حکومت سے کیا مراد ہے؟

ہزرائل ہائی نیس پرنس غازی بن محمد

قسط نمبر 12

بیشک اللہ تم کو فرماتا ہے کہ پہنچادو امانتیں امانت والوں کو اور جب فیصلہ کرنے لگو لوگوں میں تو فیصلہ کرو انصاف سے۔ اللہ اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو۔ بیشک اللہ ہے سننے والا اور دیکھنے والا ۔(النساء 58 : 4 )

عدل کی اہمیت

             باب 10  میں ہم نے اس جانب اشارہ کیا کہ اسلام میں تمام حقوق کی اساس انصاف ہے۔ یہی بنیاد پانچوں مقاصد شریعہ کی بھی ہے۔ انصاف دیگر مذاہب میں بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہے مثال کے طور پر توریت میں یہ حکم آیا ہے : ‘‘تم انصاف کو مسخ مت کرنا، تم تعصب مت برتنا، تم رشوت نہ لینا، انصاف اور صرف انصاف پر عمل درآمد کرنا’’ (Deuteronomy 16:19–20)۔

            یہ اضافہ ضروری ہے کہ تمام انسانوں میں فطری طور پر انصاف کی خواہش پائی جاتی ہے خواہ وہ بچے ہوں یا بوڑھے اور نوجوانوں میں بالخصوص انصاف کی طلب بہت شدید ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ لوگ اپنے تاثر کا اظہار الفاظ میں نہ کرسکیں لیکن جہاں کہیں بھی انصاف ہوتا ہے وہ اسے بخوبی محسوس کرتے ہیں غرضیکہ انصاف ایک آفاقی حق ہے۔ یہ کسی بھی معاشرے کی کارکردگی کے لئے لازمی ہے کیونکہ انسان کی روح پر ثبت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی حکومت یا ادارہ انصاف کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔

            اس کے برخلاف ناانصافی سے بے اطمینانی پیدا ہوتی ہے۔ احتجاج، بغاوت، انقلاب اور خانہ جنگی کی کیفیت منظرعام پر آتی ہے۔ تاریخ عالم اس کی مثالوں سے پُر ہے۔ ناانصافی سے لوگ ناراض ہوتے ہیں اور نفرت کا بازار گرم ہوتا ہے۔ نوجوان مرد و عورت بالخصوص ناانصافی کی بنیاد پر اپنے غصہ کا اظہار کرتے ہیں خواہ یہ ناانصافی واقعتاً ہو یا ان کا یہ تصور ہو، مثال کے طور پر تکفیری جہادیوں کی ایک بڑی تعداد اس وجہ سے انتہا پسند ہوئی کہ ان کو ناانصافی کا یقین ہے۔ یہ ناانصافی جیل میں خراب سلوک یا اپنے کسی رشتہ دار یا دوست کی موت یا اس کے خراب سلوک کے باعث ان کے اندر یہ ناانصافی کا تاثر ابھرا۔ اس کی مزید وضاحت ضمیمے میں کی گئی ہے۔ غرضیکہ ناانصافی سے بڑھ کر خطرناک اور انتشار کا باعث کوئی تصور نہیں۔ اللہ ناانصافی کی ہمیشہ سزا دیتا ہے۔ اگر ناانصافی غیر مسلموں کے ساتھ بھی کی جائے اُس کی بھی وہی سزا ہے۔ نبی اکرمؐ کا فرمان ہے :

‘‘مظلوم کی بددعا سے بچو، خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ مظلوم کی بددعا اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا’’ (احمد)۔

            یہ حدیث اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم بددعا دے اور وہ مظلوم ہو تو اللہ اس کی فریاد سنتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ناانصافی بنیادی طور پر غلط اور ناجائز ہے۔ اللہ ایک حدیث قدسی میں فرماتا ہے:

‘‘اے میرے بندو! میں نے ناانصافی کو اپنے لئے حرام قرار دیا ہے اور اس کو تمہارے لئے بھی حرام قرار دیا ہے لہٰذا ناانصاف مت بنو’’ (مسلم)۔

عدل کی فضیلت

            اللہ قرآن میں فرماتا ہے:

بیشک اللہ تم کو فرماتا ہے کہ پہنچادو امانتیں امانت الوں کو، اور جب فیصلہ کرنے لگو لوگوں میں تو فیصلہ کرو انصاف سے، اللہ اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو، بیشک اللہ ہے سننے والا دیکھنے والا۔(سورہ النساء 58 : 4)۔

            مذکورہ بالا آیت اساسی اہمیت کی حامل ہے اور اس کا مضمون اتنا جامع اور وقیع ہے کہ اس پر مستقل کتابیں تصنیف کی جاسکتی ہیں۔ 2015 ء میں ممتاز ملیشیائی فلسفی سید نقیب التاس نے اسی آیت پر مبنی ایک پوری کتاب تصنیف کی۔ اس آیت کا مطالعہ کرنے سے قبل یہ نکتہ ذہن میں رکھیں کہ یہ وہ آیت ہے جس میں اللہ نے امر کا صیغہ سب لوگوں کے لئے استعمال کیا ہے اور یہ حکم تمام انسانوں کے لئے ہے۔ یہ واحد مقام ہے جہاں اللہ نے اپنی  ہدایت کو ایک نعمت کے طور پر بیان کرکے اس کی تعریف کی ہے اور یہ تعریف انصاف کے حوالے سے ہے۔ مزید برآں، قرآن میں وحی کا تصور بھی عدل اور انصاف سے منسلک ہے۔

ہم نے بھیجے ہیں اپنے رسول نشانیاں دیکر اور اتاری ان کے ساتھ کتاب اور ترازو تاکہ لوگ سیدھے رہیں انصاف پر، اور ہم نے اتارا لوہا، اُس میں سخت لڑائی ہے اور لوگوں کے کام چلتے ہیں اور تاکہ معلوم کرے اللہ کون مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے۔ بیشک اللہ زور آور ہے زبردست۔(سورہ الحدید 25 : 57 )۔

            ان سب سے یہ ظاہر ہے کہ قرآن میں عدل و انصاف کی بہت اہمیت ہے۔ ایک معروف حدیث کے مطابق اللہ کے ننانوے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک عادل ہے۔ غرضیکہ انسانی معاملات میں انصاف سے بڑھ کر کچھ اور نہیں۔

عدل کیا ہے؟

            عدل سے واقعتاً کیا مراد ہے، اس کا بیان ضروری ہے تاکہ کوئی غلط فہمی نہ رہے اور مبینہ ناانصافی کی بنیاد پر مزید ناانصافیوں کا ارتکاب نہ کیا جائے جیسا کہ آج کل عام ہے۔ عدل کے نفاذ اور لوگوں کو اس بارے میں مطمئن کرنے کے لئے یہ عدل کی تعریف پیش کرنا ضروری ہے۔

            عدل کیا ہے اس کے بارے میں بالعموم کوئی متعین قانونی یا فلسفیانہ تعریف موجود نہیں ہے۔ بہر حال عدل سے مراد ایسا رویہ یا سلوک ہے جو  اخلاقی اعتبار سے صحیح اور احسن ہو۔ یہاں پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ صحیح اور احسن سے کیا مراد ہے؟ اخلاقیات کیا ہے؟ عدل کی کلاسیکی تعریف افلاطون سے ماخوذ ہے۔ اس کا دوسرا مآخذ افلاطون کی وہ تشریح ہے جو سسرو نے پیش کی ہے۔ اپنی تصنیف رہپبلک میں سقراط کا کردار یہ کہتا ہے کہ عدل اپنا فرض ادا کرنے اور دوسرے کے معاملات میں دخل نہ دینے کا نام ہے ( 433 الف)۔ سسرو نے اپنی تصنیف دی نیچرا  بیورم، سوم، 15میں عدل کا تصور اور وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق یہ وہ صفت ہے جو ہر شئے کو اس کا حقیقی مقام عطا کرتی ہے۔ قرآن کا حکم واضح ہے کہ جب کوئی شخص فیصلہ کرے تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرے کیونکہ اللہ لوگوں کو ان کے جائز مالکوں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ غرضیکہ قرآن میں پہلے عدل کی تعریف پیش کی گئی ہے اور پھر لوگوں کو حکم دیا ہے کہ اس پر عمل درآمد کریں۔ قرآن کے مطابق عدل جائز مالکوں کو ان کا حق دینے کے مترادف ہے۔ قرآن کے اس بیان میں عدل کی کلاسیکی تعریف بھی شامل ہے اور اخلاقی اعتبار سے حسن سلوک کا پہلو بھی موجود ہے۔ قرآن میں امانت کا تصور اضافی ہے۔ امانت خدا کی عطا کردہ ہے اس سے وقتی طور پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے لیکن کوئی شخص امانت کا مالک نہیں ہوتا اس کو اپنی مرضی کے مطابق خرچ نہیں کرسکتا اور نہ اس کو اسے ضائع کرنے کا حق ہے بلکہ امانت ایک ایسی شئے ہے جس کے حقوق و فرائض ہیں جو دونوں بیک وقت اہم ہیں۔ غرضیکہ اگر ہر شئے کو ہم ایک امانت تسلیم کریں تو لوگوں کے حقوق محفوظ رہیں گے۔

            یہاں پھر اسی سوال سے ہم دوچار ہوتے ہیں کہ امانت کیا ہے؟ قرآن کے مطابق امانت میں ہر شئے شامل ہے بالخصوص وہ اشیاء جو قانون کے دائرے میں نہیں آتیں۔ انسان کی زندگی خود ایک امانت ہے۔ انسان کی تخلیق کے بارے میں قرآن کا بیان ہے:

ہم نے دکھلائی امانت آسمانوں کو اور زمین کو اور پہاڑوں کو پھر کسی نے قبول نہ کیا اُس کو اٹھائیں اور اُس سے ڈر گئے اور اٹھالیا اُس کو انسان نے۔ یہ ہے بڑا بے ترس نادان۔(سورہ الاحزاب 72 : 33)

            مفسرین کے مطابق یہاں مذکورہ بالا آیت میں امانت الٰہ واحد پر ایمان اور اس کی معرفت ہے۔ ہم نے درج ذیل آیت کاترجمہ اس سے قبل بھی دیا ہے جس میں اللہ نے انسان سے یہ عہد لیا کہ وہ اللہ کی معرفت حاصل کرے اور اس پر ایمان رکھے :

اور جب نکالا تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو اور اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر، کیا میں نہیں ہوں تمہارا رب، بولے ہاں ہے، ہم اقرار کرتے ہیں، کبھی کہنے لگو قیامت کے دن ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی۔  (سورہ الاعراف 172 : 7)۔

            بالفاظ دیگر امانت کا تصور اس روح سے ہے جو اللہ نے انسانوں میں پھونکی ہے اور جس کی بدولت انسان سننے اور دیکھنے اور قلب جیسی نعمتوں کا مالک ہے، (السجدہ 9 : 32 )۔ ہر شخص کا ایک مستقر ہے (الانعام98 : 6)۔ اس کے لئے زمین پر زماں اور مکاں ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کا حق ہے کہ انسان اس کی عبادت کریں اور اس کی معرفت عمیق ترین سطح پر حاصل کریں۔ غرضیکہ انسان کی زندگی خود ایک امانت ہے اور کسی شخص کو اس امانت کو مجروح کرنے کا حق نہیں، مثلاً خود کشی کے ذریعہ۔ اسی لئے قرآن میں ارشاد ہے :

اسی سبب سے لکھا ہم نے بنی اسرائیل پر کہ جو کوئی قتل کرے ایک جان کو بلا عوض جان کے یا بغیر فساد کرنے کے ملک میں تو گویا قتل کرڈالا اس نے سب لوگوں کو اور جس نے زندہ رکھا ایک جان کو تو گویا زندہ کردیا سب لوگوں کو، اور لاچکے ہیں ان کے پاس رسول ہمارے کھلے ہوئے حکم، پھر بہت لوگ ان میں سے اس پر بھی ملک میں دست درازی کرتے ہیں۔(سورہ المائدہ 32 : 5 )۔

            امانت کا گہرا تعلق پانچوں مقاصد شریعہ سے بھی ہے جو کہ بنیادی حقوق کے ہم معنی ہیں۔ یہ حقوق ان چیزوں سے متعلق ہیں : زندگی، مذہب، خاندان، افزائش نسل، عزت نفس، عقل اور جائداد۔ تمام آزادیاں اور تحفظ انہی حقوق کی بدولت ہیں۔

            امانت میں پڑوسیوں کے حقوق بھی شامل ہیں اور جیسا کہ ہم نے گزشتہ باب میں تذکرہ کیا ان کے ساتھ احسان کرنے کی ضرورت ہے۔

            در حقیقت امانت اور انصاف  کے تصور کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ انسان اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ وقت صرف کرے، اُن کے ساتھ تفریح کرے اور اپنے جسم کی ضرورتوں کا لحاظ رکھے اور اپنی رفیق حیات کو وقت دے۔ نبی اکرم محمدؐ کا قول ہے : ‘‘تمہارے اہل خانہ کا تمہارے اوپر حق ہے، تمہارے مہمان کا تمہارے اوپر حق ہے اور تمہارے نفس کا تمہارے اوپر حق ہے’’ (ابوداؤود)۔آپؐ نے یہ بھی فرمایا ‘‘تمہاری آنکھ یعنی نیند کا تم پر حق ہے، تمہارے جسم کا تمہارے اوپر حق ہے، تمہاری رفیق حیات کا تمہارے اوپر حق ہے’’ (الخطیب البغدادی المتفق و المفترق)۔ اور امانت کے تصور میں آدمی کی تمام ضروریات کے ساتھ منصفانہ برتاؤ، معاشرتی معاملات میں انصاف، اپنے پیشے یا اپنی مہارت سے انصاف، اپنے وقت کے ساتھ انصاف اور زندگی کے تمام شعبوں میں عدل و انصاف کا رویہ ہونا چاہئیے۔آخری بات کے طور پر یہ نکتہ ہے کہ امانت کی سب سے واضح شکل آدمی کا مال و دولت ہے ہمیں اس کو اپنی مطلق مرضی کے مطابق خرچ کرنے یا بچانے کا اختیار نہیں ہے۔ اللہ نے اس ضمن میں ہمارے اوپر اخلاقی ذمہ داریاں عائد کی ہیں اور جن کو قرآن میں اس طرح واضح کیا گیا ہے:

یقین لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اس میں سے جو تمہارے ہاتھ میں دیا ہے اپنا نائب کر کر، سو جو لوگ تم میں یقین لائے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اُن کو بڑا ثواب ہے۔(سورہ الحدید7 : 57 )۔

ماحولیات کے تیئں عدل

            علاوہ ازیں ہمارے دور میں ماحولیات میں تبدیلی اور اس کی تباہی کے خدشہ کے پیش نظر ہمیں یہ بھی ملحوظ رکھنا چاہئیے کہ اللہ نے انسان کو اپنا خلیفہ بناکے اس زمین پر بھیجا ہے اور یہ زمین اس کے لئے امانت ہے گویا عدل کا تقاضا ہے کہ لوگ ذمہ دارانہ رحم دلی کے ساتھ اور احتیاط کے ساتھ زمین کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ ان میں دیگر مخلوقات، پیڑ پودے، جانور وہ سبھی شامل ہیں جو اس کرۂ حیات پر موجود ہیں۔ اپنی نظم ٹریز میں جوائس کلمر (م1886ء) رقمطراز ہیں:

میرے خیال میں میں  پیڑ جیسی حسین نظم کہیں نہیں دیکھ سکتا۔ پیڑ کا بھوکا منہ زمین کے سینے کی جانب متوجہ رہتا ہے۔ یہ پیڑ ہی ہے جو سارا دن خدا کی جانب متوجہ رہتا ہے اور شاخوں سے لدے اپنے بازو اٹھائے عبادت میں مشغول رہتا ہے، موسم گرما میں پیڑ پر چڑیوں کے گھونسلے ہوتے ہیں۔ پیڑ کی پتی ہی پر برف گرتی ہے اور بارش بھی۔ میرے جیسے احمق نظمیں ہی لکھتے ہیں جب کہ خدا پیڑ بنانے پر قادر ہے۔

            شاعر نے بالکل بجا کہا بجز اس جملے کے کہ وہ احمق ہے۔ کرۂ زمین پر ہر مخلوق جن میں پیڑ پودے بھی شامل ہیں اللہ کی تخلیق ہیں۔ انہیں ہم نے تخلیق نہیں کیا ہے۔ بخاری کی ایک حدیث میں ذکر آتا ہے کہ پیڑ کا تنا مدینہ میں روتا ہوا صحابہؓ کو سنائی دیا، جب نبی اکرمؐ نے اس کا سہارا لینا ترک کردیا۔ غرضیکہ تمام مخلوقات کی اپنی زندگی ہے۔ ان کی اپنی اقدار ہیں، قطع نظر اس سے کہ وہ انسان کے لئے کس درجہ مفید ہیں۔ نبی اکرمؐ نے متنبہ کرتے ہوئے بتایا کہ ‘‘ایک عورت کو اس لئے عذاب ہوا کہ اس کے پاس ایک بلیّ تھی جس نے اس کو باندھ کر رکھا تھا یہاں تک کہ وہ مرگئی۔اور اسی باعث وہ نار جہنم میں ڈالدی گئی’’ (مسلم)۔ اسی طرح آپؐ کا قول ہے : ‘‘ایک فاحشہ عورت نے ایک کتے کو پیاس کی شدت سے نیم مردہ پایا اور وہ پانی کی تلاش میں ایک کنویں کے ارد گرد چکر لگارہا تھا، اس عورت نے اپنا جوتا اتارا اس میں پانی بھرا اور اس کتے کو پینے کے لئے دیا، اپنے اس عمل کے باعث اس کی نجات ہو گئی’’ (مسلم)۔

            ہمیں پودوں کو استعمال کرنے کا اور کھانے کا حق ہے لیکن بے احتیاطی کے ساتھ ان کو نیست و نابود کرنے کا حق نہیں ہے۔ ہمیں جانوروں کو پالنے اور ان کو کھانے کا حق ہے لیکن ان کو اذیت پہنچانے اور ان کو ضرر پہنچانے یا ان کی نسل تباہ کرنے یا ان کے ٹھکانے کو برباد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہمیں صرف تفریح کے لئے ان کا شکار کرنے کا بھی حق نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان جتنا کھانا پیدا کرتا ہے اس کا ایک تہائی ضائع کردیتا ہے، یہاں بسیارخوری اور موٹاپے کا ذکر نہیں۔ بہرحال امیر و کبیر لوگوں کو یہ حق مطلق حاصل نہیں کہ وہ جنگلی جانوروں کا یا چڑیوں کا محض اپنے مزے کے لئے شکار کریں اور پھر ان کو کھائیں اور یہ ظاہر کریں کہ کھانے کے مقصد ہی سے انھوں نے شکار کیا تھا۔ اسی طرح انسانوں کو قطعاً یہ حق نہیں ہے کہ وہ کرۂ زمین کو تباہ و برباد کریں یا اس پر ہر طرح کی کثافت پھیلائیں یا پہاڑوں اور ماحول کو آلودہ کریں۔ قرآن سے ہمیں معلوم  ہواکہ زمین و آسمان اور پہاڑوں نے اُس امانت کو اٹھانے سے انکار کردیا تھا وہ ہماری طرح ظالم نہ تھے۔ غرضیکہ زمین، پہاڑوں اور پورے ماحول کے سلسلہ میں سمندر بھی شامل ہے۔ ہمیں اپنے رویئیے کو بہتر بنانا چاہئیے۔ ہمیں یہ احساس ہونا چاہئیے کہ فطرت، کرۂ زمین، سمندر، پہاڑ، ماحول، جانور اور پیڑ پودے سب کے اپنے حقوق ہیں اور انسانوں کو ان حقوق کا پوری سنجیدگی کے ساتھ تحفظ کرنا چاہیے، اس ضمن میں بین الاقوامی قانون وضع ہونا چاہئیے ان کے تحفظ میں خود ہماری بقا ہے۔ ہمیں پیڑ پودوں، آبی زندگی، چڑیوں اور کیڑے مکوڑوں کی زندگی کے تحفظ کے لئے قانون بنانا چاہئیے۔چنانچہ نبی اکرمؐ کا فرمان ہے :

‘‘ایک چیونٹی نے ایک نبی کو کاٹا اور اس پر انھوں نےحکم دیا کہ چیونٹیوں کی پوری بستی کو آگ لگادی جائے جس پر اللہ نے ان کو متنبہ کیا صرف ایک چیونٹی کے کاٹنے کے باعث تم نے ایک پوری امت کو تباہ کردیا جو میری حمد و ثنا کیا کرتی تھیں’’(مسلم)۔

اللہ فرماتا ہے:

اور کوئی چلنے والا زمین میں اور نہ کوئی پرندہ کہ اڑتا ہےے اپنے دو بازؤں سے مگر ایک امت ہے تمہاری طرح، ہم نے نہیں چھوڑی لکھنے میں کوئی چیز  پھر سب اپنے رب کے سامنے جمع ہوں گے۔(سورہ الانعام 38 : 6 )۔

            ایک امت وہ گروہ ہے جس کے ارکان ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں، جانور، چڑیاں، کیڑے ایک دوسرے سے ترسیل کرتے ہیں حتی کہ پیڑوں میں بھی باہمی ربط پایا جاتا ہے (دیکھیے کالنٹچ کی حیران کن کتاب دی سیکریٹ لائف آف ٹریز)۔ ہر چند کہ یہ پیڑ پودے ہماری مانند نہیں ہیں، جب ہمیں یہ علم ہے کہ جانور، چڑیاں، کیڑے اور شاید پیڑ بھی اپنی اپنی جگہ پر امت ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارا رویہ محبت اور ہمدردی کا ہونا چاہئیے اور ہمیں ان کا تحفظ کرنا چاہئیے۔ ان کے تحفظ کے ذریعہ ہم اپنے آپ کو محفوظ تر بنا سکتے ہیں۔ اللہ ہمیں یہ تنبیہ کرتا ہے :

پھیل پڑی ہے خرابی جنگل میں اور دریا میں لوگوں کے ہاتھ کی کمائی سے چکھانا چاہئیے ان کو کچھ مزہ ان کے کام کا تاکہ وہ پھر آئیں۔( الروم 41 : 30 )۔

            مختصراً اسلام میں انسانوں کا یہ دینی فرض ہے کہ وہ جانوروں اور تمام جانداروں اور خود فطرت کے ساتھ ہر ممکن حسن سلوک کریں اور جانداروں کو کوئی ضرر پہنچانے سے گریز کریں۔ ہمیں ماحول کو آلودہ کرنے یا قدرتی ماحول کو تباہ کرنے سے بھی گریز کرنا چاہئیے۔ نبی اکرمؐ کا قول ہے : ‘‘ہر جاندار کی خدمت کے لئے اللہ کی جانب سے اجر ہے’’(بخاری اور مسلم)۔

حکومت سے مراد کیا ہے؟

            ہم نے جس آیت سے اس باب کا آغاز کیا ہے اس کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ عدل و انصاف کا مرکز سیاسی حکومت کا انتظام اور انصرام کا طریقہ ہے۔ اس آیت میں اللہ نے امانت کا لحاظ رکھنے کے معاً بعد  فرمایا ہے کہ جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یہ امر قابل لحاظ ہے کہ یہ حکم تمام لوگوں کے لئے ہے صرف مسلمانوں یا مذاہب کے پیرؤوں کے لئے نہیں، بلکہ تمام انسانوں کے لئے خواہ ان کا تعلق کسی نسل یا عقیدے سے ہو۔ اس ضمن میں کسی قسم کا امتیاز روا نہیں۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ فیصلہ کرنے کے لئے جو لفظ استعمال ہوا ہے ’حکم‘ اس کے معنی حکومت کرنے کے بھی ہیں یا حکومت کے انتظامی امور اور عدالتی اختیارات۔ اس لفظ کا مصدر ح ک م ہے جس کے معنی اجتناب کرنا ہے، یہاں ناانصافی اور ظلم سے اجتناب مراد ہے۔ ظلم اور ناانصافی کا بڑا سبب جہالت ہوتا ہے۔ درحقیقت عربی میں حکمت کا لفظ بھی اسی مصدر ح ک م سے ماخوذ ہے۔ باالفاظ دیگر انصاف کا اطلاق سب سے پہلے حکومت پر ہونا چاہئیے۔ حکومت نام ہے لوگوں میں انصاف کرنے سے اور یہ انصاف مساوی طور پر ہونا چاہئیے۔ اللہ نے نبی اکرمؐ کو ہدایت دی :

سو تو اسی کی طرف بلا اور قائم رہ جیسا کہ فرمادیا ہے تجھ کو اور مت چل ان کی خواہشوں پر اور کہہ میں یقین لایا ہر کتاب پر جو اتاری اللہ نے اور مجھ کو حکم ہے کہ انصاف کروں تمہارے بیچ میں، اللہ رب ہے ہمارا اور تمہارا، ہم کو ملیں گے ہمارے کام اور تم کو تمہارے کام، کچھ جھگڑا نہیں ہم میں اور تم میں اللہ اکٹھا کرے گا ہم سب کو اور اُسی کی طرف پھر جانا ہے۔(سورہ الشوریٰ 15 : 42 )۔

کم و بیش یہی ہدایت اللہ نے نبی داؤدؑ کو بھی دی :

اے داؤود ہم نے کیا تجھ کو نائب ملک میں سو تو حکومت کر لوگوں میں انصاف سے اور نہ چل جی کی خواہش پر، پھر وہ تجھ کو بچلادے اللہ کی راہ سے مقرر جو لوگ بچلتے ہیں اللہ کی راہ سے اُن کے لئے سخت عذاب ہے اس بات پر کہ بھلادیا انھوں نے دن حساب کا۔(سورہ ص 26 : 38 )۔

