خطابت کے ایک سو ساٹھ نکات،اشارات اورہدایات

محمد یاسین جہازی، جمعیۃ علماء ہند

(۱)مقرر کو نہایت زکی الطبع اور حساس ہونا چاہیے ۔
(۲)ہر چیز کی ماہیت سے بحث کرنے اور علم ریاضی کے مسلمہ اصول کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے سے آدمی بہت جلد حساس اور زکی الطبع ہوجاتا ہے ۔
(۳)مقرر کو مہذب ،پر وقار اور با تمیز ہونا نہایت ضروری ہے ۔
(۴)مقرر کے ہر ہر لفظ سے تہذیب وشرافت مترشح ہونی چاہیے ۔
(۵)’’ہر چہ بر خود نہ پسندی بہ دیگراں نپسند‘‘،تہذیب کی تحصیل کا اصل الاصول ہے۔
(۶)جو بات کہنی ہو،پہلے اس سے خود متأثر ہونا ضروری ہے ۔کیوں کہ بعض اوقات محض تأثر کی وجہ سے اس قدر کامیابی ملتی ہے کہ اتنی کامیابی قزنی دلائل سے بھی نہیں ملتی ۔اس لیے کہ سامعین کا جوش ہمیشہ فہم و فراست پر غالب رہتا ہے ۔
(۷)اچھا مقرر سر سے پاوں تک جوش کا مرقع بن جاتا ہے ۔اس کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ اگر ممکن ہو،تو تقریر کی شکل میں متشکل ہوکر حاضرین کے کانوں اور آنکھوں کے راستے ان کے دل ودماغ اور خیالات میں پیوست ہوجائیں۔
(۸)جب تک مقرر میں زبردست قوت متخیلہ نہ پائی جاتی ہو ،وہ با کمال مقرر نہیں ہوسکتا ۔
(۹)اگر مقرر نے اپنے تخیل کی اصلاح و درستی ملحوظ نہ رکھی ،تو گویا اس نے اپنے سرمائے کومعرض خطر میں ڈال دیا۔
(۱۰)تقریر کا دوسرا نام اظہار خیالات ہے ۔جب متخیلہ ہی باطل ہو ،تو خیالات کی پاکیزگی کا نام لینا ہی فضول ہے ۔
(۱۱)کامیاب مقرر وہی ہے ،جس کی زبان میں تذبذب ہو اور نہ ہی تزلزل۔اور اس کی تقریر میں اول سے آخر تک ربط و تسلسل ۔
(۱۲)اعلیٰ مقرر بننے کے لیے منجملہ دیگر امور میں سے ایک عزم بالجزم بھی ہے ۔کسی مجلس میں کھڑاہونا اور پھر آزادی کے ساتھ خیالات کا اظہار کرنا بڑی دلیری اور جرأت کی بات ہے ۔خاص کر متنازع فیہ مسائل پر رائے زنی کرنے کیے لیے بڑی ہمت درکار ہے ۔
(۱۳)اگر ارادے میں استقلال اور طبیعت میں عزم کا مادہ ہو،تو مقرر ہمت و جرأت کی ایک زبردست طاقت اپنے ساتھ محسوس کرتا ہے ۔ممکن ہے کہ وقت پر الفاظ یاد نہ آئیں،خیالات محو ہوجائیں، ہچکچاہٹ و لڑکھڑاہٹ کی کیفیت پیدا ہو جائے ؛لیکن جب ارادہ مضبوط ہوگا ،تو زبان کی لغزش ناممکن ہے ۔
(۱۴)مقرر کی شائستگی ،صداقت اور استقلال کامیابی کے ضامن ہیں ۔خود بینی و خود سرائی بے ہودگی ہے ، کیوں کہ اس سے سامعین متنفر ہوجاتے ہیں۔
(۱۵ )اعلیٰ درجے کی قوت گویائی کے بغیر کوئی شخص مقرر نہیں بن سکتا ۔
(۱۶)جو شخص فطری طور پر خوش بیان نہ ہو،وہ اپنے اندر ادبی لیاقت پیدا کرنے سے خوش بیان اور زبان آور ہوسکتا ہے،اس لیے مقرر کے لیے علم ادب کی تکمیل کرنی ضروری ہے ۔
(۱۷)عمدہ مقرر بننے کے لیے نیک چلنی اتنے ہی ضروری ہے ،جتنے کہ آئینے کے لیے صفائی۔ 
(۱۸)بد چلن آدمی کے دل میں وہ توانائی اور آزادی نہیں ہوتی ،جو خیالات کی پیدائش اور ان کے اظہار کے لیے لازمی ہے ،کیوں کہ وہ ہر لفظ پر چونک اٹھتا ہے ۔بات بات پر دل میں خفت پیدا ہوتی ہے۔ حوصلہ و ہمت کو وہ پھر اکٹھا کرتا ہے اور بیان کرنے کوشش کرتا ہے ؛مگر باطنی کمزوری پھر زبان پر تالا ڈال دیتی ہے ۔
(۱۹)جو شخص اپنے عیوب کی وجہ سے انگشت نما ہو ،وہ کبھی بھی ایک مقرر کی حیثیت سے لوگوں میں اثر پیدا نہیں کرسکتا ۔
(۲۰)جب بد چلن مقرر اسٹیج پر نماں ہوتا ہے ،تو پبلک میں اس کے متعلق چہ می گوئیاں شروع ہوجاتی ہیں۔
(۲۱)جب کوئی نیک چلن مقرر تقریر کرتا ہے ،تو خواہ اس کے الفاظ کیسے ہی بے تکے ہوں ،تقریر کیسی ہی لغو ہو؛لیکن فقط اس کا نیک ہونا ہی پبلک کے لیے سب سے بڑی سفارش ثابت ہوتا ہے ۔اس کی نیکی کے خیال سے سامعین کے دلوں میں اس کی عزت و عظمت پیدا ہوجاتی ہے ۔
(۲۲)جب تک انسان تعلیم و تربیت اور عمدہ خصائل وفضائل کی تحصیل نہیں کرتا، اس وقت تک صرف ذاتی اوصاف اور قدرتی صلاحیت کی وجہ سے اعلیٰ درجے کا مقرر نہیں بن سکتا ۔
(۲۳)خوش بیانی اور علم باہمی رشتہ رکھتے ہیں ۔کسی بڑے شخص کا مقولہ ہے کہ فصاحت کو غذا درکا ر ہے اور یہ غذا علم ہے ۔
(۲۴)جب انسان کے پاس علم ہی نہ ہوگا ،توخیالات کہاں سے پیدا ہوں گے اور معلومات کے بغیر ایک مقرر کاکام نہیں چل سکتا ۔
(۲۵)سقراط کہتا ہے کہ کسی شئی پر بحث کرنے پہلے اس سے کما حقہ واقفیت رکھنا ضروری ہے ۔
(۲۶)مقرر کے لیے ضروری ہے کہ معلومات کا ایک بڑا ذخیرہ اس کے ذہن و دماغ میں محفوظ ہو ۔
(۲۷)کائنات کا باریک بینی سے مطالعہ اور طبائع انسانی کے رجحانات کو پہچاننے کی استعداد پیدا کرنا ایک مقرر کے لیے ضروری ہے ۔
(۲۸) ایک فلاسفر کا مقولہ ہے کہ ایک مقرر کو انسانی زندگی کے عوارض و لواحق سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے۔ اور اس کے لیے علم النفس (سائکا لوجی )کا مطالعہ لازم ہے ۔
(۲۹)کوئی فن ہو یا ہنر؛اس کی تکمیل محنت پر منحصر ہے ۔بس تقریر کی مشق بہم پہنچانا بھی پوری محنت و مشق کے بغیر ناممکن ہے ۔
(۳۰)صرف چند روز کی محنت فن تقریر کی تکمیل کے لیے کافی نہیں ہے ؛بلکہ اس کے لیے سالہا سال کی جفا کشی اور مسلسل مشقت درکار ہے ۔
(۳۱)ایک کامیاب مقرر بننے کے لیے مطالعہ نہایت ضروری ہے ۔
(۳۲)تقریر کا ملکہ بعض کے اندر فطری ہوتا ہے اور بعض محنت و مشق سے حاصل کر لیتا ہے ۔اس راہ میں فطرت آڑے نہیں آتی ،لہذا فطری ملکۂ تقریر نہ ہونے پر سیکھنے کی کوشش نہ کرنا دانش مندی نہیں ؛بلکہ حماقت ہے ۔
(۳۳)تقریر کا موضوع خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو ،جب تک الفاظ موزوں نہ ہوں گے ،بے لطفی و بے نمکی رہے گی۔ اس لیے ایک مقرر کو ایسی تصانیف کا مطالعہ کرنا ضروری ہے،جو اپنے موضوع پر ایک عظیم شاہ کار اور ہر اعتبار سے مقبول ومستند نہ ہوں ۔
(۳۴)عمدہ عمدہ جملے اور شان دار تعبیرات کو یاد کر لینا اور انھیں موقع بموقع تقریر میں استعمال کرنا کوئی عیب نہیں؛ بلکہ ایک خوبی ہے ۔
(۳۵)کثرت مطالعہ سے ذوق کی نعمت حاصل ہوتی ہے ۔اس لیے مقرر کے لیے شعر وسخن اور ادبیات کا اتنا مطالعہ ضروری ہے ،جس سے اتنا ذوق پید اہوجائے کہ وہ یہ فیصلہ کرنے پر قادر ہو جائے کہ یہ غالب کا شعر ہے ،یہ اقبال کی نظم ہے ،یہ مومن کا مصرع ہے ۔
(۳۶)اس خیا ل سے کہ فکر میں غلطی واقع نہ ہو ،منطق کی پیروی بھی ایک مقرر کے لیے ضروری ہے اور چوں کہ مقرر کاکام اظہا ر فکر ہے ،اس لیے اس علم کی تحصیل بھی لازمی ہے ۔
(۳۷)منطق وفلسفہ کی کم سے کم اتنی معلو مات ضروری ہے کہ مقرر یہ جان سکے کہ حد و تعریف سے کیا مراد ہے؟دلیل و حجت کسے کہتے ہیں ؟بحث قضایا میں کس کس بات کا ہونا ضروری ہے ؟
(۳۸)انگلستان کے مشہور مقرر گلیڈاسٹون کی رائے میں مقرر کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ اس کی تعلیم عمدہ ہو ، کیوں کہ اس سے دل کو ایک طرح کی تقویت اور قدرت حاصل ہوتی ہے ۔دوسرے یہ کہ اس میں غور وفکر و دقیقہ رسی کا مادہ موجود ہو ۔غور وفکر خود بخود الفاظ کا لباس پہن کر عمدہ تعلیم کے فقرات کی مدد سے ایک تقریر کا مضمون بن جا ئے گی ۔
(۳۹)مقرر کے لیے لازمی ہے کہ اسے انشا پردازی میں کافی دسترس حاصل ہو ۔
(۴۰)جب تک مقرر قاد رالکلام نہ ہوگا ،اس وقت تک وہ فن تقریر میں کمال حاصل نہیں کرسکتا ۔
(۴۱)جب تک ایک مضمون کو نئے طور سے ادا کرنے کا طریقہ ،الفاظ کی چست بندشیں اور رنگا رنگ فقرے ، مقرر کے حافظے میں نہ ہو ں ،تو اس وقت تک وہ اس فن میں ناقص ہے ۔ 
(۴۲)مقرر کو چاہیے کہ کو ئی عمدہ اور مستند کتاب اٹھالے اور اس میں سے چند الفاظ یا فقرے منتخب کرکے الٹ پھیر کے دیکھے اور کئی اسلوبوں میں بیان کرنے کی کوشش کرے ۔اس سے طرز ادا میں جدت اور زبان میں روانی پید اہوگی ۔
(۴۳)کسی کتاب کا کوئی مضمون مطالعہ کیجیے ۔پھر کتاببند کرکے اس مضمون کو اپنے انداز میں اور اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کرو ۔پہلے تھوڑی سی عبارت مشق کے لیے اختیار کرو۔ پھر رفتہ رفتہ پورے پورے مضمون اور پوری پوری کتاب کا خلاصہ بیان کرنے کوشش کرو۔اس طرح کی مشق تقریری صلاحت اجا گر کرنے میں کافی ممد و معاون ہوتی ہے ۔ 
(۴۴)کسی مستند شاعر کی نظم لے کر ذرا اونچی آواز سے شعر پڑھنے اور اس کے مطلب کو نثر میں ضروری الفاظ زیادہ کرکے بیان کرنے سے قوت بیانیہ کو ترقی ملتی ہے۔ 
(۴۵)تنہائی میں تقریر کی مشق کرتے وقت یہ فرض کرلینا چاہیے کہ ہم ایک بڑے مجمع کے سامنے بیان کر رہے ہیں۔اس سے جہاں جرأت و خود اعتمادی پید اہوگی،وہیں اسلوب واظہار میں بھی نکھارپیداہوگا۔ 
(۴۶)صرف لفاظی و لسانی اور چرب بیانی ،بکواس و فضول گوئی کے ہم معنی ہے ۔ 
(۴۷)مقرر کو اس بات سے واقف ہونا ضروری ہے کہ کون سا لفظ کس شکل میں اور کس موقعے پر موزوں ہے۔’’ہر سخنے وقت و ہر نکتہ مکانے دارد‘‘پر عمل ضروری ہے ۔ 
(۴۸)عصبی مزاج کامیابی میں بڑی حد تک سد راہ ہوتا ہے ؛لیکن حتیٰ المقدور اس پر غالب آنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
(۴۹)جب ایک جملہ شروع کرنے کے بعدا لفاظ یا ترکیب میں کوئی صرفی یا نحوی غلطی واقع ہوجائے ، تو اس کے دو علاج ہیں :یا تواس جملے کی اصلاح کی غرض سے اسے دوبارہ بولنا چاہیے یا صرف ونحو کوکچلتے ہوئے بے تکلف آگے بڑھ جانا چاہیے ؛لیکن غلطی اگر معمولی قسم کی ہوئی ہو اور تکلم میں کوئی جھول یا جھجھک واقع نہ ہوئی ،تو دوسری صورت زیادہ بہتر ہے ،ورنہ پہلی صورت اختیار کرنی چاہیے ۔ 
(۵۰)یاد رکھنا چاہیے کہ سامعین جب جوش میں بھرے ہوئے ہوتے ہیں ،تو انھیں صرف و نحو پر توجہ نہیں ہوتی۔ ہاں تقریر میں کوئی رکاوٹ پیداہونے سے ان کو ضرور الجھن ہوتی ہے ۔اس لیے اغلاط سے ممکنہ حد تک بچنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
(۵۱)ایک مقرر کواعلیٰ درجے کا حافظہ درکار ہے ۔ایک بے تکلف تقریر کرنے کو والے کو بھی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اپنی تقریرکے مطالب اول سے آخر تک پیش نظر رکھے اور تقریرکا مکمل خاکہ ذہن میں مرتب کرے۔
(۵۲)حافظے کی ترقی کے لیے خیالات کا یک جا ہونا ،توجہ کا یکسو رہنا ،دل کا شیطانی وسوسوں اور باطل افکار ونظریات سے پاک ہونا ضروری ہے ۔
(۵۳)اگر حافظے کی مضبوطی کے لیے کسی طبی دوا کی ضرورت محسوس کریں ،تو ضرور استعمال کریں ۔ایک بہتر ترکیب یہ بھی ہے کہ بہ تدریج مشق سے حافظے کو بڑھانے کی کوشش کی جائے ۔
(۵۴)کسی تقریر کو یاد کرنے کا عمدہ طریقہ یہ ہے کہ اس کے کئی حصے کر لیے جائیں اور ہر حصے کو الگ الگ مجلس میں یاد کریں ۔اس کے لیے سب سے بہتر وقت رات اور فجر کے بعد کا ہے ؛کیوں کہ اس وقت معدہ خالی رہتا ہے ، جس کی وجہ سے مضامین بہت جلد ذہن میں منقش ہوجاتے ہیں
(۵۵)سسرو کا قول ہے کہ ایک مقرر کو منطقیوں کی تیزی ،فلسفیوں کی دانائی ،شاعروں کی زبان ،مقننوں کا حافظہ اور عمدہ ایکٹر کی وضاحت اور اشارے درکار ہیں ۔
(۵۶)کسی جلسے میں شرکت کرنے سے پہلے اس کی نوعیت پر غور وفکر کر لینی چاہیے ۔ 
(۵۷)عام تقریروں کا مضمون موقع اور وقت کے لحاظ سے ہمیشہ نیا ہوتا ہے ،جس کی وجہ سے نئے دلائل اور جدید طرز ادا میسر آجاتا ہے ،لیکن ایک واعظ اور اپدیشک کو ہمیشہ ایک ہی مضمون پر تقریر کرنی ہوتی ہے اور بڑی فکر یہ ہوتی ہے کہ کہیں سامعین پرانی باتوں سے اکتانہ جائیں،اس لیے ایک واعظ کے لیے ضروری ہے کہ وہ پرانی باتوں میں دل چسپی پیدا کرنے کے لیے نئے نئے نکات اور مؤثر و دل کش اسلوب بیان اختیار کرے۔ 
(۵۸)مقرر کی طرح واعظ کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ جس عنوان پر وعظ کہہ رہا ہے، اس سے تجاوز نہ کرے اور اول سے آخر تک اس کو مؤثر اور دل کش بنانے کی کوشش کرے۔
(۵۹)تقریر ہو یا وعظ ،دونوں میں ایسی طوالت سے بچنا چاہیے ،جس سے سامعین اکتاہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں اور بے لطفی کا احساس ہونے لگتا ہے ۔
(۶۰)پبلک تقریروں میں زبان بالکل عام فہم ہونی چاہیے اور اس مشہور مقولے کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ’’داناؤں کی طرح غور کرو اور عوام کی طرح بولو‘‘۔
(۶۱)بے شمار استعارات و کنایات اور حد سے زیادہ رنگین بیانی سے لوگ ضرور مائل و مخاطب ہوتے ہیں،لیکن ایسی تقریر اثر انگیز اورعمل کا جذبہ پیدا کرنے سے قاصر رہتی ہے۔
(۶۲)پبلک تقریروں میں خواہ دلائل زیادہ ہوں، لیکن اس کے جذبات سے اپیل نہایت ضروری ہے ۔تا کہ سب لوگ مقرر کی جانب متوجہ ہوجائیں۔
(۶۳)عوام میں تقریر کرنے کے لیے ظرافت اور خوش طبعی نہایت ضروری ہے ۔اس کے بغیر رنگ نہیں جمتااور مجمع مقرر کے قبضے میں نہیں آتا ۔
(۶۴)تقریر نہ تو اتنی تیز کرنی چاہیے کہ کہیں کہیں الفاظ حذف ہونے لگیں ؛کیوں کہ اس سے تقریر کی شگفتگی جاتی رہتی ہے اور نہ اتنا ٹھہر ٹھہر کر بولنا چاہیے کہ بھولنے کا شبہ گذرنے لگے ؛کیوں کہ اس سے ا کتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے ۔
(۶۵)تقریر ایسی ہر گز نہ ہو کہ دلائل ہوں ،تو بے تکے اور بے وزن۔نفس مضمون سے الفاظ کا کچھ سروکار نہیں۔ دعویٰ کچھ ،ثبوت کچھ؛غرض تمام چیزیں انمل ،بے جوڑ۔
(۶۶)تقریر کی ترتیب بیانی بالکل صاف اور واضح ہونی چاہیے ،غرض تقریر کو ایک سڑک کی مانند ہونی چاہیے ، جس پر فرلانگ اور میلوں کے پتھر نصب ہوتے ہیں ،جس سے ہر وقت معلوم ہوسکتا ہے کہ منزل کتنی دور ہے۔
(۶۷)تقریر میں حتیٰ المقدور کتابی زبان سے احتراز کرنا چاہیے ۔
(۶۸)مقرر کو اپنے سامعین کی قابلیت کے مطابق کلام کرنا چاہیے اگر وہ معمولی عقل و فہم کے لوگ ہوں ،تو نہایت توضیح و تشریح کے ساتھ بیان کرنا چاہیے ۔اور اگر وہ تعلیم یافتہ ہوں ،تو عالمانہ اسلوب اختیار کرنا چاہیے اور غیرضروری تشریح سے بچنا چاہیے ۔
(۶۹)تقریر کو نہایت پرجوش ہونا چاہیے اور یہ تین باتوں پر منحصر ہے :بلند الفاظ،مترادف الفاظ اور ترتیب الفاظ۔ لہذا ان کو تقریر کرتے وقت مد نظر رکھنا چاہیے ۔
(۷۰)جو الفاظ رکیک،بازاری اور گندے سمجھے جاتے ہیں ،اور اہل ذوق ان کے استعمال کو ناپسند کرتے ہیں، ان سے پرہیز لازم ہے۔
(۷۱)تقریر کی آراستگی سے مردانہ ہمت اور پاکیزگی مترشح ہونی چاہیے ۔زنانہ بناوچناو حسن طبعی کے سامنے ہیچ ہے۔ 
(۷۲)کوئی خاص جملہ یا مخصوص لفظ مقرر کا تکیۂ کلام نہ ہو۔ 
(۷۳)ظرافت تقریر میں چٹنی کی حیثیت رکھتی ہے ۔خشک مضامین سے جو خشکی اور تکان پیدا ہوتی ہے ، اسے دور کرنے کے لیے یہ نہایت مفید ہے ۔
(۷۴)ظرافت میں اعتدال ضروری ہے ،ورنہ وہ پھکڑ یا مذاق بن جاتی ہے ۔
(۷۵)عمدہ اور سلیس تقریر حسب ذیل پانچ اجزا پر مشتمل ہوتی ہے :تمہید،دعویٰ،اثبات مدعیٰ،مراجعت،نتیجہ و خلاصہ ۔لیکن موقع اور وقت کے ماتحت بعض اجزا تبدیل اور حذف کیے بھی کی لاسکتے ہیں ۔
(۷۶)تمہید ایک عنوان کی طرح ہونا چاہیے ۔جس طرح عنوان سے مضمون کی مکمل کیفیت معلوم ہوجاتی ہے،اسی طرح تمہید ہی سے تقریر کی مکمل نوعیت واضح ہوجانی چاہیے۔ 
(۷۷)تمہید کو حسب موقع بہترین مقولوں ،شان دار مثالوں اور اچھے اشعار سے شروع کرنا چاہیے ۔کیوں کہ ان سے سامعین کی توجہ حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے ؛لیکن مضحکہ خیز اور تمسخر انگیز امور سے بچنا ضروری ہے۔ 
(۷۸)تقریرکے باقی دیگر حصے میں صحت لفظی کی اس قدر ضرورت نہیں ہوتی ہے،جتنی کہ تمہید میں ہوتی ہے۔ کیوں کہ شروع شروع میں سامعین نکتہ چینی کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔جب شروع ہی میں انھیں اپنا ہم نوا بنا لیں گے ،تو پھر وہ نکتہ چینی کے بجائے آپ کی تائید کریں گے ۔
(۷۹)تمہید تقریر کے تناسب سے بڑی چھوٹی ہونی چاہیے ۔ایسا نہ ہوکہ تقریر کا سارا وقت تمہیدہی میں گذر جائے اور بقیہ اجزا کے لیے دوسری نشست کا انتظار کرنا پڑے ۔اسی طرح تمہید میں دوسرے اجزا کی تفصیل نہیں ہونی چاہیے ؛ ورنہ وہ اپنے موقعے پر بالکل سبک اور بے اثر نظر آئیں گے اور مضامین مکرر ہونے کی وجہ سے اکتاہٹ کا باعث بنے گی ۔ 
(۸۰)تمہید کے بعد دعویٰ پیش کرنا چاہیے ۔دعویٰ بالکل صاف،مکمل،بے ساختہ اور نہایت واضح ہونا چاہیے کہ سامعین کو نفس مضمون کے متعلق کوئی شبہ باقی نہ رہے۔
(۸۱)تمثیلات اور نظائر سے کسی مضمون یا مطلب کی تشریح میں بڑی مدد ملتی ہے ۔
(۸۲)دلائل وبراہین کے لیے اول تو یہ ضروری ہے کہ وہ منتخب اور قوی ہوں ۔دوسرے یہ کہ ان کی ترتیب عمدہ ہو ۔ اور تیسرے یہ کہ وہ پر زور الفاظ میں بیان کیے گئے ہوں ۔
(۸۳)اثبات مدعیٰ کے درجنوں طریقے ہیں ۔ان میں سے ایک استقرا و استخراج بھی ہے۔اس کی تشریح یہ ہے کہ بتدریج ایک واقعے سے دوسرے واقعے کو ثابت کرتے جائیے اور اپنے دعویٰ تک پہنچ جائیے یا اس کے برخلاف دعویٰ سے ابتدا کیجیے اور اس کے اثبات یا تردید میں دلائل پیش کیجیے ۔ دلائل بالکل صاف اور الگ الگ ہوں ۔یہ ضروری نہیں ہے کہ بے شمار ہوں ؛البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ وزنی اور قطعی ہوں ۔ 
(۸۴)مراجعت سے تقریر کا وہ حصہ مرادہے ،جس میں مقرر اپنے دعوے کودلائل قاطع اور براہین ساطع سے پایۂ ثبوت تک پہنچا کر سامعین کو نہایت پر جوش الفاظ میں اپنا موئید اور ہم خیال بنا نے کی کوشش کرتا ہے ۔
(۸۵)جس موقعے پر کسی امر کا یقین دلانا ہو ،وہاں زور اور فصاحت کی چنداں ضرورت نہیں۔ لیکن جب ترغیب دینا مقصود ہو،تو اس کے بغیر کام نہیں چلتا ۔
(۸۶)بعض اوقات مقرر کسی واقعے سے خود متأثر ہوتا ہے اور حاضرین کو متأثر کرنے کے لیے اپنی آواز میں رونے کی سی کیفیت پیدا کرلیتا ہے ۔اس میں شک نہیں کہ اس سے مجمع میں خاص اثر پڑتا ہے ۔لیکن افراط و تفریط کو ملحوظ نہ رکھنا سخت غلطی ہے ۔
(۸۷)تقریر کا آخری حصہ یعنی نتیجہ و خلاصہ کی اہمیت مسلم ہے ،کیوں کہ تقریر کا اختتام اگر اطمینا ن بخش نہ ہو،تو ساری کوشش بے کار ہوسکتی ہے ۔
(۸۸)اگر ساری تقریر میں دلائل کی بھر مار رہی ہو ،تو اختتام پر ان کا خلاصہ بیان کرکے اور دعوے کو ثابت قرار دے کر خاموش ہوجانا چاہیے ۔
(۸۹)خاتمے کی کوئی بھی صورت اختیار کی جاسکتی ہے ،لیکن ایسے انداز میں نہ ہو کہ حاضرین اسے غیر متوقع اور قبل از وقت سمجھ لیں ۔
(۹۰)زبانی یاد کرکے تقریر کرنا گرچہ وقت پر کام نکال دیتا ہے ،لیکن در حقیقت اس سے کوئی شخص مقرر نہیں بن سکتا؛کیوں کہ کبھی اگر برجستہ بولنے کی ضرورت پیش آجائے ،تو ایسا شخص کچھ نہیں بول سکتا یا تقریر کے دوران بھول جائے ،تو اس کا بھانڈا پھوٹ جائے گا ۔البتہ ابتدائی طور پر مشق کے لیے یاد کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ تاہم رفتہ رفتہ بے ساختہ تقریر کرنے کی مشق کرنا ضروری ہے ۔
(۹۱)یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ مقرر سامعین کو حقارت آمیز الفاظ سے خطاب کرے۔اس لیے کسی بھی مجمع کو خواہ اس میں صرف جہلا ہی کیوں نہ ہوں ،عزت و وقار کی نگا ہ سے دیکھنا چاہیے اور معزز الفاظ سے خطاب کرنا چاہیے۔
(۹۲)جب ایک مقرر تقریر شروع کرتا ہے ،تو اس کے دل میں تمام سامعین کی شرکت خیال پیدا ہوتا ہے ، جس سے وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ مجمع کا مقابلہ کر رہا ہے ،اس لیے ایسے موقعے پر بڑی ہمت اور دلیری سے کام لینا پڑتا ہے ۔
(۹۳)جس طرح ایک ایک بڑے مجمع میں نوآموز گھبراتا اور مرعوب ہوتا ہے ،اسی طرح ایک مشاق مقرر کو اعلیٰ درجے کا جوش پیدا ہوتا ہے اور یہی ایک ایسا موقع ہوتا ہے،جہاں وہ بہتر سے بہتر تقریر کر سکتا ہے۔
(۹۴)مجمع میں جب مقرر کو اپنے حسن بیان اور عمدہ خیالات کی داد ملنی شروع ہوجاتی ہے ،تو اس کی طبیعت میں روانی اور تقریر میں جوش پیدا ہوجاتا ہے ۔
(۹۵)مقرر کی آوز نہایت صاف و شفاف،شیریں و بے عیب،لوچ دار ،خوش لہجہ اور پر درد ہونی چاہیے ۔
(۹۶)تقریر کے لیے سب سے عمدہ وقت کھانا کھانے کے تین یا چار گھنٹے بعد کا ہوتا ہے ۔ 
(۹۷)خالی پیٹ،بھوک وپیاس کی شدت یا ممتلی معدے کی حالت میں تقریر کرنا نامناسب ؛بلکہ ممنوع ہے۔سب سے بہتر حالت یہ ہے کہ بھوک و پیاس اور آرام و تکان ؛ہر اعتبار سے معتدل ہو۔
(۹۸)علیٰ الصباح تقریر کرنا بھی غیر موزوں ہے ،اس لیے کہ اس وقت حلق رطوبت سے صاف نہیں ہوتا اور معدہ بالکل خالی ہونے کی وجہ سے طبیعت پر زبردست زور پڑتا ہے ۔
(۹۹)ہکلانا ،تتلانا ،دانت پیسنا ،ناگوار و کریہہ صورت بنانا ،ناک منھ چڑھانا ،بے موقع ہنسنا ،بے تحاشا قہقہے لگانا ، جلدی جلدی سانس لینا ،اور اتنے لمبے چوڑے جملے استعمال کرنا کہ ان کے پورا کرنے سے پہلے سانس لینے کے لیے کئی بار ٹھہرنا پڑجائے ،تلفظ ،لب ولہجہ ،جوش و گرج،سوز و گداز،اشاروں ،جنبشوں،حرکتوں اور طرز بیان کا خاص خیال نہ رکھنامقرر کے لیے سخت معیوب ہے۔
(۱۰۰)اگر سانس جلدی جلدی لینے کی عادت ہو ،تو منھ میں شفاف پتھر کے چند گول ٹکڑے رکھ کر دم لیے بغیر کچھ اشعار وغیرہ گنگنانے کی کوشش کیجیے ۔اسی طرح اونچے نیچے ڈھلوان اور ناقابل گذر راستوں پر چلنے کی مشق کیجیے ۔ لوگوں کی چیخ و پکا ر اور شور غل سے پیدا ہونے والے خوف و گھبراہٹ کو دور کرنے کے لیے کسی پر شور سمندر ، ترنم آسا آبشاریا نغمہ ریز دریا کے کنارے بے قابو موجوں کو سامعین تصور کرکے تقریر کی مشق کیجیے ۔
(۱۰۱)آواز کو پر زور بنانے کی ایک اور ترکیب یہ ہے کہ ہوا کے رخ منھ کرکے زورزور سے چلائیںیا کسی دل کش قدرتی مناظر کے ارد گرد کھڑے ہوکر کچھ گائیں ۔
(۱۰۲)تقریر کرتے وقت بالکل سیدھا کھڑا رہنا چاہیے اس طرح کہ سینہ تنا ہوا رہے،لیکن اتنا تنا ہوا نہ ہو کہ لب کشائی میں دقت ہو ۔اور اگر بیٹھ کر تقریر کر رہے ہیں ،تو کرسی سے ٹیک لگا کر یا بغیر ٹیک لگا کر جو صورت آپ کے لیے آرام دہ ہو،اسی صورت و ہیئت میں بیٹھ کر تقریر کریں۔
(۱۰۳)زکام سے بچنا چاہیے اور حفظ ما تقدم کے طور پر مناسب تدبیر اختیار کرنی چاہیے۔ 
(۱۰۴)گلا خراب کرنے والے مشروبات ،تمباکو ،کھینی،گٹکے ترش اور زیادہ گرم چیزوں کے استعمال سے آواز بگڑجاتی ہے ۔بکثرت پان کھانا بھی نقصان سے خالی نہیں ہے ،اس سے زبان موٹی ہوجاتی ہے اور تلفظ میں نقص آجاتا ہے ۔
(۱۰۵)دانتوں کی حفاظت ضروری ہے ؛کیوں کہ اس کے بغیر آواز درست نہیں نکل سکتی ۔ 
(۱۰۶)کسی قدر گانے اور ترنم کا شوق پیدا کرنے سے بھی آواز ترقی پاتی ہے ۔ 
(۱۰۷)تقریر کرتے وقت گردن اور سینے پر زیادہ چست کپڑے نہیں ہونا چاہیے ۔ 
(۱۰۸)آواز کی درستگی کے لیے طبی دواؤں کا استعمال اور اس سلسلے میں حکیم سے مشورہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ 
(۱۰۹)لکنت اور لہجے کا پھسلنا بھی آواز کے لیے ایک زبردست عیب ہے ؛لیکن دوؤں سے اس کا علاج ممکن ہے۔مثلابادام اور مصری کا متواتر استعمال کافی مفید ہے۔
(۱۱۰)زیادہ بولنے، حدسے زیادہ چیخنے چلانے ،خلاف عادت کافی دیر تک تقریر کرتے رہنے اور بری طرح آواز نکالنے سے بھی آواز متأثر ہوتی ہے ،اس سے پرہیز کرنا چاہیے ۔
(۱۱۱)سانس پر ہمیشہ قابو رکھنا چاہیے اور حتیٰ الوسع تقریر میں اتنی ہی دفع سانس لینے کی کوشش کرنی چاہیے ، جتنی کہ ضرورت ہو ،ضرورت سے زیادہ سانس لینا تقریر میں بے لطفی پیدا کر دیتا ہے ۔
(۱۱۲)سانس کو نتھنوں سے کھینچنی چاہیے اور تقریر میں جس جملے پر وقفہ لازم ہو ،وہیں پر دم لینا چاہیے ۔سانس کی اصلاح کے لیے یوگا کا حبس دم کا عمل یا یہ کہ سانس کو آہستہ آہستہ لینا اور آہستہ آہستہ نکالنا بہت مفید ہے ۔
(۱۱۳)علما کی صحبت ،ان کی تقریروں کی سماعت و مشاہدہ اور زبان دانوں سے گفتگو سے عموما تلفظ صحیح اور لب و لہجہ درست ہوجاتا ہے ۔
(۱۱۴)الفاظ میں زیروزبر ،تشدیدومد،اور حرکات و سکنات کے اغلاط کا ارتکاب ،مقرر کی حیثیت کو مجروح کر دیتا ہے ۔
(۱۱۵)آواز کی بلندی اور پستی کے متعلق یہ خیال رکھنا کافی ہے کہ سامعین کے مقام اور حسب موقع بلند یا پست کیا جائے ۔
(۱۱۶)سامعین پر مقرر کی حرکات و سکنات کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے ۔
(۱۱۷)ہاتھوں اور سر کی جنبش میں بھدا پن اور بد تہذیبی نہیں ہونی چاہیے ،مثلا مونڈھے چڑھانا ، ہتھیلیاں پیٹنا ، تالیاں بجانا ،آنکھیں مٹکانا،چاروں طرف ناچناوغیرہ۔
(۱۱۸)تقریر کے وقت دل کی کیفیت چہرے سے عیاں ہونی چاہیے ،مثلا اگر تقریر کا موضوع غم ہے ،تو چہرے سے بھی غم ظاہر ہونا چاہیے ۔اگر غصے کا اظہار ہے ،تو چہرہ بھی تمتما رہا ہو۔لیکن منھ بنانا،چہرہ بسورنا ، آنکھیں گھمانا،گال پھلانا سخت معیوب ہے ۔ 
(۱۱۹)بعض مقرر تقریر کے دوران آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور بعض جلد جلد جھپکاتے ہیں ؛یہ دونوں باتیں عیب میں داخل ہیں۔
(۱۲۰) مقرر کا لباس سادگی کا نمونہ ہونا چاہیے ۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ داغ دار ،میلے کچیلے ،پھٹے پرانے کپڑے زیب تن کرلے؛بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیا نہ ہو تو نہ صحیح ،لیکن دھلے دھلائے ،صاف ستھرے اور اجلے ہو۔ اور ایسا بھی پر تکلف اور بھڑک دار نہ ہو کہ سب لوگ تقریر سننا چھوڑ کر مقرر کا لباس ہی دیکھنے میں رہ جائے ۔
(۱۲۱)تقریر کی سادگی اور جملوں کا اختصار نہایت مؤثر ثابت ہوتا ہے ؛لیکن نہ اتنی سادگی کہ مضمون بالکل عامیانہ ہوجائے اور نہ اتنا اختصار کہ مطلب فوت ہوجائے ۔
(۱۲۲)اگر تقریر کے دوران اپنے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت پیش آجائے ،تو اپنا تذکرہ نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ کرنا چاہیے ۔اگر خود ستائی بھی عاجزانہ انداز میں کی جاتی ہے ،تو سامعین میں کچھ برا اثر پیدا نہیں ہوتا۔
(۱۲۳)تقریر میں اتنی مہارت پیدا کر لینی چاہیے کہ سامعین کو رلانا ہنسانا ،آپ کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہو ۔
(۱۲۴)اگر تقریر مناظرہ کا پہلو رکھتی ہو ،تو مخالفین کا نام نہایت ادب کے ساتھ لینا چاہیے اور کبھی اشتعال اور غصے سے مغلوب نہیں ہونا چاہیے ۔
(۱۲۵)مناظرہ میں کبھی ذاتیات پر حملہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ایسے الفاظ استعمال کرنا چاہیے، جن کی شریفانہ اخلاق اجازت نہیں دیتی ۔اور جو دوسروں کی دل آزاری کا باعث ہوں ۔
(۱۲۶)اگر جانب مخالف آپ کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کرے،تو تحمل سے کام لینا چاہیے اور شائستگی کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے ۔
(۱۲۷)غصے سے عقل مغلوب ہوجاتی ہے اور ذہن اپنا کام کرنا بند کردیتا ہے ۔کبھی کبھار جانب مخالف اسی لیے غصہ دلانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ آپ کو غصہ دلا کر اپنی بازی مار لے جائے ،اس لیے جانب مخالف کی کسی باتوں پر غصے میں نہیں آنا چاہیے اور اس کی اس سازش کو سمجھنا چاہیے ۔
(۱۲۸)اگر کوئی بات بحث و تنقیح کے بعد ثابت ہوجائے ،تو کج بحثی اور کٹ حجتی سے پرہیز کرنا چاہیے اور اسے تسلیم کرتے ہوئے کوئی مناسب تاویل سے چھٹکارہ پانے کی راہ تلاش کرنی چاہیے۔
(۱۲۹)دوران تقریر اس بات غورپر کرتے رہنا چاہیے کہ آپ کی تقریر سامعین پر کیا اثر مرتب کررہی ہے ۔ آپ کے کس انداز اور کن باتوں سے زیادہ متأثر ہورہے ہیں ۔اور آئندہ بھی وہی طریقہ اختیار کیجیے ،جو تجربے سے معقول ہو۔
(۱۳۰)ہمیشہ اپنی غلطیوں اور نا مناسب باتوں پر غور کرتے رہنا چاہیے۔
(۱۳۱)جب آپ کا مخاطب ایسا مجمع ہو،جس میں مرد وعورت دونوں ہوں ،تو اپنی تقریر میں دونوں کو مخاطب بنائیے ۔عورتوں کو فراموش نہ کیجیے ۔
(۱۳۲)سیاحت اور اسفارسے تجربات میں اضافہ ہوتا ہے ،اس لیے مقرر کے لیے سیاحی اور اسفار کرنا مفید ہے۔ اسی طرح ہر طرح کے علوم وفنون میں ماہر شخصیات سے تبادلۂ خیال کرنا بھی فائدے سے خالی نہیں ہے ۔
(۱۳۳)صداقت اختیار کرنی چاہیے اور سامعین کا ہمدرد ہونا چاہیے ،کیوں کہ یہ دونوں چیزیں ایک فصیح مقرر کے لیے بیش قیمت جوہر ہیں ۔
(۱۳۴)حتیٰ المقدور اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ آپ کو اپنے سے بالا اور بہتر مقرر کے بعد تقریر کرنی پڑے ؛کیوں کہ ایسی صورت میں مجمع پر کنٹرول کرنا بہت دشوار ہوتا ہے ۔اور اگر کبھی کرنی ہی پڑجائے ،تو اپنی پوری طاقت تقریر پر صرف کردینی چاہیے اور نہایت سلیقے کے ساتھ سامعین کی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ایسے موقعے پر حتیٰ الامکان مختصر سے مختصر تقریر کرنی چاہیے ۔
(۱۳۵)کبھی چبا نہ کر نہ بولیے ۔الفاظ نوالہ نہیں ۔اس طرح بولیے کہ حلق سے نکلی اور حلق میں پہنچی ۔آوز ذریعۂ ابلاغ ہے ۔گلا صاف ہوگا ،تو آواز ستھری ہوگی۔
(۱۳۶)صبح و شام کی سیر میں کھلی ہوا ،آپ کی آواز کو پروان چڑھا سکتی ہے ۔آواز کے ساتھ ایک بنیادی چیز اظہار ہے کہ آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں،وہ کس طرح کہتے ہیں ؟اظہار ایک ایسا وصف ہے ،جو ردو قبول کی فضا پیداکرتا ہے۔آپ کے اظہار میں دل آویزی نہیں ،تو آپ کی عمدہ سے عمدہ بات بھی غیر مؤثر ہوگی ۔آپ نے کئی دفعہ محسوس کیا ہوگا کہ ایک ہی بات مختلف زبانوں سے اظہار کی بدولت ،مختلف تاثیر پیدا کرتی اور اظہار کی مختلف لہروں سے گرم ،سرد ، مرطوب اور معتدل ہوجاتی ہے ۔جب تک آپ اظہار میں دست گاہ حاصل نہ کرلیں ،اس وقت تک آپ کا تأثر گہرا نہیں ہوسکتا اور نہ خطابت کا روپ ہی نکھر سکتا ہے۔اظہار کی آب و تاب آپ جید مقرروں ، نام ور شاعروں ،آپ کے مطالعے کی وسعت اور مشق و تمرین سے معلوم کر سکتے ہیں ۔
(۱۳۷)اشارات خیالات کے ترجمان ہیں ۔ہم زبان سے الفاظ بولتے اور ہاتھوں کی حرکت سے ان کا وزن قائم کرتے ہیں ۔ہمارے چہرے کی سلوٹیں ،باہوں کے زاویے اور آنکھوں کے ڈورے ہماری خطابت کا اعلامیہ ہیں ۔ عوام ان سے الفاظ ہی کی طرح مستفید ہوتے ہیں ۔اس لیے ضروری ہے کہ اشارات حقیقی ہوں ، مصنوعی نہ ہوں ؛ورنہ تقریر کا تأثر تاراج ہوجاتا ہے ۔
(۱۳۸)آپ جس موضوع ،عنوان یا مضمون پر تقریر کرنا چاہتے ہیں ،اس کی تیاری ضرور کیجیے ۔کسی کاغذ کے پرزے پر اشاراتی نوٹ لینا کوئی عیب نہیں ۔ذہنی تیاری ضرور کیجیے ۔تیاری وزن بڑھاتی ہے ۔جو کچھ آپ کے ذہن میں ہوتا ہے ،اس میں اضافے کا موجب ہوتی اور زبان و بیان میں تسلسل و آرائش کا باعث بن جاتی ہے ۔ 
(۱۳۹)جس موضوع یا مضمون پر تیاری کریں ،اس کے عمومی دلائل کو اپنے لہجے میں بیان کریں ؛لیکن اصل خوبی یہ ہے کہ اپنے موضوع و مضمون کے لیے کوئی نئی بات ضرور پیدا کریں ۔
(۱۴۰)ایسے موضوع پر کبھی بھی نہ بولیں ،جس سے آپ کو دل چسپی نہ وہ، یا جس کے بارے میں آپ کو معلومات نہیں ہیں ۔محض طلاقت لسانی سے آپ کسی موضوع پر قادر نہیں ہوسکتے ۔
(۱۴۱)سب سے اہم چیز یہ ہے کہ آپ تقریر کیسے شروع کریں ؟۔یاد رکھیے کہ ہر تقریر کا ابتدائیہ ہی سمع وبصر کو ملتفت کرتا ہے ۔ابتدائیہ کے بول اسی طرح اٹھائیے کہ اس کے الفاظ عوام کے سینے میں اس طرح کھب جائیں ، جس طرح شاعروں کے دل میں سرمئی نگاہیں اتر جاتی ہیں ۔آپ اسٹیج پر کھڑے ہوتی ہی اس طرح معلوم ہوں کہ آپ کوخود پر اعتماد ہے ۔آپ خوش چہرہ ہیں اور عوام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہم کلام ہونا چاہتے ہیں ۔ 
(۱۴۲)ابتدا ہی سے گرج گونج پیدا نہ کیجیے ۔نہ آواز میں جوش و خروش لائیے ۔ملائمت و سلاست سے چلیے ۔ جب لوگ ہمہ تن گوش ہوجائیں گے ،تو اظہار واسلوب کے زاویے اپنی حرارت خود قائم کر لیں گے ۔آپ کے ذہن میں یہ احساس ہونا چاہیے کہ آپ کا مقصد ان کے دماغوں پرفتح مندی حاصل کرنا ہے ۔ اور انھیں اس طرح اپنے ہاتھ میں لینا ہے کہ وہ آپ ہی کے ہوجائیں ۔
(۱۴۳)آپ مجمع کو اس وقت تک کسی ترغیب پر آمادہ نہ کریں ،یا عمل کی دعوت نہ دیں ،جب تک اس کو وحدت میں ڈھال کر اپنی مٹھی میں نہ کرلیں ۔عوام کبھی ایک نہیں ہوتے ،انھیں ایک کرنا ہی مقرر کا سب سے بڑا سحر ہے۔
(۱۴۴)ہمیشہ دوستانہ طریقے سے خطاب کیجیے ۔کبھی اجنبی انداز میں نہ بولیے ،اس غرض سے ایسا کوئی پہلو ضرور تلاش کریں ،جو آپ کے اور عوام کے مابین مشترک ہو ۔
(۱۴۵)اگر کوئی مقرر آپ سے پہلے اپنے خیا لات کی چھاپ لگا چکا ہے اور مجمع نے اس کی تحسین کی ہے ،تو اپنی تقریر کا آغاز اسی سے ملاکر اس طرح کیجیے ،گویا آپ اس کہانی کو آگے بڑھارہے ہیں ۔اس کے خلاف بولنے کی قطعا حماقت نہ کریں۔
(۱۴۶)خواہ مخواہ خطابت میں تموج پیدا نہ کیجیے ۔مصنوعی مدو جزر اور اختیاری گونج گرج کی مثال اس طرح ہے گویا آپ خواہ مخواہ ڈھولک پہ تھاپ لگا رہے ہیں اور بلاذوق بانسری بجا رہے ہیں ۔
(۱۴۷)خطیب کی واحد خوبی یہ ہے کہ اپنے سامعین میں اکتاہٹ پیدا نہ ہونے دے ۔اور جب اکتاہٹ پیدا ہونے لگے ،تو اپنے بیان میں اس طرح شگفتگی پیدا کرے کہ ان کے چہرے کھل جائیں ،اور ان کی توجہ ابھر آئے۔ یہی خطابت کی رعنائی ہے ۔
(۱۴۸)بعض مقرر شعروں کی بھر مار کرتے ہیں ۔ایک ایسا معاشرہ یا مجمع ،جو علمی طور پر ادھورا ہو ، اس میں شاعری کی برکھا واقعی لطف دے جاتی ہے ؛لیکن شاعری کی بہتا ت ہر موضوع اور مضمون کے لیے موزوں نہیں ۔یہ صحیح ہے کہ شعر سے خطابت میں کشش پیدا ہوتی ہے اور سامعین برجستہ اشعار پر جھومتے ہیں؛لیکن خطابت میں وہی شعر جوبن پیدا کرتا اور دلوں کو غنچوں کی طرح کھلاتا ہے ،جو تقریر سے اسی طرح منسلک ہو ،جس طرح ردیف کے ساتھ قافیہ۔ اور یہ محسوس ہو ،گویا کسی آہوِ چشم کا سحرِ نگاہ کاجل سے دہک اٹھاہے ۔اسی طرح ان کا استعمال بداہتا ہو، گویا حافظہ جاگ اٹھاہے اور فقروں کی تراش خراش کے ساتھ شعروں کا دریچہ کھل گیا ہے ۔ خطابت میں شعر آورد سے نہیں ،آمد سے تیر ونشتر ہوتے ہیں ۔
(۱۴۹)اپنے تخیل کی اڑانوں میں اضافہ کرتے رہیے ۔ان کی نشو نما اس طرح کیجیے کہ آپ خود محسوس کریں کہ آپ کوئی نئی چیز حاصل کر رہے ہیں اور آپ کے سامعین کو بھی احساس ہو کہ وہ خیالات کے نئے لالہ زاروں میں گل کشت کر رہے ہیں ۔ 
(۱۵۰)زبان سیکھتے رہیے ۔زبان سب سے بڑی دولت ہے ۔جس طرح اندھا بتا نہیں سکتا کہ اس کے گرد و پیش کیا ہے ،اسی طرح زبان سے محروم انسان اپنے خیالات پر روشنی نہیں ڈال سکتا ۔ایک بے زبان شخص علم کا مزار ہے ۔ زبان ہمیشہ سیکھیے ،ہر لحظہ سیکھیے اور آخر تک سیکھیے۔
(۱۵۱)کسی مقرر کے طرز(اسٹائل) کی نقل نہ کیجیے اور یہ کوشش کیجیے کہ وہ نقل آپ کی اصل ہوجائے ۔ اصل اصل ہے ،کاربن کاپی بننے سے کچھ فائدہ نہیں ۔دوسروں کے محاسن سے فائدہ ضرور اٹھائیے ۔ان کے اظہارو اسلوب اور بیان و زبان سے اپنی انفرادیت پیدا کیجیے ۔ایک نام ور مقرر کی تکنیک کا مطالعہ خود ایک تکنیک پیدا کرتا ہے ،لیکن اس کا چربہ اتارنا فنی علو کے لیے مفید نہیں ۔ناقل بہر حال ناقل ہی ہوتا ہے اور ان کا شعلہ بعجلت کجلاجاتا ہے ۔
(۱۵۲)کوئی ایک طرز خطابت کے لیے پائیدار نہیں ،کیوں کہ خطابت خیالوں کا میوزیم ہے ،جو آواز کی نیو پر قائم ہے ۔انسان مجموعہ ہے حواس خمسہ اور عناصر اربعہ کا ،اس کا سر ہے ،آنکھیں ہیں ،ناک ہے ،رخسار ہے ،منھ ہے، دانت ہے ،جگر ہے ،دل ہے وغیرہ ۔کسی ایک عضو کو خواہ وہ کتنا ہی اہم ہو ،ہم انسان نہیں کہہ سکتے ،اسی طر ح ہم کسی ایک طرز کو خطابت نہیں گردان سکتے ۔کئی طرزوں کی رنگا رنگی سے خطابت کی تصویر ابھرتی ہے ۔
(۱۵۳)ہمیشہ دوست کی حیثیت سے خطاب کیجیے اور عوام کو یہ تأثر کبھی نہ دیجیے کہ آپ ان سے کوئی ا لگ انسان ہیں یا ان کے ہدایت کار ہیں ۔آپ ان کے لیے معلم نہیں ؛بلکہ ان کے ہم سفر ہیں ۔وہ خود محسوس کریں کہ آپ ان کے میر کارواں اور سالار قافلہ ہیں ۔
(۱۵۴)انشا و شعر میں تکرار عیب ہے ؛لیکن تقریر و خطابت میں تکرار عیب نہیں؛بشر طیکہ آپ کسی نظریے یا مقصد کو عوام کے ذہنوں میں وحدت مقصد کی غرض سے اتارنا چاہتے ہیں اور آپ اس غرض سے الفاظ کو مختلف پیراہن پہنا سکتے ہیں ۔لیکن خواہ مخواہ تقریر کو طول دینے کے لیے مضامین کا تکرار سخت معیوب ہے ۔
(۱۵۵)جب مجمع بہت بڑا ہو ،تو آپ استدلال سے کہیں بڑھ کر جذبے سے کام لیں اور اپنے ذہن میں یہ بات نقش رکھیں کہ عوام جذبات کی مخلوق ہیں ؛کیوں کہ وہ استدلال کے نہیں، جذبے کے شیدائی ہوتے ہیں ۔
(۱۵۶)جس طرح صبح کی ہوا صحت کے لیے ضروری ہے ،اسی طرح صبح کا اخبار خطابت کے لیے لازم ہے ۔ آج کا انسان اخباری مطالعہ کے بغیر گھپ اندھیروں میں کھو جاتا ہے ۔ہر انسان علاقائی حدود کی شہریت کے باوجود ذہنی اعتبار سے عالمی ہوچکا ہے ۔
(۱۵۷)کبھی اس قسم کے صنائع و بدائع یا استعارے اور تشبیہیں استعمال نہ کیجیے ،جو عوام کی ذہنی استعداد کے لیے پہیلی ہوں ۔ان استعاروں اور تشبیہوں سے کام لیں ،جو عوام کے دماغ ،حلق سے نکلتے ہی اعادہ کرلیں اور وہ لطف محسوس کریں کہ آپ انھیں ساتھ لے کر چل رہے ہیں ۔
(۱۵۸)بسا اوقات اپنے سے برتر خطیب اور بلند تر شخصیت کا غیر شعوری دبدبہ آپ کو شعوری طور پر اس طرح مرعوب کرتا ہے کہ آپ احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں ۔یہ ایک طبعی امر ہے ۔ہر مقرر کو اس حالت سے گذرنا پڑتا ہے ؛لیکن اس پر قابو پانا مشکل بھی ہے اور آسان بھی ۔اگر آپ کے پاس اپنے موضوع کا سرمایہ ہے اور آپ خطابت کے اور چھور سے واقف ہیں ،تو آپ خود اعتمادی سے اس حالت پر قابو پاسکتے ہیں اور اس کے خوف کو گرد کی طرح جھاڑ سکتے ہیں ۔جب تقریب و اجتماع اس انداز کا ہو ،تو اپنے موضوع کی ہمہ جہت تیاری کے بعد ہی خطاب کریں۔آپ کے حسن ابتدائیہ پر عوام کی تحسین آپ کے ذہن کو جگمگا دے گی اور آپ کا ذہنی راستہ کھلتا چلا جائے گا ۔
(۱۵۹)اپنی تقریر میں سامعین و حاضرین کو شریک کرنے کی غرض سے کسی بات پر تائیدو تو ثیق یا اقرارو عمل کا وعدہ کرنا کرانا کوئی عیب نہیں ؛البتہ زیادہ اصرار و الحاح نا مناسب ہے ۔
(۱۶۰)ایک با کمال خطیب بننے کے لیے ان نکات کا بار بار مطالعہ کرنا ،ان اشارات کا سمجھنا اور ان ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے ۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں