دنیاوی زندگی سے کیا مراد ہے؟

ہزرائل ہائی نیس پرنس غازی بن محمد

قسط نمبر 9

جان رکھو کہ دنیا کی زندگانی یہی ہے کھیل اور تماشا اور بناؤ اور بڑائیاں کرنی آپس میں اور بہتایت ڈھونڈنی مال کی اور اولاد کی جیسے حالت ایک مینہ کی جو خوش لگا کسانوں کو اُس کا سبزہ پھر زور پر آتا ہے پھر تو دیکھے زرد ہوگیا پھر ہوجاتا ہےروندا ہوا گھاس اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور معافی بھی ہے اللہ سے اور رضامندی اور دنیا کی زندگانی تو یہی ہے مال دغا کا۔ (الحدید 57 : 20)

            دنیاوی زندگی قلب کی زندگی کے بالکل برعکس ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ قلب کا تعلق اندرون سے ہے جب کہ دنیاوی زندگی خارج سے متعلق ہے۔ یہ اضافہ غیر ضروری ہے کہ اندرون اور خارج ایک دوسرے کے برعکس ہیں۔ دنیاوی زندگی سے ہماری یہ مراد نہیں ہے کہ دنیا کی زندگی جو یقیناً انتہائی بیش قیمت ہے اور اس میں قلب کی زندگی بھی شامل ہے بلکہ اس میں ہمارا مقصود دنیا کی زندگی ہے یعنی ایسی زندگی جو حد سے زیادہ مادّی ہو۔ مذکورہ بالا آیت میں اللہ نے ایسی مادی  دنیاوی زندگی کی مذمت کی ہے اور اس کی تعبیر بطور کھیل کود، زینت، باہمی تفاخر اور اولاد اور دولت کے معاملے میں ایک دوسرے سے برتری حاصل کرنے سے تعبیر کیا ہے۔ ان کی وضاحت حسب ذیل ہے:

۱۔         کھیل کود ضروری بھی ہے، فطری بھی ہے اور فی نفسہٖ نہ برا ہے اور نہ اچھا۔ کھیل کود کے ذریعہ ہی بچے بہت کچھ سیکھتے ہیں اور بڑوں کو اُس سے لطف اور راحت ملتی ہے۔ لیکن جب کھیل کود کسی اہم چیز میں حارج ہونے لگے اور اصل معاملات متاثر ہونے لگیں تو یہ رکاوٹ بن جاتا ہے۔

۲۔        بھٹکنا:۔ اس سے مراد توجہ کی کمی ہے اور یہ فرائض کی ادائیگی میں نادانستہ کوتاہی کا نام ہے۔

۳۔        زینت:۔ اس سے مراد کسی شئے کے لئے انتہائی شدید جذبہ۔ ایسی شئے سے محبت جو کہ نہیں ہونا چاہئے یا کسی شئے سے کسی غلط وجہ سے یا سرسری اور غیر ضروری وجہ سے محبت ہونا۔ بالفاظ دیگر یہ خارجی حسن کے لئے ہوس اور دنیاوی زندگی سے ایسی محبت کا نام ہے جس سے اندرونی حسن متاثر ہوتا ہو۔ یہ صراحت ضروری ہے کہ اندرونی حسن ایک صفت ہے اور یہ قلب کی نیکی سے عبارت ہے۔ اللہ فرماتا ہے:

فریفتہ کیا ہے لوگوں کو مرغوب چیزوں کی محبت نے جیسے عورتیں اور بیٹے اور خزانے جمع کئے ہوئے سونے اور چاندی کے اور گھوڑے نشان لگائے ہوئے اور مویشی اور کھیتی، یہ فائدہ اٹھانا ہے دنیا کی زندگی میں اور اللہ ہی کے پاس ہے اچھا ٹھکانا۔(آل عمران آیت 14 : 3)۔

۴۔        زینت سے مراد کسی شئے کی جانب غیر ضروری توجہ ہے۔ جہاں تک باہمی تفاخر کا معاملہ ہے اس میں بنیادی نکتہ غرور کا ہے۔ کسی شئے کے لئے محبت ہونا بالعموم کسی خارجی شئے سے متعلق ہوتا ہے جبکہ غرور ایک اندرونی معاملہ ہے۔ اگر کسی کا مقصود صحیح ہے تو اس کے تئیں جذبہ بھی محمود ہے اور اگر وہ مقصود صحیح نہیں ہے تو یہ جذبہ بھی قابل اعتراض ہے۔ اسی طرح اگر غرور کا مقصود قلب اور اندرونی کیفیت ہو تو اس سے انسان کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف اگر کوئی اپنی انا کی محبت کا شکار ہے تو یہ انانیت پسندی پر منتج ہوتا ہے۔ غرور کی یہ قسم ہر گناہ کی جڑ ہے اور متعدد فتنوں کو جنم دیتی ہے۔ قرآن کے مطابق غرور ہی کے باعث شیطان اللہ کی نظروں سے گرا، اس نے آدم کے آگے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ شیطان نے خدا سے کہا :‘‘بولا میں بہتر ہوں اُس سے، مجھ کو بنایا تو نے آگ سے اور اُس کو بنایا مٹی سے’’(ص 76 : 38)۔ غرضیکہ غرور جذبات سے بدتر ہے۔ شدید جذبہ کے زیر اثر انسان قلب کو نظر انداز کرتا ہے جبکہ انا اور غرور قلب کی مخالف ہیں۔

۵۔        اولاداور مال و دولت کے بارے میں مسابقت:۔ اولاد اور مال و دولت یہاں دنیاوی اثاثہ کا استعارہ ہیں۔ اس مسابقت کے لئے عربی میں لفظ تکاثر استعمال ہوتا ہے جو کہ لالچ اور ہوس کے ہم معنیٰ ہے۔ یہاں کوئی صحت مند مسابقہ مراد نہیں ہے بلکہ یہاں حوالہ لالچ حسد، باہمی نفرت اور جارحیت کا ہے۔ یہ غرور کا انجام بد ہے اور اسی سے ہر طرح کے تشدد کو راہ ملتی ہے۔

            غرضیکہ صرف ایک آیت میں دنیاوی برائیوں کا تذکرہ بخوبی کردیا گیا ہے۔ نفسیاتی لحاظ سے اس کی ابتداء بظاہر معصومانہ جذبہ سے ہوتی ہے لیکن انجام مطلق فساد اور شر ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیاوی زندگی  کےبارے میں عام طور سے منفی تصور پایا جاتا ہے اور قرآن کے متعدد آیات میں اس کے بے مصرف ہونے کا ذکر ہے۔ نبی اکرمؐ  کا قول ہے ‘‘دنیا کی خواہشات کو ترک کرو اللہ تم سے محبت کرے گا، لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس کی خواہش نہ کرو تو لوگ تم سے محبت کریں گے’’ (ابن ماجہ)۔

            باب کی ابتداء میں مذکور آیت میں انسان کی زندگی کے مختلف مراحل کا بیان ہے اور اس کی غلطیوں کا بھی تذکرہ ہے۔ کھیل کود بچوں کا فعل ہے، بھٹکنا بھی ایسے لوگوں کا فعل ہے جو کہ اپنا فرض توجہ سے ادا نہیں کرتے۔ زیب و زینت ان نوجوانوں کا شوق ہے جن کو صنف مخالف میں دلچسپی ہوتی ہے اور وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ دلفریب بناکر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ باہمی تفاخر پُر اعتماد اور ہر لحاظ سے دنیاوی ساز و سامان سے لیس افراد میں پایا جاتا ہے۔ یہ لوگ دنیا کا زیادہ سے زیادہ حصہ پانا چاہتے ہیں۔ بچوں اور مال و دولت میں تکاثر بالعموم ادھیڑ عمر کے لوگوں کی کمزوری ہوتی ہے اور ایسے بوڑھے افراد کی جو کہ جسمانی طور پر کمزور ہوجاتے ہیں یا ان کا اتنا سِن ہوجاتا ہے کہ اُن کے پوتے پوتیاں بھی ہوجاتے ہیں۔ مشہور برطانوی ڈرامہ نگار شیکسپیر کے ڈرامے  As you like it کے ایکٹ 2،سین 7میں ایک کردار جیکس ہے جس نے انسان کی زندگی کے 7مراحل کا ذکر کیا ہے۔ یہ تذکرہ بہت مشہور ہے اور اس میں انسانی زندگی کے تمام پہلؤوں کی رعایت ملتی ہے۔ یہاں 7 کا عدد اہم ہے کیونکہ اس سے انسان کی عمر کے مراحل ہی نہیں بلکہ سات سیاروںکی علامت بھی ہمیں نظر آتی ہے۔ یہ بیان کچھ اس طرح ہے :

‘‘یہ پوری دنیا ایک اسٹیج ہے اور سارے مرد اور عورت محض اس اسٹیج کے کردار۔ وہ داخل ہوتے ہیں اور رخصت ہوجاتے ہیں اور اپنے وقت میں ہر ایک انسان مختلف کردار ادا کرتا ہے۔ اُس کے یہ کردار عمر کے سات مراحل ہیں۔ سب سے پہلے وہ ایک شیر خوار بچہ ہوتا ہے جو اپنی آیا کی گود میں شور شرابا کرتا رہتا ہے اور اس کے بعد ایک اسکول کا طالب علم جسے پڑھنے سے رغبت نہ ہو۔ وہ بستہ لئے اپنے روشن چہرے کے ساتھ انتہائی سست رفتاری اور بے دلی کے ساتھ اسکول جاتا ہے۔ اگلا مرحلہ نوجوان عاشق کا ہے جو گرم بھٹی کی طرح آہیں بھرتا ہے اور اپنی محبوبہ کے چشم و ابرو کے حوالے سے دردناک گانے پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد مرحلہ ایک ایسے سپاہی کا ہے جس نے عہد و پیمان کئے ہوتے ہیں۔ یہ اپنی عزت کے بارے میں بڑا حساس واقع ہوتا ہے اور ہمہ وقت جنگ پر آمادہ رہتا ہے۔ اس کا مقصود حباب کی سی شہرت ہے اور اس شہرت کے حصول کے لئے وہ توپ کے منہ میں بھی جانے پر تیار رہتا ہے۔ اس کے بعد کا مرحلہ اس قاضی کا ہے جو اچھا کھانے کا رسیا ہے،  اور جو خشمگیں نگاہوں، مقطع داڑھی ، تجربے اور جدید علم کے ساتھ  اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ چھٹا مرحلہ وہ ہے جب انسان دبلا پتلا ہوجاتا ہے اور ڈھیلے ڈھالے کپڑوں میں ملبوس ناک پر عینک اور سامان کا ڈبہ اُس کے بازو میں ہوتا ہے۔ اُس کی نوجوانی کے کپڑے ہر چند کہ محفوظ ہوتے ہیں لیکن اب وہ اس کے لئے بالکل ڈھیلے ہوجاتے ہیں۔ اُس کی بھاری مردانہ آواز پھر بچکانی آواز میں بدل جاتی ہے اور اس کے منہ سے صرف سیٹیاں سنائی دیتی ہیں۔ آخری منظر جس کے ساتھ انسان کی زندگی کا خاتمہ ہوتا ہے وہ یہ کہ اُس کا بچپنا پھر لوٹ آتا ہے اور غفلت ہی غفلت ہوتی ہے اور انسان کے نہ دانت ہوتے ہیں اور نہ آنت اور نہ ذائقہ، اُس کے پاس کچھ نہیں رہ جاتا ہے’’۔

            ابتدا میں مذکورسورہ الحدید کی  آیت میں انسان کی زندگی کے مراحل ہی نہیں بیان کئے گئے ہیں بلکہ ہر عہدکی اندرونی کیفیات اور روحانی خطروں کا بھی نقشہ کھینچا گیا ہے۔ یہ صراحت البتہ ضروری ہے کہ اسلام میں بڑھاپے کا ضعف کوئی عیب یا گناہ نہیں۔

            اس صورت میں انسان کو کیا کرنا چاہئے، عملی شکل کیا ہے؟ ان ہدایات سے کیا سبق لیا جائے؟ سادہ اور مختصر الفاظ میں پیغام یہ ہے کہ وقت ضائع نہ کیا جائے۔ دنیا کی زندگی ایک پودے کی مانند ہے جو پہلے پہل مالک کو لبھاتی ہے لیکن پھر یہ پودا مرجھا جاتا ہے اور پھر بھوسا بن جاتا ہے۔ بالفاظ دیگرزندگی بہت مختصر ہے اور اگر کسی نے طویل عمر پائی بھی تو ضعف کا عالم ہوتا ہے۔ بالآخر اس کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔ صرف نوجوانی میں جب انسان صحت مند ہوتا ہے اس کو یہ خیال ہوتا ہے کہ اس کے پاس فاضل وقت ہے، یہ درحقیقت ایک خود فریبی ہے۔ امریکی شاعر اور مصنف ایڈگر ایلن پو (م 1849) اپنی نظم A Dream Within a Dream  میں کہا ہے :

تمہارا یہ اندازہ غلط نہیں ہے کہ میری زندگی ایک خواب کی مانند تھی، میں ایک شور مچاتے ہوئے ساحل پر کھڑا تھا اور میرے ہاتھ میں سنہری ریت تھی۔ ریت کے چند ذرے اور وہ بھی میری انگلیوں سے پھسل کر سمندر میں جاملے اور میرا یہ حال ہے کہ میں آہ و بکاہ کرتا ہوں۔ اے میرے خدا کیا یہ ممکن نہیں کہ میں ان کو اور مضبوطی سے پکڑ سکوں۔ اے میرے خدا! کیا میں ان کو بے رحم موجوں سے بچا نہیں سکتا۔ یہی وہ سب کچھ ہے جو ہم دیکھتے ہیں۔ محض خواب در خواب۔

            حقیقت یہ ہے کہ دنیاوی زندگی فانی ہے اور ضائع کرنے کے لئے مطلق وقت نہیں ہے۔ موت ناگزیر ہے اور صرف ایک سانس کے فاصلے پر واقع ہے۔ موت ہر لمحہ ہماری طرف بڑھ رہی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ ہماری عمر کیا ہے۔ قرآن میں یہ یاددہانی ملتی ہے :‘‘خرابی تیری خرابی پر خرابی تیری، پھر خرابی تیری خرابی پر خرابی تیری’’ (القیامہ 34-35 : 75 )۔ ہمیں اس تلخ حقیقت کا یقیناًٍ سامنا کرنا ہے۔

            غالباً یہی وجہ ہے کہ سورہ الحدید کی اگلی آیت میں یہ مضمون درج ہے: ‘‘دوڑو اپنے رب کی معافی کی طرف کو اور بہشت کو جس کا پھیلاؤ ہے جیسے پھیلاؤ آسمان اور زمین کا، تیار رکھی ہے واسطے اُن کے جو یقین لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر، یہ فضل اللہ کا ہے دے اُس کو جس کو چاہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے’’ (الحدید 57 : 21) اسی کی ہم معنی یہ آیت قرآنی بھی ہے: ‘‘اور دوڑو بخشش کی طرف اپنے رب کی اور جنت کی طرف، جس کا عرض ہے آسمان اور زمین، تیار ہوئی ہے واسطے پرہیزگاروں کے’’ (آل عمران133 : 3)۔ قرآن کا پیغام یہی ہے کہ اللہ کی جانب رجوع کیا جائے: ‘‘سو بھاگو اللہ کی طرف میں تم کو اُس کی طرف سے ڈر سناتا ہوں کھول کر’’ (الذاریات 50 : 51)۔

