خاص خاص اعمال پر جنت میں تعمیر کی بشارت

تعمیرِ مسجد پرجنت میں محل کی بشارت

مولانا شوکت علی قاسمی بھاگلپوری




ایک حدیث میں نبی کریم ا نے مسجد بنانے والے کی فضیلت بتا تے ہو ئے ارشاد فرمایا کہ: ایسے شخص کے لئے حق تعالیٰ شانہ ٗجنت میں محل بنائیں گے، ارشاد نبوی ا ہے:
حدیث(۱۸):۔عَنْ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ’’مَنْ بَنٰی لِِلّٰہِ مَسْجِداً، بَنٰی اللّٰہُ لَہٗ بَیْتاً فِیْ الجَنَّۃِ ‘‘متفق علیہ۔ (مشکوۃ :۶۸)
حضرت عثمان ص سے حضور اقدس ا کا ارشاد مروی ہے کہ: جس نے اللہ کے لئے کوئی مسجد بنائی ،حق تعالیٰ شانہ اس کے لئے جنت میں ایک محل تیار فرمائیں گے۔(بخاری و مسلم)
مسجد آنے والے کا جنت میں اعزاز
حدیث(۱۹):۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ’’مَنْ غَدَا اِلٰی المَسْجِدِ اَوْ رَاحَ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہٗ نُزُلَہٗ مِنَ الجنَّۃِ کُلَّمَا غَدَا اَوْ رَاحَ‘‘۔متفق علیہ۔(مشکوۃ شریف: ۶۸)
حضرت ابوہریرہ ص سے حضور اقدس ا کا ارشاد مروی ہے کہ: جو شخص صبح یا شام (کسی بھی)وقت مسجد میں آئے، اللہ جل شانہ ہر مرتبہ آنے کے بدلے، اُس کے لئے جنت میں مہمان نوازی کا سامان(رہائش اورکھانا وغیرہ)تیار کرتے ہیں ۔ ( بخاری مسلم )
تسبیح وتحمید وغیرہ اذکار پر جنت میں درخت لگیں گے
واقعۂ معراج سے متعلق ایک طویل حدیث میں آیا ہے:
حدیث(۲۰):۔عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ص قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا: ’’لَقِیْتُ اِبْرَاھِیْمَ لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِیْ، فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ ! اِقْرَأْ اُمَّتَکَ مِنِّی السَّلَامَ، وَ اَخْبِرْ ھُمْ، اَنَّ الجَنَّۃَ طَیِّبَۃُ التُّرْبَۃِ، عَذْبَۃُ المَاءِ،وَاَنَّھَا قِیْعَانٌ، وَاَنَّ غِرَاسَھَا: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘ رَوَاہُ التِّرْمِذِّیُّ وَقَالَ ھٰذا حَدِیْثٌحَسَنٌ غَرِیْبٌ اِسْنَاداً۔ (ترمذی رشیدیہ: ۲/۱۸۴؛رقم:۳۴۶۲،مشکوۃ شریف: ۲۰۲) وَفِیْ رِوَایَۃٍ مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللّٰہِ غُرِسَ لَہٗ شَجَرٌ فِیْ الجَنَّۃِ۔
(التعلیق الصبیح :۶/۳۶۷)
حضرت ابن مسعودص سے حضور اقدس اکا ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ: جس رات مجھے معراج کی سعادت نصیب ہو ئی، (ساتویں آسمان پر ) حضرت ابراہیم ؑ سے میری ملاقات ہو ئی، (بیت المعمو ر سے ٹیک لگا ئے ہو ئے بیٹھے تھے ،) انہوں نے مجھ سے فرمایاکہ :اے محمد! اپنی امت سے میرا سلام کہنا، اور انہیں میرا یہ پیغام پہنچا دینا کہ: جنت کی مٹی انتہائی پاکیزہ ہے، (کیونکہ وہاں کی زمین مشک و زعفران کی ہے ،) اُس کا پانی بے حد میٹھا ہے، مگر وہ چٹیل میدا ن ہے، (ہموار اور خالی زمین ہے، اندر کوئی درخت اور پانی نہیں، ) اس کے درخت: ’’سُبْحَانَ اللّٰہ ،الحَمْدُ لِلّٰہ ،لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ ، اللّٰہ اکبر‘‘ہیں (ان کلماتِ ذکر کو جو جتنا پڑھے گا، اُس کے لئے جنت میں اُتنے ہی درخت لگا ئے جائیں گے ،)اور ایک حدیث میں ہے کہ :جس نے ایک مرتبہ سبحا ن اللہ پڑھا اُس کے لئے جنت میں ایک درخت لگادیا گیا ۔
فائدہ:اس امت مرحومہ کی شان محبوبیت وعظمت اور علو مرتبت کی بنا پر، جلیل القدر پیغمبر ، رسول اللہ ا کے جد امجد :حضرت ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوۃوالتسلیم نے اپنے لاڈلے فرزند :نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زبانی ساتویں آسمان سے سلام کا تحفہ بھیج کر، امت محمدیہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے اپنے بے پناہ تعلق و محبت کا اظہار فرمایاہے، تواِس محبت کے شکرئیے میں امت محمدیہ کے ہر ہر فرد کو زیبا ہے کہ: اِس حدیث میں جب بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سلام پڑھے ،یا سنے ،تو جواب میں ’’علی نبیناوعلیہ السلام ‘‘کہے، اور جنت کے درخت’’ سبحان اللہ ‘‘وغیرہ کلمات ذکر ہیں ،اس پیغام کے ذریعے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقصود یہ بتانا ہے کہ: اپنی امت کو آگاہ کر دیجئے کہ: اِن کلمات ذکر وغیرہ کے پڑھنے کی برکت سے آدمی جنت میں داخل ہو تا ہے، اور اِن کلمات کے پڑھنے کی بدولت اُس کے لئے جنت میں درخت لگائے جاتے ہیں، اس لئے جو شخص جتنا پڑھے گا اتنے ہی زیادہ درخت اس کے لئے جنت میں لگا ئے جائیں گے، یہ پیغام گو یا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ: اِن کلمات کا ورد رکھنے والا جنت کی پر سکون بَہار،راحت بھری فضا ،سرور آمیز ہوائیں،پُر لطف غذائیں،دلدوز مشروبات،وفاشعار بیویاں، حوروغلمان، اطمینان بخش ماحول اور وہاں کے چین وسکون کا حق دار ہو گا، اور یہ کلمات درخت کی شکل میں متبدل ہو کراہل جنت کی حیات ابدی کے ضامن ہو ں گے ۔سچ ہے ؂
ہر گز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما
ترجمہ: وہ لوگ ہرگز نہیں مرتے جن کا دل عشق حقیقی کی تیش سے زندہ ہوگیا ہو،دنیاکی رجسٹر پرہمارے لئے ہمیشہ رہنا لکھا ہوا ہے۔
ایک سوال اور اُس کا جواب
مگر یہاں سوال یہ ہے کہ: اِس حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ: جنت درختوں سے خالی ہے، جب کہ قرآن کریم کی متعددآیات میں جنت کے درختوں کا ذکر آیا ہے،چنانچہ ارشاد خداوندی ہے :وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْ ا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الاَ نْھٰرُ ط الآیہ(البقرۃ:۲۵)
ٍٍ ترجمہ:اور خوشخبری دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے، اور اچھے کام کئے ،کہ ان کے واسطے باغ ہیں ،کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں۔(ترجمہ شیخ الہند)
اِس آیت اور اِسی جیسی دوسری آیات سے معلوم ہو تا ہے کہ: جنت میں درخت ہوں گے،کیونکہ باغ درختوں کے جُھرمُٹ کو کہتے ہیں،احادیث مبارکہ میں بھی جنت کے درختوں کا ذکر ہے،چنانچہ ایک حدیث پاک میں بھی وارد ہے:
حدیث(۲۱):۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا:’’ اِنَّ فِیْ الجَنَّۃِ شَجَرَۃً یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّھَا مِاءَۃَ عَامٍ لَا یَقْطَعُھَا فَاقْرَؤُوْا! اِنْ شِءْتُمْ’’وظِلٍّ مَمْدُوْدٍ‘‘۔(الواقعۃ:۳۰)
(بخاری:۱/۴۶۱؛رقم:۳۲۵۲،مسلم:۲/۳۷۸؛رقم:۸۔۲۸۲۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضور اقدس ا کا ارشاد مروی ہے کہ: جنت میں ایک درخت اتنابڑا ہے کہ: تیز رفتا ر شہسوار اس کے سایے میں ایک سال تک چلتا رہے گا تب بھی اس کو پار نہیں کر سکے گا اور (بطور دلیل کے حضور نے ارشاد فرمایا ،) اگر تم چاہو تو قرآن کریم کی آیت ’’وَظِلٍّ مَمْدُودٍ‘‘پڑھ لو،اور اس میں پھیلے ہو ئے سائے ہوں گے ۔
پھر یہ بات بھی پہلے آچکی ہے کہ باغات ہی کی وجہ سے اِس دار الثواب کا نام جنت رکھا گیا ہے، تو پھر جنت میں درخت نہ ہو نے کا کیا مطلب ہے؟
جواب:جنت کی دو قسمیں ہیں
یوں تو اس سوال کا علماء امت نے کئی طرح سے جواب دیا ہے؛ لیکن سب سے بہتر جواب وہ ہے ،جو ملا علی قاری ؒ نے مرقاۃ شرح مشکوۃ میں اپنی طرف سے دیا ہے ، موصوف اس سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ :حقیقت حال تو اللہ ہی کو معلوم ہے، مگر میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ: ادنی سے ادنی جنتی کو کم سے کم دو جنت عطا کی جائے گی، ایک تو اللہ جل شانہ محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرمائیں گے ،اس میں انسان کے کسی عمل کا کوئی دخل نہیں ہو گا، اُس جنت میں باغات ،نہریں ،خدام ،محلَّات،حوریں سب طرح کی نعمتیں پہلے سے تیار اور موجودہو ں گی ،اوردوسری جنت انسان کو اعمال کے سبب سے ملے گی،اسی جنت کے بارے میں حدیث مذکور میں کہا گیا ہے کہ: وہ چٹیل میدان کی طرح ہے ،اس میں باغات و محلات نہیں ہیں ،انسان ذکر و عبادت کرتا رہے گا،اور اس میں باغات و محلات ،نہریں تیارہوتی رہیں گی ،یہ جنت مومن کو بصورت عدل ملے گی(غالبا اِسی جنت کے بارے میں اقبال مرحوم نے کہا ہے) ؂
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنے فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری
(اضافہ از مرتب)
اور ایک آیت کریمہ: ’’ولِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ‘‘اور جو کوئی ڈرا کھڑے ہو نے سے اپنے رب کے آگے، اُس کے لئے ہیں دو باغ (ترجمہ شیخ الہند)
یعنی جس کو دنیا میں ڈر لگا رہا کہ: ایک روز اپنے رب کے آگے کھڑا ہونااور، رتی رتی کا حساب دینا ہے، اور اُسی ڈر کی وجہ سے اللہ کی نافرمانی سے بچتا رہا اور پوری طرح تقویٰ کے راستے پر چلا، اُس کے لئے وہاں دو عالیشان باغ ہیں ،جن کی صفات آگے (کی آیت میں) بیان کی گئی ہیں ،فوائد عثمانی میں اُسی مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔واللہ اعلم بالصواب وھو الہادی الیٰ سبیل السداد و الرشاد
اور یہی مطلب ہے صوفیائے کرام کے قول ’’جَنَّۃٌ فِیْ الدُّنْیَا وَجَنَّۃٌ فِیْ العُقْبیٰ‘‘کا جو اس آیت کریمہ کی تفسیر کے ضمن میں منقول ہے ،صوفیاء کے اس قول کا حاصل یہ ہے کہ :مؤمن کے لئے دو طرح کی جنت ہوں گی: ایک جنت دنیا میں کئے ہو ئے اعمال سے آباد کی جائے گی ،اور ایک جنت اللہ جل شانہ اپنے خصوصی فضل سے آخرت میں عنایت فرمائیں گے ۔واللہ اعلم (مرقاۃ :۵/۱۱۷۔۱۱۸،التعلیق الصبیح :۳/۹۱)
روزانہ بارہ رکعت پڑھنے پر جنت میں محل کیبشارت
حدیث(۲۲):۔عَنْ اُمِّ حَبِیْبَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا :’’مَنْ صَلّٰی فِیْ یوْمٍ وَلَیْلَۃٍ ثِنْتَیْ عَشَرَۃَ رَکَعَۃً بُنِیَ لَہٗ بَیْتٌ فِیْ الجَنَّۃِ ‘‘ رواہ الترمذی وَفِی رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ اَنَّھَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا یَقُوْلُ: ’’ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ یُصَلِّی لِلّٰہِ کُلَّ یَوْمٍ ثِنْتَیْ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً تَطَوُّعاً غَیْرَ فَرِیْضَۃٍ اِلَّا بَنٰی اللّٰہُ لَہٗ بَیْتاً فِیْ الجَنَّۃِ ‘‘۔
(ترمذی رشدیہ :۱/۵۶؛رقم:۴۱۵،مسلم:۱/۲۵۱؛رقم:۱۰۳۔۷۲۸،مشکوۃ شریف: ۱۰۳)
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہاسے حضور قدس ا کا ارشاد مروی ہے کہ: جس مسلمان بندے نے روزانہ فرائض کے علاوہ بارہ رکعت نوافل پڑھنے کا معمول بنا لیا ،اللہ جل شانہ اس کے لئے جنت میں ایک محل تیار کرائیں گے ۔
اِن روایات سے صاف طور پر معلوم ہو تا ہے کہ: جنت میں قیامت تک تعمیرات کا سلسلہ جاری رہے گا ۔



Facebook Comments

POST A COMMENT.