            اسلامی نقطۂ نظر سے یہ نکتہ اہم ہے کہ حکومت ایک باہمی ذمہ داری ہے۔ یہ ایک معاہدہ ہے حکومت اور عوام کے درمیان۔ حکومت کسی شخص واحد کی مرضی پر منحصر نہیں، اسی طرح حاکم کے غیض و غضب بھی حکومت کا بنیاد نہیں ہوسکتا۔ درحقیقت حکومت استوار ہونا چاہئیے ان تعلیمات پر جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں۔ آیت قرآنی ہے :

اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور حاکموں کا جو تم میں سے ہوں، پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو طرف اللہ کے اور رسول کے اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر، یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام۔(سورہ النساء 59 : 4)۔

            اس سے مراد یہ ہے کہ عوام کی حکومت کے تئیں کچھ ذمہ داریاں ہیں اسی طرح حکومت عوام کے لئے ذمہ دار اور جواب دہ ہے۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسلامی تصور حکومت تمام لوگوں میں مساوی طور پر انصاف کرنے سے عبارت ہے۔ اس تصور میں حکومت، عوام کے درمیان باہمی تعلق پر اصرار ملتا ہے۔

اجماع عام اور حکومت کا جائز ہونا

            قرآن کی رو سے اللہ ہی حقیقی بادشاہ ہے (طٰہٰ 114 : 20 )، وہی مالک ہے (آل عمران 26 : 3)، اسی کے ہاتھ میں اقتدار کامل ہے (الملک 1 : 67 )، وہی جس کو چاہتا ہے سلطنت بخشتا ہے ((آل عمران26 : 3 )۔ اللہ نے بعض انبیاء کو حکومت عطا کی مثلاً داؤدؑ اور سلیمانؑ۔ اللہ نے طالوت کی خواہش کو قبول کرتے ہوئے سلطنت عطا کی (البقرہ246: 2 )۔ اللہ ہی نے یوسفؑ کو قدیم مصر کے ایک بادشاہ کی ماتحتی میں کام کرنے کا موقع دیا اور قرآن میں اس بادشاہ کے لئے ملک کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کے برخلاف مصر کے وہ جابر حکمراں جنھوں نے موسیؑ کی مخالفت کی ہے قرآن نے ان کا تذکرہ بطور فرعون کیا ہے۔ نبی اکرم محمدؐ نے بہت سے مقامی باشندوں کی بادشاہت کو تسلیم کیا مثلاً عمان، بحرین اور یمن میں حمیر کے بادشاہوں کا۔ یہ بادشاہ اور ان کی رعایا اسلام لے آئے تھے۔ نبی اکرمؐ نے مظلوم صحابہ کا ایک گروہ بادشاہ حبش کے یہاں پناہ لینے کے لئے روانہ کیا، اس گروہ کی قیادت آپؐ کے عم زاد بھائی جعفر ابن ابی طالب نے کی۔ آپؐ نے بادشاہ حبش کا تذکرہ بطور ایک متقی بادشاہ کیا ہے (طبری، جامع البیان، الانفال38-40 : 8 )۔ آپؐ کا قول ہے : ’’الملک قبیلہ قریش کے لئے ہے‘‘ (ترمذی اور احمد)۔ ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا : ’’ائمہ قریش سے ہیں، جب ان سے رحم کی درخواست کی جاتی ہے تو وہ رحم کرتے ہیں، جب وہ کوئی عہد و پیمان کرتے ہیں اس پر ثابت قدم رہتے ہیں، جب وہ فیصلہ کرتے ہیں تو انصاف کرتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی اس پر کاربند نہ ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہواور صرف اللہ ہی کی نہیں بلکہ فرشتوں اور لوگوں کی بھی لعنت ہو‘‘ (احمد)۔ نبی اکرمؐ کا انتقال ۱۱ھ بمطابق 632ء میں ہوا اور آپؐ کے کوئی اولاد نرینہ نہ تھی اس طرح کوئی بھائی یا بھتیجہ بھی نہیں تھے تو آپؐ کی وراثت خلفائے راشدین نے کی۔ ان خلفاء نے اگلے تیس سال تک حکومت کی اور ان سب کا تعلق قریش سے تھا اور آپؐ کے عزیز تھے۔ ان میں سے دو آپؐ کے سسر تھے یعنی ابو بکرؓ اور عمرؓ اور دو آپؐ کے داماد تھے یعنی عثمانؓ اور علیؓ۔ پانچویں اور آخری خلیفہ راشد چند ماہ کے لئے 40ھ بمطابق 661ء میں آپؐ کے نواسے حسن ابن علیؓ تھے۔ نبی اکرمؐ نے پیشن گوئی کی تھی کہ ’’میرے بعد تیس سال تک خلافت رہے گی اس کے بعد ملوکیت ہوگی‘‘ (احمد اور صحیح ابن حبان)۔ اور درحقیقت 61ھ سے 1923ء میں سقوط خلافت عثمانیہ تک اسلامی ریاستیں بالعموم ملوکیت کی نمائندہ رہیں۔ ان کا سربراہ خلیفہ ہوتا، اسلام کےبعض نامور شخصیتیں جنھوں نے اسلام کا غیر معمولی دفاع کیا مثلاً نور الدین زنگی اور صلاح الدین بادشاہ تھے لیکن اسلام میں بادشاہوں کے ظلّ الٰہی ہونے کا یا مطلق ملوکیت کا کوئی تصور نہیں جو کہ قرون وسطیٰ کے یورپ میں رائج تھا۔ اللہ فرماتا ہے :’’تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے واسطے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی عذاب کرے جس کو چاہے اور بخشے جس کو چاہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ (سورہ المائدہ 40 : 5 )۔ حقیقی بادشاہ صرف اللہ ہے: ’’سو بلند درجہ اللہ کا اُس سچے بادشاہ کا، اور تو جلدی نہ کر قرآن کے لینے میں جب تک پورا نہ ہوچکے اس کا اترنا اور کہہ اے رب زیادہ کر میری سمجھ‘‘ (طٰہٰ 114 : 20 )۔ لہٰذا کوئی بھی حکمراں بہر صورت آئین الٰہی کا پابند ہے، اسی طرح وہ اجماع عام اور شوریٰ کا بھی پابند ہے۔ ان نکات پر ہم آئندہ اظہار خیال کریں گے۔

            اسلام میں کوئی متعین طرز حکومت نہیں ہے خواہ وہ ملوکیت ہو یا خلافت۔ نبی اکرمؐ نے ضابطۂ حیات سے متعلق متعدد تفاصیل بیان کیں جن کا تعلق تجارت سے ہے، وراثت سے ہے البتہ آپؐ نے کوئی مخصوص طرز حکومت تجویز نہیں کیا۔ یہ آپؐ کا دانستہ فعل تھا۔ غالباً اس کا سبب یہ ہے کہ طرز حکومت محض ایک وسیلہ ہے مقصود نہیں اور قرآن میں اللہ نے اس کا ذکر کیا ہے کہ قائدین اور حکومت کو کیسا ہونا چاہئیے قطع نظر اس سے کہ وہ کون ہیں یا کس طرز حکومت کے نمائندہ ہیں:

وہ لوگ کہ اگر ہم ان کو قدرت دیں ملک میں تو وہ قائم رکھیں نماز اور دیں زکوٰۃ اور حکم کریں بھلے کام کا اور منع کریں برائی سے اور اللہ کے اختیار میں ہے آخر ہر کام۔(سورہ الحج 41 : 22 )۔

            حکمراں جو کوئی بھی ہو جہاں سے اس کا تعلق ہو اس کا یہ فرض ہے کہ وہ روحانی سطح پر انصاف قائم رکھے یعنی نماز قائم کرے۔ مالی معاملات میں انصاف کرے یعنی زکوٰۃ ادا کرے۔ معاشرتی اور سیاسی انصاف کا لحاظ کرے یعنی تقویٰ کو فروغ دے اور فحش کی ممانعت کرے۔ اگر کوئی حکمراں نماز قائم نہیں کرتا یعنی روحانی انصاف کی پرواہ نہیں کرتا تو اس کے خلاف خروج جائز ہے۔ نبی اکرمؐ نے مسلمانوں کو یہ ہدایت دی :

‘‘صاحب اقتدار لوگوں سے اس وقت تک اختلاف نہ کریں جب تک کہ وہ کھلے ہوئے کفر میں مبتلا نہ ہوجائیں، اور اس کے لئے متعین ثبوت درکار ہیں’’ (بخاری)۔

            لوگوں کو یہ آزادی ہے کہ وہ  اپنے عہد کی ضروریات کے مطابق طے کریں کہ کون سا طرز حکومت ان کے لئے مناسب ہے۔ اس کا انحصار ان کے دور، حالات، مقام اور رسوم و رواج پر ہے۔ طرز حکومت کے بارے میں البتہ مسلمانوں کا اجماع ہونا  ضروری ہے۔ کوئی بھی حکمراں یا حکومت اس حد تک جائز ہے اگر اس کے بارے میں لوگوں کا یا پھر قائدین کا اجماع ہو۔ یہ اجماع بیعت اور شوریٰ کی شکل میں ظاہر ہونا چاہئیے۔ یہ دونوں افعال قرآن و حدیث سے ثابت ہیں۔ حکومتی معاملات میں اللہ قرآن میں فرماتا ہے :

اور جنھوں نے حکم مانا اپنے رب کا اور قائم کیا نماز کو اور کام کرتے ہیں مشورہ سے آپس کے اور ہمارا دیا کچھ خرچ کرتے ہیں۔(سورہ الشوریٰ 38 : 42 )۔

            غرضیکہ قومی حکومت اس وقت جائز ہے جب تک یہ لوگوں کے اجماع سے منتخب ہو یا ان کے نمائندوں کے ذریعہ اور جب کہ اس کو لوگوں کی واضح اکثریت کی بیعت حاصل ہو کسی نہ کسی شکل میں۔ نبی اکرمؐ کا قول ہے : ’’لوگوں کی اکثریت کا اتباع کرو‘‘ (ابن ماجہ اور احمد)۔ بعض معاصر علماء کا موقف ہے کہ یہ اجماع ایک دستاویز کی شکل میں مثلاً دستور کے طور پر منعقد ہوسکتا ہے اور اس طرح اس کا جواز آئندہ نسلوں تک بھی منتقل ہوسکتا ہے۔

            اجماع کی بنیاد پر حکومت جمہوریت کی ایک شکل ہے لیکن یہ اکثریت کی حکومت سے مختلف ہے۔ اکثریت کی حکومت سے مراد یہاں یہ ہے کہ جب انتخاب دہندگان کسی قائد کے زیر اثر خوف اور نفرت کے جذبات کے تحت اس طرح اپنی رائے کا اظہار کریں جس سے اقلیت کا استحصال واقع ہوتا ہو یا اقلیتوں کے بنیادی حقوق پر ضرب پڑتی ہو یا ایسے اقدام اٹھائے جائیں جن سے اقلیت راضی نہ ہو۔ اور لوگوں کی واضح اکثریت کے باعث وہ ایسے فیصلوں کو روکنے پر قادر نہ ہو، اس سے بلآخر خانہ جنگی یا علیحدگی پسندی واقع ہوتی ہے جو دستور اس انداز سے وضع کئے جاتے ہیں وہ بلآخر ناکام ثابت ہوتے ہیں جیسا کہ حال میں ہم نے مشرق وسطیٰ میں نام نہاد بہار عرب کے حوالے سے بعض ممالک میں نئے دستور دیکھے، اسلام اکثریت کی ایسی رائے کو بطور اصول تسلیم نہیں کرتا۔ اللہ فرماتا ہے :

اور اگر تو کہنا مانے گا اکثر ان لوگوں کا جو دنیا میں ہیں تو تجھ کو بہکا دیں گے اللہ کی راہ سے، وہ سب تو چلتے ہیں اپنے خیال پر اور سب اٹکل ہی دوڑاتے ہیں۔ (سورہ الانعام116 : 6 )۔

 البتہ جب اجماع کی رو سے دستور وضع ہوجائے اور حکومت اکثریت کے رائے سے تبدیل ہونے لگے تو اسے صحیح معنیٰ میں اجماع قرار دیا جاتا ہے۔ یہ اکثریت حکومت کے مترادف نہیں ہے۔ اپنی تصنیف سوشل کانٹیکٹ  میں روسو (1712ء  تا 1772ء) نے اس صورتحال کا تجزیہ اس طرح کیا ہے۔ اکثریت کی رائے ایک معاہدے کی پابند ہوتی ہے اور اس میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے‘‘ (کتاب اول، باب 5)۔

            یہ نکتہ دلچسپ ہے کہ مغربی جمہوریتوں میں حال میں یہ غیر تحریری معاہدہ ملتا ہے کیونکہ ان میں سے ۹۰ فیصدی کا یہ خیال ہے کہ ان کا طرز حکومت قابل قبول ہے۔ اسی طرح 1787ء میں جب امریکہ کا دستور منظور ہوا تو یہ فیصلہ اتفاق رائے سے ہوا۔ فلاڈیلفیا میں  42شرکاء میں سے صرف 3 نے اس پر دستخط سے انکار کیا اور امریکہ کی تمام ریاستوں نے اس دستور کی تائید اور توثیق کی۔ غرضیکہ اسلامی سیاسی نظریے اور مغربی جمہوریت کے مابین اجماع ایک مشترک صفت ہے۔

            جدید اصطلاح میں اجماع قدغن عائد کرنے کا بھی باعث بنتا ہے۔ اجماع کی شکل میں کسی بھی اقلیت کو خواہ وہ کتنی ہی سیکولر یا دیندار یا انتہا پسند یا کسی بھی مذہب، نسل یا نسلی گروہ سے تعلق رکھتی ہو وہ سیاسی عمل سے خارج نہیں ہوتی۔ ہر ایک کی آواز ہوتی ہے، ہر ایک کو مسترد کرنے کا حق ہوتا ہے ہر ایک کی حفاظت ہوتی ہے، ہر ایک کی عزت ہوتی ہے، ہر ایک کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے اور اس طرح سے ہر ایک محفوظ و مامون رہتا ہے۔ اکثریت کو اپنا تسلط نہیں جمانا چاہئیے۔ کتنی ہی عوامی تائید کیوں نہ حاصل ہو قائد کو کسی اقلیت پر ظلم ڈھانے اور ان کو مصالحت پر مجبور نہیں کرنا چاہئیے بلکہ ہر فرد کو مطمئن محسوس ہونا چاہئیے۔

دنیاوی ریاست

            بعض لوگوں کے تصور کے برخلاف نبی اکرمؐ کی وفات کے بعد سے اسلام میں ریاست ہمیشہ بالخصوص سنّی اسلام میں اور شیعہ اسلام میں بھی ایک دنیاوی ریاست رہی ہے۔ شیعہ اسلام میں البتہ ۱۹۷۰ء میں آیت اللہ خمینی کے ولایت فقیہ کے نظریے کے تحت تبدیلی واقع ہوئی۔ دنیاوی ریاست سے مراد ایک عوامی ریاست ہے یعنی مذہبی ریاست نہیں جس کی قیادت مذہبی پیشوا کریں۔ البتہ یہ سیکولر بھی نہیں ہوتی۔ یہ اس باعث ہے کہ نبی اکرمؐ خاتم النبیین تھے اور آپؐ کی وفات کے بعد وحی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا۔ ان کے بعد کسی کو وحی موصول نہیں ہوگی۔ اسی منطق کے مطابق رسول اکرمؐ کے بعد مذہبی طبقہ کی حکومت بھی ممکن نہیں۔ کیونکہ کوئی بھی شخص خواہ وہ عالم ہی کیوں نہ ہو وہ معصوم نہیں اور مذہبی پیشوا صرف اپنے دینی مقام کی بنیاد پر اقتدار طلب نہیں کرسکتے۔ اللہ فرماتا ہے :

اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن کی یا ڈر کی تو اس کو مشہور کردیتے ہیں، اور اگر اس کو پہنچا دیتے رسول تک اور اپنے حاکموں تک تو تحقیق کرتے اس کو جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں اس کی، اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی مہربانی تو البتہ تم پیچھے ہولیتے شیطان کے مگر تھوڑے۔(سورہ النساء 83 : 4 )۔

اولو الامر سے مراد حکمراں ہیں۔ یہ ریاست کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔ سیاست ایک شعبۂ علم ہے اور اولو الامر اس کا مطالعہ اور مشاہدہ کرتے ہیں اور ان کا علم اس باب میں وسیع ہوتا ہے اسی باعث وہ سیاسی معاملات سے بہتر طور پر نبرد آزما ہوسکتے ہیں۔ اسی لئے مبلغین کو سیاسی اقتدار حاصل کرنے کا عزم نہیں ہونا چاہئیے کیونکہ وہ دینی علم کے ماہر ہیں۔ اللہ نے لوگوں کو یہ ہدایت دی ہے کہ حکومت کی ذمہ داری جائز حکمرانوں کی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مذہبی پیشوا ایک اخلاقی قوت ہوتی ہے وہ مذہب کے مسائل بیان کرسکتے ہیں، وہ دین کے نقادوں کو نمایاں کرسکتے ہیں لیکن ان کو اقتدار کا مطالبہ نہیں کرنا چاہئیے وہ دین کی اپنی فہم کے لئے الٰہی تائید کا دعویٰ نہیں کرسکتے الّا یہ کہ کسی مخصوص معاملے میں علماء کا اجماع ہو۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ علماء بالعموم حکومتی معاملات سیاست سےاپنے تقویٰ کے باعث نفور کرتے ہیں، پوری اسلامی تاریخ میں علماء کبھی بھی حکمراں نہیں رہے بلکہ بعض علماء مثلاً ابو حنیفہؒ کو جیل اور کوڑے کی سزا بھگتنا پڑی کیونکہ انھوں نے ایک اعلیٰ ریاستی منصب لینے سے نکار کردیا تھا۔

شہریت

اسلامی حکومت میں شہریت کی بنیاد مذہبی، تشخص، نسل، جنس، عمر، طبقہ، دولت یا زبان نہیں ہے۔ شہریت محض شہریت ہے۔ کسی سرزمین پر بر بنائے پیدائش انسان آزادی اور شہریت کے حقوق کا حقدار ہے۔ اللہ فرماتا ہے :

قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی۔ اور تجھ پر قید نہیں رہے گی اس شہر میں۔ اور قسم ہے جنتے کی اور جو اس نے جنا۔ (سورہ البلد 3-1 : 90 )۔

غرضیکہ آزادی اور شہریت کے حقوق موروثی ہیں، ان حقوق کو سلب کیا جاسکتا ہے البتہ ریاست کی حکومت سے عمرانیاتی معاہدے کی صورت میں ٹیکس عائد کئے جاسکتے ہیں۔ یہ معاہدہ نسل در نسل چلتا ہے۔ نبی اکرمؐ کے دور میں مدینہ کے پہلے تحریری دستور میں یہودیوں اور عیسائیوں کو ایک امت قرار دیا گیا۔ غیر مسلم شہریوں اور مسلمان شہریوں کے حقوق اس دستور کی رو سے یکساں تھے :

’’اس معاہدے کے مطابق یہودی مسلمانوں کے ساتھ ایک امت شمار ہوں گے، جہاں تک ان کے مذہب کا معاملہ ہے یہودی اپنے مذہب پر قائم رہیں گے اور مسلمان اور ان کے حلیف اپنے مذہب پر‘‘ (ابن ہشام، السیرہ النبویہ)۔

            اس سیاق و سباق میں ہر شہری کو ریاست کی جانب سے جان، مال، خاندان، عزت، خلوت اور مذہب اور فکر کی آزادی کا تحفظ حاصل ہے۔ مذہب کی بنیاد پر شہریوں کو ان حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح نسل کی بنیاد پر یا جنس یا طبقہ کی بنیاد پر ان کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا جاسکتا۔ نبی اکرمؐ کا فرمانا ہے :

’’خبردار رہو، جو کوئی غیر مسلم شہری پر ظلم کرتا ہے یا اس کے کسی حق کو سلب کرتا ہے یا اس پر اس کی بساط سے زیادہ عائد کرتا ہے یا اس کی مرضی کے بغیر اس سے کچھ لیتا ہے تو اس غیر مسلم شہری کی حمایت میں میں قیامت کے دن فریاد کروں گا‘‘ (ابوداؤد)۔

            درحقیقت ہر شہری کو جان، مال، خاندان، جائداد، عزت، خلوت اور فکر و مذہب کی آزادی کا تحفظ حاصل ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مفسد عمال یا دولت مند شہری دیگر لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم نہ کریں۔ اللہ خبردار کرتاہے:

اور نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کا آپس میں ناحق اور نہ پہنچاؤ ان کو حاکموں تک کہ کھاجاؤ کوئی حصہ لوگوں کے مال میں سے ظلم کرکے (ناحق) اور تم کو معلوم ہے۔(البقرہ  188 : 2)۔

            جب بھی ضرورت ہو شہریوں کی ریاست کو مدد کرنا چاہئیے۔ نبی اکرمؐ کا قول ہے :

’’اگر کسی شخص کا انتقال ہوجائے اور وہ قرض چھوڑ جائے یا اس کے چھوٹے بچے ہوں تو ان کی کفالت میری ذمہ داری ہے‘‘ (بخاری و مسلم)۔

            یہ معاملہ دو طرفہ ہے ریاست کو شہریوں کی وفاداری اور حمایت حاصل ہونا چاہئیے اور شہریوں کو  ریاست کے قانون کا فرمانبردار ہونا چاہئیے۔ اللہ فرماتا ہے :

اور پورا کرو عہد اللہ کا جب آپس میں عہد کرو اور نہ توڑو قسموں کو پکّا کرنے کے بعد اور تم نے کیا ہے اللہ کو اپنا ضامن، اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ (سورہ النحل 91 : 16)۔

            مختصراً شہریت ایک منصفانہ اور مساوی معاشرتی معاہدہ ہے جو فرد اور ریاست کے مابین ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ معاشرہ انصاف پر قائم رہتا ہے اور اللہ اس کا شاہد ہوتا ہے۔

ان سب کا علم کیوں ضروری ہے؟

            یہ علم اس لئے ضروری ہے کیونکہ انصاف کے بغیر مسلمان بلکہ سبھی لوگ مستقل بے چینی اور بغاوت کی کیفیت میں مبتلا رہیں گے اور دہشت گردی اور خانہ جنگی کا شکار رہیں گے۔ یہ نکتہ اہم ہے کہ انسانی معاملات میں عدل کے نفاذ سے بڑھ کر بہتر کوئی اور شئے نہیں اور اس سے انسانیت کی فلاح وابستہ ہے۔ اسی طرح یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ لوگوں کو انصاف کا علم ہونا چاہئے تاکہ اس کا نفاذ ہو اور جائز حقداروں کو ان کی امانتیں واپس ملیں۔ یہ وہ تصور ہے جو معاشرتی، سیاسی، روحانی اور ماحولیاتی زندگی پر منطبق ہونا چاہئے۔ اسی طرح یہ علم بھی ضروری ہے کہ حکومت کا دارومدار انصاف پر ہے، کوئی حکومت انصاف کے بغیر عرصے تک قائم نہیں رہ سکتی۔ حکومتیں اس وقت تک جائز ہیں جب کہ اقلیتیں محفوظ ہوں اور جب دستور اور ریاست کی بنیاد اجماع پر ہو اور یہی مغربی جمہوریت اور اسلامی ریاست کے مابین قدر مشترک ہے۔ مذہبی پیشواؤں اور مبلغین کو فی نفسہٖ کوئی اقتدار حاصل نہیں اور نبی اکرمؐ کی وفات کے بعد مذہبی طبقہ کی حکومت ممکن نہیں۔ اسلامی حکومت میں شہریت کی کوئی شرائط نہیں ہیں اور اسلامی حکومت اپنے تمام شہریوں کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کی پابند ہے۔

            یہ موقف اصولی فقہاء کا ہے اور آج جو کچھ ہورہا ہے وہ غلط ہی نہیں بلکہ اسلامی تاریخ میں بھی انوکھا ہے۔ آج کے بہت سے مسائل کا حل یہ ہے کہ مسلمان اصولی فکر کی جانب مراجعت کریں، اصولی فکر سے مراد ماضی کی جانب مراجعت نہیں بلکہ آج کے پیچیدہ اور مشکل حالات میں جدید دنیا میں اسلامی ورثہ کا استعمال ہے، یہی قرآن ، سنت اور قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی بصیرت تھی۔

            آخر میں   ہر شخص تک یہ پیغام پہنچنا ضروری ہے کہ میں نے جو کچھ بھی کہا ہے اس میں یہ اضافہ لازم ہے۔ واللہ اعلم۔ میرا یقین ہے کہ جو کچھ میں نے تحریر کیا ہے وہ درست اور برحق ہے لیکن میں یہ اعتراف بھی کرتا ہوں کہ مجھ سے کہیں کوئی غلطی ہوئی ہو۔ میرا یقین ہے کہ جن لوگوں کی مخالف آراء ہیں وہ غلط ہیں لیکن ساتھ ہی میں یہ اعتراف بھی کرتا ہوں کہ ممکن ہو کہ وہ درست ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ سے التجا کرتا ہوں کہ اسلام کی وضاحت کی اس کوشش کو قبول کریں اور یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ میری کوتاہیوں اور غلطیوں  سے  در گزر فرمائیں۔

بولا اے قوم دیکھو تو اگر مجھ کو سمجھ آگئی اپنے رب کی طرف سے اور اس نے روزی دی مجھ کو نیک روزی، اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد کو خود کروں وہ کام جو تم سے چھڑاؤں، میں تو چاہتا ہوں سنوارنا جہاں تک ہوسکے اور بن آنا ہے اللہ کی مدد سے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے۔(سورہ ہود 88 : 11)

Facebook Comments

POST A COMMENT.