ان سب کا علم کیوں ضروری ہے؟

            زیادہ تر ممالک میں اور بالخصوص طالب علم اپنا زیادہ سے زیادہ وقت سیر و تفریح میں ضائع کرتے ہیں۔ تاریخ میں اس سے قبل ان مشاغل پر اتنی توجہ نہیں دی گئی۔ بالفاظ دیگر ایک عام آدمی ایک دن میں چھ گھنٹے تک یا بیداری کا ایک تہائی حصہ روزانہ ٹیلی ویژن یا فلموں یا انٹرنیٹ یا گپ بازی یا سوشل میڈیا، ویڈیو گیم، فحشیات اور بالغوں کے تفریحی پروگراموں، موسیقی کے ویڈیو، عوامی گیتوں یا ریڈیو کی نذر کردیتا ہے۔ یعنی ہر ہفتہ چالیس گھنٹہ سے زائد ان مصروفیات پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ یہ اعادہ ضروری ہے کہ چالیس گھنٹہ فی ہفتہ کام یا کاروبار کا بھی دورانیہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کام کے بجائے سارا کا سارا وقت فلم، ٹیلی ویژن، میڈیا اور انٹرنیٹ کی نذر ہوجاتا ہے۔ یہ ایک طرح کا نشہ ہے اور خرافات چیزوں کی غلامی ہے۔ یہ وہ دنیاوی زندگی ہے جو کھیل کود اور بھٹکنے سے بھی بڑھ کر غلط جذبات کی تسکین میں صرف ہورہی ہے اور اسی سے معاشرتی بے چینی پیدا ہوتی ہے اور یہ دنیاوی زندگی کی حقیقت سے بالکل مختلف ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جس میں تفریح کو مذہب اور مذہب کو تفریح بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔

            زندگی کی قدر و قیمت کے بارے میں اسلام کا ایک مخصوص نقطۂ نظر ہے اور اس کے ساتھ ہی اسلام موت کے لازمی اور ناگزیر ہونے پر بھی تاکید کرتا ہے۔ چونکہ ہم زندہ ہیں لہٰذا ہمیں یہ غلط فہمی رہتی ہے کہ موت صرف دوسروں کو آتی ہے اور اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن امر واقعہ یہ نہیں ہے، موت کا تعلق ہر ایک سے ہے اور جلد ہی ہر ایک کا سابقہ موت سے پڑنے والا ہے۔ الغزالی رقمطراز ہیں:

‘‘تمہارا وقت تمہاری موجودہ زندگی ہے اور موجودہ زندگی تمہارا سرمایہ ہے۔ اس کے ذریعہ تم بہترین تجارت کرسکتے ہو اور اخروی کامیابی اور نجات حاصل کرسکتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکتے ہو۔ تمہاری ہر ایک سانس ایک بیش قیمت ہیرا ہے کیونکہ یہ ناقابل تلافی ہے، ایک دفعہ یہ سلسلہ ختم ہوگیا تو پھر کبھی لوٹ کر نہیں آنے والا۔ ایسے احمق کی طرح مت بنو جو اپنے دولت کے اضافے پر باغ باغ ہوتے ہیں جبکہ ان کی زندگی ہر لحظہ ختم ہورہی ہے۔ جب زندگی ہی باقی نہیں تو پھر ایسی دولت سے کیا فائدہ’’۔ (ابو حامد الغزالی : The Beginning of Guidance-1)۔

            اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر شخص کو تفریح کی اور راحت حاصل کرنے کی روزانہ ایک یا دو گھنٹہ ضرورت ہوتی ہے البتہ دن میں چھ گھنٹہ بغیرکسی جسمانی ریاضت کے یا بغیر کسی ذہنی مشق کے اور دینی، معاشرتی اور خاندانی اور دیگر نیک فریضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا وقت ضائع کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ یہ زندگی کا زیاں ہے اس سے  نفسیاتی، معاشرتی، تمدنی، طبی، معاشی اور حتی کہ سیاسی میدان میں بھی خراب نتائج بھی پیدا ہوتے ہیں۔ نبی اکرمؐ کا قول ہے :

پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے قبل استعمال کرو : اپنی نوجوانی کو بڑھاپے سے قبل، صحت کو بیماری سے قبل، اپنے مال کو غربت سے پہلے، اپنے فاضل وقت کو مصروفیت سے پہلے اور اپنی موت سے قبل اپنی زندگی کا بہترین استعمال کرو۔ (الحاکم)

Article Tags

Facebook Comments

POST A COMMENT.