دہشت گردی کے الزام میں مسلم نوجوانوں کی فرضی گرفتاریاں اور انکاؤنٹر ایک بہت بڑا مسئلہ: الفلاح فرنٹ

فاسٹ ٹریک کورٹ کا قیام اور نوجوانوں کومناسب معاوضہ دیا جائے : ذاکر حسین
نئی دہلی،2جون (پریس ریلیز) دہشت گردی کے الزام میں مسلم نوجوانوں کی فرضی گرفتاریاں ور انکاؤنٹر پرالفلاح فرنٹ نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ الفلاح فرنٹ کے صدر ذاکر حسین نے آج جاری ایک بیان میں کہاکہ اگر دہشت گردی کے الزام مین مسلم نوجوان کو جب عدالت کی جانب سے بے گناہ بتا کررہا کیاجائے توعدلیہ کو چاہئے کہ ان متعصب افسران کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے لاپرواہی اور جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کا چارج بھی لگائے جن افسران نے مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے جھوٹے میں الزام میں گرفتا ر کیا تھا۔دوسری بات یہ کہ رہا ہونے والے ملزمین کے سارے نقصانات کی تلافی انہیں افسران سے کروائی جائے جو افسران بے قصورافرادپر بے بنیاد الزامات لگا کر ایک زندگی ہی نہیں بلکہ پورے ایک کنبے کو تباہ کر نے کاگناہِ عظیم کے مرتکب ہوئے ہیں۔تاکہ اس قسم کے متعصب افسران مسلم نوجوانوں یا پھر کسی بھی بے گناہ کو فرضی مقدمات میں پھنسانے سے پہلے اپنے انجام کے بارے میں سوچیں اگر حکومت اس سمت پیشِ رفت کرتی ہے تو ملک میں ناانصافی کی متعصب افسران نے جوخوفناک فضا بنائی ہے اس سے عوا م کو چھٹکاراملنے کے امکان پر غور کیا جا سکتاہے۔ یہ تلخ حقیقت ہیکہ اس طرح کے زیادہ ترمعاملات میں پولس جھوٹ اور فریب سے کام لیتی ہے۔ دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار مسلم نوجوانوں کی گرفتاری اور پھر ایک طویل عرصے بعد انکی بے گناہی ثابت ہونا انصاف ملنے کے بجائے سزا ملنے کے برابر ہے۔مان لیجئے پولس دو افراد کو کسی جرم میں گرفتار کرتی ہے ان دونوں افراد میں ایک گنہگار ہوتا ہے اور دوسرا بے گناہ۔لیکن جب بے گناہ کی رہائی ۴۱ سال یا ۳۲ سال بعد ہوتی ہے اور گنہگا ر افراد کی بھی رہائی لگ بھگ اتنے ہی عرصہ میں ہوتی ہے تو پھر کیا فرق ہے سزااور انصاف میں؟ الفلاح فرنٹ کا حکومت سے مطالبہ ہیکہ دہشت گردی کے الزام میں بند مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی سماعت کیلئے فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کرے اور رہا ہونے والے مسلم نوجوانوں کو مناسب معاوضہ اور سرکاری ملازمت بھی دے تاکہ ان کے ساتھ ایک طویل عرصے تک جو نا انصافی ہوئی ہے اس کا ازالہ کیا جاسکے۔ ذاکر حسین نے جمیعتہ علماء ہند، جماعت اسلامی ہند، رہائی منچ اور اے پی سی آر کی اس سمت میں انجام دی گئی خدمات پر شکریہ ادا کیا۔انہو ں نے مزید کہاکہ قوم کے نوجوانوں کوقانون کی تعلیم دلا کر انہیں اچھا وکیل بنایا جائے تاکہ مستقبل میں یہی نوجوان مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی پیروی کریں۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں