داستان کربلا

Views: 32
Spread the love
Avantgardia

مفتی فہیم الدین رحمانی قاسمی دنیا نے سیکڑوں دلدوز مناظر اور روح فرسا واقعات دیکھے ہوں گے رنج و غم کی داستانیں سنیں ہوں گی غمگساروں کے حالات اور ماتم کرنے والوں کے آنسوؤں کے دریا بہتے دیکھے ہوں گے لیکن! تاریخ کے کسی دور میں دنیا کے کسی المناک حادثہ پر نسل انسانی نے اس قدر آنسو نہ بہائے ہوں گے جس قدر داستان کربلا میں شہادت حسین پر بہائے حضرت امام حسین ٣/شعبان المعظم ٤ھ مطابق ٨/جنوری ٦٢٦ء پیر کے دن پیدا ہوئے آپ کی والدہ ماجدہ جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیاری اور چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تھیں اور آپ کے والد ماجد حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور آپ فخر رسول سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے لاڈلے نواسے تھے حضرت سید الکونین کے قلب مبارک میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی خصوصی محبت ودیعت کی گئی تھی آپ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ادنیٰ سی تکلیف میں بےقرار ہوجاتے تھے ایک دن حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے مکان کے پاس سے آپ کا گزر ہوا تو امام حسین کے رونے کی آواز سنائی دی آپ فوراً حضرت فاطمہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا بیٹی! تو اس بچہ کو رلا کر مجھے دکھ دیتی ہے حضرت حسین کی تربیت نانا جان کی آغوش میں ہوئی حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کی اعلیٰ سوسائٹی میں بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کی منزلیں طے کیں اس لئے آپ کی زندگی کا ہر گوشہ درخشندہ اور سنت نبوی علیہ السلام کے مطابق تھا حق گوئی بےباکی انصاف پسندی انسانیت نوازی صبر و تحمل آپ کی طبیعت ثانیہ تھی یہی کربلا کی خونیں داستان اور دردناک حادثہ کا سبب اصلی ہے٦١ھ میں بد قسمتی سے دنیا جبر و ظلم کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گھر گئی تھی آزادی اور حریت کی جگہ شخصیت پرستی نے اور نظام شوروی کی جگہ ڈکٹیٹر شپ نے لے لی تھی جمہوریت کا جنازہ نکلنے لگا تھا وہ مسندِ خلافت جس پر حضرات صحابہ کرام میں سے حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق حضرت عثمان غنی اور حضرت علی مرتضیٰ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہم اجمعین جیسے خلفاء متمکن تھے اس پر یزید جیسا ظالم و جابر بادشاہ بیٹھ گیا تھا جس نے دولت کے گہوارہ میں آنکھ کھولی تھی ناز و نعم میں پلا بڑھا تھا بیشتر اولاد امراء کی طرح یہ بھی علم سے بے بہرہ تہذیب و تمدن سے نابلد اور عیش و عشرت کا متوالا تھا جو کتوں کی لڑائیوں میں کبوتر بازیوں میں گانے والی رنڈیوں اور بادہء خوش رنگ کے شغل اور رقص و سرور میں مدہوش رہتا عیاری اور نفاق کا پیکر تھا اس کے والد حضرت امیر معاویہ نے اس کی بے رہ روی کو اندیشہ کی نظر سے دیکھا اور راہ راست پر لانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر تربیت طبیعت پر غالب نہ آسکی. اس نے اسلام کے نورانی چہرے پر نفس پرستی اور خود غرضی کے جالے تان دیئے تھے صحابہ کرام کے طرز انتخاب جو ایک کمیٹی بحیثیت مجلس شوریٰ ہوا کرتی تھی اس کے بر خلاف اس نے جبری چناؤ ملوکیت اور استبداد کی بنیاد ڈال دی تھی نیک لوگوں کو قتل کرا دیا بدطینتوں کو عہدے دیئے عوامی خزانے سے بے تحاشا مال لٹائے اس کے افسران سے بھلائی کے کام کم اور برائیاں زیادہ پھیلیں عدل و انصاف کی جگہ ظلم و جور کا غلبہ ہوتا چلا گیا فسق و فجور راگ رنگ کا دورہ شروع ہوگیا حلال و حرام کی یکسر تمیز اٹھتی چلی گئی یہ وہ حالات تھے جن کو دیکھ کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بے چین ہوگئے حمیت و غیرت نے گوارہ نہ کیا کہ ہمارے جیتے جی نانا جان کا دین مٹ جائے آپ کلمہ ء حق کا جھنڈا بلند کرنے اور انصاف و سچائی کا بول بالا کرنے جمہوریت اور آزادی رائے کا پرچم پھیلا نے کے لئے خاندان سمیت میدان میں کود پڑے یزید اور اس کی حرکات کا پیرو چاہتا تھا کہ اسلام کا شورائی نظام امام حسین کے نام پر اسلام سے خارج ہوجائے اس کے افسران نے دولت و حکومت کا لالچ دیا جان و مال کا خوف دلایا اور یزید کی بیعت کے لئے ولید بن عتبہ بن ابی سفیان گورنر مدینہ کے ذریعہ بھر پور کوشش کی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے شان متانت سے فرمایا میں نبی برحق کا نواسہ ہوں یہ کسی حال میں نہیں ہوسکتا کہ تیری شیطانی اور رومانی حکومت تسلیم کرکے نانا جان کی امت اور دنیا کے لئے غلامی اور محکومی کا سبق چھوڑ جاؤں اگر آپ چاہتے تو یزید کی اطاعت کا اعلان کر کے تمام مصیبت سے نجات پالیتے لیکن امام حسین رضی اللہ عنہ حق کی راہ سے نہ ہٹے اور خدا کی مرضی پر راضی برضا رہےاور اپنے مسلک پر چٹانوں کی طرح قائم رہے آپ نے جنگ و جدال سے بچنے کی ہر چند کوشش کی مگر یزیدی فوج نے یزید کی بیعت کے سوا اور کوئی شرط منظور نہ کی اور ١٠/ محرم الحرام ٦١ھ مطابق ١٠/ستمبر ٦٨١ء کو بالآخر حق و باطل کی وہ جنگ چھڑ گئی جس پر انسانیت رہتی دنیا تک حسرت و افسوس کے آنسو بہاتی رہے گی جرمن مؤرخ ہر ماہرین نے ایک مقام پر لکھا ہے کہ،، امام حسین،، نے یہ مصائب سلطنت اور حکومت کے لئے نہیں برداشت کئے اور نہ ہی بغیر سوچے سمجھے کربلا کی مہلک وادی میں قدم رکھا،، حسین،، کا حکیمانہ تخیل کس قدر بلند تھا اسے مادیت کا پرستار سمجھ ہی نہیں سکتا ان کا واحد مقصد راہ حق میں عظیم قربانی تھی ورنہ بھلا کون اکیلاانسان پوری سلطنت سے ٹکراتا ہے انھیں ساری دنیا کو سبق دینا تھا کہ حق کے راستے میں کثرت اور قلت کی پرواہ نہ کرو بس حق کے لئے باطل سے ٹکرا جاؤ یہ اہل بصیرت ہی حسین رضی اللہ عنہ کے فلسفہ کو سمجھ سکتے ہیں خادم التدریس والافتاء :مدرسہ عربیہ ھدایت الاسلام انعام وہار سبھاپور دہلی وچیرمین شیخ الھند ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ آف انڈیا وامام و خطیب جامع مسجد انصار وہار

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart