دہشت گردی کا داغ ہمارے ہی دامن پہ کیوں ؟؟؟

تحسین مظفر جہازی قاسمی

8899742656

دہشت گردی

اس اصطلاح کا آغاز اٹھارویں صدی (۱۷۸۹) فرانس انقلاب کے دوران ہوامگر اس کی شہرت ۱۹۷۰ کی دہائی میں شمالی آئرلینڈ اور فلسطین کے جنگ کے دوران اخبار نویسوں نے کی ۔۱۹۸۰ کی دہائی میں خودکش حملوں کی وجہ سے بھی اس کی کافی پزیرائی ہوئی اسی طرح سویت یونین اور افغانستان کے درمیان ۱۹۷۹ سے ۱۹۸۹ تک چلنے والی جنگ کو بھی اس کی شہرت کا سہرا جاتا ہے۔

مگر ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ میں ولڈ ٹریڈ سینٹر پر ہوئے حملے کے بعد نہ صرف اس کی شہرت میں چار چاند لگا بلکہ دہشت گردں کا تعین بھی ہو گیا ،ان کے ٹھکانون کا علم ہوگیا، روزانہ کوئی نہ کوئی کرئہ ارض پہ دہشت گرد کے طور پر گرفتار کیا جانے لگا، مارا جانے لگا اور پھر اس خلاف انسانیت عمل کو دنیا سے نیست و نابود کر نے کے لیے قوموں، ملکوں اور علاقائی تنظیموں نے جس جذبہ و لگن سے ایک مخصوص مذہب کو دہشت گردی کی آڑھ میں اس قدر کچلا کہ اس کی قوت گویائی ایک عالمی شور وشغب میں کہیں گم ہوکر رہ گئی ،اپنی سچی بات کہنے کا بھی حق اس سے چھین لیا گیا اور دنیا والوں کے سامنے اس قدر بے دست و پا کر کے ذلیل کردیا گیا کہ ہر خاص و عام اس مذہب سے اپنے آپ کو منسوب کرنے میں خوف و ہراس محسوس کرنے لگا۔

مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ آج تک بڑے بڑے پروفیسر بھی دہشت گردی کی تعریف جو یکسر تعصب و تنگ نظری سے مبرا ہو نہ کرسکے ،کہیں نہ کہیں ان کی قومی حمیت ضرور دکھائی پڑتی ہے ۔

مختلف نظریات سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے دانشوروں نے اپنی علمی وسعت کے مطابق وضاحت کی کوشش کی ہے تاہم وہ ادھورا و ناقص ہے۔

نفسیات کے پروفیسر کلارک آر میکاولی نے اپنے مضمون میں اس کی تعریف و توضیح کی ہے کہ: عموماً دہشت گردی کی وضاحت یوں کی جاتی ہے کہ کسی سیاسی یا ذاتی مقصد کے حصول کے لیے تشدد کا استعمال یا استعمار کی دھمکی ایک بڑے گروپ کے خلاف چھوٹے گروپ کی جانب سے ہو تو دہشت گردی کہلاتی ہے۔ اس میں چھوٹے گروپ کے لوگ بڑے گروپ کے غیر مسلح افراد کو نشانہ بناتے ہیں۔ ( ماخوذ از ویکیپیڈیا )

پروفیسر نے دہشت گردی کی تعریف واضح کرتے ہوئے صرف امریکی و یہودی مفادات کو پیش نظر رکھا ہے۔

ایک اور بڑے اسکالر نے اس کی تعریف کچھ یوں کی ہے

دل میں موت کا خوف بٹھانے کی نیت سے شہری آبادی میں نہتے شہریوں کو بلا تفریق قتل کرنے کی کوشش کی جائے جیسے منصوبہ بند حکمت عملی سے کسی سیاسی مقصدکے لیے کیا جاتا ہے ۔

دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ کرنے والے اقوام متحدہ بھی آج تک اس کی تعریف سے قاصر رہی ہے

اگر چہ ۱۹۷۰ سے ۱۹۸۰ کے درمیان اقوام متحدہ نے اس معمہ کو حل کرنے کی کا فی کوشش کی ہے تاہم اس کا نتیجہ بھی صفر ہی رہا ہے۔

مختلف حالات و ما حول کے اعتبار سے مختلف تعریفیں کی گئیں ہیں اور اسی کی بنیاد پر اس کی قسمیں بھی ۔

پہلی تعریف اس طرح کی گئی ہے کہ

Use of violence or threat of violence in the pursuit of political, religious, ideological or social objectives

سیاسی،مذہبی ،فکری اور سماجی مفاد کے حصول کے لیے تشدد کا استعمال کرنا دہشت گردی کہلاتا ہے ۔

اہل لغات نے لفظ” غیر قانونی کےاضافہ کے ساتھ مذہبی اورسماجی کا لفط ہٹادیا ہے ۔ان کےنزدیک دہشت گردی کی تعریف یوں ہے

The unlawful use of violence and intimidation, especially against civilians, in the pursuit of political aims.

سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے خصوصا عام شہریوں کے خلاف غیر قانونی طور پر تشدد کا استعمال کرنا دہشت گردی کہلا تا ہے ۔

ٹررازم جس کا اردو متبادل لفظ ہے دہشت گردی۔ عام سی غلطی میں اضافی معنی کے ساتھ اکثر و بیشتر اس کا استعمال ہوتا تھا یعنی کہ عادتا کسی غلطی کے سرزد ہونے پر اس میں شدت پیدا کرنے کے لیے اس لفط کا استعمال ہوتا تھا ۔ اسی طرح مختلف سیاسی جماعتیں بھی اپنے حریف کے لیے ٹرر کا لفظ استعمال کیا کرتی تھیں۔

سیاسی بحث و مباحثہ اور اس لفظ کے استعمالا ت کو دیکھتے ہوئے آج تک یہ اجماع نہ ہو سکا کہ دہشت گردی کو جنگی جرائم کے طور پر دیکھا جائے یا نہیں ۔(دوسرے لفطوں میں یوں کہ لیجیے دہشت گردی کے رد عمل میں اعلان جنگ کیا جائے یا نہیں)

دہشت گردی کے اس نطریہ کے مطابق کسی بھی قوم و ملک کا دامن دہشت گردانہ عمل سے پاک صاف نہیں ہے کیوں کہ تاریخی شواہد سے ثابت شدہ بات کا انکار کوئی ما وٗف العقل ہی کرسکتا ہے ۔دوقوموں اور ملکوں کی سرد وگرم جنگیں زمانہ قدیم سے آج تک جاری ہے ۔یہاں ظالم و مظلوم ،حق و ناحق کی اصطلاح تو ضرور استعمال ہوئی ہے مگر دہشت گردی کی نہیں۔

پھر دامن اسلام ہی کیوں کر داغ دار ہے ؟؟؟

اس فلسفہ کو اچھی طرح سے سمجھنے کے لیے ماضی کی کچھ جھلکیاں اشارتا و مختصر طور پر ذکر کیے دیتا ہوں ۔

اکیسویں صدی سے قبل اس لفظ کا نا ہی چرچہ تھا اور نا ہی کسی خاص مذہب کو اس لفظ سےملقب کیا گیا تھا۔ ولڈٹریڈ سنیٹر پر حملہ کے بعد گویا کہ دہشت گرد بوتل میں بند جن کی طرح ایک دم باہر نکلا اور کسی اسلامی ملک میں جا چھپا پھر اس کو پکڑنے کے لیے دنیا کے 48 ملکوں نے ایک گینگ بنائی۔

جب ملکوں کے جغرافیائی حدود طے پائے عالمی تنظیمیں وجود میں آئیں اور ہر ملک کو عالمی قانون میں جکڑ دیا گیا کہ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک پر بغیر جواز کے حملہ نہیں کرسکتاتو ہر کوئی اپنی حدود سلطنت وسیع کر نے کے لیے جواز کی تلاش میں لگ گیا ۔ اسی جن کو جواز بنا کر أفغانستان ،عراق اور لیبیا جیسے ملکوں کو تباہو برباد کردیاگیا ۔

تاریخی لحاظ سے أفغانستان پر ہمیشہ جنگیں مسلط رہی ہیں برطانیہ اپنے سامراجی دور میں قبضہ کی کوشش کرچکا تھا مگر شکست ملی ۔اس کے وزیراعظم چرچل نے کہا تھا کہ افغانستان میں جنگ سرمائے کا ضیاع اور رسوائی کا باعث ہے۔

پھر روس نے 1979 میں اپنا پنجہ آزمایا جو 1990 \1991 تک چلا ۔اس وقت دنیا کے کئی ممالک خصوصی طور پر سعودی عرب نے افغان کی مالی معاونت کی ۔پاکستان کے آمر جنرل ضیاءالحق اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے افغان جہاد کے لیے امریکہ سے اتحاد کرلیا۔ یہ امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ کا زمانہ تھا اس لیے امریکہ کو سنہرا موقع مل گیا اس نے روس کا ”ویت نام“ بنانے کی منصوبہ بندی شروع کردی جس کے لیے امریکہ نے 5بلین ڈالر کا اسلحہ افغان مجاہدین کو سپلائی کیا۔ آخر روس کو شکست ہوئی ۔اس جنگ میں افغانستان کا نظم و نسق اور امن و امان برباد ہوکر رہ گیا۔ مجاہدین اور دوسرے قابل افراد جو اس وقت حکمراں تھے اقتدار کی خاطر ایک دوسرے سے برسرپیکار ہونے لگے۔ افغان عوام کے لیے عزت سے جینا محال ہوگیا۔ ان حالات میں ملا عمر نے تحریک اسلامی طالبان نامی ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی جو چند طلبہ کا گروہ تھا،پھر جہاد کا آغاز کیا اور افغانستان کا امن بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ طالبان کی سادگی اور ایمانی جذبے سے متاثر ہوکر افغان عوام نے ان کا تعاون کیا۔ ملا عمر کی قیادت میں طالبان کابل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے افغانستان میں امن بحال کردیا۔ امریکہ اور مغربی ممالک طالبان کی مقبولیت دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ملا عمر نے اسلام اور پشتون نیشلزم کو بطور ہتھیار استعمال کیا اور اپنے مثالی کردار سے افغان عوام کے دل جیت لیے۔ روس کی جنگ سے لیکر أفغانستان میں مکمل اسلامی حکومت اسلامی امارت أفغانستان کے قیام تک القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن ملامحمد عمر مجاہد کے شانہ بشانہ رہے،جس نے افغان جہاد میں مرکزی کردار ادا کیا تھا ۔

امریکہ أفغانستان مدد کا فائدہ تو اٹھا چکا تھااور وہ تھا روس کی شکست مگر اس کی نظر وہاں اپنی مرضی کی حکومت تشکیل دینے پر تھا جو ایرانی حمایت یافتہ بخوبی سر انجام دے رہے تھے مگر جب طالبان نے 1998ء میں ہرات پر قبضہ کے بعد مزار شریف کو فتح کیاتو رہی سہی امیدیں بھی خاک میں مل گئیں۔طالبان کی چھ سالہ اسلامی حکومت امریکہ کی آنکھوں کانٹوں کی طرح چبھ رہاتھا۔ یہ دنیا کے غریب ترین ملکوں میں ایک مثالی حکومت تھی جہاں انصاف کی بروقت فراہمی اور امن و امان کی مثالی صورت حال ان کے زیر کنٹرول علاقوں میں شاہراوں کو محفوظ بنادینا۔ پوست کی کاشت پر پابندی عائد تمام غیر قانونی ٹیکس اور چنگیاں ختم ۔ ایک تباہ شدہ ملک جہاں ایک سپر پاور ملک سے 11 سال پر محیط جنگ لڑی گئی ہو وہاں صرف 6 سال کے عرصہ کے اندر اندر اتنے بڑے کام انجام دیاجانا کسی اسلامی طرز حکومت کا ہی کرشمہ ہوسکتا ہے ۔یہی چیزیں امریکہ کی نظروں میں ہمیشہ کھٹکتا رہا ہے ۔ خیر مذکورہ بالا دونوں جنگوں کو جواز بناکر ایران و امریکا اور اس کی اقوام متحدہ کی جانب سے قتل عام کا الزام لگایا گیااور حملہ کی منصوبہ بندی میں لگ گئے ۔حملہ کا دوسرا سب سے بڑ ا جواز اسامہ بن لادن کی مانگ تھا۔

کون ہے اسامہ بن لادن اورکیسے بنا دہشت گرد

اسامہ بن لادن کا تعلق سعودی عرب کے مشہور رئیس خاندان بن لادنسے ہیں جن کا کاروبار پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلا ہوا ہے۔ ان کے والد محترم شاہ فیصل کے قریبی دوستوں میں سے تھے ۔ انہوں نے ریاض کی کنگ عبد العزیز یونیورسٹی سے ماسٹر ان بزنس ایڈمنسٹریشن کیا ۔

اور لندن کی کسی یونیورسٹی سے انجینئرنگ بھی کی تھی ۔مجاہدین کے ہاتھوں روس کی شکست کے بعد جب مجاہدین کی قیادت افغانستان میں اقتدار کے حصول کے لیے آپس میں جھگڑ پڑی تو اسامہ بن لادن مایوس ہو کر سعودی عرب چلے گئے۔ جب اسامہ بن لادن سعودی عرب میں تھے تو صدام حسیننے 1991ء میں کویت پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ اس موقع پر جہاں دنیا کے اکثر ممالک نے عراق کے اقدام کو کھلی جارحیت قرار دیا وہیں باقیعرب ممالک عراق کے اس قدم کو مستقبل میں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھنے لگے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہو ئے جہاں امریکا نے ایک طرفکویت کا بہانہ بنا کر عراق پرحملہ کر دیا تو دوسری طرف وہ سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات کا بہانہ بنا کر شاہ فہد کی دعوت پر مقدس سرزمین میں داخل ہو گیا۔ تاہم اس موقع پر اسامہ بن لادن نے مقدس سرزمین پر امریکی فوجیوں کی آمد کی پر زور مخالفت کی اور شاہ فہد کو یہ تجویز دی کہ عراق کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اسلامی فورس تشکیل دی جائے اور امید دلائی کہ وہ اس کام کے لیے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کریں گے تاہم خادم حرمین الشرفین شاہ فہد نے اسامہ بن لادن کے مشورے کو یکسر نظر انداز کرکے امریکیوں سے مدد کی اپیل کر دی۔ جس کے نتیجے میں شاہی خاندان اور اسامہ کے مابین تلخی پیدا ہو گئی اور بالآخر 1992ء میں اسامہ بن لادن کو اپنا ملک چھوڑ کر سوڈان جانا پڑا۔

اسامہ بن لادن نے سوڈان میں بیٹھ کر مقدس سرزمین پر ناپاک امریکی وجود کے خلاف عرب نوجوانوں میں ایک تحریک پیدا کی اور اس کے ساتھ دنیا بھر میں جاری دیگر اسلامی تحریکوں سے رابطے قائم کیے۔ اسی دوران میں اسامہ بن لادن نے دنیا بھر میں امریکی مفادات پر حملوں کا مشہور فتویٰ بھی جاری کر دیا۔ جس کو ساری دنیا میں شہرت ملی یہاں تک کہ اسامہ بن لادن کی امریکا مخالف جدوجہد کی بازگشت امریکی ایوانوں میں سنائی دینے لگی۔ یہ وہ وقت تھا جب تنزانیہ اور نیروبی میں امریکی مفادات پر کامیاب حملوں کے بعد سوڈانی حکومت کو اسامہ بن لادن کی سوڈان میں موجوگی پر شدید امریکی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

1996 میں ملا محمد عمر تقریباً 60 فیصدافغانستان پر قدم جما کر ایک مستحکم حکومت قائم کر چکے تھے۔ اسی سال یعنی 1996ء میں اسامہ بن لادن اپنے ایک پرائیویٹ چارٹرڈ جہاز کے ذریعے افغانستان پہنچے جہاں انہیں ملا محمد عمر اخوند کی جانب سے امارات اسلامیہ افغانستان میں سرکاری پناہ حاصل ہو گئی۔ اسامہ بن لادن نے افغانستان کے مانوس ماحول میں بیٹھ کر اپنی تنظیم القاعدہ کو ازسر نو منظم کیا اور دنیا بھر میں آمریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ 1997ء میں امریکی صدر بل کلنٹن نے اسامہ بن لادن کی حوالگی کے لیے طالبان پر دباؤ ڈالا مگر طالبان نے بن لادن کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کے بعد طالبان اور امریکا میں تلخی کافی بڑھ گئی۔

امریکہ کا لاڈلا رہ چکے اسامہ بن لادن جن کے لئے امریکہ کی سی آئی اے أفغان روس کی جنگ میں کام کیا کرتی تھی، مذکورہ بالا وجوہات کی وجہ سے دہشت گرد ٹھرائے گئے اور ان کی حوالگی کی مانگ کرنے لگے ۔

امریکہ نے أفغانستان میں تشکیل حکومت میں ناکامی اور علی الإعلان أفغان میں موجود اسامہ بن لادن کی زندگی کا خاتمہ کو جواز بناکر 1998 میں پہلی بار أفغان پر کروز میزائل سے حملہ کیا پھر 2001 نومبر میں امریکیشہروں نیو یارک اور واشنگٹن میں ہونے والی دہشت گردی کارروائیوں کا الزام محض ایک گھنٹے کے اندر ہی ہزاروں میل دور بیٹھے اسامہ بن لادن پر لگا دیا۔ تاہم اسامہ بن لادن نے اس واقعہ میں ملوث ہونے سے واضح انکار کیاپھر بھی اس کی آڑھ میں اقوام متحدہ کی منظوری کے ساتھ کم از کم چالیس دوسرے خوشحال ملکوں کے ساتھ مل کر اکتوبر 2001ء میں دنیا کے کم زور ترین اور پسماندہ ترین ملکوں میں سے ایک پر دھاوا بول دیا۔

اسامہ بن لادن کی زندگی کی طرح ان کی موت بھی ساری دنیا کے لیے ایک معما رہی اور اس کی وجہ بھی خود امریکی حکام کا رویہ ہی تھا۔ 10 مئی کو ڈان نیوز ٹی وی پر خبر القاعدہ کی وضاحت شائع ہوئی ،جس میں بتایا گیا کہ اسامہ بن لادن 2003ء میں انتقال کر گئے تھے۔ حالانکہ 4 مئی کو ایک جہادی ویب سائٹ کے حوالے سے یہ بات پھیلائی گئی کہ القاعدہ نے اسامہ بن لادن کی موت کی تصدیق کی ہے۔یکم اور دو مئی 2011 کو اینٹ آباد میں ایک آپریشن کے دوران اسامہ کی موت کی تصدیق کی گئی مگر لاش کی تصویر کبھی منظر عام پر نہيں آئی جب کہ اس کی میت کو بھی بحیرہ عرب میں موجود امریکی بحری بیڑے پر پہنچایا گیا بعد ازاں اس کو بحیرہ عرب میں سمندر برد کر دیا گیا۔

مشہور امریکی صحافی سیمور حرش نے اسامہ کی اس حملہ میں موت پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی روئداد جھوٹ پر مبنی ہے۔

خیر بن لادن کی موت 2003 میں ہوئی ہو یا 2011میں بہر حال جنگ کا مقصد پورا ہوگیا اس نکتہ نظر سے جنگ بندی کا اعلان اسی وقت ہوجانا چاہیے تھا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا پھر پینترا بدلتے ہوئے امریکہ نے اس جاری جنگ کو قیام امن کا نام دیا اس میں وہ بری طرح ناکام رہا اور مکمل سترہ سال تک جنگی تباہی مچانے کے بعد اب جب کہ امریکہ بری طرح جنگ ہار چکا ہے افغانستان سے سلامت نکلنے کی بھیک مانگ رہا ہے ۔ ابھی فی الحال افغان اور امریکہ کے بیچ امن مذاکرات چل رہے ہیں جس میں کچھ باتیں طے پائی گئی ہے کہ امریکی افواج ایک مقررہ مدت (18 ماہ) کے اندر افغانستان سے نکل جائیں گی، افغان طالبان کو بلیک لسٹ سے ہٹا لیا جائے گا جس سے ان پر عائد سفری پابندیاں ختم ہو جائیں گی اور قیدیوں کا تبادلہ بھی ہو گا۔

افغان جنگ اور اسامہ بن لادن پر تفصیلی روشنی صرف اس لیے ڈالی گئی ہے تاکہ دہشت گردی کا معمہ اچھی طرح سمجھ میں آجائے نیز اس کی آڑھ میں تمام مسلمانوں کو دہشت گردی کی ملنے والی سند کا معیا ر بھی اچھی طرح واضح ہوجائے ۔

ہاں اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ ہر ملک وقوم میں کچھ ایسی تنظیمیں ہیں جو صرف اپنے مفاد کے لیے بے گناہوں کا خون بہاتی ہیں ۔مگر افسوس کی بات ہے کہ اس میں صرف مسلمانو ں کا ہی نام آتا ہے ۔مشرقی وسطیٰ میں ہونے والے تمام خانہ جنگی صرف جغرافیائی حدود کو لے کر ہے پھر بھی ان کا نام امریکی بلیک لسٹ میں ہے ۔

دہشت گردی کی تعریف اور اس کے استعمالات کو دیکھتے ہوئے افغان جنگ اور اسامہ بن لادن کی کارکردگیوں کو دہشت گردی کا نام دینا ایک سوچھی سمجھی سازش ہی کہی جاسکتی ہے مسلمانوں کو ذہنی مریض بنانا تھاسو امریکہ اپنے مقصد میں دہائیوں کامیاب رہا ۔ دوقوموں اور دوملکوں کی آپسی جنگیں تو ہمیشہ تاریخ کی زینت رہی ہے خود امریکہ کئی خوش حال ملکوں کو تباہ کرچکا ہے جسے دنیا خوب جانتی ہے

افغان میں امریکی شکست سے اس کے سپر پاور ہونےپر بھی حرف آیا ساتھ ہی دہشت گرد کہے جانے والے طالبان کو نہ صرف بلیک لسٹ سے ہٹایا بلکہ اسے ایک پر امن ملک ماننے کے لیے تیا ر ہوگیا دہشت گردی کا بھی داغ مٹ گیا اور دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے مسلمان بھی پرامن ہوگئے ۔

Facebook Comments

Website Comments

  1. Mufti Furqan Qasmi
    Reply

    Ji jahazi sahab
    Bahot bahot mubarak bad
    🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹

POST A COMMENT.