حکمران ہو تو حضرتِ عمر فاروق جیسا!

Views: 66
Spread the love
Avantgardia

تحریر : فیاض احمد صدیقی انعام وہار سھبا پور دھلی این سی آر :             _________________
حضرت  عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا۔۔۔ جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چکا تھا ساتھ میں حاملہ بیوی تھی تو اس نے مدینے کی حدود کے پاس ہی خیمہ لگا لیا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
بیوی کا وقت قریب تھا تو وہ درد سے کراہنے لگی۔۔۔
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اپنے روز کے گشت پر تھے اور ساتھ میں ایک غلام تھا۔۔۔ جب آپ نے  دیکھا کے دور شہر کی حدود کے پاس آگ جل رہی ہے اور خیمہ لگا ہوا ہے تو آپ نے غلام کو بھیجا کہ پتہ کرو کون ہے۔۔۔؟۔ جب پوچھا تو اس نے ڈانٹ دیا کہ تمہیں کیوں بتاؤں۔۔۔ آپؓ گئے اور پوچھا تو بھی نہیں بتایا۔۔۔
آپ نے کہا کہ! اندر سے کراہنے کی آواز آتی ہے کوئی درد سے چیخ رہا ہے بتاؤ بات کیا ہے۔۔۔؟؟
تو اس نے بتایا کہ میں امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ سے ملنے مدینہ آیا ہوں میں غریب ہوں اور صبح مل کے چلا جاؤں گا۔۔۔ رات زیادہ ہے تو خیمہ لگایا ہے اور صبح ہونے کا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔ بیوی امید سے ہے اور وقت قریب آن پہنچا ہے۔۔۔
تو آپؓ جلدی سے پلٹ کر جانے لگے کہ ٹہھرو میں آتا ہوں،۔۔۔ آپؓ اپنے گھر گئے اور فوراً اپنی زوجہ سے مخاطب ہوئے کہا۔۔۔ اگر تمہیں بہت بڑا اجر مل رہا ہو تو لے لو گی۔۔۔
زوجہ نے کہا، کیوں نہیں۔۔۔
تو آپؓ نے کہا۔۔۔
” چلو میرے دوست کی بیوی حاملہ ہے، وقت قریب ہے۔۔۔ چلو اور جو سامان پکڑنا ہے ساتھ پکڑ لو۔۔۔
آپؓ کی بیوی نے گھی اور دانے پکڑ لئے اور آپؓ کو لکڑیاں پکڑنے کا کہا۔۔۔ آپؓ نے لکڑیاں اپنے اوپر لاد لیں۔۔۔۔سبحان اللہ۔۔۔(یہ کوئی کونسلر، ناظم ، ایم پی اے یا ایم این اے نہیں یہ اس کا ذکر ہو رہا ہے دوستو جو کہ 22 لاکھ مربع میل کا حکمران ہے جس کے قوانین آج بھی چلتے ہیں جو عمر فاروقؓ ہے)۔۔۔۔جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو فوراً کام میں لگ گئے بدو ایسے حکم چلاتا جیسے آپؓ شہر کے کوئی چوکی دار یا غلام ہیں۔۔۔
کبھی پانی مانگتا تو آپؓ دوڑے دوڑے پانی دیتے۔۔۔
کبھی پریشانی میں پوچھتا کہ تیری بیوی کو یہ کام آتا بھی ہے تو آپؓ اُسے باقاعدہ جواب دیتے۔۔۔اُسے کیا پتہ کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ خود ہیں۔۔۔
 جب اندر بچے کی ولادت ہوئی تو آپ کی زوجہ نے آواز لگائی۔۔۔
” یا امیر المومنینؓ، بیٹا ہوا ہے۔۔۔
تو یا امیر المومنین کی سدا سن کر اس بدو کی تو جیسے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور بے اختیار پوچھنے لگا۔۔۔
” کیا آپ ہی عمر قاروق امیر المومنینؓ ہیں۔۔۔؟آپؓ عمر ہیں۔۔۔؟وہی عمر جس کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپے۔۔۔ آپؓ وہی والے عمر ہیں جس کے بارے میں حضرت علی نے کہا کہ۔۔۔آپ کے لئے دعا کرتا ہوں۔۔۔
اور جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگ کر اسلام کے لئے مانگا وہی والے نا۔۔۔؟؟
آپؓ نے فرمایا۔۔۔ ہاں ہاں میں ہی ہوں۔۔۔۔اس نے کہا کہ ایک غریب کی بیوی کے کام کاج میں آپ کی بیوی۔۔۔ خاتون اول لگی ہوئی ہے۔۔۔  اور دھوئیں کے پاس آپ نے اپنی داڑھی لپیٹ لی اور میری خدمت کرتے رہے؟
تو سیدنا عمرؓ رو پڑے۔۔۔ اس بدو کو گلے سے لگایا اور کہا۔۔۔
تجھے پتا نہیں توں کہا آیا ہے۔۔۔؟ یہ مدینہ ہے۔۔۔ میرے آقائے دوجہاں، اور رحمةًالِلعالمین کا مدینہ۔۔۔ یہاں غریبوں کے استقبال ہوتے ہیں۔۔۔ غریبوں کو عزتیں ملتی ہیں۔۔۔ مزدور اور یتیم بھی سر اٹھا کر چلتے ہیں۔۔۔!!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart