خدا کی طرف سے رِضاءِ دوام کا اعلان

Views: 14
Avantgardia

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: نبی کریم ا نے ارشاد فرمایاکہ: (جب جنتی کو جنت میں تمام نعمتیں مل جائیں گی)تو حق تعالیٰ شانہٗ اہل جنت سے خطاب کریں گے کہ: اے جنت والو! سارے لوگ جواب دیں گے ”لَبَّیْکَ رَبُّنَا“!پروردگار ہم حاضرہیں،اللہ جل شانہٗ فرمائیں گے، کیا تم لوگ خوش ہو؟تمام جنتی جواب دیں گے، میرے پروردگار! آپ نے ہمیں ہرطرح کی نعمتیں عطا فرمائیں،جو اور کسی مخلوق کو نہیں دی گئیں، تو پھر ہم کیوں خوش نہ ہوں؟اللہ جل شانہٗ فرمائیں گے کہ:میں تم لوگوں کو اِن تمام نعمتوں سے بڑی ایک نعمت دینا چاہتا ہوں،وہ لوگ کہیں گے کہ: پروردگار! اب اِن سے بڑھ کر کون سی نعمت ہوگی، اللہ جل شانہٗ فرمائیں گے کہ: میں تم لوگوں سے ہمیشہ کے لئے خوش ہوں، اب میں تم لوگوں سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔
(رواہ البخاری ومسلم والترمذی،ترغیب:۴/۳۱۳،حادی الارواح:۸۴۱)
ایصال ثواب پر بھی ترقی ئدرجات
دخول جنت فضل الٰہی سے نصیب ہوگا، اعمال سے ترقیئ درجات ہوگی،اِسی طرح اہل خانہ،یادوست واحباب، اور مؤمنین کے ایصال ثواب سے درجات کی ترقی حاصل ہواکرے گی، حدیث پاک میں رسول اللہ ا کا ارشادہے کہ: حق تعالیٰ شانہٗ نیک لوگوں کے درجات جنت میں بڑھائیں گے، وہ لوگ کہیں گے اِلہ العالمین!یہ ترقی کیسی ہے؟ (ہمیں تو اعمال کا صلہ مل چکا ہے؟) اللہ جل شانہٗ فرمائیں گے،تمہاری اولاد نے تمہارے لئے دعاء مغفرت کی جس کی بنا پر یہ درجات بڑھائے گئے۔(رواہ احمد عن ابی ہریرۃ،حادی الارواح:۲۸۲)
موت بھی سپردِ موت
جنت میں کسی قسم کی پریشانی،تکلیف،غم اور موت نہیں ہے،وہاں ہر شخص ہمیشہ ہمیش کے لئے جائے گا،قرآن کریم میں جگہ جگہ حق تعالیٰ شانہٗ کا ارشادہے: ”وَہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ“ کہ وہ لوگ جنت میں سدارہیں گے۔ حدیث پاک میں بھی آیا ہے:
حدیث(۶۱۱):-عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:”اِذَا صَارَ اَہْلُ الْجَنَّۃِ اِلٰی الْجَنَّۃِ،وَاَہْلُ النَّارِ اِلٰی النَّارِ، جِءَی بِالْمَوْتِ، حَتّٰی یُجْعَلَ بَیْنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ،ثُمَّ یُذْبَحُ،ثُمَّ یُنَادِیْ مُنَادٍ،یَا اَہْلَ الْجَنَّۃِ! لامَوْتَ،وَیَااَہْلَ النَّارِ!لَامَوْتَ،فَیَزْدَادُ اَہْلُ الْجَنَّۃِ فَرَحاً اِلٰی فَرَحِہِمْ، وَیَزْدَادُ اَہْلُ النَّارِ حُزْنًا اِلٰی حُزْنِہِمْ“مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔
(مسلم واللفظ لہ:۲/۲۸۳؛رقم:(۳۴-۰۵۸۲)،مشکوۃ:۳۹۴)
حدیث(۷۱۱):-وَفِیْ رِوَایَۃٍ،اِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”یُدْخِلُ اللّٰہُ اَہْلَ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ،وَاَہْلَ النَّارِ النَّارَ،ثُمَّ یَقُوْمُ مُؤَذِّنٌ بَیْنَہُمْ، فَیَقُوْلُ:یَا اَہْلَ الْجَنَّۃِ! لا مَوْتَ،وَیَااَہْلَ النَّارِ،لامَوْتَ،کُلٌّخَالِدٌ فِیْہِ مَا ہُوَفِیْہِ“
(رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ وَاللَّفْظُ لَہٗ:۲/۲۸۳رقم:۲۴،۰۵۸۲،حادی الارواح: ۵۸۲،ترغیب:۴/۸۱۳)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے،حضور اقدس ا کا ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ: جب جنتی جنت میں،اور جہنمی جہنم میں پہنچ جائیں گے،تو موت کو جنت اور جہنم کے بیچ میں لاکر ذبح کردیا جائے گا،پھر ایک منادی اعلان کرے گاکہ:اے جنت والو! (موت کو ذبح کردیا گیا)اب موت نہیں آئے گی،اور اے جہنمیو!(موت کو ذبح کردیا گیا) اب موت نہیں آئے گی، ہر شخص ابھی جس جگہ ہے،اُسی میں ہمیشہ ہمیش کے لئے رہے گا،یہ سن کر جنت والوں کی خوشی دو بالا ہو جائے گی،اور جہنمیوں کا حزن وملال کے مارے کلیجہ منہ کو آئے گا۔
ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے کہ: یہ اعلان سن کر جنتیوں کو،اتنی خوشی ہوگی کہ: اگر وہاں موت ہوتی،تو وہ مرجاتے،اور جہنمیوں کو اتنا غم ہوگا کہ: اگر وہاں موت ہوتی،تو جہنمی غم کے مارے مرجاتے۔(ترمذی رشیدیہ:۲/۴۴۱،رقم: ۶۵۱۳،ترغیب: ۴/۷۱۳)
ایک حدیث میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: موت کو چتکبرے مینڈھے کی شکل میں،جنت وجہنم کی درمیانی دیوار پر لایا جائے گا، اور دونوں طرف کے لوگوں کو بلا کر، اُن کی نگاہوں کے سامنے ذبح کردیا جائے گا،پھر اعلان کردیا جائے گاکہ: تم لوگ اپنے اپنے ٹھکانے میں ہمیشہ ہمیش رہوگے، اب تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔(ترغیب:۳/۶۱۳،حادی الارواح:۵۸۲)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart