مقامات پر درس وتدریس کا مشغلہ اپنے اساتذہ کے مشورہ سے جاری رکھا،دارالعلوم دیوبند،جامعہ اسلامیہ ڈھابیل،پرتاپیٹ چنئی تمل ناڈو درس وتدریس کے لیے مرکز توجہ رہے ہیں،دارالعلوم میں داخل ہونے سے قبل ہی آپ سیاسی میدان میں قدم رکھ چکے تھے،۱۹۱۹ء وہ سال ہے،جس میں جمعیۃ کا قیام عمل میں آیا،اسی سال کانگریس نے ستیہ گرہ کا آغاز کیا اور جلیانوالہ باغ کا حادثہ فاجعہ اسی سال پیش آیا،چنانچہ آپ کو سیاست میں حصہ لینا پڑا اور۱۹۲۲ء ؁ میں گرفتار بھی ہونا پڑا،رہائی پر آپ نے تعلیم کی تکمیل کی،فراغت کے بعد کچھ عرصہ تک تو روایتی درس وتدریس سے وابستہ ضرور رہے؛مگر ملک کے حالات نے آپ کو سیاسی اکھاڑے میں کھینچ ہی لیا،پھر قوم کے لیے جو کچھ بن پایا،کرتے رہے، مختلف سماجی وسیاسی تنظیموں سے وابستہ رہ کر ملک کے پراگندہ ماحول کو پاکیزہ بناتے رہے اورمنتشر گیسو کو سنوارتے رہے،آخری بیس سال کا دور یعنی ۱۹۴۲ء ؁ سے لے کر ۱۹۶۲ء ؁ تک مسلسل جمعیۃ کے ناظم کی حیثیت سے کارہائے نمایاں انجام دیتے رہے۔
ندوۃ المصنفین سے وابستگی اورعلمی ذوق کی آبیاری:
۱۹۳۷ء ؁ مطابق ۱۳۵۲ھ ؁ میں تصنیفی وتالیفی ادارہ ندوۃ المصنفین کے نام سے قائم ہواجو حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اوران کے دیرینہ رفیق حضرت مولانا عتیق الرحمن ومولانا سعید احمد اکبرآبادی صاحبان کی کوششوں کا نتیجہ ہے،حقیقت میں حضرت مجاہد ملت صرف اس جے شریک کار ہی نہیں؛بلکہ اصلی معمار بھی ہیں،آپ نے اس کوشش کو عملی جامہ پہناکر ایک ملی ضرورت کی تکمیل فرمائی،متعدد گراں قدر کتابوں کی اشاعت وتصنیف کا سہرا اسی ادارہ کو ہے،خود آپ کے قلم سے قصص القرآن نامی اردو زبان میں پہلی بار ایسی شاہکار کتاب شائع ہوئی،جو اپنے موضوع میں لاثانی ولافانی ہے،اس کی نظیر ومثیل اردو ہی نہیں،عربی میں کم یاب ہے،اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا علی میاں ندوی لکھتے ہیں:
’’وہ ندوۃ المصنفین دہلی کے بانیوں اورمولانا عتیق الرحمن صاحب عثمانی اورمولانا سعید احمد اکبرآبادی کے نہ صرف شریک کار اورندوۃ المصنفین کے ایک معمار تھے؛بلکہ ان دونوں حضرات کو ان سے تقویت اورندوۃ المصنفین کو ان سے اعتبار وعزت حاصل تھی،اس سلسلہ میں ان کی دو تصنیفات ایک تو قصص القرآن،دوسرے اسلام کا اقتصادی نظام خاص طور پر قابل ذکر ہیں،اردو میں ہمارے علم میں قصص القرآن انبیاء علیہم السلام کی سوانح حیات اوران کی دعوت حق کی مستند تاریخ وتفسیر(جو قرآن مجید کے گہرے مطالعہ اورصحف قدیم اورجدید تحقیقات کی مدد سے مرتب کی گئی ہو)اس سے پہلے نہیں دیکھی۔۔۔مولانا نے اردو میں یہ کتاب تصنیف فرماکر ایک بڑی ضرورت کی تکمیل کی اوراسلامیات اورعلوم قرآن کے طالب علموں کے لیے ایک قیمتی ذخیرہ مہیا کردیا،یہ کتاب چار ضخیم جلدوں میں ہے،جلد چہارم حضرت عیسیٰ علیہ السلام اورخاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات وحالات پر مشتمل ہے‘‘۔(۵۱)
آپ کے قلم سے اخلاق اورفلسفۂ اخلاق،سیرت نبوی کا عقلی تصور،اسلام کا اقتصادی نظام جیسی بے نظیر کتابیں شائع ہوئی،تصنیف وتالیف کا ذوق آپ کا ککبھی بھی ماند نہیں پڑا،بعض تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ جیل میں قید تھے،اس وقت بھی تالیف میں مشغول رہے،بلاغ مبین آپ نے جیل میں ہی تصنیف فرمائی ہے،یہ کتاب دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکاتیب وفرامین مقدسہ کا مجموعہ ہے،جس کوتین حصوں میں تقسیم کیا گیاہے:(الف)اصول تبلیغ،(ب)فرامین سید المرسلین،(نتائج وعبر،۲۹۵؍صفحات پر مشتمل ہے،امجد اکیڈمی لاہور سے شائع ہوئی ہے۔
مجاہد ملت سیاسی میدان میں اورحضرت مفکر اسلام کے ساتھ رفاقت:
سیاسی زندگی کا آغاز تو زمانۂ طالب علمی میں ہی ہوگیا تھا،حتی کہ دورۂ حدیث سے فراغت بھی موقوف کرنی پڑی، سزائے قید کے بعد ہی تکمیل کی نوبت آسکی،۱۹۳۰ء ؁ میں جمعیۃ علماء ہند کے جھنڈے تلے آئے،۱۹۳۲ء ؁ میں مجلس عاملہ کے رکن ہوئے،۱۹۴۲ء ؁ سے تا حیات ۱۹۶۲ء ؁ تک اس کے ناظم عمومی کے عہدے پر فائز رہے،تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے،جس کی وجہ سے ۶؍بار جیل جانا پڑا،تحریک ستیہ گرہ کا آغاز ۱۹۳۰ء ؁ میں کیا گیا تھا،اس تحریک میں جن اکابر ملت نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اوربالآخر گرفتار ہوئے،ان میں مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کا نام بھی جلی حرفوں میں آتا ہے۔(۵۲)
سول نافرمانی تحریک میں جمعیۃعلماء ہند نے ۱۹۳۱ء۔۱۹۳۲ء میں شرکت کی،اراکین نے بھرپور حصہ لیا،قریب ۹۰؍ہزار افراد گرفتار ہوئے،جن میں ساڑھے چوالیس ہزار مسلمان تھے۔(۵۳)
اس نافرمانی کا طریقہ یہ تھاکہ ایک ڈکٹیٹر متعین کیا جاتا،وہ اپنی قیادت میں ملکی قانون کی نافرمانی عدم تشدد کے ساتھ کرتا اورگرفتاری دیتا،اس کے سب سے پہلے ڈکٹیٹر حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب تھے،ان کے بعد دوسرے نمبر پر حضرت مجاہد ملت سیوہاروی رحمۃاللہ علیہ تھے۔(۵۴)
روح آزادی پھونکنے کے لیے کانگریس وجمعیۃ نے سول نافرمانی کا فارمولہ اپنایا تھا؛مگر اس پر عمل کرنا اوراس تحریک کو کامیاب بناناآسان نہیں تھا؛اس لیے کہ حکومت کی پالیسی پہلے سے زیادہ سخت تھی،کسی لیڈر کو تحریک میں جانے سے پہلے ہی گرفتارکرلیاجاتا؛اس لیے اس کو خفیہ رکھنے کے لیے بڑی جدوجہدکرنی پری،چنانچہ کانگریس نے جنگی کونسل کے نام سے اورجمعیۃ نے ادارہ حربیہ کے نام سے مستقل نظام قائم کیا،بقول مؤلف ومجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی (ایک سیاسی مطالعہ،ص:۱۳۹)اس کی قیادت مختلف بزرگوں کے ہاتھوں میں رہی؛مگر اصل کلید بردار حضرت مولاناابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ تھے۔
’’مگر وہ ڈکٹیٹر جس کو بہت سے انجکشن دیئے گئے تھے ابوالمحاسن محمد سجادصاحب(نائب امیر شریعت بہار) تھے،ادارۂ حربیہ کے کلید برداریہی حضرات تھے،جمعیۃ علماء ہند کے دفتر سے علاحدہ محلہ بلی ماران کی ایک تاریک گلی میں ایک مکان لیا گیا تھا،حضرت مولانامحمد سجاد رحمۃاللہ علیہ کا قیام اسی مکان میں رہتا تھا،جس کا علم دفتر کے لوگوں میں سے غالبا قاضی اکرام الحق کو تھا۔
جماعت کے جو حضرات اسی ادارہ کی ضرورت سے حضرت موصوف سے ملاقات کرنا چاہتے تھے تو قاضی اکرام الحق ہی ان کے رہبر بنتے تھے،ہمیں یہ عرض کرنا ہے کہ حضرت مولانامحمد سجاد صاحب کو دست راست اورنفس ناطقہ یہی رفیق محترم مجاہد ملت رحمۃاللہ علیہ تھے،جن کو اس نظام کا ناظم اعلیٰ، یا کمانڈر بنایا گیا تھا اوران کا کام یہ تھاکہ ملک میں گھوم پھر کر تحریک کاجائزہ لیں اوراس نظام کو کامیاب بنائیں‘‘۔(۵۵)
تقسیم ہند کے بعد جو ناگفتہ بہ حالات پیدا ہوئے،ان حالات میں عزم وحوصلہ سے کام لیتے ہوئے حضرت مجاہد ملت نے وہ عظیم خدمات انجام دی ہیں،جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں،اس سلسلہ میں تحریک آزادی ہند میں مسلم علما اورعوام کا کردار نامی کتاب سے ایک پیراگراف ملاحظہ ہو:
’’واقعہ یہ ہے کہ اگر عالم اسباب میں دارالحکومت دہلی میں حضرت مجاہد ملت کا وجود باوجود نہ ہوتا تو اس شہر کی مسلم آبادی،اسلامی آثار وشعائراس طرح کھرج دیئے جاتے کہ جن کابعد میں نام ونشان بھی باتی نہیں رہتا، حضرت مجاہد ملتؒ نے مسٹر گاندھی اورجواہر لال نہرو سے مل کر دہلی میں مسلمان پناہ گزینوں کی حفاظت اوراجڑے ہوئے مسلمانوں کی باز آبادکاری کا کام سردار پٹیل جیسے فرقہ پرست وزیر داخلہ کے علی الرغم انجام دیا،قتل وغارت گری کو روکنے کے لیے مسٹر گاندھی نے جومیرن برتھ رکھا تھا،وہ بھی در اصل جمعیۃ کی مخلصانہ جدوجہد کا ایک مظاہرہ تھا،جس نے حکومت کا رخ بدلنے میں نہایت مؤثرکردار اد اکیا،اسی طرح دلی کے اطراف میں میوات کے تقریباً تین لاکھ مسلمانوں کو اپنی جگہ استقامت کے ساتھ جمائے رکھنے میں حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب نے بنیادی کردار ادا کیا ،ورنہ فرقہ پرستوں کا پلان تھاکہ یا تو میواتی مسلمانوں کو ترک وطن پر مجبور کیا جائے یا انہیں مرتد بنالیا جائے،حضرت مجاہد ملت کی کوششوں سے شرپسند اپنے منصوبہ میں کامیاب نہ ہوسکے،اسی طرح بزرگان دین کی درگاہوں:درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چستی،درگاہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی اوردرگاہ سرہند شریف کو واگذار کرانے میں مجاہد ملت نے زبردست جدوجہد فرمائی‘‘۔(۵۶)
حضرت مجاہد ملتے ہندوستان کے آزاد ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے ممبر بھی بنے؛تاکہ حکومتی سطح پر قوم وملت کی خدمت کی جاسکے،یہ ساری خدمت خود غرضی سے پاک وبے لوث تھی،حضرت مولانا برہان الدین سنبھلی صاحب نے ان کو قریب سے دیکھا ہے،ان کا تبصرہ بالکل حقیقت پر مبنی ہے:
’’سب واقف جانتے ہیں کہ مولانا مرحوم آزادی کے بعد بننے والی پہلی پارلیمنٹ کے ممبر بنے،پھر تادم آخر ممبر رہے،مولانا کی زندگی کا آخری الیکشن ۱۹۶۲ء ؁میں ہوا،مولانا اپنی شدید علالت میں مبتلا رہنے کی وجہ سے ایک دن بھی ورک نہیں کرسکے؛لیکن اس کے باوجود الیکشن میں نمایاں طورپر کامیاب ہوئے،یہ کامیابی ایک طرف تو مولانا کی غیر معمولی مقبولیت اوراخلاص کے ساتھ ان کی قومی خدمات کا ثبوت ہے تو دوسری طرف قوم کی بیدار مغزی اورمحسن شناسی کی بھی علامت ہے،اتنی طویل مدت تک پارلیمنٹ کے ممبر رہنے اوربلاشرکت غیرے مدتوں تک مسلمانوں کے عظیم رہنما ہونے کے باوجود مولانااپنا ذاتی مکان دہلی میں نہیں بناسکے اورپرانی دہلی کے محلہ بلی ماران میں جہاں اس وقت جمعیۃ علماء ہند کا صدر دفتر تھا،اس کے قریب ایک متوسط درجہ کے کرایہ کے مکان میں رہتے رہے،جو کسٹوڈین کی تحویل یا ملکیت میں تھا(آزادی کے بعد ہندوستان سے پاکستان منتقل ہوجانے والے مسلمانوں کی جائیداد پر قبضہ اوراس کی نگرانی کرنے کے لیے ایک مستقل کررکھا تھا،پھر ان مکانات کو نیلام کیا گیا اور خریداری کا اولین ھق دار ان کے ساکنوں کو قراردیا گیاتھا)مولانا کے مرض وفات میں اس مکان کی نیلامی کا نوٹس آیا،اتفاق سے جس وقت مولانا کو اس نوٹس کی اطلاع ان کے معتمد حاجی حسام الدین نے دی،راقم الحروف (محمدبرہان الدین)مولانا کے پاس حاضر تھا،مولانا نے یہ اطلاع پاکر جس تاثیر بھرے؛بلکہ درد بھرے لہجے میں اظہار خیال کیا، اسے رقم بھولتا نہیں،مولانا نے فرمایاکہ ہمارے پاس تو اتنے پیسے نہیں کہ یہ مکان خردی سکیں اور ہمارے تو آبائی مکانات جوسیوہارہ میں تھے ڈہ کر ختم ہوگئے اوریہ فرماتے ہوئے ان کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں‘‘۔(۵۷)
بیماری ووفات:
زندگی بھر کی جہد مسلسل نے آپ کے خطرناک ومہلک مرض کینسر میں مبتلا کردیا تھا،ہندوستان کا علاج جب کارگر نہیں تو امریکہ لے جایا گیا،ڈھائی مہینہ علاج کے بعد واپسی ہوئی،مگر یکم ربیع الاول ۱۳۸۲ھ مطابق ۱۲؍اگست ۱۹۶۲ء ؁ کو صبح ساڑھے تین بجے آپ اس دار فانی سے کوچ کرگئے اوردلی کی مشہور قبرستان مہدیان میں ہمیشہ کے لیے آسودہ خواب ہوگئے۔
الحاج محمد شفیع تمنائی پھلواری:
الحاج محمد شفیع کی پیدائش ۱۹۰۲ء ؁میں ہوئی،ایک خوش حال اورکھاتے پیتے گھرانہ سے ہیں،جو جگدیش پور میں آباد تھا،مگر فرنگیوں نے بہت ظلم ڈھایا،سب کچھ لوٹ لیا گیا،بالآخر یہ خاندان جگدیش پور گاؤں سے پھلواری شریف منتقل ہوگیا،انگریزوں کے ظلم وبربریت نے تمنائی صاحب کے دل ودماغ کو بہت متاثر کیا،ابتدا سے ہی ایسی نفرت بلکہ عداوت پیدا ہوگئی جو اخیر تک ختم نہ ہوسکی،بلکہ وقت وحالات نے نفرت وعداوت کی چادر کو اوربھی دبیز کردیا،تمنائی صاحب کو مشہور شاعر تمنا پھلواری کا تلمذبھی حاصل ہے؛اس لیے آپ کو آپ اپنے کو تمنائی کہا کرتے تھے۔
حضرت مولانا سجاد صاحب کی سیاسی پارٹی انڈی پنڈنٹ کی تشکیل کے بعد اپنی تعلیم کو ادھوری چھوڑ کر حریت وآزادی کی جدوجہد میں پورے دم خم کے ساتھ لگ گئے،جب امارت شرعیہ کا قیام ہوا تو تقریبا ۶۰؍برسوں تک پوری ذمہ داری اورانتہائی خلوص کے ساتھ شعبہ دارالقضاء سے منسلک رہے اوراپنی صلاحیت کے مطابق اس کی خدمت کرتے رہے۔
کانگریس کے بھی سرگرم رکن تھے،وضع قطع کانگریسی بناکر رکھتے،بڑے بڑے لیڈروں جیسے مہاتما گاندھی، مولانا آزاد،ڈاکٹر راجندر پرساد وغیرہ سے قریبی مراسم تھے اوران کے ہم مجلس وہم نشیں شمار ہوتے تھے،مولانا سجاد اورجمعیۃ علماء ہند کی طرح تقسیم کے بالکل مخالف تھے،انگریزوں سے نفرت کے تعلق سے فرماتے تھے:
’’ہماری شعوری زندگی ۵۷ء کے نام انقلاب سے بہت متاثر تھی،اس لیے کہ ہمارے دادا جگدیش پور کے ایک کاشتاکر تھے،انقلابی تحریک کی ناکامی کے بعد انگریزوں کے ہولناک مظالم اورقتل وگارت گری سے بچ کر نکل آئے؛ لیکن اس طرح اقتصادی اورمعاشی پستی میں زندگی بسر کی کہ ہم آج بھی کسی سطح پر کھڑے ہوکر اپنے آپ کو روشناس نہیں کراسکتے،کہنا یہ ہے کہ اس حادثہ نے ہمیں انگریزوں کا دشمن بنادیاتھا اورکچھ سمجھ بوجھ ہو،یا نہ ہو؛لیکن اتنی سمجھ ضرور تھی کہ ہمیں انگریزوں سے نفرت نے دل کا رجحان اس طرف موڑدیا،بس جی چاہتا ہے کہ غیروں ہی کے ذریعہ سہی لیکن انگریزی حکومت کا قلع قمع ہوجائے‘‘۔(۵۸)
آپ کی وفات ۲۶؍جنوری ۱۹۸۳ء ہوئی،۲۷؍جنوری ۱۹۸۳ء کو خانقاہ مجیبہ کے قبرستان’’باغ مجیب‘‘ میں دفن کیا گیا۔(انا للہ وانا الیہ راجعون)
مصادر ومراجع
(۱) مقدمہ سیرت مولانا محمد علی مونگیری،ص:۱۷۔۱۹
(۲) حقیقت سجاد،مقدمہ
(۳) محاسن سجاد،ص:۱۲۵
(۴) محاسن سجاد،ص:۱۴۹
(۵) حیات سجاد،ص:۲۱
(۶) حیات سجاد،ص:۲۵
(۷) حیات سجاد،ص:۹۲۔۹۳
(۸) حیات سجاد،ص:۹۶،مضمون حافظ احمد سعید
(۹) حیات سجاد،ص:۷۹،مضمون حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی
(۱۰) تاریخ ندوۃالعلماء جلد اول،مجلہ رفیق پٹنہ،علمائے بہار نمبر،الواقعہ پاکستان،نزھۃالخواطر:۸؍۱۷۰ ودیگر نٹ سائٹس سے ماخوذ
(۱۱) حیات سجاد،ص:۶۸۔۶۹،مرتبہ مولاناانیس الرحمن قاسمی
(۱۲) جمعیۃ علماء ہند پر ایک تاریخی تبصبرہ،مؤلفہ مولانا حفظ الرحمن واصف،امینیہ دہلی،ص:۱۱۵
(۱۳) ماخوذ:تذکرہ آہ،ص:۱۳۱،مصنف:مفتی اختر امام عادل قاسمی
(۱۴) ’’ہندوستان چھوڑو‘‘تحریک کی مختصر سی سرگزشت یہ ہے کہ جنگ عظیم کے موقع پر برطانیہ کو ہندوستان سے امداد کی سخت ضرورت محسوس ہوئی،مگر ہندوستانیوں کے تیور باغیانہ تھے؛بلکہ عدم تعاون کی قسممیں کھائے بیٹھے تھے،برطانیہ اورسفید فاموں کے خلاف غم وغصہ شباب پر تھا،لہذا برطانیہ نے جنگی امداد پر آمادہ کرنے کے لیے ’’سراسٹیفورڈ کرپس‘‘کو خصوصی نمائندہ کے طورپر یہاں بھیجا؛تاکہ ہندوستانی لیڈروں سے گفت وشنید کرکے امداد پر آمادہ کرسکے؛اس لیے اس نے عارضی حکومت کی پیش کش کی،لیکن ہندوستانیوں کو اختیارات منتقل کرنے کی بابت اختتام جنگ کا انتظار کرنے لیے کہا،حالانکہ ہندوستانی لیڈروں کا کہنا تھاکہ اسی جنگ کے دوران اختیارات کی منتقل مکمل ہونی چاہیے؛اس لیے کانگریس سمیت جمعیۃ علماء ہند نے کرپس کے مشن پر پانی پھیردیا اور۱۹۴۲ء میں پوری قوت کے ساتھ ہندوستان چھوڑو مہم کی تحریک چھیڑ دی۔(تاریخ جمعیۃ علماء ہند،ص:۱۰۹)
(۱۵) تاریخ جمعیۃ علماء ہند،ص:۱۱۷
(۱۶) مولانا سجاد،حیات وخدمات،ص:۵۲۰،نقیب:۱۹۵۶ء
(۱۷) تاریخ امارت شرعیہ،ص:۴۴۸
(۱۸) تحریک آزادئ ہند میں مسلم علما اورعوام کا کردار،ص:۱۰۰
(۱۹) حیات سجاد،ص:۸۱
(۲۰) ضمیمہ کفایت المفتی:۱؍۳۵
(۲۱) بیس بڑے مسلمان:۴۲۶
(۲۲) ضمیمہ کفایت المفتی:۱؍۴۰
(۲۳) نقیب:۲۰؍اپریل ۱۹۵۶ء، مولانا سجاد حیات وخدمات،ص:۵۰۰
(۲۴) تحریک آزادی ہند میں مسلم علما اورعوام کا کردار،ص:۹۸۔۹۹،علمائے حق اوران کے مجاہدانہ کارنامے:۲؍۱۲۳
(۲۵) نقیب،پٹنہ:جنوری ۱۹۵۶ء
(۲۶) ٹوٹے ہوئے تارے از شاہ محمد ثانی،ص:۳۳۴
(۲۷) ماخوذ تذکرہ علمائے بہار،مولانا سجاد حیات وخدمات،ص:۴۰۹،نقیب امارت نمبر
(۲۸) ماخوذ:تحریک آزادی ہند میں مسلم علما اورعوام کا کردار،ص:۱۸۴
(۲۹) پرانے چراغ،ص:۱؍۹۸
(۳۰) مکتوبات مولانا حسین احمد مدنی:۱؍۲۱
(۳۱) پرانے چراغ:۱؍۱۰۱
(۳۲) پرانے چراغ:۱؍۱۰۳
(۳۳)پرانے چراغ:۱؍۱۰۴
(۳۴)الجمعیۃ،جمعیۃ علماء نمبر،ص:۱۱۸،بحوالہ تحریک آزادئ ہند میں مسلم علما اور عوام کا کردار، ص:۱۲۷۔۱۲۸
(۳۵) ماخوذ تذکرہ:۲۶۔۳۱
(۳۶) تذکرہ:۳۱۰
(۳۷) ماخوذ: بڑوں کا بچپن،ص:۲۲۱۔۲۲۳،تالیف حضرت مولانا محمد اسلم شیخوپوری
(۳۸) بڑوں کا بچپن،ص:۲۳۷
(۳۹) تذکرہ،ص:۲۴۸،بحوالہ پرانے چراغ:۲؍۶۰
(۴۰) الجمعیۃ،جمعیت علماء نمبر،ص:۱۲۰
(۴۱) تحریک آزادی میں مسلم علما اورعوام کا کردار،ص:۱۲۰
(۴۲) امارت شرعیہ بہار واڑیسہ تاریخ وخدمات کی روشنی میں،ص:۹
(۴۳)آئینہ،۳۰؍مئی ۲۰۱۶ء،مضمون طیب عثمانی ندوی
(۴۴)ماخوذ تحریک آزادی ہند میں مسلم علما اورعوام کا کردار،ص:۲۱۳
(۴۵) مستفاد:حیات سجاد،ص:۹۲۔۹۳،مقالہ نگار:حضرت سحبان الہند
(۴۶) حیات سجاد:۹۶،مضمون:سحبان الہند
(۴۷) نقیب :۴؍اپریل ۲۰۱۵ء،مضمون طیب عثمانی ندوی
(۴۸) نقیب:۴؍اپریل ۲۰۱۵ء،مولانا طیب عثمانی ندوی
(۴۹) مولانا سجاد حیات وخدمات،ص:۵۰۱
(۵۰) نقیب: ۴؍اپریل ۲۰۱۵ء،مولانا طیب عثمانی ندوی
(۵۱) پرانے چراغ:۳؍۹۷،مکتبہ فردوس لکھنؤ
(۵۲) سہ روزہ الجمعیۃ:۱۹۳۰ء بحوالہ تحریک آزادی ہند میں مسلم اورعوام کا کردار،ص:۹۸
(۵۳)کاروان احرار:۱؍۱۰۶
(۵۴)تحریک آزادی ہند میں مسلم علما اورعوام کا کردار،ص:۹۹
(۵۵)مجاہد ملت،ایک سیاسی مطالعہ،ص:۱۳۹
(۵۶) ۱۲۶۔۱۲۷،بعنوان:بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
(۵۷) پرانے چراغ:۳؍۹۵۔۹۶
(۵۸) مولانا سجاد حیات وخدمات،ص:۵۱۶

Facebook Comments

POST A COMMENT.