دہشت گردی اور مذہب کے نام پر فرقہ وارانہ فسادات اور بے قصوروں کی خوں ریزی کے خلاف واضح اور متحدہ موقف

عظیم اللہ قاسمی صدیقی میڈیا انچارج جمعیت علمائے ہند




دہشت گردی سے مذہب کا تعلق
دہشت گردی اور فرقہ پرستی کے نام پر دنیا میں جو بھی خونریز واقعات اور حوادث ہو رہے ہیں ، اس میں کہیں نہ کہیں مذہب کا نام ضرور لیا جاتاہے ،دنیا میں مختلف ناموں سے جڑے لٹیرے اور قاتل گروہ ، اپنے جرائم کو مذہب کی آڑ میں چھپانے کا ہنر جانتے ہیں، وہ خون خرابہ اپنی قوت اور انا کی آسودگی کے لیے کرتے ہیں مگر اس کی وجہ سے مذہب کو بدنام کیا جاتاہے، حالاں کہ عملی زندگی میں وہ مذہب سے کوسوں دور ہوتے ہیں، اگر ماضی کی تاریخ کو سامنے رکھا جائے توہندستان میں مذہب کا نام لے کر تقسیم وطن کا مطالبہ کرنے والے طبقہ کے بہت سے قائدین کا مذہب سے عملی طور پر کوئی رشتہ نہیں تھا ،لیکن انھوں نے تقسیم وطن کے مطالبے میں مذہب کا نام خوب استعمال کیا اور نتیجہ یہ ہوا تقسیم کے نام پر ہزاروں نفوس کو اپنی جان گنوانی پڑی، جب کہ مولانا حسین احمد مدنیؓ اور مولانا آزاد ؒ دین اسلام کے سچے پابند تھے لیکن انھوں نے مذہب کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کی شدید مخالفت کی ۔اسی طرح مدن موہن مالویہ اور گولولکر کا ہندو مذہب سے کوئی عملی رشتہ نہیں تھا جس کی نسل آج تک روئے زمین پر فساد برپا کررہی ہے، جب کہ مہاتما گاندھی ایک سچے مذہبی شخص تھے اور وہ فساد اور خون خرابے کے بڑے مخالف تھے۔اسی طرح دہشت گردی اور فرقہ پرستی میں وہی لوگ مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں جن کا مذہب سے رشتہ اور لگاؤ نہیں ہوتا ہے ۔لیکن اس کے باوجود افسو س ہے کہ جب بھی جادہ حق سے ہٹا ہوا کوئی سرپھرا مسلمان کسی مجرمانہ اور دہشت گردانہ عمل میں گرفتار ہوتا ہے ، خفیہ ایجنسیاں او ر میڈیا اسے اسلام اور مسلمانوں سے جوڑ کر پس پردہ اسلام کو مطعون کرنے کی سازش کرتی ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی اور اس کے اثرات بد سے پوری دنیا پریشان ہے، دہشت گردی چاہے فرد کی طرف سے ہو یا تنظیم یا اسٹیٹ کی طرف سے قابل مذمت ہے اور اس پر روک لگانے کی سخت ضرورت ہے، کوئی ملک اور سماج پرامن ماحول میں ہی ترقی کرسکتا ہے، دہشت اور خوف کی حالت میں لوگوں کی توجہ زندگی کے بنیادی مسائل سے ہٹ کر صرف اپنے تحفظ پر مرکوز ہوجاتی ہے اور سماجی نظام درہم برہم ہوکر رہ جاتا ہے، یقیناً مسلمان بھی سماج کا حصہ ہیں ،دہشت گردی کے عمل سے مسلمان بھی کسی سے کم پریشان نہیں ہیں بلکہ مسلمان دوہری دشواری میں مبتلا ہے کیوں کہ ہر حادثے کے بعد اسے اپنے اعزاء کی لاشوں کو سمیٹنے کے بعد اپنی شناخت اور وجود پر ہورہے حملوں کی اذیت بھی سہنی پڑتی ہے، اس کے نوجوانوں کو قید کرکے دہشت گرد ی کا لیبل لگایاد جاتا ہے ،اسے یہ سننا پڑتا ہے کہ پابند شرع اچھا مسلمان محب وطن نہیں ہوسکتا کیوں کہ اسلام مسلمانوں کو دوسرے فرقوں سے دور رہنے اور نفرت کی تعلیم دیتا ہے ،
اسلام اور امن عالم
اگر اسلامی تعلیمات کا جائزہ لیا جائے تواس کی تعلیمات میں امن عالم اور باہمی رواداری کا سب سے بہتر درس موجود ہے ، امن عالم کے بارے میں اسلام کی تعلیمات اس قدر واضح اور روشن ہیں کہ ان سے صرف نظر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔چناں چہ احادیث شریفہ میں خلق خدا پر رحم کرنے اور ان کے ساتھ مہربانی کا برتاؤ کرنے کی انتہائی تاکید وارد ہوئی ہے، ایک روایت میں آنحضرت انے ارشاد فرمایا:
الراحمون یرحمھم الرحمن ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء۔
( رواہ ابو داؤد والترمذی، مشکوۃ شریف ۲/۴۲۳)
مہربانی کرنے والوں پر رحمن مہربان ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
ایک روایت میں آپ ا نے ارشاد فرمایا:
لایرحم اللہ من لایرحم الناس۔ ( متفق علیہ، مشکوۃ شریف ۲/۴۲۱)
جوشخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ بھی اس پررحم نہیں کرتا ہے۔
اسی طرح کسی انسان کو ناحق قتل کرنا اسلام میں بہت بڑا گناہ ہے، اسلام نے ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مرادف قرار دیا ہے۔ (سورۂ مائدہ) اسلام کی نظر میں انسان کے خون کے ایک ایک قطرے کی قیمت ہے ا ور وہ اپنے دائرۂ اثر میں رہنے والے تمام افراد کی جانی حفاظت کا ضامن ہے بلا خاص سبب کے اسلامی حکومت میں کسی بھی شخص کو خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم جان سے مارنا جائز نہیں ہے۔ ارشاد خداوندی ہے :
ولاتقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق ومن قُتل مظلوما فقد جعلنا لِوَلِیہ سلطٰنا فلایسرف فی القتل انہ کان منصوراً۔
( سورہ بنی اسرائیل۳۳)
اور جس شخص کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل مت کرو۔ ہاں مگر حق پر۔ اور جو شخص ناحق قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے سو اس کو قتل کے بارے میں حد سے تجاوز نہ کرنا چاہئے، وہ شخص طرف داری کے قابل ہے۔
اسلام میں کوئی بھی قتل حتی الامکان رائیگاں نہیں چھوڑا جاسکتا۔ یا تو قاتل سے جانی بدلہ لیا جائے گا یا دیت اور فدیہ لے کرمقتول کے وارثین کی اشک شوئی کی جائے گی تاکہ کسی شخص کو اس طرح کی وحشیانہ حرکت کر نے کی آئندہ جسارت نہ ہو سکے۔
جنگی حالات میں انسانیت نوازی کامظاہرہ
اسلام کی انسانیت نوازی کی انتہا یہ ہے کہ وہ جنگی حالات میں بھی انسانی حقوق کامکمل خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام کی پوری کو شش یہ ہوتی ہے کہ جنگ کا دائرہ بے قصوروں تک نہ پھیلے اور مقابلہ صرف قصورواروں کی حد تک رہے۔ اسلام نے دشمنوں کے ساتھ کئے گئے معاہدات کی حتی الامکان پاس داری کرنے کا سبق دیا ہے۔ اور پوری اسلامی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ مسلمانوں نے علاقائی اور بین الاقوامی معاہدوں کو روبہ عمل لانے میں کبھی کوتاہی نہیں کی، اسلام نے ہمیشہ وسعت ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے قابو پاجانے کے باوجود دشمنوں سے انسانی ہمدردی اور رواداری کا معاملہ کیا ہے جس کی روشن مثال فتح مکہ کا عظیم واقعہ ہے جب چشم فلک نے یہ حیرت ناک منظر دیکھا کہ محسنِ انسانیت، فخر دو عالم، رحمت للعالمین، حضرت محمدمصطفیا کی طرف سے ان دشمنوں کی عام معافی کا اعلان کیا گیا جو کل تک آپ کے جانی دشمن تھے حضرت ابو سفیان ص جو فتح مکہ سے قبل مسلمانوں کے خلاف کئی جنگوں کی قیا دت کر چکے تھے انھوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تو آپ ا نے ان کی دل داری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ: ’’جو شخص ابوسفیان ص کے گھر میں داخل ہو جا ئے وہ پناہ میں ہے‘‘۔ مگر ابو سفیان صنے کہا کہ: ’’میرے گھر میں آخر کتنے لوگ آپائیں گے‘‘ ؟ تو آپ انے فرمایا کہ: ’’جو کعبہ میں داخل ہو جائے وہ بھی امن میں ہے‘‘۔ پھر ابوسفیان صنے کہا کہ: ’’کعبہ میں کتنے لوگ آسکیں گے‘‘؟ تو آپ ا نے اعلان کیا کہ: ’’جو شخص مسجد حرام میں چلا جائے وہ بھی امن میں ہے‘‘۔ ابو سفیان صنے اس کو بھی کم سمجھا۔ تو آپ ا نے آخری اعلان یہ فرمایا کہ: ’’جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرکے بیٹھ جائے وہ بھی امان میں ہے‘‘۔ یہ سن کر ابوسفیان ص نے اطمینان کا اظہار کیا۔ (البدایۃ والنہایۃ۴/۶۸۶)
اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جنگی جنون میں انسان اتنا مدہوش نہ ہوجائے کہ جو بھی اس کے سامنے آئے اسے اندھادھند جارحیت کا نشانہ بناتا چلا جائے۔ بلکہ جنگ کی حالت میں بھی اس بات کا ہوش رکھنا لازم ہے کہ مقابلہ میں کون سامنے ہے؟ جو لوگ مقابلہ میں نہ ہوں یا کمزور اور بے قصور ہوں جیسے عورتیں، بچے، بوڑھے، اور دنیاوما فیہا سے بے خبر ہوکر یکسوئی کے ساتھ عبادت کرنے والے لوگ، توان سے کچھ تعرض نہ کیا جائے۔ ایسے بے قصوروں کو بلاوجہ قتل کردینا اسلام میں سنگین جرم ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرص فرماتے ہیں کہ کسی غزوہ کے موقع پر آنحضرت ا نے ایک مردہ عورت کی لاش دیکھی جسے قتل کردیاگیاتھا‘تو آپ ا نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
(مسلم شریف ۲/۸۴، مصنف ابن ابی شیبہ ۶/۴۸۶)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ خلیفۂ اول امیرالمؤمنین سیدنا ابو بکر صدیق ص نے ایک جہادی لشکر کو روانہ کرتے وقت اس کے کمانڈر کو دس ہدایتیں ارشاد فرمائیں : (۱)کسی بچہ کو قتل مت کرنا (۲)کسی عورت پر ہاتھ مت اٹھانا (۳) کسی ضعیف بوڑھے کو مت مارنا (۴) کوئی پھل دار درخت مت کاٹنا (۵) کسی بکری اور اونٹنی وغیرہ کو خواہ مخواہ ذبح مت کرنا، ہاں اگر کھانے کی ضرورت ہو تو حرج نہیں (۶) کسی کا مثلہ مت کرنا (۷) کسی باغ کو نہ جلانا (۸) کسی باغیچہ میں پانی چھوڑ کر اسے تباہ مت کرنا (۹)بزدلی مت کرنا (۱۰) غنیمت کے مال میں خیانت مت کرنا۔(مصنف ابن ابی شیبہ ۶/۴۸۷)
نیز حضرت عبداللہ ابن عباس صفرماتے ہیں کہ نبی اکرم ا لشکرروانہ کرتے وقت یہ تاکید فرماتے تھے کہ جو راہب اپنی کٹیوں (او ر آشرموں )میں عبادت میں مشغول ہیں ان کو قتل مت کرنا۔(مصنف ابن ابی شیبہ ۶/۴۸۸)
ان تفصیلات سے معلوم ہوا کہ اسلام کسی بھی مرحلہ میں بے قصوروں کے ساتھ زیادتی کو پسند نہیں کرتا۔ اور اس بارے میں اسلامی تعلیمات فطری طورپر انسانیت کی بقا اورتحفظ کی ضمانت ہیں ۔
ان حقائق کے باوجود بھی جولوگ اور طاقتیں دہشت گردی کا رشتہ اسلام سے قائم کرتے ہیں وہ سچائی اور انصاف کے قاتل ہیں اور نفرت کے سوداگر ہیں، دہشت گردی کے معاملے کو فرقہ اور مذہب کے تناظر میں دیکھنے سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف امن پسندوں کی لڑائی کمزور ہوجاتی ہے، دہشت گردی کو ایک لعنت اور پرامن سماج کے لیے عذاب سمجھتے ہوئے بلاامتیاز مذہب وفرقہ تمام مہذب امن پسند لوگوں کو اس کا متحد ہوکر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، چاہے وہ اسٹیٹ ہو یا تنظیم یا پولیس انتظامیہ یا میڈیا یا تفتیشی ایجنسیاں سب کو امن اور ترقی یافتہ سماج بنانے کے لیے اپنا اپنا رول اداکرنا چاہیے، سرکار، میڈیا اور برادران وطن کو خاص طور سے دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس کے انسداد کے لیے اس طور سے کوشش کرنی چاہیے کہ اسے فرقہ وارانہ رنگ نہ ملے
مذہب کے نام پر فرقہ وارانہ فساد
اسلام کے مخالفین یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ اسلام میں دوسرے مذہب والوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے اورجب موقع اور طاقت ملتی ہے مسلمان غیر مسلموں کے ساتھ غیر مناسب رویہ اپناتے ہیں اور ان کو اذیت دینا اپنا مذہبی فریضہ تصور کرتے ہیں ، حالاں کہ یہ بات محض الزام ہے، حقیقت کااس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ اسلام کی نظر میں تمام دنیا کے غیر مسلم دو طبقوں میں منقسم ہیں :(۱) اول وہ لوگ جو مسلمانوں سے بغض وعداوت رکھتے ہیں اور دین پر عمل کرنے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اورمسلمانوں کی اذیت رسانی میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھتے تو ایسے دشمنوں کے ساتھ دوستی کرنے کی اسلام واقعی اجازت نہیں دیتا۔ اس لئے کہ ان سے دوستی رکھنے میں قومی وملی نقصانات کا اندیشہ ہے۔ (۲) دوسرے وہ غیرمسلم ہیں جن کا مسلمانوں سے کوئی نزاع نہیں ہے۔ نہ وہ دین کے درمیان حائل ہوتے ہیں اورنہ مسلمانوں کو ان سے کوئی خطرہ ہے۔ تو ایسے غیر مسلموں کے ساتھ انسانی ناطہ سے حسنِ سلوک کرنا اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔ خود قرآنِ کریم نے ان دونوں طبقات اور ان کے متعلق معاملات کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے۔ ارشاد خدا وندی ہے:
لاینھٰکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوا الیھم ان اللہ یحب المقسطین۔انما ینھٰکم اللہ عن الذین قاتلوکم فی الدین واخرجوکم من دیارکم وظاھروا علی اخراجکم ان تولوھم ومن یتولھم فاولٰئک ھم الظلمون۔(سورہ ممتحنہ ۸۔۹)
اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے۔ اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، اللہ تعالیٰ انصاف کا برتاؤ کرنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔صرف ان لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے سے اللہ تعالیٰ تم کو منع کرتا ہے جو تم سے دین کے بارے میں لڑتے ہوں، اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہو، اور تمہارے نکالنے میں مدد کی ہو، اور جو شخص ایسوں سے دوستی کرے گا سو وہ لوگ گنہ گار ہوں گے۔
قرآن کریم کی جن آیتوں میں کفار کوقتل کرنے کے احکامات دئیے گئے ہیں ان کا تعلق انہی کفار سے ہے جو اسلام اور مسلمانوں سے بر سر پیکار ہیں، یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو کافر جہاں ملے تہِ تیغ کر دیا جائے۔ چناں چہ جو غیر مسلم اسلامی حکومت میں زندگی گزار تے ہیں، ان کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر اسی طرح لازم ہوتی ہے جیسے ایک مسلمان کے تحفظ کی ذمہ داری ہوتی ہے ،اور کسی غیرمسلم شہری کو ستانے پر آنحضرت ا نے سخت ترین وعید ارشاد فرمائی ہے۔ آپ ا کا اعلان ہے:
جو شخص کسی ذمی (اسلامی حکومت میں امن لے کر رہنے والے غیر مسلم شہری )کو قتل کردے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ پائے گا اگر چہ جنت کی خوشبو ۴۰ ؍سال کی مسافت سے آنے لگتی ہے۔ (رواہ البخاری، مشکوٰۃ۲۹۹)
اب سوال یہ ہے کہ اسلام کی اس تعلیم امن کے باوجود ہندستان میں اس قدر فرقہ وارانہ فسادات کیوں کر ہوئے اور ہندو اور مسلمانوں کے درمیان خون خرابہ کا عمل کیوں کر جاری ہے ؟اس میں کوئی شبہ نہیں ہے فر وارانہ فسادات اور ان کے نتیجے میں ہونے والے بھاری جانی، مالی نقصانات اور فرقوں کے درمیان نفرت وکشیدگی ملک کی ترقی اور نیک نامی میں بڑی رکاوٹ ہے، کوئی بھی ملک باہمی اتحاد اور امن کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا ہے، فرقہ وارانہ فسادات جہاں ملک کو پیچھے اور پسماندگی کی طرف لے جاتے ہیں، وہیں ان سے ملک کی بدنامی اور رسوائی بھی ہوتی ہے، یہ بات بہت شرمناک ہے کہ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے ہوئے بھی ہم ایک دوسرے سے دور اور بے خبر رہتے ہیں۔ لیکن ان فسادات کا تعلق مسلمانوں سے ہرگز نہیں ہے ، بلکہ ان میں زیادہ تر نقصانات مسلمانوں کے ہی ہوئے ہیں ، دوسری طرف مسلم علماء خاص طور سے جمعےۃ علما ء ہند ہمیشہ سے ہندو مسلم اتحاد کے لیے کوشاں رہی ہے ۔اس دوری کو ختم کرنے کے لیے جمعیۃ علماء ہند ہندومسلم اتحاد، دوقومی نظریے کی مخالفت اور باہمی تعلقات کو استوار کرنے کے مقصد سے بہت سے اقدامات اور مسلسل کوششیں کرتی رہی ہے اور خالص قران وحدیث کی بنیاد پر مسلمانوں سے اپیل کرتی رہی ہے کہ برادران وطن کے ساتھ حسن سلوک اور بہتر رویہ ہی اسلام کی اصل تعلیم ہے۔ اسی بنیاد پر قومی اتحاد اور ہندو مسلم یکجہتی کا تصور شیخ الہند حضرت مولانا محمو دحسن ؒ نے آج سے ۸۹ سال قبل پیش کیا تھا ،اس تصور میں وہ فرماتے تھے کہ خالص تجاویز پاس کرکے یہ نہ سوچیں کہ تمام مرحلے طے ہوگئے ، یہ طریقہ سطحی لوگوں کا ہے بلکہ انھیں اپنے عمل سے ملک کی تمام قوموں کے لوگوں کے ساتھ اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ حضرت شیخ الہند نے ہندو مسلم اتحاد کا جو تصور پیش کیا تھا اس پر عمل کرکے اس طرح دکھا یا کہ ان کی برپا کردہ تحریک کے نتیجے میں کابل میں جو جلا وطن حکومت قائم ہوئی اس کا صدر مملکت راجہ مہندر سنگھ پرتاپ کو بنا کر اس میں شریک ہوئے ۔شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے قومی اتحاد کا معیار مقرر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اپنے وطن کے کسی فریق کے مذہبی امور میں کوئی فریق دخل اندازی نہ کرے اور ہرگز کوئی ایسا طریقہ نہ کرے جس سے کسی مذہب کے ماننے والوں کی دل آزاری ہو ۔امام الہند مولانا آزاد جو جمعےۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے رکن تھے ، ان کا یہ بیان بہت ہی مشہور ہے کہ آسمان سے کوئی فرشتہ آئے اور یہ کہے ہندستان کو آزادی مل سکتی ہے بشرطیکہ ہندو مسلم اتحاد سے دست بردار ہوجائے تو میں ہندستان کی آزادی سے دست بردار ہو جاؤں گا ، لیکن ہندو مسلم اتحاد سے دست بردار ی پسندنہیں کروں گا ۔جمعےۃ علماء نے آج تک عید ملن اور دیگر تقریبات کے ذریعہ مشعل شیخ الہندؒ اور مولانا حسین احمد مدنیؓ کے متحدہ قومیت کے نظریے کو اٹھا رکھا ہے ، مگر انصاف سے جائزہ لیا جائے تو یہ صرف یک طرفہ کوشش ہے ، اگر اس میں برادران وطن کے مذہبی رہنما اور بااثر افراد کی جانب سے بھی کوششیں ہوتیں اور فرقہ پرستوں کو روکنے کے لیے وہ آگے آتے تویقیناًمشترکہ جد وجہد سے ملک میں امن وامان کا ایسا خوشگوار ماحول قائم ہوتا جس کی مثال دنیا پیش کرتی ۔ اس لیے جہاں اس کی ضرور ت ہے کہ ہندو مسلم اتحاد کے لیے اکیڈمک سطح پر کوشش کی جائے وہیں اس نیک عمل میں برادران وطن کے سادھو سنتوں اور شنکر آچاریاؤں کو بھی پوری قوت کے ساتھ حصہ لینا چاہیے؛ کیوں کہ مذہب کے نام پر ۱۹۶۱ء کے جبل پور فساد سے لے کر حال تک برادران وطن کا شدت پسند طبقہ مسلمانوں کو جانی و مالی طور سے نقصان پہنچاتا آرہاہے ، نعروں میں ہنومان کا نعرہ لگاؤ اور محلہ خالی کراؤ، بجرنگ بلی کی جے ہو اور میاں بھائی کا پر لے ہو ، جیسے مذہبی نعرے لگا کر اقلیتوں کی عزت و آبرو سے کھیلا جاتار ہا ہے ، اس لیے ہندو رہنماؤں کو بھی مسلمانوں کی طرح مذہبی تعلیمات کی روشنی میں بتانا ہوگا کہ کرشن جی کی تعلیم اور گیتا کی ہدایت کا مقصد بے قصوروں کی جان لینا نہیں ہے ۔اس انداز کی مشترکہ جدجہد ہی ملک سے دہشت گردی اور فرقہ وارانہ فسادات کے خاتمے میں موثر ثابت ہوسکتی ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.